TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب مَنَاقِب عَليّ بن أبي طَالب - علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان - كتاب المناقب - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 8 of كتاب المناقب in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 14 · 21 Hadith
عَن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا :’’ آپ میرے لیے ایسے ہیں جیسے موسی ؑ کے لیے ہارون ؑ تھے ، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۷۰۶) و مسلم (۳۰ / ۲۴۰۴) ۔ 6217
6087
Sahih
وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ: أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مؤمنٌ وَلَا بيغضني إِلَّا مُنَافِق. رَوَاهُ مُسلم
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں ، علی ؓ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس نے دانے کو اگایا اور ہر ذی روح کو پیدا فرمایا ! نبی امی ﷺ نے مجھے عہد دیا کہ مومن شخص ہی مجھ سے محبت کرے گا اور صرف منافق شخص ہی مجھ سے دشمنی رکھے گا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۳۱ / ۷۸) ۔ 240
6088
Sahih
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهَ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» . فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كلهم يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟» فَقَالُوا: هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ. قَالَ: «فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ» . فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ الله أقاتلهم حَتَّى يَكُونُوا مثلنَا؟ فَقَالَ: «انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِي اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَذكر حَدِيث الْبَراء قَالَ لعَلي: «أَنْت مني وَأَنا مِنْك» فِي بَاب «بُلُوغ الصَّغِير»
سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ خیبر کے موقع پر فرمایا :’’ میں کل ایک ایسے شخص کو پرچم عطا کروں گا جس کے ہاتھوں اللہ فتح عطا فرمائے گا ، وہ شخص اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول اسے محبوب رکھتے ہیں ۔‘‘ چنانچہ جب صبح ہوئی تو تمام لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور وہ سب پرامید تھے کہ وہ (پرچم) اسے عطا کیا جائے گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہیں بلاؤ ۔‘‘ وہ آپ کے پاس لائے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب لگایا تو وہ ایسے شفایاب ہوئے کہ گویا انہیں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں ، آپ ﷺ نے پرچم انہیں عطا فرمایا تو علی ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا میں ان سے لڑتا رہوں حتیٰ کہ وہ ہمارے جیسے (یعنی مسلمان) ہو جائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یونہی چلتے رہو حتیٰ کہ تم ان کے میدان میں اترو ، پھر انہیں اسلام کی دعوت پیش کرو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ کے کیا حقوق ان پر واجب ہیں ، اللہ کی قسم ! اگر تمہارے ذریعے اللہ کسی ایک آدمی کو ہدایت عطا فرما دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور براء ؓ سے مروی حدیث آپ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا :’’ تو مجھ سے اور میں تم سے ہوں ‘‘ باب بلوغ الصغیر میں ذکر کی گئی ہے ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۹۴۲) و مسلم (۳۴ / ۲۴۰۶) 0 حدیث البراء تقدم (۳۳۷۷) ۔ 6223
6089
Sahih
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ علی مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ ہر مومن کے دوست ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۷۱۲ وقال : غریب) ۔
6090
Sahih
وَعَن زيد بن أَرقم أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ
زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں جس کا دوست ہوں ، علی اس کے دوست ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۴ / ۳۶۸ ح ۱۹۴۹۴) و الترمذی (۳۷۱۳ وقال : حسن غریب) * و للحدیث طریق کثیرۃ جدًا فھو من الاحادیث المتواترۃ ۔
6091
Sahih
وَعَن حبشِي بن جُنَادَة قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ وَلَا يُؤَدِّي عني إِلَّا أَنا وَعلي» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَرَوَاهُ أَحْمد عَن أبي جُنَادَة
حُبشی بن جنادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ علی مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ، اور میری طرف سے کوئی ادائیگی نہ کرے سوائے میرے اور علی کے ۔‘‘ ترمذی ، اور امام احمد نے اسے ابوجناوہ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و احمد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۳۷۱۹ وقال : حسن غریب صحیح) و احمد (۴ / ۱۶۴ ح ۱۷۶۴۵) ۔
6092
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ فَقَالَ: آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلم تُؤاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أُحُدٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تو علی ؓ اشکبار آنکھوں کے ساتھ آئے اور عرض کیا : آپ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ہے ، لیکن آپ نے میرے اور کسی اور کے درمیان بھائی چارہ قائم نہیں فرمایا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میرے دنیا اور آخرت میں بھائی ہو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۷۲۰) * حکیم بن جبیر : ضعیف رمی بالتشیع ، و جمیع بن عمیر : ضعیف ضعفہ الجمھور ۔
6093
Zaeef
