TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز کا بیان - نماز کا بیان - Book 4 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 4 of Mishkat, with 53 chapters and 959 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

959 Hadith · 53 Chapters
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ لَمَّا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِر» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کبیرہ گناہوں سے بچا جائے تو پانچ نمازیں ، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک ہونے والے صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۶ / ۲۳۳) ۔ 552
564
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ؟ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ. قَالَ: فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے بتاؤ اگر تم میں سے کسی شخص کے گھر کے سامنے نہر ہو اور وہ ہر روز اس میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہوتو کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہ جائے گی ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اس کے جسم پر کوئی میل باقی نہیں رہے گی ، آپ نے فرمایا :’’ یہی پانچ نماز وں کی مثال ہے ، اللہ ان کے ذریعے خطائیں مٹا دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۲۸) و مسلم (۲۸۳ / ۶۶۷) ۔ 1522
565
Sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْل إِن الْحَسَنَات يذْهبن السَّيِّئَات) فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِي هَذَا؟ قَالَ: «لِجَمِيعِ أُمَّتِي كُلِّهِمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي»
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے کسی عورت کا بوسہ لے لیا پھر اس نے آ کر نبی ﷺ کو بتایا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ دن کے دونوں اطراف اور رات کی چند ساعتوں میں نماز پڑھا کریں ، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ میرے لیے خاص ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری ساری امت کے لیے ہے ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ جس نے میری امت میں سے اس پر عمل کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۲۶) و مسلم (۴۲ / ۲۷۶۳) ۔ 7001
566
Sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فأقمه عَليّ قَالَ وَلم يسْأَله عَنهُ قَالَ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاة قَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فأقم فِي كتاب الله قَالَ أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ مَعَنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ أَو قَالَ حدك
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی آیا ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں موجب حد والا عمل کر بیٹھا ہوں ، لہذا آپ مجھ پر حد قائم فرمائیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے اس سے اس (عمل) کے متعلق کچھ دریافت نہ کیا ، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا ، تو اس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، جب نبی ﷺ نماز ادا کر چکے تو وہ آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں (نے ایسا کام کیا ہے کہ) حد کو پہنچ چکا ہوں ، لہذا آپ میرے متعلق اللہ کا حکم نافذ فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نےتمہارے گناہ یا تمہاری حد کو معاف فرما دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۷۳۳) و مسلم (۴۴ / ۲۷۶۴) ۔ 7006
567
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَي الْأَعْمَال أحب إِلَى الله قَالَ: «الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ: «بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ استزدته لزادني
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ اللہ کو کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وقت پر نماز ادا کرنا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، پھر کون سا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ والدین سے اچھا سلوک کرنا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، پھر کون سا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔‘‘ ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، آپ نے مجھے یہ باتیں بتائیں ، اگر میں مزید دریافت کرتا تو آپ مجھے اور زیادہ بتاتے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۲۷) و مسلم (۱۳۹ / ۸۵) ۔ 254
