TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فضائل اور خصائل کا بیان - فضائل اور خصائل کا بیان - Book 28 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 28 of Mishkat, with 10 chapters and 240 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

240 Hadith · 10 Chapters
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا حَتَّى كُنْتُ من القرنِ الَّذِي كنتُ مِنْهُ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اولادِ آدم کے بہترین طبقات سے ہوتا ہوا اس طبقے میں پہنچا ہوں جس میں مَیں پیدا ہوا ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۳۵۵۷) ۔
5739
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنَى هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: «إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى مِنْ ولد إِبْرَاهِيم إِسْمَاعِيل وَاصْطفى من ولد إِسْمَاعِيل بني كنَانَة»
واثلہ بن اسقع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ نے اولادِ اسماعیل ؑ میں سے کنانہ کو منتخب فرمایا ، کنانہ میں سے قریش کو ، قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا ۔‘‘ اور ترمذی کی روایت میں ہے :’’ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے اسماعیل ؑ کو منتخب فرمایا ، اور اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے بنو کنانہ کو ۔‘‘ رواہ مسلم و الترمذی ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱ / ۲۲۷۶) و الترمذی (۳۶۰۶) ۔ 5938
5740
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت آدم ؑ کی اولاد کا سردار میں ہوں گا ۔ سب سے پہلے مجھے قبر سے اٹھایا جائے گا ، سب سے پہلے میں سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری سفارش قبول کی جائے گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۳ / ۲۲۷۸) ۔ 5940
5741
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الجنةِ» . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روزِ قیامت تمام انبیا ؑ سے میرے متبعین زیادہ ہوں گے ، اور باب جنت پر سب سے پہلے میں دستک دوں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۳۳۱ / ۱۹۶) ۔ 484
5742
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آتِي بَابَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ الْخَازِنُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ. فيقولُ: بكَ أمرت أَن لاأفتح لأحد قبلك . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قیامت کے دن میں جنت کے دروازے پر آؤں گا اور اس کے کھولنے کا مطالبہ کرو ں گا تو محافظ پوچھے گا : آپ کون ہیں ؟ میں کہوں گا : محمد (ﷺ) ۔ وہ عرض کرے گا : آپ ہی کے متعلق مجھے حکم دیا گیا تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے (اسے) نہ کھولوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۳۳۳ / ۱۹۷) ۔ 486
5743
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ فِي الْجَنَّةِ لَمْ يُصَدَّقْ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مَا صُدِّقْتُ وَإِنَّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيًّا مَا صَدَّقَهُ مِنْ أُمَّته إِلَّا رجل وَاحِد» . رَوَاهُ مُسلم
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں جنت میں (داخلے کے لیے) سب سے پہلے سفارش کروں گا ، تمام انبیا ؑ میں سے میری تصدیق کرنے والے زیادہ ہوں گے بلا شبہ انبیا ؑ میں سے کوئی ایسا نبی بھی ہو گا جس کی ، اس کی امت میں سے ، صرف ایک آدمی نے تصدیق کی ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۳۳۲ / ۱۹۶) ۔ 485
5744
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهُ تُرِكَ مِنْهُ مَوضِع لبنة فَطَافَ النظَّارُ يتعجَّبونَ من حُسنِ بنيانِه إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ فَكُنْتُ أَنَا سَدَدْتُ مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ خُتِمَ بِيَ الْبُنْيَانُ وَخُتِمَ بِي الرُّسُلُ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے اور دوسرے انبیا ؑ کی مثال اس طرح ہے جیسے ایک محل ہو جسے بہترین انداز میں تعمیر کیا گیا ہو ، لیکن ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی ہو ، دیکھنے والے اس کے گرد چکر لگاتے ہیں اور اس اینٹ کی جگہ کے علاوہ اس کے حسنِ تعمیر پر تعجب میں پڑ جاتے ہیں ، وہ میں تھا جس نے اس اینٹ کی جگہ کو پورا کیا ۔ میرے ساتھ ہی تعمیر مکمل کر دی گئی اور میرے ساتھ ہی رسالت بھی مکمل کر دی گئی ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۵۳۴ و الروایۃ الثانیۃ : ۳۵۳۵) و مسلم (۲۱ ، ۲۰ / ۲۲۸۶ و الروایۃ الثانیۃ ۲۲ / ۲۲۸۶) ۔5959
