عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے عربوں کو فریب دیا تو وہ میری شفاعت میں داخل ہو گا نہ اسے میری مودّت نصیب ہو گی ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ہم اس حدیث کو صرف حصین بن عمر کے طریق سے پہچانتے ہیں ، اور وہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی (۳۹۲۸) * حصین بن عمر : متروک ۔
طلحہ بن مالک کی آزاد کردہ لونڈی ام الحریر بیان کرتی ہیں ، میں نے اپنے مالک کو بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عربوں کی ہلاکت قرب قیامت کی علامت ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۹۲۹) * فیہ ام محمد بن ابی رزین : لم اجد من وثقھا ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خلافت قریش میں ہے ، قضاء انصار میں ، اذان حبشیوں میں اور امانت ازد یعنی یمن میں ہے ۔‘‘ یہ روایت موقوف ہے ، امام ترمذی نے اسے روایت کیا ، اور فرمایا : اس کا موقوف ہونا زیادہ صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن مطیع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، میں نے فتح مکہ کے روز رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اس روز کے بعد روز قیامت تک کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہ کیا جائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابو نوفل معاویہ بن مسلم بیان کرتے ہیں ، میں نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو مدینے کی گھاٹی پر (سولی پر لٹکتے ہوئے) دیکھا ، قریشی اور دوسرے لوگ ان کے پاس سے گزرتے رہے حتیٰ کہ عبداللہ بن عمر ؓ ان کے پاس سے گزرے اور وہاں ٹھہر کر فرمایا : ابو خبیب ! تم پر سلام ، ابو خبیب ! تم پر سلام ، ابو خبیب ! تم پر سلام ، اللہ کی قسم ! کیا میں تمہیں اس (خلافت کے معاملے) سے منع نہیں کرتا تھا ، اللہ کی قسم ! کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا ؟ اللہ کی قسم ! میں تمہیں بہت روزے رکھنے والا ، بہت زیادہ قیام کرنے والا اور صلہ رحمی کرنے والا ہی جانتا ہوں ، سن لو ! اللہ کی قسم ! جو لوگ تجھے برا خیال کرتے ہیں حقیقت میں وہ خود برے ہیں ۔ ایک دوسری روایت میں ہے ، (جو تمہیں برا سمجھتے ہیں کیا) وہ لوگ اچھے ہیں ؟ پھر عبداللہ بن عمر ؓ چلے گئے ، حجاج کو عبداللہ کا مؤقف اور ان کی بات پہنچی تو اس نے انہیں بلا بھیجا ، ان (عبداللہ بن زبیر ؓ) کو سولی سے اتار دیا گیا اور انہیں یہودیوں کے قبرستان میں ڈال دیا گیا ۔ پھر حجاج نے ان کی والدہ اسماء بنت ابی بکر ؓ کو بلا بھیجا تو انہوں نے آنے سے انکار کر دیا ، پھر اس نے دوبارہ پیغام بھیجا کہ آپ آ جائیں ورنہ میں ایسے شخص کو بھیجوں گا جو تمہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ لائے گا ، راوی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے انکار کیا اور کہا ، اللہ کی قسم ! میں تیرے پاس نہیں آؤں گی حتیٰ کہ تو اس شخص کو میرے پاس بھیجے جو میرے بالوں سے پکڑ کر مجھے گھسیٹے ، راوی بیان کرتے ہیں ، حجاج نے کہا : میرے جوتے مجھے دو ، اس نے اپنے جوتے پہنے اور تیز تیز چلتا ہوا ان تک پہنچ گیا ، اور کہا : بتاؤ ! اللہ کے دشمن کے ساتھ میں نے کیسا سلوک کیا ؟ اسماء ؓ نے فرمایا : میں سمجھتی ہوں کہ تو نے عبداللہ ؓ کی دنیا خراب کی اور اس نے تیری آخرت برباد کر دی ۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ تو (توہین کے انداز میں) اسے ذات النطاقین (دو ازار والی) کا بیٹا کہتا ہے ، اللہ کی قسم ! میں ذات النطاقین ہوں ، ان (ازار بندوں) میں سے ایک کے ساتھ میں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کے کھانے کو چوپایوں سے بچانے کے لیے ، اور رہا دوسرا تو اس سے کوئی بھی عورت بے نیاز نہیں ہو سکتی ، سن لو ! کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حدیث بیان فرمائی کہ ’’ثقیف میں ایک کذاب اور ایک ظالم ہو گا ۔‘‘ رہا کذاب تو ہم اسے دیکھ چکے ، اور رہا ظالم تو میرا خیال ہے کہ وہ تم ہی ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، وہ ان کے پاس سے چلا گیا اور پھر ان کے پاس دوبارہ نہیں آیا ۔ رواہ مسلم ۔
نافع ؒ سے روایت ہے کہ ابن زبیر ؓ کے فتنے سے پہلے دو آدمی ابن عمر ؓ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا : لوگوں نے جو کچھ کیا آپ اسے دیکھ رہے ہیں اور آپ عمر ؓ کے بیٹے اور رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں ، آپ کو نکلنے سے کون سی چیز مانع ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میرے لیے یہ چیز مانع تھی کہ اللہ نے مسلمان کو قتل کرنا مجھ پر حرام قرار دیا ہے ، ان دونوں نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا :’’ ان سے قتال کرو حتیٰ کہ فتنہ ختم ہو جائے ۔‘‘ ابن عمر ؓ نے فرمایا : ہم نے قتال کیا حتیٰ کہ فتنہ (شرک) ختم ہو گیا اور دین خالص اللہ کے لیے ہو گیا ، اور تم چاہتے ہو کہ تم لڑو حتیٰ کہ فتنہ پیدا ہو اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے ۔ رواہ البخاری ۔
وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وسل فَقَالَ: إِنَّ دَوْسًا قَدْ هَلَكَتْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهُ يَدْعُو عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، طفیل بن عمرو دوسی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا : دوس قبیلہ ہلاک ہو گیا ، اس نے نافرمانی کی اور انکار کیا ، آپ ان کے لیے بددعا کریں ، لوگوں نے سمجھا کہ آپ ان کے لئے بددعا کریں گے ۔ لیکن آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! دوس کو ہدایت نصیب فرما اور انہیں (مسلمان بنا کر) لے آ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۳۹۷) و مسلم (۱۹۷ / ۲۵۲۴) ۔ 645
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عربوں کے ساتھ تین خصلتوں کی وجہ سے محبت کرو ، کیونکہ میں عربی ہوں ، قرآن عربی (زبان میں) ہے اور اہل جنت کا کلام عربی میں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۶۱۰ ، ۱۴۳۳ ، نسخۃ محققۃ : ۱۳۶۴ ، ۱۴۹۶) [و الحاکم (۴ / ۸۷) و العقیلی فی الضعفاء الکبیر (۳ / ۳۴۸)] * فیہ العلاء بن عمرو الحنفی : کذاب ، و علل أخری ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے صحابہ کو برا مت کہو ، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر ڈالے تو وہ ان میں سے کسی ایک کے مد (تقریباً سوا چھ سو گرام) خرچ کرنے کو پہنچ سکتا ہے نہ اس کے نصف مد کو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۶۷۳) و مسلم (۲۲۲ / ۲۵۴۱) ۔ 6488
ابوبردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، آپ یعنی نبی ﷺ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا ، اور آپ اکثر اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ستارے آسمان کی حفاظت کا باعث ہیں ، جب ستارے جاتے رہیں گے تو آسمان وعدہ کے مطابق ٹوٹ پھوٹ جائے گا ، اور میں اپنے صحابہ کی حفاظت کا باعث ہوں ، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ کو ان فتنوں کا سامنا ہو گا جس کا ان سے وعدہ ہے ، اور میرے صحابہ میری امت کی حفاظت کا باعث ہیں ، جب میرے صحابہ جاتے رہیں گے تو میری امت میں وہ چیزیں (بدعات وغیرہ) آ جائیں گی جن کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی ، ان سے کہا جائے گا : کیا تم میں رسول اللہ ﷺ کا کوئی صحابی بھی ہے ؟ وہ کہیں گے : ہاں ، انہیں فتح ہو گی ، پھر لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی تو ان سے پوچھا جائے گا : کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی صحبت اختیار کی ہو ؟ وہ کہیں گے ہاں ، تو انہیں فتح حاصل ہو گی ۔ پھر لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ لوگوں کی جماعتیں جہاد کریں گی ، ان سے پوچھا جائے گا : کیا تم میں کوئی تبع تابعین ہے ؟ وہ کہیں گے : ہاں ، تو انہیں فتح حاصل ہو گی ۔‘‘
اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ ان میں سے ایک لشکر بھیجا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا : دیکھو ، کیا تم اپنے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا کوئی صحابی پاتے ہو ؟ ایک صحابی مل جائے گا تو انہیں فتح نصیب ہو جائے گی ، پھر دوسرا لشکر بھیجا جائے گا ، تو ان سے کہا جائے گا : کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو دیکھا ہو ؟ انہیں فتح حاصل ہو گی ۔ پھر تیسرا لشکر بھیجا جائے گا ، تو کہا جائے گا : دیکھو ، کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے نبی ﷺ کے صحابہ کو دیکھا ہو ؟ پھر چوتھا لشکر ہو گا ، کہا جائے گا : کیا تم ان میں کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہو جس نے نبی ﷺ کے صحابہ کو دیکھنے والے شخص کو دیکھا ہو ، ایسا شخص مل جائے گا تو انہیں فتح حاصل ہو جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۶۴۹) و مسلم (۲۰۸ / ۲۵۳۲ و الروایۃ الثانیۃ ۲۰۹ / ۲۵۳۲) ۔ 6467-6468
