TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب فِي الْأُضْحِية - قربانی کا بیان - نماز کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 48 of نماز کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 48 of 53 · 24 Hadith
عَن أنس قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكبر قَالَ: رَأَيْته وضاعا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا وَيَقُولُ: «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أكبر»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ’’ بسم اللہ و اللہ اکبر ‘‘ پڑھ کر اپنے دست مبارک سے چتکبرے ، سینگوں والے دو مینڈھے ذبح کیے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ان کے پہلو پر اپنا قدم رکھا اور آپ ﷺ پڑھ رہے تھے :((بسم اللہ و اللہ اکبر)) ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۵۶۴) و مسلم (۱۸ / ۱۹۶۶) ۔ 5087
1453
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ وَيَبْرَكُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ» ثُمَّ قَالَ: «اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ» فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ ثُمَّ ذَبَحَهُ ثُمَّ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ» . ثُمَّ ضحى بِهِ. رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم فرمایا جس کی ٹانگیں ، پیٹ اور آنکھیں سیاہ تھیں ، اسے آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تاکہ آپ اسے قربان کریں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عائشہ ! چھری لاؤ ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ اسے پتھر پر تیز کرو ۔‘‘ میں نے ایسے ہی کیا تو آپ ﷺ نے چھری پکڑ کر مینڈھے کو لٹایا اور ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو یوں دعا کی :’’ اللہ کے نام پر ، اے اللہ ! اسے محمد (ﷺ) ، آل محمد اور امت محمد کی طرف سے قبول فرما ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اسے ذبح کیا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۹ / ۱۹۶۷) ۔ 5091
1454
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْن» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ صرف دو دانت والا جانور ذبح کرو ، اگر تمہیں (اس کا ملنا) مشکل ہو تو پھر ایک سال کا مینڈھا ذبح کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۳ / ۱۹۶۳) ۔ 5082
1455
Sahih
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يقسمها على صحابته ضحايا فَبَقيَ عتود فَذكره لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ضَحِّ بِهِ أَنْتَ» وَفِي رِوَايَةٍ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أصابني جذع قَالَ: «ضح بِهِ»
عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں کچھ بکریاں دیں تاکہ وہ قربانی کے لیے آپ کے صحابہ ؓ میں تقسیم کر دی جائیں ۔ (تقسیم کے بعد) بکری کا ایک سال کا بچہ باقی رہ گیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اسے ذبح کر لو ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں : میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے حصے میں جذع (ایک سال سے زائد عمر کا جانور) آیا ہے ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اسے ذبح کر لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۵۵۵) و مسلم (۱۵ / ۱۹۶۵) ۔ 5085
1456
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُ وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ گائے اور اونٹ عید گاہ میں ذبح کیا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۹۸۲) ۔
1457
Sahih
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ گائے اور اونٹ سات سات آدمیوں کی طرف سے قربانی کے لیے کافی ہے ۔‘‘ مسلم ، ابوداؤد اور الفاظ حدیث ابوداؤد کے ہیں ۔ رواہ مسلم و ابوداؤد ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۳۵۲ / ۱۳۱۸) و ابوداؤد (۲۸۰۸) ۔ 3178
1458