568
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ ترك الصَّلَاة» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ (مومن) بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز کا ترک کرنا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۳۴ / ۸۲) ۔ 246
569
Sahih
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ تَعَالَى مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَّاهُنَّ لوقتهن وَأتم ركوعهن خشوعهن كَانَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَرَوَى مَالك وَالنَّسَائِيّ نَحوه
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، جس شخص نے ان کے لیے اچھی طرح وضو کیا ، انہیں ان کے وقت پر ادا کیا ، اور ان کے رکوع و خشوع کو مکمل کیا تو اللہ کا اس کے لیے عہد ہے کہ وہ اسے معاف فرما دے گا اور جس نے ایسے نہ کیا تو اس سے اللہ کا کوئی عہد نہیں ، اگر وہ چاہے تو اسے معاف فرما دے ، اور اگر چاہے تو اسے سزا دے ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ۔ جبکہ مالک اور امام نسائی نے بھی اس کی مانند روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۵ / ۳۱۷ ح ۲۳۰۸۰) و ابوداؤد (۱۴۲۰) و مالک (۱ / ۱۲۳ ح ۲۶۷) و النسائی (۱ / ۲۳۰ ح ۴۶۲) [و ابن ماجہ (۱۴۰۱) و صححہ ابن حبان (۲۵۲ ، ۲۵۳) ۔
570
Sahih
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلُّوا خَمْسَكُمْ وَصُومُوا شَهْرَكُمْ وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تدْخلُوا جنَّة ربكُم» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنی پانچ (فرض) نمازیں پڑھو ، اپنے ماہ (رمضان) کے روزے رکھو ، اپنے اموال کی زکو ۃ دو ، اور امیر کی اطاعت کرو تو اس طرح تم اپنے رب کی جت میں داخل ہو جاؤ گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۵ / ۲۵۱ ح ۲۲۵۱۴) و الترمذی (۶۱۶ وقال : حسن صحیح) [و صححہ الحاکم علی شرط مسلم ۱ / ۹ و وافقہ الذھبی] ۔
571
Sahih
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ سِنِين وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ فِي شرح السّنة عَنهُ
عمرو بن شعیب ؒ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تمہارے بچے سات برس کے ہو جائیں تو انہیں نماز کے متعلق حکم دو ، اور جب وہ دس برس کے ہو جائیں (اور وہ اس میں کوتاہی کریں) تو انہیں اس پر سزا دو ، اور ان کے بستر الگ کر دو ۔‘‘ ابوداؤد ، اور شرح السنہ میں بھی اس طرح روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۴۹۵) و البغوی فی شرح السنۃ (۲ / ۴۰۶ ح ۵۰۵) ۔
572
Sahih
وَفِي المصابيح عَن سُبْرَة بن معبد
مصابیح میں سبرہ بن معبد ؓ سے مروی ہے ۔ صحیح ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ البغوی فی المصابیح (۱ / ۲۵۳ ح ۴۰۰) [و ابوداؤد (۴۹۴) و الترمذی (۴۰۷ و صححہ)] ۔
573
Sahih
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہمارے اور ان (منافقین) کے مابین نماز عہد ہے پس جس نے اسے ترک کیا تو اس نے کفر کیا ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۵ / ۳۴۶ ح ۲۳۳۲۵) و الترمذی (۲۶۲۱ وقال : حسن صحیح غریب) و النسائی (۱ / ۲۳۱ ، ۲۳۲ ح ۴۶۴) و ابن ماجہ (۱۰۷۹) [و صححہ ابن حبان (۲۵۵) و الحاکم (۱ / ۶ ، ۷) و وافقہ الذھبی] ۔
574
Sahih
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا فَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ. فَقَالَ عُمَرَ لَقَدْ سَتَرَكَ اللَّهُ لَو سترت نَفْسِكَ. قَالَ وَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ شَيْئًا فَقَامَ الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَدَعَاهُ وتلا عَلَيْهِ هَذِه الْآيَة (أقِم الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَات يذْهبن السَّيِّئَات ذَلِك ذكرى لِلذَّاكِرِينَ) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا لَهُ خَاصَّة قَالَ: «بل للنَّاس كَافَّة» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے مدینہ کے دوسرے کنارے ایک عورت سے طبع آزمائی کی ، میں نے جماع کے علاوہ اس کے ساتھ سب کچھ کیا ، چنانچہ میں حاضر ہوں ، آپ میرے متعلق جو چاہیں فیصلہ فرمائیں ، عمر ؓ نے اسے کہا ، اللہ نے تمہاری پردہ پوشی کی تھی کاش کہ تم بھی اپنی پردہ پوشی کرتے ، راوی بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا ، اور وہ آدمی کھڑا ہوا اور چلا گیا ، چنانچہ نبی ﷺ نے کسی آدمی کو اس کے پیچھے بھیجا تو اسے بلا کر یہ آیت سنائی :’’ دن کے دونوں اطراف اور رات کی چند ساعتوں میں نماز پڑھا کریں ، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں اور یہ نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے ۔‘‘ حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! یہ اس کے لیے خاص ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴۲ / ۲۷۶۳) ۔ 7004
