TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب أَوْقَات النَّهْي - نماز کے لیے ممنوعہ اوقات کا بیان - نماز کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 22 of نماز کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 22 of 53 · 13 Hadith
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَحَرَّى أَحَدُكُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا» وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فدعوا الصَّلَاة حَتَّى تبرز. فَإِذا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ وَلَا تَحَيَّنُوا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تطلع بَين قَرْني الشَّيْطَان»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے کا قصد نہ کرے ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب سورج کا کنارہ ظاہر ہو جائے تو نماز نہ پڑھو حتیٰ کہ وہ مکمل طور پر ظاہر ہو جائے ، اور جب سورج کا کنارہ غروب ہو جائے تو نماز نہ پڑھو حتیٰ کہ وہ مکمل طور پر غروب ہو جائے ، اور سورج کے طلوع و غروب کے اوقات کو اپنی نماز کے لیے متعین نہ کرو ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں (کناروں) کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۸۳ ، ۳۲۷۲) و مسلم (۲۹۱ / ۸۲۹) ۔ 1924-1925-1926
1039
Sahih
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ينهانا أَن نصلي فِيهِنَّ أَو نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تغرب. رَوَاهُ مُسلم
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ تین اوقات : جب سورج طلوع ہو رہا ہو حتیٰ کہ وہ بلند ہو جائے ، نصف النہار کے وقت حتیٰ کہ وہ زوال کی طرف جھک جائے اور جب وہ غروب کے لیے جھک جائے حتیٰ کہ وہ مکمل طور پر غروب ہو جائے ، میں ، ہمیں نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۹۳ / ۸۳۱) ۔ 1929
1040
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ»
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نماز فجر کے بعد سورج کے بلند ہونے تک اور نماز عصر کے بعد سورج کے غروب ہو جانے تک کوئی نماز (پڑھنا درست) نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۸۶) و مسلم (۲۸۸ / ۸۲۷) ۔ 1933
1041
Sahih
وَعَن عَمْرو بن عبسة قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنِ الصَّلَاةِ فَقَالَ: «صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أقصر عَن الصَّلَاة حَتَّى تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلَعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يسْجد لَهَا الْكفَّار» قَالَ فَقلت يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَالْوُضُوءُ حَدِّثْنِي عَنْهُ قَالَ: «مَا مِنْكُم رجل يقرب وضوءه فيتمضمض ويستنشق فينتثر إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيِهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» . رَوَاهُ مُسلم
عمرو بن عسبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو میں بھی مدینہ آیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : آپ مجھے نماز کے اوقات کے متعلق بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نماز فجر پڑھ اور پھر سورج کے اچھی طرح طلوع ہونے تک کوئی نماز نہ پڑھ ، کیونکہ جب وہ طلوع ہوتا ہے تو وہ شیطان کے سر کے دونوں کناروں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے ، اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں ۔ پھر (نفل) نماز پڑھ کیونکہ نماز پڑھتے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں ، حتیٰ کہ نیزے کا سایہ اس کے سر پر آ جائے تو پھر نماز نہ پڑھ کیونکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے ، پس جب سایہ ظاہر ہونے لگے تو نماز پڑھ کیونکہ نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں ، حتیٰ کہ تو نماز عصر پڑھ لے ، پھر نماز نہ پڑھ حتیٰ کہ سورج غروب ہو جائے ۔ کیونکہ وہ شیطان کے سر کے دونوں کناروں کے درمیان غروب ہوتا ہے ، اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! وضو کے متعلق مجھے بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے وضو کا پانی قریب کر کے کلی کرتا ہے ، ناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑتا ہے تو اس کے چہرے ، اس کے منہ اور اس کے ناک کے بانسوں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، پھر جب اللہ کے حکم کے مطابق اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پھر پانی کے ساتھ ہی اس کے چہرے اور داڑھی کے اطراف سے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، پھر کہنیوں تک ہاتھ دھوتا ہے تو پھر پانی کے ساتھ اس کے ہاتھ کی انگلیوں کے پوروں تک کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، پھر وہ سر کا مسح کرتا ہے تو پھر پانی کے ساتھ اس کے بالوں کے اطراف تک کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ۔ پھر ٹخنوں سمیت پاؤں دھوتا ہے تو پھر پانی کے ساتھ پاؤں کی انگلیوں سمیت تک کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، پھر اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی حمد و ثنا اور اس کی شان بیان کرتا ہے جس کا وہ اہل ہے اور اپنے دل کو خالص اللہ کی طرف متوجہ کر لیتا ہے تو پھر وہ نماز کے بعد اس روز کی طرح گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے جس روز اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۹۴ / ۸۳۲) ۔ 1930
1042
Sahih
وَعَنْ كُرَيْبٍ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مخرمَة وَعبد الرَّحْمَن بن أَزْهَر رَضِي اللَّهُمَّ عَنْهُم وأرسلوه إِلَى عَائِشَةَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامُ وَسَلْهَا عَن [ص:329] الرَّكْعَتَيْنِ بعدالعصرقال: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَرَدُّونِي إِلَى أم سَلمَة فَقَالَت أم سَلمَة رَضِي اللَّهُمَّ عَنْهَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا ثُمَّ دَخَلَ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ: قُولِي لَهُ تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِعْتُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتين وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا؟ قَالَ: «يَا ابْنَةَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَإِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بعد الظّهْر فهما هَاتَانِ»
کریب ؒ سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ ، مسور بن مخرمہ ؓ اور عبدالرحمن بن ازہر ؓ نے انہیں عائشہ ؓ کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا : انہیں سلام عرض کرنا اور پھر ان سے عصر کے بعد دو رکعتوں کے بارے میں دریافت کرنا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، میں عائشہ ؓ کے پاس گیا اور انہوں نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا تھا وہ میں نے ان تک پہنچا دیا تو انہوں نے فرمایا : ام سلمہ ؓ سے دریافت کرو ، پس میں ان کے پاس واپس چلا آیا تو انہوں نے مجھے ام سلمہ ؓ کے پاس بھیج دیا ، تو ام سلمہ ؓ نے فرمایا : میں نے نبی ﷺ کو ان سے منع فرماتے ہوئے سنا ، پھر میں نے آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے دیکھا ، پھر آپ تشریف لائے تو میں نے لونڈی کو آپ کے پاس بھیجا اور کہا ، آپ سے عرض کرنا ، ام سلمہ ؓ کہتی ہیں ، اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو ان دو رکعتوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ۔ جبکہ میں نے آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوامیہ کی بیٹی ! تم نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق پوچھا ہے ، (وہ ایسے ہوا) کہ عبدالقیس کے کچھ لوگ میرے پاس آئے اور انہوں نے ظہر کے بعد والی دو رکعتوں سے مجھے مشغول رکھا ، پس یہ وہ دو رکعتیں ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۲۳۳) و مسلم (۲۹۷ / ۸۳۴) ۔ 1933
