انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم رسول اللہ ﷺ کو رات تہجد پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو ہم آپ کو (اس حالت میں) دیکھ لیتے تھے ، اور اگر ہم آپ کو سویا ہوا دیکھنا چاہتے تو ہم آپ کو (سویا ہوا) دیکھ لیتے تھے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
حمید بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کے کسی صحابی نے بیان کیا ، کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ، اس دوران میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ ﷺ کی نماز دیکھنے کے لیے آپ کو غور سے دیکھتا رہوں گا حتیٰ کہ میں آپ کا فعل دیکھ سکوں ، جب آپ ﷺ نے نماز عشاء پڑھ لی تو آپ رات دیر تک سوئے رہے ، پھر بیدار ہوئے تو افق پر نظر ڈال کر یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی :’’ ہمارے پروردگار ! تو نے یہ ناحق پیدا نہیں فرمایا ۔‘‘ حتیٰ کہ آپ ﷺ یہاں تک پہنچے :’’ بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے بستر کی طرف ہاتھ بڑھایا اور وہاں سے مسواک نکالی ، پھر کسی برتن سے پیالے میں پانی ڈالا اور مسواک کی ، پھر نماز پڑھی حتیٰ کہ میں نے کہا : آپ جتنی دیر سوئے تھے اس قدر نماز پڑھی پھر آپ لیٹ گئے حتیٰ کہ میں نے (دل میں) کہا : آپ نے جس قدر نماز پڑھی اسی قدر سو گئے ، پھر آپ بیدار ہوئے تو پہلی مرتبہ کی طرح عمل دہرایا ، اور آپ نے وہی آیات تلاوت کیں ، رسول اللہ ﷺ نے فجر سے پہلے تین مرتبہ ایسے کیا ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
یعلی بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ ام سلمہ ؓ سے نبی ﷺ کی قراءت اور نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : تم ان کی نماز کے متعلق پوچھ کر کیا کرو گے ؟ آپ ﷺ نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر آپ نے جتنی دیر نماز پڑھی ہوتی ، اتنی دیر سو جاتے تھے ، پھر جس قدر سوئے اسی قدر نماز پڑھتے ، پھر جتنی دیر نماز پڑھی ہوتی اسی قدر سو جاتے تھے حتیٰ کہ صبح ہو جاتی ، پھر انہوں نے آپ ﷺ کی قراءت کے متعلق بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ کی قراءت کا ایک ایک حرف واضح ہوتا تھا ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