TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

كتاب المناقب - كتاب المناقب - Book 29 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 29 of Mishkat, with 14 chapters and 316 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

316 Hadith · 14 Chapters
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْن مسلمهم تبع مسلمهم وكافرهم تبع لكافرهم» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس (دین یا خلافت) کے معاملے میں لوگ قریش کے تابع ہیں ، ان (لوگوں) کے مسلمان ، قریشی مسلمانوں کے تابع ہیں ، اور ان (عام لوگوں) کے کافر ، ان (قریش کے) کافروں کے تابع ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۴۹۵) و مسلم (۲ / ۱۸۱۸) ۔ 4702
5979
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّر» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ لوگ خیر (اسلام) اور شر (کفر) میں قریش کے تابع ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۳ / ۱۸۱۹) ۔ 4703
5980
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمُ اثْنَان» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہ معاملہ (خلافت) قریش میں رہے گا جب تک ان میں دو آدمی بھی باقی رہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۵۰۱) و مسلم (۴ / ۱۸۲۰) ۔ 4704
5981
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجهه مَا أَقَامُوا الدّين» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے :’’ یہ خلافت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے ، اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا اللہ اسے چہرے کے بل اوندھا کر کے ذلیل کر دے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۳۵۰۰) ۔
5982
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَة أَو يَكُونُ عَلَيْهِمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْش» . مُتَّفق عَلَيْهِ
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بارہ خلیفوں تک اسلام غالب رہے گا اور وہ سب قریش سے ہوں گے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ لوگوں کے معاملات صحیح اور درست چلتے رہیں گے جب تک بارہ آدمی ان کے حکمران رہیں گے ، وہ سب قریش سے ہوں گے ۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے :’’ قیامت تک دین قائم رہے گا اور ان پر بارہ خلیفے ہوں گے اور وہ سب قریش سے ہوں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۲۲۲) و مسلم (۷ / ۱۸۲۱ و الروایۃ الثانیۃ : ۶ / ۱۸۲۱ و الروایۃ الثالثۃ : ۱۰ / ۱۸۲۲) ۔4706-4708-4711
5983
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قبیلہ غفار جو ہے ، اللہ نے انہیں معاف فرما دیا ، قبیلہ اسلم کو اللہ نے سلامت رکھا اور جو قبیلہ عصیہ ہے اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۵۱۳) و مسلم (۱۸۷ / ۲۵۱۸) ۔ 3465
5984
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَجُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قریش ، انصار ، جہینہ ، مزینہ ، اسلم ، غفار اور اشجع قبیلے میرے حمایتی ہیں ، اور اللہ اور اس کے رسول کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۵۱۲) و مسلم (۱۸۹ / ۲۵۲۰) ۔ 6438
5985
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بني تَمِيم وَبني عَامِرٍ وَالْحَلِيفَيْنِ بَنِي أَسْدٍ وَغَطَفَانَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلم ، غفار ، مزینہ ، اور جہینہ قبیلے ، بنو تمیم اور بنو عامر قبیلوں سے بہتر ہیں ، اور وہ دو حلیفوں بنو اسد اور غطفان سے بھی بہتر ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۵۲۳) و مسلم (۱۹۰ / ۲۵۳۱) ۔ 6446
5986
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مُنْذُ ثلاثٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ» قَالَ: وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا» وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ: «اعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے بنو تمیم کے متعلق جب سے رسول اللہ ﷺ سے تین خصلتیں سنی ہیں ، تب سے میں انہیں محبوب رکھتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں سے وہ دجال پر سب سے زیادہ سخت ہوں گے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ان کے صدقات آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں ۔‘‘ اور عائشہ ؓ کے پاس ان کے کچھ قیدی تھے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہیں آزاد کر دو کیونکہ وہ اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۵۴۳) و مسلم (۱۹۸ / ۲۵۲۵) ۔ 6451
5987
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
