TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1470 - بَاب فِي الْأُضْحِية - نماز کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 18 of 24 in this chapter
بَاب فِي الْأُضْحِية
قربانی کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ وَإِنَّهُ لَيُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ الله بمَكَان قبل أَن يَقع بِالْأَرْضِ فيطيبوا بهَا نفسا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قربانی کے دن ، ابن آدم کا قربانی کرنا اللہ کو انتہائی محبوب ہے ، بے شک وہ (جانور) روز قیامت اپنے سینگوں ، بالوں ، اور کھروں سمیت آئے گا ، بے شک قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے ، پس تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو ۔‘‘ ضعیف ۔
1470
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيفٌ)
Conclusion
تخریج
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۴۹۳ وقال : حسن غریب) و ابن ماجہ (۳۱۲۶) * ابو المثنی : ضعیف ضعفہ الجمھور ۔

Related Chapters

143
1
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Talbiyah And the Nahr (Sacrifice)
باب: تلبیہ اور نحر (قربانی) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Stoning On The Day Of An-Nahr During Duha (The Morning Light)
باب: قربانی کے دن چاشت کے وقت رمی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Sharing In Badanah (Sacrificial Camels) and Cows
باب: قربانی میں اونٹ یا گائے میں شرکت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: (Purchasing the Hadi)
باب: قربانی کے جانور سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About One Who Shaved Before He Slaughtered, Or Offered The Sacrifice Before He Stoned
باب: ذبح کرنے سے پہلے سر مونڈا لینے یا رمی جمرات سے پہلے قربانی کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Slaughtering
باب: قربانی کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Sacrificing Two Male Sheep
باب: دو مینڈھوں کی قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering On Behalf Of The Deceased
باب: میت کی طرف سے قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About What Is Recommended To Slaughter
باب: کس قسم کے جانور کی قربانی مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Is Not Allowed For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Is Disliked For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About The Jadha' Among Sheep For Slaughtering
باب: بھیڑ کے جذع کی قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Sharing In The Udhiyah
باب: قربانی میں اشتراک کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: Regarding A Sacrificial Animal With A Stump Horn Or Ear
باب: ٹوٹی سینگ اور پھٹے کان والے جانوروں کی قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Reported About: One Sheep Will Suffice For The People In The Household
باب: ایک بکری کی قربانی گھر کے سارے افراد کی طرف سے کافی ہے
Jam e Tirmazi
16
Chapter: The Evidence That The Udhiyah (sacrifice) Is A Sunnah
باب: قربانی کے سنت ہونے کی دلیل
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has been Related About Slaughtering After The Salat
باب: نماز عید کے بعد قربانی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Eat From The Sacrificial Meat Beyond Three Days.
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Eat From It Beyond Three Days
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھ کر کھانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: The Best Sacrifice Is The Male Sheep
باب: قربانی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
21
Chapter: To Avoid Removing One's Hair For Those Who Want To Offer Sacrifice
باب: جو قربانی کرنا چاہتا ہو وہ بال نہ کاٹے
Jam e Tirmazi
22
بَابٌ خُطْبَةُ يَوْمِ النَّحْرِ
قربانی کے دن خطبہ دینے ، ایام تشریق میں کنکریاں مارنے اور وداع کا بیان
Mishkat
23
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
Musnad Ahmad
24
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
Musnad Ahmad
25
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
Musnad Ahmad
26
محصر کو حل و حرم کے جس مقام پر بھی روک دیا جائے گا، وہ قربانی اور پھر حلق کر کے عمرہ سے حلال ہو جائے گا اور اس پر کوئی قضاء نہیں ہو گی
Musnad Ahmad
27
قربانی کے اونٹوں کو اشعار کرنا اور ہدی کے تمام جانوروں کو قلادے ڈالنا
Musnad Ahmad
28
قربانی، اس پر ابھارنااور اس کی فضیلت اور حکم
Musnad Ahmad
29
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی ذات، اہل بیت اور اپنی امت کے فقراء کی طرف سے قربانیاں
Musnad Ahmad
30
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
Musnad Ahmad
31
جانور کی اس عمر کا بیان جو قربانی میں کفایت کرتی ہے
Musnad Ahmad
32
ان جانوروں کا بیان کہ عیب کی وجہ سے جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور جن کی قربانی مکروہ ہے اور جن کی مستحبّ ہے
Musnad Ahmad
33
خصی جانور کی قربانی کرنا
Musnad Ahmad
34
اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
Musnad Ahmad
35
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
36
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
37
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
38
(37) CHAPTER. The Statement of Allah: “This is for him whose family is not present at the Al- Masjid-al-Haram (i.e. non-resident of Makkah). (V. 2:196)
اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا تمتع یا قربانی کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر والے مسجدالحرام کے پاس نہ رہتے ہوں۔
Sahih Bukhari
39
(102) CHAPTER. ... And whosoever perfoms the Umra in the months of Hajj before the Hajj ...
قربانی کے جانور پر سوار ہونا ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
40
(104) CHAPTER. Whoever drove the Budn (sacrificial camels or cows) alongwith him.
اس شخص کے بارے میں جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے جائے
Sahih Bukhari
41
(105) CHAPTER. Buying the Hady on the way.
اس شخص کے بارے میں جس نے قربانی کا جانور راستے میں خریدا
Sahih Bukhari
42
(107) CHAPTER. To twist (and make) the garlands for the Budn (Hady camels for sacrifice) and cows.
گائے اونٹ وغیرہ قربانی کے جانوروں کے قلادے بٹنے کا بیان
Sahih Bukhari
43
(108) CHAPTER. The marking of the Budn (camels for sacrifice).
قربانی کے جانور کا اشعار کرنا
Sahih Bukhari
44
(109) CHAPTER. Whoever puts the garlands round the necks of the Hady (animals meant for sacrifice) with one's own hands.
اس کے بارے میں جس نے اپنے ہاتھ سے ( قربانی کے جانوروں کو ) قلائد پہنائے
Sahih Bukhari
45
(113) CHAPTER. The covering (sheet) of the Budn (camels for sacrifice).
قربانی کے جانوروں کے لیے جھول کا ہونا
Sahih Bukhari
46
(115) CHAPTER. To slaughter cows (as sacrifices) on behalf of one's wives without being ordered by them.
کسی آدمی کا اپنی بیویوں کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیر گائے کی قربانی کرنا
Sahih Bukhari
47
(120) CHAPTER. The butcher should not be given anything of the Hady.
قصاب کو بطور مزدوری اس قربانی کے جانوروں میں سے کچھ نہ دیا جائے
Sahih Bukhari
48
(121) CHAPTER. The skins of Al-Hady are to be given in charity.
قربانی کی کھال خیرات کر دی جائے گی
Sahih Bukhari
49
(122) CHAPTER. The covering sheets of Budn are to be given in charity.
قربانی کے جانوروں کے جھول بھی صدقہ کر دیے جائیں
Sahih Bukhari
50
(124) CHAPTER. What is to be eaten of Budn (by the one who offers them) and what is to be distributed in charity.
قربانی کے جانوروں میں سے کیا کھائیں اور کیا خیرات کریں
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