575
Sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَاءِ وَالْوَرَقُ يَتَهَافَتُ فَأَخَذَ بِغُصْنَيْنِ مِنْ شَجَرَةٍ قَالَ فَجَعَلَ ذَلِكَ الْوَرَقُ يَتَهَافَتُ قَالَ فَقَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ» قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «إِنَّ العَبْد الْمُسلم ليصل الصَّلَاة يُرِيد بهَا وَجه الله فتهافت عَنهُ ذنُوبه كَمَا يتهافت هَذَا الْوَرَقُ عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ موسم خزاں میں باہر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دو شاخوں کو پکڑا ، راوی نے بیان کیا کہ پتے گرنے لگے اور آپ ﷺؑ نے فرمایا :’’ اے ابوذر ! میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! حاضر ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک مسلمان بندہ اللہ کی رضا کے لیے نماز پڑھتا ہے تو اس سے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے اس درخت سے پتے گرتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۵ / ۱۷۹ ح ۲۱۸۸۹) * فیہ مزاحم بن معاویۃ الضبی مجھول الحال وثقہ ابن حبان وحدہ من المتقدمین و للحدیث شواھد ضعیفۃ ، انظر تنقیح الرواۃ (۱ / ۱۰۰) ۔
576
Zaeef
وَعَن زيد بن خَالِد الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ لَا يَسْهُو فِيهِمَا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
زید بن خالد الجہنی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص حضور قلب سے دو رکعتیں پڑھتا ہے تو اللہ اس کے سابقہ گناہ معاف فرما دیتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ احمد (۵ / ۱۹۴ ح ۲۲۰۳۳) [و ابوداؤد (۹۰۵ مطولاً) و صححہ الحاکم علی شرط مسلم (۱ / ۱۳۲) و وافقہ الذھبی] ۔
577
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ ذَكَرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَقَالَ: «مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمن لم يحافظ عَلَيْهَا لم يكن لَهُ نور وَلَا برهَان وَلَا نجاة وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ قَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے ایک روز نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :’’ جس نے نماز کی حفاظت و پابندی کی تو وہ اس شخص کے لیے روز قیامت نور ، دلیل اور نجات ہو گی ، اور جس نے اس کی حفاظت و پابندی نہ کی تو روز قیامت اس کے لیے نور ، دلیل اور نجات نہیں ہو گی اور وہ قارون ، فرعون ، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الدارمی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۲ / ۱۶۹ ح ۶۵۷۶) و الدارمی (۲ / ۳۰۱ ، ۳۰۲ ح ۲۷۲۴) و البیھقی فی شعب الایمان (۲۸۲۳) * عیسی بن ھلال : وثقہ الحاکم و الجمھور وھو حسن الحدیث (انظر نیل المقصود : ۱۳۹۹) ۔
578
Sahih
وَعَن عبد الله بن شَقِيق قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الْأَعْمَالِ تَركه كفر غير الصَّلَاة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عبداللہ بن شقیق ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اعمال میں صرف ترک نماز کو کفر تصور کیا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۲۶۲۲) [و للحدیث لون آخر عند الحاکم (۱ / ۷ ح ۱۲)] ۔
579
Sahih
وَعَن أبي الدَّرْدَاء قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي أَنْ لَا تُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ وَلَا تَتْرُكْ صَلَاةً مَكْتُوبَة مُتَعَمدا فَمن تَركهَا مُتَعَمدا فقد بَرِئت مِنْهُ الذِّمَّةُ وَلَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كل شَرّ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، میرے خلیل (نبی ﷺ) نے مجھے وصیت فرمائی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا خواہ تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے اور خواہ تمہیں جلا دیا جائے ، اور جان بوجھ کر فرض نماز ترک نہ کرنا ، جس نے عمداً اسے ترک کر دیا تو اس سے ذمہ اٹھ گیا ، اور شراب نہ پینا کیونکہ وہ تمام برائیوں کی چابی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابن ماجہ (۴۰۳۴) [و حسنہ البوصیری] * فیہ شھر بن حوشب : حسن الحدیث و للحدیث شواھد ۔