عَنْ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ الله» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
سعد ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص قریش کی اہانت کرنا چاہے گا اللہ اس کی اہانت و تذلیل کرے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۳۹۰۵ وقال : غریب) ۔
5988
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! تو نے (بدر و احزاب میں) قریش کے پہلے افراد کو عذاب میں مبتلا کیا ، تو ان کے بعد والوں کو انعام عطا فرما ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۳۹۰۸ وقال : حسن صحیح غریب) ۔
5989
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَن أبي عَامر الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعْمَ الْحَيُّ الْأَسْدُ وَالْأَشْعَرُونَ لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
ابوعامر اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسد اور اشعر قبیلے اچھے ہیں ، وہ میدان جہاد سے فرار ہوتے ہیں نہ خیانت کرتے ہیں ، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۹۴۷) و اخطا من ضعفہ ۔
5990
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَزْدُ أَزْدُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يُرِيدُ النَّاسُ أَنْ يَضَعُوهُمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يَرْفَعَهُمْ وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُولُ الرَّجُلُ: يَا لَيْتَ أَبِي كَانَ أَزْدِيًا وَيَا لَيْتَ أُمِّي كَانَتْ أَزْدِيَّةً رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ازد قبیلہ زمین پر اللہ کا لشکر ہے ، لوگ چاہتے ہیں کہ وہ انہیں نیچا دکھائیں لیکن اللہ نے اس بات کا انکار فرما دیا ہے ، وہ انہیں رفعت ہی عطا فرماتا ہے ، لوگوں پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ آدمی خواہش کرے گا کہ کاش میرا والد ازدی ہوتا اور کاش میری والدہ ازدی ہوتی ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۹۳۷) ۔
5991
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَن عمرَان بن حُصَيْن قَالَ: مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكْرَهُ ثَلَاثَةَ أَحْيَاءٍ: ثَقِيفٌ وَبَنِي حَنِيفَةَ وَبَنِي أُمَيَّةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے وفات پائی تو وہ تین قبیلوں کو ناپسند فرماتے تھے ، ثقیف ، بنو حنیفہ اور بنو امیہ ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۹۴۳) * فیہ ھشام بن حسان و الحسن البصری مدلسان و عنعنا ۔
5992
Zaeef
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ يُقَالُ: الْكَذَّابُ هُوَ الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ وَالْمُبِيرُ هُوَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ وَقَالَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ: أَحْصَوْا مَا قَتَلَ الْحَجَّاجُ صَبْرًا فَبَلَغَ مِائَةَ ألفٍ وَعشْرين ألفا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ثقیف (قبیلے) میں ایک شخص کذاب اور ایک ظالم ہو گا ۔‘‘ عبداللہ بن عصمہ نے کہا : کذاب سے مراد مختار بن ابی عبید اور ظالم سے مراد حجاج بن یوسف ہے ، ہشام بن حسان نے کہا : حجاج نے جن افراد کو باندھ کر قتل کیا ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تک پہنچتی ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۲۲۲۰) ۔
5993
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَرَوَى مُسْلِمٌ فِي «الصَّحِيحِ» حِينَ قَتَلَ الْحَجَّاجُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَتْ أَسْمَاءَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا «أَن فِي ثَقِيف كذابا ومبيرا» فَأَما الْكذَّاب فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ. وَسَيَجِيءُ تَمام الحَدِيث فِي الْفَصْل الثَّالِث
امام مسلم ؒ نے صحیح مسلم میں روایت کیا ہے ، جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو قتل کیا تو اسماء ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ ثقیف قبیلے میں ایک کذاب اور ایک ظالم ہو گا ۔ رہا کذاب تو ہم نے اسے دیکھ لیا اور رہا ظالم تو میرا خیال ہے کہ یہ وہی ہے ۔ رواہ مسلم ۔ اور مکمل حدیث تیسری فصل میں آئے گی ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۲۹ / ۲۵۴۵ و سیاتی : ۶۰۰۳) ۔
5994
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَن جَابر قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِيفٍ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ. قَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ ثقيفا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ثقیف قبیلے کے تیروں نے ہمیں جلا کر رکھ دیا ہے ، آپ ان کے لیے اللہ سے بددعا فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! ثقیف قبیلے کو ہدایت عطا فرما ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۹۴۲ وقال : صحیح غریب) ابو زبیر عنعن و رواہ عبد الرحمن بن سابط عن جابر بہ مختصرًا (مسند احمد : ۳ / ۳۴۳) و عبد الرحمن لم یسمع من جابر رضی اللہ عنہ ۔