2
Jam e Tirmazi
1493
حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْحَذَّاءُ الْمَدَنِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ أَبُو مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ،‏‏‏‏ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ،‏‏‏‏ إِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا،‏‏‏‏ وَأَشْعَارِهَا،‏‏‏‏ وَأَظْلَافِهَا،‏‏‏‏ وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنَ الْأَرْضِ،‏‏‏‏ فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ،‏‏‏‏ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،‏‏‏‏ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ،‏‏‏‏ وَأَبُو الْمُثَنَّى اسْمُهُ:‏‏‏‏ سُلَيْمَانُ بْنُ يَزِيدَ،‏‏‏‏ وَرَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَيُرْوَى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الْأُضْحِيَّةِ لِصَاحِبِهَا بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ ،‏‏‏‏ وَيُرْوَى بِقُرُونِهَا.
Narrated 'Aishah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: A human does no action from the actions on the day of Nahr more beloved to Allah then spilling blood. On the Day of judgement, it will appear with its horns, and hair, and hooves, and indeed the blood will be accepted by Allah from where it is received before it even falls upon earth, so let your heart delight in it.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کے دن اللہ کے نزدیک آدمی کا سب سے محبوب عمل خون بہانا ہے، قیامت کے دن قربانی کے جانور اپنی سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئیں گے قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتا ہے، اس لیے خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہشام بن عروہ کی اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عمران بن حصین اور زید بن ارقم رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- راوی ابومثنی کا نام سلیمان بن یزید ہے، ان سے ابن ابی فدیک نے روایت کی ہے، ۴- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے نیکی ملے گی“، ۵- یہ بھی مروی ہے کہ جانور کی سینگ کے عوض نیکی ملے گی۔
Sunnan Ibn e Maja
3126
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَمَلًا، ‏‏‏‏‏‏أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هِرَاقَةِ دَمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَظْلَافِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَشْعَارِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا .
It was narrated from ’Aishah that the Prophet (ﷺ) said: “The son of Adam does not do any deed on the Day of Sacrifice that is dearer to Allah than shedding blood. It will come on the Day of Resurrection with its horns and cloven hoofs and hair. Its blood is accepted by Allah before it reaches the ground. So be content when you do it.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو ابن آدم کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں، اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنی سینگ، کھر اور بالوں سمیت ( جوں کا توں ) آئے گا، اور بیشک زمین پر خون گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام پیدا کر لیتا ہے، پس اپنے دل کو قربانی سے خوش کرو ۱؎۔