5745
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمام انبیا ؑ کو معجزات عطا کیے گئے جن کے مطابق انسان ان پر ایمان لائے ، اور جو مجھے عطا کیا گیا وہ وحی (یعنی قرآن) ہے ، اللہ نے میری طرف وحی بھیجی ، میں امید کرتا ہوں کہ روز قیامت ان (انبیا ؑ) سے میرے متبعین زیادہ ہوں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۹۸۱) و مسلم (۲۳۹ / ۱۵۲) ۔ 385
5746
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتي أدركتْه الصَّلاةُ فليُصلِّ وأُحلَّتْ لي المغانمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَأَعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عامَّةً . مُتَّفق عَلَيْهِ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں : ایک مہینے کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، تمام زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک بنا دی گئی ہے ، میرے امتی کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے تو وہ وہیں نماز پڑھ لے ، میرے لیے مال غنیمت حلال کر دیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لیے حلال نہیں تھا ، مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے اور ہر نبی اپنی اپنی قوم کے لیے مبعوث کیا جاتا تھا جبکہ مجھے عمومی طور پر تمام انسانوں کے لیے مبعوث کیا گیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۳۵) و مسلم (۳ / ۵۲۱) ۔ 1163
5747
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے دوسرے انبیا ؑ پر چھ چیزوں سے فضیلت عطا کی گئی ہے : مجھے جوامع الکلم (بات مختصر ، مفہوم زیادہ) عطا کیے گئے ہیں ، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، مال غنیمت میرے لیے حلال کیا گیا ہے ، میرے لیے تمام زمین سجدہ گاہ اور پاک قرار دی گئی ہے مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہے ، اور مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۵ / ۵۲۳) ۔ 1167
5748
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وبَينا أَنا نائمٌ رأيتُني أُوتيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي» مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے ، رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، اور اس دوران کے میں سویا ہوا تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کی گئی ہیں ، اور انہیں میرے ہاتھ میں رکھ دیا گیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۲۲) و مسلم (۶ / ۵۲۳) ۔ 1168
5749
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ: الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وإنَّ ربِّي قَالَ: يَا محمَّدُ إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وأنْ لَا أُسلطَ عَلَيْهِم عدُوّاً سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعضهم بَعْضًا . رَوَاهُ مُسلم
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا ، اور جس قدر زمین میرے لیے سمیٹ دی گئی وہاں تک میری امت کی حکومت پہنچے گی ، مجھے دو خزانے عطا کیے گئے ، سرخ اور سفید ، میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ عام قحط سالی کے ذریعے اسے ہلاک نہ کرے ، ان کے باہمی دشمنوں کے سوا کسی اور دشمن کو ان پر مسلط نہ کرے کہ وہ ان کا مرکز (صدر مقام) تباہ کر دے اور بلا شبہ میرے رب نے فرمایا : اے محمد ! میں جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو وہ ٹل نہیں سکتا ، میں نے آپ کو آپ کی امت کے بارے میں یہ عہد دے دیا کہ میں اسے قحط سالی میں مبتلا کر کے تباہ نہیں کروں گا ، یہ بھی عہد دے دیا کہ ان پر ان کے باہمی دشمن کے علاوہ کوئی ایسا دشمن اس پر مسلط نہیں کروں گا جو ان کے مرکز کو تباہ کر دے ، اگرچہ ان کے تمام دشمن متحد ہو کر ان پر حملہ کر دیں ، البتہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور قیدی بنائیں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۹ / ۲۸۸۹) ۔ 7258
5750
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: «سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بأسهم بَينهم فَمَنَعَنِيهَا» . رَوَاهُ مُسلم
سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنو معاویہ کی مسجد کے پاس سے گزرے تو آپ اس میں تشریف لے گئے ، آپ نے وہاں دو رکعتیں پڑھیں اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ (دو رکعتیں) پڑھیں ، آپ ﷺ نے اپنے رب سے طویل دعا کی ، اور جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگی تھیں ، اس نے مجھے دو عطا فرما دیں اور ایک سے مجھے روک دیا ، میں نے اپنے رب سے سوال کیا تھا کہ وہ میری امت کو قحط کے ساتھ ہلاک نہ کرے ، اس نے یہ چیز مجھے عطا فرما دی ، میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ وہ میری امت کو غرق کے ذریعے ہلاک نہ کرے ، تو اس نے یہ بھی مجھے عطا کر دی ، اور میں نے اس سے سوال کیا کہ وہ ان میں باہم لڑائی پیدا نہ کرے تو اس سے مجھے روک دیا گیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۰ / ۲۸۹۰) ۔ 7260
5751
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ قَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لموصوف بِبَعْض صفتِه فِي القرآنِ: (يَا أيُّها النبيُّ إِنَّا أرسلناكَ شَاهدا ومُبشِّراً وَنَذِيرا) وحِرْزا للاُمِّيّينَ أَنْت بعدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
عطا بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے ملاقات کی ، میں نے کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ کی اس صفت کے متعلق بتائیں جو تورات میں مذکور ہے ، انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، اللہ کی قسم ! آپ کی جو صفات قرآن کریم میں ہیں ، ان میں سے بعض تورات میں مذکور ہیں ، جیسا کہ :’’ اے نبی ! ہم نے آپ کو خوشخبری سنانے والا ، ڈرانے والا اور اَن پڑھوں (عربوں) کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے ، آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں ، میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے ، آپ نہ تو بد اخلاق ہیں اور نہ سخت دل ہیں ، آپ بازاروں میں شور و غل کرنے والے ہیں نہ برائی کا جواب برائی سے دیتے ہیں ، بلکہ آپ درگزر کرتے ہیں ، معاف کرتے ہیں ، اور اللہ ان کی روح قبض نہیں کرے گا حتی کہ وہ ان کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا کرا لے ، اور وہ ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کا اقرار کر لیں اور وہ اس (کلمے) کے ذریعے اندھی آنکھوں کو قوت بینائی ، بہرے کانوں کو قوت سماعت اور غلاف میں بند دلوں کو کھول دے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۲۱۲۵) ۔
5752
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَكَذَا الدَّارِمِيُّ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ سَلَامٍ نَحْوَهُ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: «نَحْنُ الْآخَرُونَ» فِي «بَاب الْجُمُعَة»
اور اسی طرح دارمی نے عطاء عن ابن سلام کی سند سے اسی مثل روایت کیا ہے ، اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث ((نحن الآخرون .....)) ’’ باب الجمعۃ ‘‘ میں ذکر کی گئی ہے ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الدارمی (۱ / ۵ ح ۶) 0 حدیث ’’ نحن الآخرون ‘‘ تقدم (۱۳۵۴) ۔
5753
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
عَن خبَّابِ بنِ الأرتِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ فَأَطَالَهَا. قَالُوا: يَا رَسُولَ الله صلَّيتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا قَالَ: «أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ وَإِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ فِيهَا ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فمنعَنيها» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
خباب بن ارت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی تو اسے طویل کیا ، صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے ہمیں نماز پڑھائی ، جبکہ آپ نے ایسی نماز (پہلے کبھی) نہیں پڑھائی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ٹھیک ہے ، یہ امید اور خوف والی نماز ہے ، میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کی درخواست کی : اس نے مجھے دو عطا فرما دیں اور ایک سے روک دیا ، میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ قحط کے ذریعے میری امت کو ہلاک نہیں کرے گا اس نے اسے شرف قبولیت بخشا ، میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ ان کے علاوہ کسی اور دشمن کو ان پر مسلط نہیں کرے گا ، اس نے یہ بھی پوری فرما دی اور میں نے اس سے یہ بھی درخواست کی کہ ان کی آپس میں لڑائی (خانہ جنگی) نہ ہو تو اس نے اس سے مجھے روک دیا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۲۱۷۵ وقال : حسن صحیح) و النسائی (۳ / ۲۱۶ ۔ ۲۱۷ ح ۱۶۳۹) ۔