1043
Sahih
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرو قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاة الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ» فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ. فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ وَقَالَ: إِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ مُحَمَّدَ بن إِبْرَاهِيم يسمع لَمْ يَسْمَعْ مِنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو. وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَنُسَخِ الْمَصَابِيحِ عَنْ قَيْسِ بْنِ قهد نَحوه
محمد بن ابراہیم ؒ ، قیس بن عمرو ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : نبی ﷺ نے ایک آدمی کو نماز فجر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نماز فجر دو رکعت ہے ، دو رکعت ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا : میں نے ان سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں پڑھی تھیں ، میں نے انہیں اب پڑھا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے ۔ ابوداؤد ، اور امام ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ، اور انہوں نے فرمایا : اس حدیث کی سند متصل نہیں ، کیونکہ محمد بن ابراہیم نے قیس بن عمرو ؓ سے نہیں سنا ۔ شرح السنہ اور مصابیح کے بعض نسخوں میں قیس بن قہد سے اسی طرح مروی ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۱۲۶۷) و الترمذی (۴۲۲) و البغوی فی شرح السنۃ (۳ / ۳۳۴ تحت ح ۷۸۱) * قیس بن عمرو وھو قیس بن قھد ، و السند مرسل ولہ شواھد عند ابن خزیمۃ (۱۱۱۶) و ابن حبان (۶۲۴) و غیرھما وھو حدیث حسن ، انظر ’’ اعلام اھل العصر باحکام رکعتی الفجر ‘‘ ۔
1044
Sahih
وَعَن جُبَير بن مطعم أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا بَنِي عَبْدَ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى آيَةً سَاعَةَ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
جبیر بن معطم ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ بنو عبد مناف ! دن یا رات کے کسی بھی وقت بیت اللہ کا طواف کرنے اور اس میں نماز پڑھنے سے کسی کو منع نہ کرنا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۸۶۸ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۱۸۹۴) و النسائی (۱ / ۲۸۴ ح ۵۸۶) [و ابن ماجہ (۱۲۵۴) و صححہ الحاکم علی شرط الشیخین (۱ / ۴۴۸) و وافقہ الذھبی] ۔
1045
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ نِصْفَ النَّهَارِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ. رَوَاهُ الشَّافِعِي
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جمعہ کے سوا نصف النہار کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا حتیٰ کہ سورج ڈھل جائے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الشافعی فی الام (۱ / ۱۹۷) و مسندہ (ص ۶۳ ح ۲۶۹) * ابراھیم الاسلمی متروک متھم ، و اسحاق بن عبد اللہ بن ابی فروۃ مثلہ ۔
1046
Zaeef
وَعَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الصَّلَاة نصف النَّهَار حَتَّى نِصْفَ النَّهَارِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَالَ: «إِنَّ جَهَنَّمَ تُسَجَّرُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ أَبُو الْخَلِيلِ لم يلق أَبَا قَتَادَة
ابوخلیل ؒ ، ابوقتادہ سے روایت کرتے ہیں ، نبی ﷺ جمعہ کے دن کے سوا نصف النہار کے وقت نماز پڑھنا نا پسند فرمایا کرتے تھے حتیٰ کہ سورج ڈھل جاتا ، اور فرمایا : جمعہ کے دن کے سوا جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے ۔ ابوداؤد اور انہوں نے فرمایا : ابوخلیل کی ابوقتادہ ؓ سے ملاقات ثابت نہیں ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۰۸۳) * لیث بن ابی سلیم ضعیف مدلس و فیہ علۃ أخری ۔