Sahih
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ بَعْضُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا» وَفِي رِوَايَةٍ «فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفْرًا» وَفِي رِوَايَةٍ «مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ» . رَوَاهُ مُسلم
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب ذوالحجہ کا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور جلد سے کوئی چیز نہ اتارے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ اپنے بال کٹوائے نہ ناخن ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ جو شخص ذوالحجہ کا چاند دیکھ لے اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال کٹوائے نہ ناخن ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴۲ ، ۳۹ / ۱۹۷۷) ۔ 5117-5118-5119
1459
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشَرَةِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ باقی دنوں میں کیے گئے عمل کی نسبت ان دس ایام میں کیا گیا عمل اللہ کو انتہائی پسندیدہ ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی اتنا پسندیدہ نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جہاد بھی نہیں ، الا یہ کہ کوئی شخص اپنے مال و جان کے ساتھ جہاد کے لیے جائے اور اس کی کوئی چیز واپس نہ آئے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۹۶۹) ۔
1460
Sahih
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ موجئين فَلَمَّا وجههما قَالَ: «إِنِّي وجهت وَجْهي للَّذي فطر السَّمَوَات وَالْأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أَمَرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ ذَبَحَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ وَأَبِي دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيِّ: ذَبَحَ بِيَدِهِ وَقَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ من أمتِي»
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے عید الاضحی کے روز سینگوں والے چتکبرے دو خصی مینڈھے ذبح کیے ، جب آپ ﷺ نے انہیں قبلہ رخ کیا تو یہ دعا پڑھی :’’ بے شک میں نے ابراہیم جو کہ یکسو تھے کے دین پر ہوتے ہوئے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا ، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ، بے شک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو کہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے ، اور میں مسلمانوں (اطاعت گزاروں) میں سے ہوں ، اے اللہ ! (یہ قربانی کا جانور) تیری عطا ہے اور تیرے ہی لیے ہے ، اسے محمد (ﷺ) اور ان کی امت کی طرف سے قبول فرما ، اللہ کے نام سے اور اللہ بہت بڑا ہے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے ذبح فرمایا ۔ احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور احمد ، ابوداؤد اور ترمذی کی روایت میں ہے : آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے ذبح کیا ، اور یہ دعا پڑھی :’’ اللہ کے نام سے ، اور اللہ سب سے بڑا ہے ، اے اللہ ! یہ میری اور میری امت کے اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۳ / ۳۷۵ ح ۱۵۰۸۶ مختصرًا) و ابوداؤد (۲۷۹۵) و ابن ماجہ (۳۱۲۱ وھو حدیث حسن) و الدارمی (۲ / ۷۵ ۔ ۷۶ ح ۱۹۵۲) و للحدیث شواھد] * ابن اسحاق عنعن فی ھذا اللفظ و الروایۃ الثانیۃ لاحمد (۳ / ۳۶۲) و ابی داود (۲۸۱۰) و الترمذی (۱۵۲۱ وقال : غریب) و الحدیث صحیح بدون قولہ :’’ موجئین ‘‘ انظر صحیح ابن خزیمہ (۲۸۹۹) و سندہ حسن) ۔
1461
Zaeef
وَعَنْ حَنَشٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: (إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ
حنش ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے علی ؓ کو دو مینڈھے ذبح کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے دریافت کیا ، یہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ میں ان کی طرف سے قربانی کروں ، سو میں ان کی طرف سے قربانی کرتا ہوں ۔ ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی ؒ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۷۹۰) و الترمذی (۱۴۹۵ وقال : غریب) * شریک القاضی و الحکم بن عتیبۃ مدلسان و عنعنا و ابو الحسناء مجھول وھو غیر الذی ذکرہ الحاکم فی المستدرک (۴ / ۲۲۹ ، ۲۳۰) و وافقہ الذھبی (!) ۔
1462
Zaeef
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَلَّا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ والدارمي وانتهت رِوَايَته إِلَى قَوْله: وَالْأُذن
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم (قربانی کے جانور کی) آنکھ اور کان غور سے دیکھ لیا کریں ، اور ہم ایسا جانور ذبح نہ کریں جس کا کان سامنے سے کٹا ہو یا پیچھے سے کٹا ہو ، اور اس میں کوئی سوراخ تک نہ ہو ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، دارمی ، ابن ماجہ اور ابن ماجہ کی روایت ((الاذن)) تک ختم ہو جاتی ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۴۹۸ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۲۸۰۴) و النسائی (۷ / ۲۱۶ ح ۴۳۷۷) و الدارمی (۲ / ۷۷ ح ۱۹۵۸) [و ابن ماجہ (۳۱۴۳) و صححہ الحاکم (۴ / ۲۲۴) و وافقہ الذھبی] * ابو اسحاق مدلس و عنعن ۔
1463
Zaeef
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن نضحي بأعضب الْقرن وَالْأُذن. رَوَاهُ ابْن مَاجَه
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو یا اس کا کان کٹا ہوا ہو ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ (۳۱۴۵) [و ابوداؤد (۲۸۰۵) و الترمذی (۱۵۰۴) و النسائی (۷ / ۲۱۷ ، ۲۱۸ ح ۴۳۸۲)] ۔
1464
Sahih
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: مَاذَا يُتَّقَى مِنَ الضَّحَايَا؟ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَقَالَ: «أَرْبَعًا الْعَرْجَاءُ والبين ظلعها والعرواء الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تَنْقَى» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
براء بن عازب ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کن جانوروں کی قربانی میں احتیاط کرنی چاہیے ؟ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے چار کا ذکر فرمایا :’’ ایسا لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو ، ایسا کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو ، مریض جس کا مریض ہونا ظاہر ہو ، اور لاغر جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ مالک (۲ / ۴۸۲ ح ۱۰۶۰) و احمد (۴ / ۲۸۹) و الترمذی (۱۴۹۷ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۲۸۰۲) و النسائی (۷ / ۲۱۵ ح ۴۳۷۶) و ابن ماجہ (۳۱۴۴) و الدارمی (۲ / ۷۶ ح ۱۹۵۵) [و صححہ ابن خزیمۃ (۲۹۱۲) و ابن حبان (۱۰۴۶) و ابن الجارود (۴۸۱ ، ۹۰۷) و الحاکم (۱ / ۴۶۷ ، ۴۶۸) و وافقہ الذھبی] ۔
1465
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشٍ أَقْرَنَ فَحِيلٍ يَنْظُرُ فِي سَوَادٍ وَيَأْكُلُ فِي سَوَادٍ وَيَمْشِي فِي سَوَادٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سینگوں والا ، موٹا تازہ صحت مند اور کالی آنکھوں والا ، سیاہ منہ والا اور کالی ٹانگوں والا مینڈھا قربانی کیا کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۱۴۹۶ وقال : حسن صحیح غریب) و ابوداؤد (۲۷۹۶) و النسائی (۷ / ۲۲۱ ح ۴۳۹۵) و ابن ماجہ (۳۱۲۸) [و النسائی (۷ / ۲۲۱ ح ۴۳۹۵] و للحدیث شاھد عند مسلم (۱۹۶۷) ۔
1466
Sahih
وَعَن مجاشع مِنْ بَنَى سُلَيْمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ الْجَذَعَ يُوفِي مِمَّا يُوفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
بنو سلیم قبیلے سے تعلق رکھنے والے مجاشع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ جہاں دو دانت والے بکرے کی قربانی کفایت کرتی ہے وہاں ایک سال کے مینڈھے کی قربانی بھی کفایت کرتی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۷۹۹) و النسائی (لم اجدہ) و رواہ النسائی (۷ / ۲۱۹ ح ۴۳۸۸ عن رجل من مزینۃ رضی اللہ عنہ بہ) و ابن ماجہ (۳۱۴۰) و صححہ الحاکم ۴ / ۲۲۶] ۔