5754
Sahih
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَجَارَكُمْ مِنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ: أَنْ لَا يَدْعُوَ عَلَيْكُمْ نَبِيُّكُمْ فَتَهْلَكُوا جَمِيعًا وَأَنْ لَا يُظْهِرَ أَهْلَ الْبَاطِلِ على أهلِ الحقِّ وَأَن لَا تجتمِعوا على ضَلَالَة . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابومالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل نے تمہیں تین چیزوں سے محفوظ رکھا ہے ، تمہارا نبی تمہارے لیے یہ بددعا نہیں کرے گا کہ تم سب ہلاک ہو جاؤ ، اہل باطل ، اہل حق پر غالب نہیں ہوں گے ، اور تم گمراہی پر اکٹھے نہیں ہو گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۲۵۳) * فیہ شریح عن ابی مالک رضی اللہ عنہ ، وقال ابو حاتم الرازی :’’ شریح بن عبید عن ابی مالک الاشعری : مرسل ‘‘ (المراسیل ص ۹۰ ت ۳۲۷ ب) ۔
5755
Zaeef
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَنْ يَجْمَعَ اللَّهُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيْفَيْنِ: سَيْفًا مِنْهَا وسَيفاً منْ عدُوِّها رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عوف بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اس امت پر دو تلواریں جمع نہیں کرے گا ، ایک ان کی اپنی تلوار اور ایک اس کے دشمن کی تلوار (یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ مسلمانوں میں خانہ جنگی بھی ہو اور دشمن بھی ان پر حملہ آور ہو) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۴۳۰۱) * یحیی بن جابر : لم بلق عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فالسند منقطع ۔
5756
Zaeef
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَن الْعَبَّاس أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنَّهُ سَمِعَ شَيْئًا فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: «مَنْ أَنَا؟» فَقَالُوا: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالَ: «أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ ثمَّ جعلهم فرقتَيْن فجعلني فِي خير فِرْقَةً ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبيلَة ثمَّ جعله بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا فَأَنَا خَيْرُهُمْ نفسا وَخَيرهمْ بَيْتا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ (غصے کی حالت میں) نبی ﷺ کی خدمت میں آئے گویا انہوں نے کچھ (نسب میں طعن) سنا تھا ، نبی ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے تو فرمایا :’’ میں کون ہوں ؟‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ، آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مجھے ان میں سے بہتر گروہ میں پیدا فرمایا ، پھر اس نے ان کے قبیلے بنائے تو مجھے ان سب سے بہتر قبیلے میں پیدا فرمایا ، پھر ان کو گھرانے گھرانے بنایا تو مجھے ان میں سے بہترین گھرانے میں پیدا فرمایا ، میں ان سے نفس و حسب کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں اور ان کے گھرانے کے لحاظ سے بھی بہتر ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۶۰۷ ۔ ۳۶۰۸ وقال : حسن) * فیہ یزید بن ابی زیاد : ضعیف مشھور ۔
5757
Zaeef
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
وَعَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ؟ قَالَ: «وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نبوت کے منصب سے کب نوازے گئے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدم ؑ روح اور جسم کے مابین تھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۳۶۰۹ وقال : حسن صحیح غریب) [و الفریابی فی کتاب القدر (۱۴)] * یعنی انہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کان نبیًا فی التقدیر قبل خلق آدم علیہ السلام فالحدیث متعلق بالتقدیر ، لا بخلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فافھمہ فانہ مھم و الحدیث الآتی یؤید ھذا التفسیر ۔
5758
Sahih