1047
Zaeef
عَن عبد الله الصنَابحِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا فَإِذا زَالَت فَارقهَا فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا» . وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأحمد وَالنَّسَائِيّ
عبداللہ صنابحی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک سورج اس حال میں طلوع ہوتا ہے کہ شیطان کے سینگ اس کے ساتھ ہوتے ہیں ، پس جب وہ بلند ہو جاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتے ہیں ۔ پھر جب وہ برابر (نصٖف النہار پر) ہو جاتا ہے تو وہ اس سے آ ملتے ہیں ، پس جب وہ ڈھل جاتا ہے تو وہ پھر الگ ہو جاتے ہیں ، اور جب وہ غروب کے قریب ہوتا ہے تو وہ پھر اس کے ساتھ آ ملتے ہیں ، اور جب غروب ہو جاتا ہے تو وہ الگ ہو جاتے ہیں ۔‘‘ اور رسول اللہ ﷺ نے ان اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک و احمد و النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ مالک (۱ / ۲۱۹ ح ۵۱۳) و احمد (۴ / ۳۴۸ ح ۱۹۲۷۳) و النسائی (۱ / ۲۷۵ ح ۵۶۰) ۔
1048
Sahih
وَعَن أبي بصرة الْغِفَارِيّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُخَمَّصِ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ صَلَاةٌ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ» . وَالشَّاهِد النَّجْم. رَوَاهُ مُسلم
ابوبصرہ غفاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مقام مخمص پر ہمیں نماز عصر پڑھائی تو فرمایا :’’ یہ نماز تم سے پہلے لوگوں پر پیش کی گئی تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا ۔ پس جو شخص اس کی حفاظت کرے گا تو اسے اس کا دس گنا اجر ملے ، اور اس کے بعد طلوع ’’ شاہد ‘‘ تک کوئی نماز نہیں ۔‘‘ اور ’’ شاہد ‘‘ سے ستارے مراد ہیں ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۹۲ / ۸۳۰) ۔ 1927
1049
Sahih
وَعَن مُعَاوِيَة قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهِمَا وَلَقَدْ نَهَى عَنْهُمَا يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْر. رَوَاهُ البُخَارِيّ
معاویہ ؓ نے فرمایا : بے شک تم (عصر کے بعد دو رکعت) نماز پڑھتے ہو ، حالانکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے ، ہم نے آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ آپ ﷺ نے تو ان یعنی عصر کے بعد دو رکعتوں سے منع فرمایا تھا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۸۷) ۔
1050
Sahih
وَعَن أبي ذَر قَالَ وَقَدْ صَعِدَ عَلَى دَرَجَةِ الْكَعْبَةِ: مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا جُنْدُبٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ إِلَّا بِمَكَّةَ إِلَّا بِمَكَّةَ إِلَّا بِمَكَّةَ» . رَوَاهُ أَحْمد ورزين
ابوذر ؓ نے کعبہ کی سیڑھی پر چڑھ کر فرمایا : جو مجھے پہچانتا ہے تو پس وہ مجھے پہچانتا ہے ، اور جو مجھے نہیں پہچانتا تو میں جندب ہوں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : مکہ کے سوا (تین مرتبہ فرمایا) نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز (پڑھنا درست) نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۵ / ۱۶۵ ح ۲۱۷۹۴) و رزین (لم اجدہ) * عبدللہ بن المومل : ضعیف الحدیث و مجاھد عن ابی ذر : منقطع (انظر اطراف المسند (۶ / ۱۸۵) ۔
1051
Zaeef

Chapters

53
01
بَاب الْمَوَاقِيت
نماز کے اوقات کا بیان
6 Hadith
02
بَاب تَعْجِيل الصَّلَوَات
اول وقت نماز پڑھنے کا بیان
37 Hadith
03
بَاب فَضَائِل الصَّلَاة
فضائل نماز کا بیان
17 Hadith
04
بَاب الْأَذَان
اذان کا بیان
13 Hadith
05
بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَإِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ
اذان دینے اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت
26 Hadith
06
بَاب تَأْخِير الْأَذَان
اذان کے بعض احکام کا بیان
9 Hadith
07
بَاب الْمَسَاجِد ومواضع الصَّلَاة
مساجد اور نماز پڑھنے کے مقامات کا بیان
65 Hadith
08
بَاب السّتْر
ستر کا بیان
18 Hadith
09
بَاب الستْرَة
سترہ کا بیان
18 Hadith
10
بَاب صفة الصَّلَاة
نماز پڑھنے کا بیان
22 Hadith
11
بَابُ مَا يُقْرَأُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ
تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جانے والی چیزوں کا بیان
10 Hadith
12
بَاب الْقِرَاءَة فِي الصَّلَاة
نماز میں قراءت کا بیان
46 Hadith
13
بَاب الرُّكُوع
رکوع کا بیان
19 Hadith
14
بَاب السُّجُود وفضله
سجود اور ان کی فضیلت کا بیان
19 Hadith
15
بَاب التَّشَهُّد
تشہد کا بیان
13 Hadith
16
بَابُ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وفضلها
نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے اور اس کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
17
بَاب الدُّعَاء فِي التَّشَهُّد
تشہد کی دعا کا بیان
20 Hadith
18
بَاب الذّكر بعد الصَّلَاة
نماز کے بعد ذکر کا بیان
19 Hadith
19
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ
دوران نماز نا جائز اور مباح اعمال کا بیان
36 Hadith
20
بَاب السَّهْو
۔ (نماز میں) بھول جانے کا بیان
9 Hadith
21
بَاب سُجُود الْقُرْآن
سجدۂ تلاوت کا بیان
16 Hadith
22
بَاب أَوْقَات النَّهْي
نماز کے لیے ممنوعہ اوقات کا بیان
13 Hadith
23
بَاب الْجَمَاعَة وفضلها
با جماعت نماز اور اس کی فضیلت کا بیان
33 Hadith
24
بَاب تَسْوِيَة الصَّفّ
صفیں برابر کرنے کا بیان
21 Hadith
25
بَاب الْموقف
(نماز میں) کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان
11 Hadith
26
بَاب الْإِمَامَة
امامت کا بیان
12 Hadith
27
بَاب مَا على الإِمَام
امام کی ذمہ داری کا بیان
7 Hadith
28
بَابُ مَا عَلَى الْمَأْمُومِ مِنَ الْمُتَابَعَةِ وَحُكْمِ الْمَسْبُوق
مقتدی کے لیے امام کی متابعت اور مسبوق کے حکم کا بیان
14 Hadith
29
بَابُ مَنْ صَلَّى صَلَاةً مَرَّتَيْنِ
دو مرتبہ نماز پڑھنے والے آدمی کا بیان
9 Hadith
30
بَاب السّنَن وفضائلها
سنتوں اور ان کی فضیلت کا بیان
29 Hadith
31
بَاب صَلَاة اللَّيْل
نماز تہجد کا بیان
23 Hadith
32
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ
نماز تہجد کے اذکار
8 Hadith
33
بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ
رات کے قیام پر رغبت دلانے کا بیان
22 Hadith
34
بَاب الْقَصْد فِي الْعَمَل
عمل میں میانہ روی کا بیان
12 Hadith
35
بَاب الْوتر
وتر کا بیان
35 Hadith
36
بَاب الْقُنُوت
قنوت کا بیان
7 Hadith
37
بَاب قيام شهر رَمَضَان
ماہ رمضان کے قیام کا بیان
14 Hadith
38
بَاب صَلَاة الضُّحَى
نماز چاشت کا بیان
13 Hadith
39
بَاب التَّطَوُّع
نفل نماز کا بیان
6 Hadith
40
بَاب صَلَاة التَّسْبِيح
نماز تسبیح کا بیان
5 Hadith
41
بَاب صَلَاة السّفر
نماز سفر کا بیان
21 Hadith
42
بَاب الْجُمُعَة
جمعہ کا بیان
16 Hadith
43
بَاب وُجُوبهَا
وجوب جمعہ کا بیان
11 Hadith
44
بَاب التَّنْظِيف والتبكير
نظافت اور اول وقت آنے کا بیان
20 Hadith
45
بَاب الْخطْبَة وَالصَّلَاة
خطبہ اور نماز جمعہ کا بیان
19 Hadith
46
بَاب صَلَاة الْخَوْف
نماز خوف کا بیان
6 Hadith
47
بَاب صَلَاة الْعِيدَيْنِ
نماز عیدین کا بیان
27 Hadith
48
بَاب فِي الْأُضْحِية
قربانی کا بیان
24 Hadith
49
بَاب فِي العتيرة
عتیرہ کا بیان
3 Hadith
50
باب صلٰوۃ الخسوف
نماز خسوف کا بیان
14 Hadith
51
بَابٌ فِي سُجُودِ الشُّكْرِ
سجدۂ شکر کا بیان
3 Hadith
52
بَاب الاسْتِسْقَاء
نماز استسقا کا بیان
14 Hadith
53
بَاب فِي الرِّيَاح
آندھیوں کا بیان
12 Hadith
No chapter matched that.