1467
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نِعْمَتِ الْأُضْحِيَّةُ الْجذع من الضَّأْن» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ایک سال کے مینڈھے کی قربانی اچھی قربانی ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۴۹۹ وقال : غریب) * کدام و ابو کباش : مجھولان لا یعرف حالھا ۔
1468
Zaeef
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ الْأَضْحَى فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةٌ وَفِي الْبَعِيرِ عَشَرَةٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غريبٌ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ عید الاضحی آ گئی تو ہم گائے میں سات افراد شریک ہوئے اور اونٹ میں دس ۔ ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۵۰۱) و النسائی (۷ / ۲۲۲ ح ۴۳۹۷) و ابن ماجہ (۳۱۳۱) [و صححہ ابن خزیمۃ (۲۹۰۸) و ابن حبان (الاحسان : ۳۹۹۶] ۔
1469
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ وَإِنَّهُ لَيُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ الله بمَكَان قبل أَن يَقع بِالْأَرْضِ فيطيبوا بهَا نفسا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قربانی کے دن ، ابن آدم کا قربانی کرنا اللہ کو انتہائی محبوب ہے ، بے شک وہ (جانور) روز قیامت اپنے سینگوں ، بالوں ، اور کھروں سمیت آئے گا ، بے شک قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے ، پس تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۴۹۳ وقال : حسن غریب) و ابن ماجہ (۳۱۲۶) * ابو المثنی : ضعیف ضعفہ الجمھور ۔
1470
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ إِسْنَادُهُ ضَعِيف
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ذوالحجہ کے دس دنوں کی عبادت اللہ کو انتہائی محبوب ہے اس عشرہ کے ہر دن کے روزے کا ثواب سال بھر کے روزوں اور اس کی ہر رات کا قیام ، شب قدر کے قیام کے برابر ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ امام ترمذی نے فرمایا : اس کی سند ضعیف ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۷۵۸) و ابن ماجہ (۱۷۲۸) * نھاس : ضعیف ۔
1471
Zaeef
عَن جُنْدُب بن عبد الله قَالَ: شَهِدْتُ الْأَضْحَى يَوْمَ النَّحْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعْدُ أَن صلى وَفرغ من صلَاته وَسلم فَإِذا هُوَ يرى لَحْمَ أَضَاحِيٍّ قَدْ ذُبِحَتْ قَبْلَ أَنْ يَفْرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ فَقَالَ: «مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ أَوْ نُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى» . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ ذَبَحَ وَقَالَ: «مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ أُخْرَى مَكَانَهَا وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فليذبح باسم الله»
جندب بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز عید الاضحی ادا کی ، آپ نے صرف نماز پڑھ کر سلام ہی پھیرا تھا (ابھی خطبہ ارشاد نہیں فرمایا تھا) کہ آپ نے قربانی کا گوشت دیکھا جسے آپ کے نماز پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا گیا تھا ، آپ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) فرمایا :’’ جس شخص نے ہمارے نماز پڑھنے سے پہلے جانور ذبح کیا ہے وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے نبی ﷺ نے قربانی کے دن نماز پڑھائی ، پھر خطبہ ارشاد فرمایا ، پھر جانور ذبح کیا ، اور فرمایا :’’ جس شخص نے ہمارے نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کی ہے ۔ وہ اس کی جگہ ایک اور جانور ذبح کرے ، اور جس نے جانور ذبح نہیں کیا ، وہ اللہ کے نام پر جانور ذبح کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۹۸۵) و مسلم (۱ / ۱۹۶۰) ۔ 5064
1472
Sahih

Chapters

53
01
بَاب الْمَوَاقِيت
نماز کے اوقات کا بیان
6 Hadith
02
بَاب تَعْجِيل الصَّلَوَات
اول وقت نماز پڑھنے کا بیان
37 Hadith
03
بَاب فَضَائِل الصَّلَاة