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے ، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد آئیں گے ، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے ، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دیں گے ، وہ خیانت کریں گے ، اور ان پر اعتماد نہیں کیا جائے گا ، وہ نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے ، اور ان میں موٹاپا عام ہو جائے گا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ حلف طلب کیے بغیر حلف اٹھائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۶۵۰) و مسلم (۲۱۴ / ۲۵۳۵ و الروایۃ الثانیۃ ۲۱۵ / ۲۵۳۵) ۔ 6475-6477
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے صحابہ کی عزت کرو ، کیونکہ وہ تم میں سے سب سے بہتر ہیں ، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے ، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے ، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا حتیٰ کہ آدمی حلف طلب کیے بغیر حلف اٹھائے گا ، گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے گا ، سن لو ! جو شخص جنت کے وسط میں مقام حاصل کرنا پسند کرتا ہے وہ جماعت کے ساتھ لگا رہے ، کیونکہ منفرد شخص کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور وہ دو افراد سے (ایک کی نسبت) زیادہ دور ہوتا ہے ، اور کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے کیونکہ تیسرا ان کا شیطان ہوتا ہے ، اور جس شخص کو اس کی نیکی خوش کر دے اور اس کی برائی اسے بری لگے تو وہ مومن ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی فی اکبریٰ ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ [النسائی فی الکبری (۵ / ۳۸۷ ۔ ۳۸۸ ح ۹۲۲۲ ۔ ۹۲۲۴) و عبد بن حمید (۲۳) ولہ طریق آخر عند الحمیدی (۳۲) و الترمذی (۲۱۶۵ وقال : حسن صحیح غریب)] ۔
جابر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس مسلمان کو ، جس نے مجھے دیکھا یا اس شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا ، جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے صحابہ ؓ کے (حقوق کے) متعلق اللہ سے بار بار ڈرتے رہنا ، میرے بعد انہیں نشانہ مت بنانا ، جس شخص نے ان سے محبت کی تو اس نے میری محبت کے باعث ان سے محبت کی ، اور جس نے ان سے دشمنی رکھی تو اس نے میرے ساتھ دشمنی رکھنے کی وجہ سے ان سے دشمنی رکھی ، جس شخص نے ان کو اذیت پہنچائی ، اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی ، اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی ، قریب ہے کہ وہ اس کو (دنیا میں) پکڑ لے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۸۶۲) * عبد الرحمن بن زیاد اختلفوا فی اسمہ ولم یوثقہ غیر ابن حبان وھو مجھول الحال ولم یثبت عن الترمذی بانہ قال فی حدیثہ : حسن : وقال البخاری : فیہ نظر (التاریخ الکبیر ۵ ۱۳۱ ت ۳۸۹) ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت میں میرے صحابہ کی مثال اس طرح ہے جس طرح کھانے میں نمک ، اور کھانا نمک کے ساتھ ہی بہتر (لذیذ) بنتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
حسن بصری ؒ نے فرمایا : ہمارا نمک تو جا چکا تو ہم کس طرح سنور سکتے ہیں ؟
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۴ / ۷۲ ۔ ۷۳ ح ۳۸۶۳) * فیہ اسماعیل بن مسلم المکی وھو ضعیف و فی السند علۃ أخری ۔
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرا کوئی صحابی جس سرزمین پر فوت ہو گا تو وہ قیامت کے دن ان لوگوں کا قائد اور نور بن کر اٹھایا جائے گا ۔‘‘
امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور ابن مسعود ؓ سے ((لا یبلغنی احد)) مروی حدیث باب حفظ اللسان میں ذکر کی گئی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۸۶۵) * فیہ عثمان بن ناجیۃ : مستور ۔ 0 حدیث ابن مسعود تقدم (۴۸۵۲) ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہوں تو تم کہو : تمہارے شر پر اللہ کی لعنت ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۸۶۶) * نصر بن حماد : ضعیف و سیف بن عمر : ضعیف فی الحدیث و ضعیف فی التاریخ علی الراجح ۔
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : میں نے اپنے رب سے ۔ اپنے بعد اپنے صحابہ کے اختلاف کے متعلق دریافت کیا تو اس نے میری طرف وحی فرمائی :’’ محمد ! آپ کے صحابہ میرے نزدیک آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں ، ان میں سے بعض ، بعض سے زیادہ قوی ہیں ، اور ہر ایک کی روشنی ہے ، اور جس شخص نے باوجود ان کے اختلاف کے جن پر وہ ہیں ، عمل کیا تو وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے ۔‘‘ ضعیف جذا ، رواہ رزین ۔
Takhreej
ضعیف جذا ، رواہ رزین (لم اجدہ) [و الخطیب فی الفقیہ و المتفقہ (۱ / ۱۷۷) و فیہ نعیم بن حماد صدوق حسن الحدیث و لکن عبد الرحیم بن زید العمی کذاب و ابوہ ضعیف ، و للحدیث شواھد باطلۃ و مردودۃ] ۔