580
Sahih
بَاب الْمَوَاقِيت
نماز کے اوقات کا بیان
عَن عبد اللَّهِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاة فَإِنَّهَا تطلع بَين قَرْني شَيْطَان» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نماز ظہر کا وقت ، زوال آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جانے اور عصر کا وقت نہ ہونے تک رہتا ہے ، اور عصر کا وقت سورج کے زرد ہو جانے سے پہلے تک رہتا ہے ، اور مغرب کا وقت شفق (غروب آفتاب کے بعد افق پر جو سرخی ہوتی ہے) کے رہنے تک رہتا ہے ، اور عشاء کا وقت نصف شب تک رہتا ہے جبکہ نماز فجر کا وقت طلوع فجر سے طلوع آفتاب سے پہلے تک رہتا ہے ، اور جب سورج طلوع ہونے لگے تو پھر نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیطان کے سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۷۳ / ۶۱۲) ۔ 1388
581
Sahih
بَاب الْمَوَاقِيت
نماز کے اوقات کا بیان
وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ: «صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ» يَعْنِي الْيَوْمَيْنِ فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَمَّا أَنْ كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ بِهَا فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «وَقْتُ صَلَاتكُمْ بَين مَا رَأَيْتُمْ» . رَوَاهُ مُسلم
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے نمازوں کے اوقات کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ تم دو دن ہمارے ساتھ نماز پڑھو ۔‘‘ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے بلال کو حکم فرمایا تو انہوں نے اذان دی ، پھر آپ نے حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی ، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عصر کے لیے اقامت کہی جبکہ سورج بلند صاف چمک دار تھا ، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے سورج غروب ہو جانے پر مغرب کے لیے اقامت کہی ، اور پھر جب شفق غائب ہو گئی تو آپ نے انہیں نماز عشاء کے لیے اقامت کہنے کا حکم فرمایا ، پھر جب فجر طلوع ہو گئی تو آپ نے انہیں نماز فجر کے لیے اقامت کہنے کا حکم فرمایا ، دوسرے روز آپ نے انہیں ظہر کو ٹھنڈا کرنے کا حکم فرمایا تو انہوں نے اسے خوب مؤخر کیا ، آپ نے عصر پڑھی جبکہ سورج بلند تھا ، آپ نے گزشتہ روز سے اسے مؤخر کیا ، آپ نے شفق غائب ہو جانے سے پہلے مغرب پڑھی اور تہائی رات گزر جانے کے بعد عشاء پڑھی ، اور فجر ، طلوع فجر کے روشن ہو جانے پر پڑھی ، پھر فرمایا :’’ نمازوں کے اوقات معلوم کرنے والا شخص کہاں ہے ؟‘‘ تو اس آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہاری نمازوں کا وقت ان اوقات کے مابین ہے جس کا تم ملاحظہ کر چکے ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۷۶ / ۶۱۳) ۔ 1391
582
Sahih
بَاب الْمَوَاقِيت
نماز کے اوقات کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ قَدْرَ الشِّرَاكِ وَصَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِين كَانَ ظلّ كل شَيْء مثله وَصلى بِي يَعْنِي الْمغرب حِين أفطر الصَّائِم وَصلى بِي الْعشَاء حِينَ غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّى بِيَ الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ صَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ وَصَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَيْهِ وَصَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ وَصَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَصَلَّى بِيَ الْفَجْرَ فَأَسَفَرَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ وَالْوَقْتُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جبریل ؑ نے بیت اللہ کے قریب مجھے دو مرتبہ نماز پڑھائی (ایک مرتبہ) جب سورج تسمہ کے برابر ڈھل گیا تو انہوں نے مجھے ظہر پڑھائی ، اور جب ہر چیز کا سایہ اس (چیز) کے مثل ہو گیا تو انہوں نے مجھے عصر پڑھائی ، جس وقت روزہ دار افطار کرتا ہے اس وقت مجھے مغرب پڑھائی ، اور شفق ختم ہو جانے پر مجھے عشاء پڑھائی ، اور جس وقت روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے اس وقت مجھے فجر پڑھائی ۔ پس اگلا روز ہوا تو انہوں نے مجھے ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس (چیز) کے مثل ہو گیا ، اور جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہو گیا تو مجھے عصر پڑھائی ، اور جس وقت روزہ دار افطار کرتا ہے اس وقت مجھے مغرب پڑھائی ، اور تہائی رات گزرنے پر مجھے عشاء پڑھائی ، اور صبح روشن ہو جانے پر نماز فجر پڑھائی ، پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : محمد ! ﷺ یہ آپ سے پہلے انبیا علیہم السلام کا وقت ہے اور نمازوں کا وقت انہی دو اوقات کے مابین ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۹۳) و الترمذی (۱۴۹) [و صححہ ابن خزیمۃ (۳۲۵) و ابن الجارود (۱۴۹ ، ۱۵۰) و الحاکم (۱ / ۱۹۳)] ۔