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيْرٌ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ» فجَاء عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کے پاس ایک بھنا ہوا پرندہ تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اپنی مخلوق میں سے اپنے محبوب ترین شخص کو میرے پاس بھیج جو میرے ساتھ اس پرندے کو کھائے ۔‘‘ علی ؓ ان کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے آپ کے ساتھ تناول فرمایا ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۳۷۲۱) ۔
6094
Sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ «حَسَنٌ غَرِيبٌ»
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں جب رسول اللہ ﷺ سے کوئی چیز طلب کرتا تو آپ مجھے عطا فرماتے اور جب میں خاموش رہتا تو آپ طلب کیے بغیر مجھے عطا فرما دیتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۷۲۲) * عبداللہ بن عمرو بن ھند لم یسمع من علی رضی اللہ عنہ ، وجاء فی المستدرک (۳ / ۱۲۵ ح ۴۶۳) قال :’’ سمعت علیًا رضی اللہ عنہ ‘‘ !! ۔
6095
Zaeef
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَقَالَ: رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَرِيكٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ الثِّقَاتِ غَيْرَ شَرِيكٍ
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں دار حکمت ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ، اور انہوں نے فرمایا : بعض راویوں نے اس حدیث کو شریک سے روایت کیا ہے ، اور انہوں نے اس میں عن الصنابحی کا ذکر نہیں کیا ، اور ہم شریک کے علاوہ یہ حدیث کسی ثقہ راوی سے نہیں جانتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۷۲۳) * شریک القاضی مدلس و عنعن ولم یثبت تصریح سماعہ فی ھذا الحدیث و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
6096
Zaeef
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاهُ فَقَالَ النَّاسُ: لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا انْتَجَيْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ انْتَجَاهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، طائف کے روز رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ کو بلایا اور ان سے سرگوشی فرمائی ۔ لوگوں نے کہا : آپ کی اپنے چچا زاد کے ساتھ سرگوشی طویل ہو گئی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے اس سے سرگوشی نہیں کی ، بلکہ اللہ نے اس سے سرگوشی کی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۷۲۶ وقال : حسن غریب ) * ابو الزبیر مدلس و عنعن ۔
6097
Zaeef
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «يَا عَلِيُّ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُجْنِبُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرَكَ» قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ: فَقُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ: مَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهُ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرَكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا :’’ علی ! میرے اور تمہارے سوا کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ حالت جنابت میں اس مسجد میں سے گزرے ۔‘‘ علی بن منذر بیان کرتے ہیں ، میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا : اس حدیث کا کیا معنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میرے اور تیرے سوا کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ حالت جنابت میں مسجد سے راستے کا کام لے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۷۲۷) * فیہ عطیۃ العوفی : ضعیف ۔
6098
Zaeef
وَعَن أم عطيَّة قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا فِيهِمْ عَلِيٌّ قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُرِيَنِي عليّاً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ام عطیہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا ، اس میں علی ؓ بھی تھے ، ام عطیہ ؓ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! مجھے موت نہ دینا حتیٰ کہ تو مجھے علی ؓ کو دکھا دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۷۳۷ وقال : حسن) * ام شراحیل و ابو الجراح المھری : مجھولا الھال ، لم یوثقھما غیر الترمذی ۔
6099
Zaeef
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ وَلَا يُبْغِضُهُ مُؤْمِنٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب إِسْنَادًا
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ منافق شخص علی سے محبت کرے گا نہ مومن شخص ان سے دشمنی رکھے گا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث سند کے لحاظ سے حسن غریب ہے ۔ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ احمد (۶ / ۲۸۲ ح ۲۷۰۴۰) و الترمذی (۲ / ۳۷۱۷ و حسنہ و سندہ ضعیف) * مساور الحمیری مجھول و حدیث الترمذی (۳۷۳۶) و مسلم (۷۸) یغنی عنہ ۔
6100
Zaeef
وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي» . رَوَاهُ أَحْمد
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے علی کو برا بھلا کہا تو اس نے مجھے برا بھلا کہا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۶ / ۳۲۳ ح ۲۷۲۸۴) [و صححہ الحاکم (۳ / ۱۲۱) و وافقہ الذھبی] * ابو اسحاق مدلس و عنعن ، و روی ابو یعلی (۷۰۱۳) من حدیث السدی (اسماعیل بن عبد الرحمن) عن ابی عبداللہ الجدلی قال :’’ قالت ام سلمۃ : ایسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم علی المنابر ؟ قلت : و انی ذلک ؟ قالت : الیس یسب علی و من یحبہ ؟ فاشھد ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کان یحبہ ‘‘ و سندہ حسن ۔