5995
Zaeef
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَن عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مِينَاءَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فجَاء رَجُلٌ أَحْسَبُهُ مِنْ قَيْسٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَنْ حِمْيَرًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ من الشقّ الآخر فَأَعْرض عَنهُ ثمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرًا أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ وَهُمْ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ويُروى عَن ميناءَ هَذَا أَحَادِيث مَنَاكِير
عبدالرزاق ، اپنے والد سے ، وہ میناء سے اور وہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم نبی ﷺ کے پاس تھے کہ آدمی آپ کے پاس آیا میرا خیال ہے قیس قبیلے سے تھا ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! حمیر قبیلے پر لعنت فرمائیں ، آپ نے اس سے اعراض فرمایا ، پھر وہ دوسری جانب سے آیا تو آپ نے اس سے اعراض فرمایا ، پھر وہ دوسری جانب سے آیا تو آپ ﷺ نے اس سے اعراض فرمایا ، نیز فرمایا :’’ اللہ حمیر پر رحم فرمائے ، ان کے منہ سلام کرتے ہیں ، ان کے ہاتھ کھانا کھلاتے ہیں ، اور وہ امن و امان والے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور ہم اسے صرف عبدالرزاق کے طریق سے پہچانتے ہیں ، اور اس میناء سے منکر احادیث روایت کی جاتی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی (۳۹۳۹) * میناء : متروک و رمی بالرفض و کذبہ ابو حاتم ۔
5996
Zaeef
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ دَوْسٍ. قَالَ: «مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ فِي دَوْسٍ أحدا فِيهِ خير» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ تم کس قبیلے سے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، دوس سے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نہیں سمجھتا تھا کہ دوس قبیلے کے کسی شخص میں بھلائی ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۸۳۸ وقال : غریب صحیح) ۔
5997
Sahih
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
وَعَن سلمَان قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُبْغِضُنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ» قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُبْغِضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللَّهُ؟ قَالَ: «تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ مجھے ناراض نہ کرنا ورنہ تم اپنے دین سے نکل جاؤ گے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آپ کو کیسے ناراض کر سکتا ہوں ، آپ کی وجہ سے اللہ نے ہمیں ہدایت نصیب فرمائی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم عربوں سے دشمنی رکھو گے تو تم مجھ سے دشمنی رکھو گے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۹۲۷) * قابوس : فیہ لین ۔
5998
Zaeef

Chapters

14
01
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
28 Hadith
02
بَاب مَنَاقِب الصَّحَابَة
صحابہ کرام ؓ کے مناقب کا بیان
12 Hadith
03
بَاب مَنَاقِب أبي بكر
حضرت ابوبکر ؓ کے مناقب و فضائل کا بیان
16 Hadith
04
بَاب مَنَاقِب عمر
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
21 Hadith
05
بَابِ مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
13 Hadith
06
بَاب مَنَاقِب عُثْمَان
حضرت عثمان ؓ کے مناقب کا بیان
14 Hadith
07
بَاب مَنَاقِب هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَة
ان تینوں کے مناقب کا بیان
4 Hadith
08
بَاب مَنَاقِب عَليّ بن أبي طَالب
علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان
21 Hadith
09
بَابُ مَنَاقِبِ الْعَشَرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان
27 Hadith
10
بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ
رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان
49 Hadith
11
بَابُ مَنَاقِبِ أَزْوَاجِ
نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کے مناقب کا بیان
12 Hadith
12
بَاب جَامع المناقب
مناقب کا بیان
70 Hadith
13
بَاب تَسْمِيَة من سمي من أهل الْبَدْر فِي «الْجَامِعِ لِلْبُخَارِيِّ»
یمن اور شام اور اویس قرنی کے ذکر کا باب
17 Hadith
14
بَاب ثَوَاب هَذِه
اس امت کے ثواب کا بیان
12 Hadith
No chapter matched that.