583
Sahih

Chapters

53
01
بَاب الْمَوَاقِيت
نماز کے اوقات کا بیان
6 Hadith
02
بَاب تَعْجِيل الصَّلَوَات
اول وقت نماز پڑھنے کا بیان
37 Hadith
03
بَاب فَضَائِل الصَّلَاة
فضائل نماز کا بیان
17 Hadith
04
بَاب الْأَذَان
اذان کا بیان
13 Hadith
05
بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَإِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ
اذان دینے اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت
26 Hadith
06
بَاب تَأْخِير الْأَذَان
اذان کے بعض احکام کا بیان
9 Hadith
07
بَاب الْمَسَاجِد ومواضع الصَّلَاة
مساجد اور نماز پڑھنے کے مقامات کا بیان
65 Hadith
08
بَاب السّتْر
ستر کا بیان
18 Hadith
09
بَاب الستْرَة
سترہ کا بیان
18 Hadith
10
بَاب صفة الصَّلَاة
نماز پڑھنے کا بیان
22 Hadith
11
بَابُ مَا يُقْرَأُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ
تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جانے والی چیزوں کا بیان
10 Hadith
12
بَاب الْقِرَاءَة فِي الصَّلَاة
نماز میں قراءت کا بیان
46 Hadith
13
بَاب الرُّكُوع
رکوع کا بیان
19 Hadith
14
بَاب السُّجُود وفضله
سجود اور ان کی فضیلت کا بیان
19 Hadith
15
بَاب التَّشَهُّد
تشہد کا بیان
13 Hadith
16
بَابُ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وفضلها
نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے اور اس کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
17
بَاب الدُّعَاء فِي التَّشَهُّد
تشہد کی دعا کا بیان
20 Hadith
18
بَاب الذّكر بعد الصَّلَاة
نماز کے بعد ذکر کا بیان
19 Hadith
19
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ
دوران نماز نا جائز اور مباح اعمال کا بیان
36 Hadith
20
بَاب السَّهْو
۔ (نماز میں) بھول جانے کا بیان
9 Hadith
21
بَاب سُجُود الْقُرْآن
سجدۂ تلاوت کا بیان
16 Hadith
22
بَاب أَوْقَات النَّهْي
نماز کے لیے ممنوعہ اوقات کا بیان
13 Hadith
23
بَاب الْجَمَاعَة وفضلها
با جماعت نماز اور اس کی فضیلت کا بیان
33 Hadith
24
بَاب تَسْوِيَة الصَّفّ
صفیں برابر کرنے کا بیان
21 Hadith
25
بَاب الْموقف
(نماز میں) کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان
11 Hadith
26
بَاب الْإِمَامَة
امامت کا بیان
12 Hadith
27
بَاب مَا على الإِمَام
امام کی ذمہ داری کا بیان
7 Hadith
28
بَابُ مَا عَلَى الْمَأْمُومِ مِنَ الْمُتَابَعَةِ وَحُكْمِ الْمَسْبُوق
مقتدی کے لیے امام کی متابعت اور مسبوق کے حکم کا بیان
14 Hadith
29
بَابُ مَنْ صَلَّى صَلَاةً مَرَّتَيْنِ
دو مرتبہ نماز پڑھنے والے آدمی کا بیان
9 Hadith
30
بَاب السّنَن وفضائلها
سنتوں اور ان کی فضیلت کا بیان
29 Hadith
31
بَاب صَلَاة اللَّيْل
نماز تہجد کا بیان
23 Hadith
32
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ
نماز تہجد کے اذکار
8 Hadith
33
بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ
رات کے قیام پر رغبت دلانے کا بیان
22 Hadith
34
بَاب الْقَصْد فِي الْعَمَل
عمل میں میانہ روی کا بیان
12 Hadith
35
بَاب الْوتر
وتر کا بیان
35 Hadith
36
بَاب الْقُنُوت
قنوت کا بیان
7 Hadith
37
بَاب قيام شهر رَمَضَان
ماہ رمضان کے قیام کا بیان
14 Hadith
38
بَاب صَلَاة الضُّحَى
نماز چاشت کا بیان
13 Hadith
39
بَاب التَّطَوُّع
نفل نماز کا بیان
6 Hadith
40
بَاب صَلَاة التَّسْبِيح
نماز تسبیح کا بیان
5 Hadith
41
بَاب صَلَاة السّفر
نماز سفر کا بیان
21 Hadith
42
بَاب الْجُمُعَة
جمعہ کا بیان
16 Hadith
43
بَاب وُجُوبهَا
وجوب جمعہ کا بیان
11 Hadith
44
بَاب التَّنْظِيف والتبكير
نظافت اور اول وقت آنے کا بیان
20 Hadith
45
بَاب الْخطْبَة وَالصَّلَاة
خطبہ اور نماز جمعہ کا بیان
19 Hadith
46
بَاب صَلَاة الْخَوْف
نماز خوف کا بیان
6 Hadith
47
بَاب صَلَاة الْعِيدَيْنِ
نماز عیدین کا بیان
27 Hadith
48
بَاب فِي الْأُضْحِية
قربانی کا بیان
24 Hadith
49
بَاب فِي العتيرة
عتیرہ کا بیان
3 Hadith
50
باب صلٰوۃ الخسوف
نماز خسوف کا بیان
14 Hadith
51
بَابٌ فِي سُجُودِ الشُّكْرِ
سجدۂ شکر کا بیان
3 Hadith
52
بَاب الاسْتِسْقَاء
نماز استسقا کا بیان
14 Hadith
53
بَاب فِي الرِّيَاح
آندھیوں کا بیان
12 Hadith
No chapter matched that.