6101
Zaeef
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسَى أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَتْ لَهُ» . ثُمَّ قَالَ: يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں عیسیٰ ؑ کی ایک مشابہت ہے ، یہودی ان سے دشمنی رکھتے ہیں ، حتیٰ کہ وہ ان کی والدہ (مطہرہ) پر تہمت لگاتے ہیں جبکہ نصاریٰ ان سے محبت کرتے ہیں ، حتیٰ کہ انہوں نے انہیں ایسے مقام پر فائز کر دیا جس کے وہ حق دار نہیں ۔‘‘ پھر علی ؓ نے فرمایا : دو قسم کے لوگ میرے (حق کے) متعلق ہلاک ہو جائیں گے ، افراط سے کام لینے والا محبّ وہ میرے متعلق ایسا افراط کرے گا جو مجھ میں نہیں ہے ، اور دشمنی رکھنے والا کہ میری دشمنی اسے اس پر آمادہ کرے گی کہ وہ مجھ پر بہتان لگائے گا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ [عبداللہ] احمد (۱ / ۱۶۰ ح ۱۳۷۶) * فیہ الحکم بن عبد الملک : ضعیف ۔
6102
Zaeef
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ بِغَدِيرِ خُمٍّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» . فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ: هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كلَّ مُؤمن ومؤمنة. رَوَاهُ أَحْمد
براء بن عازب اور زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب غدیر خم پر پڑاؤ ڈالا تو آپ ﷺ نے علی ؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :’’ کیا تم نہیں جانتے کہ میرا مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق ہے ؟‘‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور ہے ، پھر فرمایا :’’ کیا تم نہیں جانتے کہ میرا ہر مومن پر اس کی جان سے بھی زیادہ حق ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ! ضرور ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! میں جس شخص کا دوست ہوں علی اس کے دوست ہیں ، اے اللہ ! جو شخص اس کو دوست بنائے تو اسے دوست بنا ، اور جو شخص اس سے دشمنی رکھے تو انہیں دشمن بنا ۔‘‘ اس کے بعد عمر ؓ علی سے ملے تو انہوں نے علی ؓ سے کہا : ابن ابی طالب ! آپ کو مبارک ہو آپ صبح و شام (ہر وقت) ہر مومن اور ہر مومنہ کے دوست بن گئے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۴ / ۲۸۱ ح ۱۸۶۷۱ من حدیث البراء بن عازب رضی اللہ عنہ) * فیہ علی بن زید بن جدعان : ضعیف ، و رواہ احمد (۴ / ۳۶۸ ، ۳۷۰ ، ۳۷۲) من طرق عن زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بہ دون قول عمر رضی اللہ عنہ و المرفوع صحیح ۔
6103
Zaeef
وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: خطب أبي بَكْرٍ وَعُمَرُ فَاطِمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا صَغِيرَةٌ» ثُمَّ خَطَبَهَا عليٌّ فزوَّجها مِنْهُ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر و عمر ؓ نے فاطمہ ؓ سے شادی کا پیغام بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ تو چھوٹی (کم سن) ہیں ۔‘‘ پھر علی ؓ نے انہیں پیغام بھیجا تو آپ نے ان کی شادی ان سے کر دی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی (۶ / ۶۲ ح ۳۲۲۳) و السند صحیح علی شرط مسلم ۔
6104
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے باب علی کے سوا تمام دروازے بند کرنے کا حکم فرمایا ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۳۷۳۲) ۔
6105
Sahih
وَعَن عَليّ قَالَ: كَانَتْ لِي مَنْزِلَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ آتِيهِ بِأَعْلَى سَحَرٍ فَأَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَإِنْ تَنَحْنَحَ انْصَرَفْتُ إِلَى أَهْلِي وَإِلَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے ہاں جو میرا مقام و مرتبہ تھا وہ مخلوق میں سے کسی اور کا نہیں تھا ، میں سحری کے اول وقت (رات کے آخری چھٹے حصے) میں آپ ﷺ کے پاس آتا تو میں کہتا ، اللہ کے نبی ! آپ پر سلامتی ہو ، اگر آپ کھانس دیتے تو میں اہل خانہ کے پاس واپس چلا جاتا ، ورنہ میں آپ کے ہاں داخل ہو جاتا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ النسائی (۳ / ۱۲ ح ۱۲۱۴) [و ابن خزیمۃ (۹۰۲)] ۔
6106
Sahih

Chapters

14
01
بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ وَذِكْرِ الْقَبَائِلِ
قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر کا بیان
28 Hadith
02
بَاب مَنَاقِب الصَّحَابَة
صحابہ کرام ؓ کے مناقب کا بیان
12 Hadith
03
بَاب مَنَاقِب أبي بكر
حضرت ابوبکر ؓ کے مناقب و فضائل کا بیان
16 Hadith
04
بَاب مَنَاقِب عمر
حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
21 Hadith
05
بَابِ مَنَاقِبِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے مناقب کا بیان
13 Hadith
06
بَاب مَنَاقِب عُثْمَان
حضرت عثمان ؓ کے مناقب کا بیان
14 Hadith
07
بَاب مَنَاقِب هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَة
ان تینوں کے مناقب کا بیان
4 Hadith
08
بَاب مَنَاقِب عَليّ بن أبي طَالب
علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان
21 Hadith
09
بَابُ مَنَاقِبِ الْعَشَرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
عشرہ مبشرہ ؓ کے مناقب کا بیان
27 Hadith
10
بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ
رسول اللہ ﷺ کے گھر والوں کے مناقب کا بیان
49 Hadith
11
بَابُ مَنَاقِبِ أَزْوَاجِ
نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کے مناقب کا بیان
12 Hadith
12
بَاب جَامع المناقب
مناقب کا بیان
70 Hadith
13
بَاب تَسْمِيَة من سمي من أهل الْبَدْر فِي «الْجَامِعِ لِلْبُخَارِيِّ»
یمن اور شام اور اویس قرنی کے ذکر کا باب
17 Hadith
14
بَاب ثَوَاب هَذِه
اس امت کے ثواب کا بیان
12 Hadith
No chapter matched that.