فضائل نماز کا بیان
17 Hadith
04
بَاب الْأَذَان
اذان کا بیان
13 Hadith
05
بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَإِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ
اذان دینے اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت
26 Hadith
06
بَاب تَأْخِير الْأَذَان
اذان کے بعض احکام کا بیان
9 Hadith
07
بَاب الْمَسَاجِد ومواضع الصَّلَاة
مساجد اور نماز پڑھنے کے مقامات کا بیان
65 Hadith
08
بَاب السّتْر
ستر کا بیان
18 Hadith
09
بَاب الستْرَة
سترہ کا بیان
18 Hadith
10
بَاب صفة الصَّلَاة
نماز پڑھنے کا بیان
22 Hadith
11
بَابُ مَا يُقْرَأُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ
تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جانے والی چیزوں کا بیان
10 Hadith
12
بَاب الْقِرَاءَة فِي الصَّلَاة
نماز میں قراءت کا بیان
46 Hadith
13
بَاب الرُّكُوع
رکوع کا بیان
19 Hadith
14
بَاب السُّجُود وفضله
سجود اور ان کی فضیلت کا بیان
19 Hadith
15
بَاب التَّشَهُّد
تشہد کا بیان
13 Hadith
16
بَابُ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وفضلها
نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے اور اس کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
17
بَاب الدُّعَاء فِي التَّشَهُّد
تشہد کی دعا کا بیان
20 Hadith
18
بَاب الذّكر بعد الصَّلَاة
نماز کے بعد ذکر کا بیان
19 Hadith
19
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ
دوران نماز نا جائز اور مباح اعمال کا بیان
36 Hadith
20
بَاب السَّهْو
۔ (نماز میں) بھول جانے کا بیان
9 Hadith
21
بَاب سُجُود الْقُرْآن
سجدۂ تلاوت کا بیان
16 Hadith
22
بَاب أَوْقَات النَّهْي
نماز کے لیے ممنوعہ اوقات کا بیان
13 Hadith
23
بَاب الْجَمَاعَة وفضلها
با جماعت نماز اور اس کی فضیلت کا بیان
33 Hadith
24
بَاب تَسْوِيَة الصَّفّ
صفیں برابر کرنے کا بیان
21 Hadith
25
بَاب الْموقف
(نماز میں) کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان
11 Hadith
26
بَاب الْإِمَامَة
امامت کا بیان
12 Hadith
27
بَاب مَا على الإِمَام
امام کی ذمہ داری کا بیان
7 Hadith
28
بَابُ مَا عَلَى الْمَأْمُومِ مِنَ الْمُتَابَعَةِ وَحُكْمِ الْمَسْبُوق
مقتدی کے لیے امام کی متابعت اور مسبوق کے حکم کا بیان
14 Hadith
29
بَابُ مَنْ صَلَّى صَلَاةً مَرَّتَيْنِ
دو مرتبہ نماز پڑھنے والے آدمی کا بیان
9 Hadith
30
بَاب السّنَن وفضائلها
سنتوں اور ان کی فضیلت کا بیان
29 Hadith
31
بَاب صَلَاة اللَّيْل
نماز تہجد کا بیان
23 Hadith
32
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ
نماز تہجد کے اذکار
8 Hadith
33
بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ
رات کے قیام پر رغبت دلانے کا بیان
22 Hadith
34
بَاب الْقَصْد فِي الْعَمَل
عمل میں میانہ روی کا بیان
12 Hadith
35
بَاب الْوتر
وتر کا بیان
35 Hadith
36
بَاب الْقُنُوت
قنوت کا بیان
7 Hadith
37
بَاب قيام شهر رَمَضَان
ماہ رمضان کے قیام کا بیان
14 Hadith
38
بَاب صَلَاة الضُّحَى
نماز چاشت کا بیان
13 Hadith
39
بَاب التَّطَوُّع
نفل نماز کا بیان
6 Hadith
40
بَاب صَلَاة التَّسْبِيح
نماز تسبیح کا بیان
5 Hadith
41
بَاب صَلَاة السّفر
نماز سفر کا بیان
21 Hadith
42
بَاب الْجُمُعَة
جمعہ کا بیان
16 Hadith
43
بَاب وُجُوبهَا
وجوب جمعہ کا بیان
11 Hadith
44
بَاب التَّنْظِيف والتبكير
نظافت اور اول وقت آنے کا بیان
20 Hadith
45
بَاب الْخطْبَة وَالصَّلَاة
خطبہ اور نماز جمعہ کا بیان
19 Hadith
46
بَاب صَلَاة الْخَوْف
نماز خوف کا بیان
6 Hadith
47
بَاب صَلَاة الْعِيدَيْنِ
نماز عیدین کا بیان
27 Hadith
48
بَاب فِي الْأُضْحِية
قربانی کا بیان
24 Hadith
49
بَاب فِي العتيرة
عتیرہ کا بیان
3 Hadith
50
باب صلٰوۃ الخسوف
نماز خسوف کا بیان
14 Hadith
51
بَابٌ فِي سُجُودِ الشُّكْرِ
سجدۂ شکر کا بیان
3 Hadith
52
بَاب الاسْتِسْقَاء
نماز استسقا کا بیان
14 Hadith
53
بَاب فِي الرِّيَاح
آندھیوں کا بیان
12 Hadith
No chapter matched that.