TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْجَمَاعَة وفضلها - با جماعت نماز اور اس کی فضیلت کا بیان - نماز کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 23 of نماز کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 23 of 53 · 33 Hadith
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاة الْفَذ بِسبع وَعشْرين دَرَجَة»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ با جماعت نماز ، اکیلے شخص کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۵) و مسلم (۲۴۹ / ۶۵۰) ۔ 1377
1052
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ. وَفِي رِوَايَةٍ: لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَلمُسلم نَحوه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں ، وہ اکٹھی ہو جائیں تو پھر میں نماز کے متعلق حکم دوں ، اس کے لیے اذان دی جائے ، پھر میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے جاؤں ، اور ایک روایت میں ہے ، جو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے نہیں آتے تو میں ان کے گھروں سمیت انہیں جلا دوں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ان میں سے کسی کو پتہ چل جائے کہ وہ (مسجد میں) گوشت والی ہڈی یا دو بہترین پائے پائے گا تو وہ نماز عشاء میں ضرور حاضر ہو ۔‘‘ بخاری ۔ مسلم میں بھی اسی طرح روایت ہے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۴) و مسلم (۲۵۱ / ۶۵۱) ۔ 1481
1053
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمَى فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَرَخَّصَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ: «هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَأَجِبْ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک نابینا شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے مسجد تک پہنچانے کے لیے میرے پاس کوئی آدمی نہیں ، اس شخص نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ اسے رخصت عنایت فرما دیں کہ وہ گھر میں نماز پڑھ لیا کرے ، آپ ﷺ نے اسے رخصت عنایت فرما دی ، جب وہ واپس مڑا تو آپ نے اسے بلا کر پوچھا :’’ کیا تم نماز کے لیے اذان سنتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تو پھر اسے قبول کرو (مسجد میں آؤ) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۵۵ / ۶۵۳) ۔ 1486
1054
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ أَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ ثُمَّ قَالَ أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذَاتُ بَرْدٍ وَمَطَرٍ يَقُولُ: «أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ»
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات جب سردی تھی اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ، اذان کہی ، پھر فرمایا سن لو ! اپنے گھروں میں نماز پڑھو ، پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سرد اور برسات والی رات مؤذن کو حکم فرمایا کرتے تھے کہ وہ کہے :’’ اپنے گھروں میں نماز پڑھو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۳۲) و مسلم (۲۲ / ۶۹۷) ۔ 1600
1055
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاة فابدؤوا بِالْعَشَاءِ وَلَا يَعْجَلْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ» وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُوضَعُ لَهُ الطَّعَامُ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَلَا يَأْتِيهَا حَتَّى يَفْرُغُ مِنْهُ وَإِنَّهُ لِيَسْمَعَ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب شام کا کھانا لگا دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو پہلے شام کا کھانا کھا لو ، اور کوئی شخص جلدی نہ کرے حتیٰ کہ اس سے فارغ ہو جائے ۔‘‘ ابن عمر ؓ کے لیے کھانا لگا دیا جاتا اور نماز کھڑی کر دی جاتی تو آپ اس سے فارغ ہو کر ہی نماز کے لیے آیا کرتے تھے ، حالانکہ وہ امام کی قراءت سن رہے ہوتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۷۳) و مسلم (۶۶ / ۵۵۹) ۔ 1244
1056
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «لَا صَلَاة بِحَضْرَة طَعَام وَلَا هُوَ يدافعه الأخبثان»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کھانے کے (سامنے) ہوتے ہوئے نماز ہوتی ہے نہ اس وقت کہ جب دو خبیث چیزیں (بول و براز) اسے روک رہی ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۶۷ / ۵۶۰) ۔ 1246
1057
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَة» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو پھر فرض نماز کے علاوہ کوئی اور نماز نہیں ہوتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۶۳ / ۷۱۰) ۔ 1644
1058
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَة أحدكُم إِلَى الْمَسْجِد فَلَا يمْنَعهَا»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی شخص کی اہلیہ مسجد جانے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے منع نہ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۲۳۸) و مسلم (۱۳۴ / ۴۴۲) ۔ 988
1059
Sahih
وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الْمَسْجِدَ فَلَا تمس طيبا» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ زینب ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو وہ خوشبو نہ لگائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۴۲ / ۴۴۳) ۔ 997
1060
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعشَاء الْآخِرَة» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو عورت خوشبو لگائے (خوشبو کی دھونی لے) تو وہ ہمارے ساتھ نماز عشاء پڑھنے کے لیے نہ آئے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۴۳ / ۴۴۴) ۔ 998
1061
Sahih
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ وَبُيُوتُهُنَّ خَيْرٌ لَهُنَّ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنی خواتین کو مساجد میں آنے سے منع نہ کرو ، جب کہ ان کے گھر ان کے لیے بہتر ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۵۶۷) [و صححہ ابن خزیمۃ (۱۶۸۴) و الحاکم علی شرط الشیخین (۱ / ۲۰۹) و وافقہ الذھبی] ۔
1062
Sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عورت کا اپنے گھر کے اندر نماز پڑھنا ، گھر کے صحن میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ، اور اس کا گھر کے اندر کسی کوٹھری میں نماز پڑھنا ، اس کے کھلے مکان میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۵۷۰) [و صححہ ابن خزیمۃ (۱۶۸۸) و ابن حبان (۳۲۹ ، ۳۳۰) و الحاکم (۱ / ۲۰۹) و وافقہ الذھبی] * قتادۃ مدلس و عنعن ولاصل الحدیث شواھد کثیرۃ ۔
1063
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ حَتَّى تَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وروى أَحْمد وَالنَّسَائِيّ نَحوه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اس عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی جو مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے حتیٰ کہ وہ اس طرح (خوب اچھی طرح) غسل کرے جیسے غسل جنابت کیا جاتا ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، احمد اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۴۱۷۴) و احمد (۲ / ۲۴۶ ح ۷۳۵۰) و النسائی (۸ / ۱۵۳ ح ۵۱۳۰) [و ابن ماجہ (۴۰۰۲) و للحدیث شواھد عند البیھقی (۳ / ۱۳۳) و غیرہ] ۔
1064
Sahih
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ وَإِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ فَهِيَ كَذَا وَكَذَا» . يَعْنِي زَانِيَةً. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَلِأَبِي دَاوُد وَالنَّسَائِيّ نَحوه
ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ (کسی اجنبی کو شہوت کے ساتھ دیکھنے والی) ہر آنکھ زانیہ ہے ، اور بے شک عورت جب عطر لگا کر کسی مجلس کے پاس سے گزرتی ہے تو وہ ایسی ویسی یعنی زانیہ ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد اور نسائی کی روایت بھی اسی طرح ہے ۔ اسنادہ حسن ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۷۸۶ وقال : حدیث حسن صحیح) و ابوداؤد (۴۱۷۳) و النسائی (۸ / ۱۵۳ ح ۵۱۲۹) ۔
1065
Sahih
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الصُّبْحَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» قَالُوا: لَا. قَالَ: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» قَالُوا: لَا. قَالَ: «إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَلَو تعلمُونَ مَا فيهمَا لأتيتموهما وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الرُّكَبِ وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فضيلته لابتدرتموه وَإِن صَلَاة الرجل من الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ وَصَلَاتَهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز فجر پڑھائی ، جب سلام پھیرا تو فرمایا :’’ کیا فلاں شخص موجود ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، نہیں ، پھر پوچھا :’’ کیا فلاں شخص موجود ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ دونوں نمازیں منافقوں پر بہت بھاری ہیں ، اگر تم جان لو کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو پھر خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل آنا پڑتا تم ضرور آتے اور بے شک پہلی صف (اجر و فضیلت کے لحاظ سے) فرشتوں کی صف کی طرح ہے ، اور اگر تمہیں اس کی فضیلت کا علم ہو جائے تو تم اس کی طرف ضرور سبقت کرو ، بے شک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ نماز پڑھنا ، اس کے اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے ، اور اس کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا ، اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے ، اور جس قدر زیادہ ہو تو وہ اللہ کو زیادہ محبوب ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۵۵۴) و النسائی (۲ / ۱۰۴ ، ۱۰۵ ح ۸۴۴) [و ابن ماجہ (۷۹۰) و صححہ ابن خزیمۃ (۱۴۷۷) و ابن حبان (۴۲۹) و للحدیث شواھد وھوبھا صحیح] ۔
1066
Sahih
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس بستی اور جنگل میں تین آدمی ہوں اور وہاں با جماعت نماز کا اہتمام نہ ہو تو پھر (سمجھو کہ) ان پر شیطان غالب آ چکا ہے ، تم جماعت کے ساتھ لگے رہو ، بھیڑیا الگ اور دور رہنے والی بکری کو کھا جاتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۵ / ۱۹۶ ح ۲۲۰۵۳) و ابوداؤد (۵۴۷) و النسائی (۲ / ۱۰۶ ح ۸۴۸) [و صححہ ابن خزیمۃ (۱۴۸۶) و ابن حبان (۴۲۵) و الحاکم (۱ / ۲۴۶) و وافقہ الذھبی] ۔
1067
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من سمع الْمُنَادِي فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنِ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ» قَالُوا وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ: «خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارَقُطْنِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اذان سن کر بلا عذر با جماعت نماز پڑھنے نہ آئے تو وہ جو اکیلے نماز پڑھتا ہے وہ قبول نہیں ہوتی ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، عذر کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ خوف یا مرض ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۵۵۱) و الدارقطنی (۱ / ۴۲۰ ، ۴۲۱ ح ۱۵۴۲) * ابو جناب یحیی بن ابی حیۃ الکلبی ضعیف مدلس و حدیث ابن ماجہ (۷۹۳) یغنی عنہ ۔
1068
Zaeef
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَوَجَدَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَى مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ نَحوه
عبداللہ بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے اور تم میں سے کوئی قضائے حاجت محسوس کرے تو پہلے وہ قضائے حاجت سے فارغ ہو ۔‘‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے جبکہ مالک ، ابوداؤد اور نسائی نے اسی کی مثل روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۱۴۲ وقال : حسن صحیح) و مالک (۱ / ۱۵۹ ح ۳۷۹) و ابوداؤد (۸۸) و النسائی (۲ / ۱۱۰ ، ۱۱۱ ح ۸۵۳) [و ابن ماجہ (۶۱۶) و صححہ ابن خزیمۃ (۹۳۲ ، ۱۶۵۲) و ابن حبان (الموارد : ۱۹۴) و الحاکم (۱ / ۱۶۸) و وافقہ الذھبی] ۔
1069
Sahih
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَفْعَلَهُنَّ: لَا يَؤُمَّنَّ رَجُلٌ قَوْمًا فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ دُونَهُمْ فَإِنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ خَانَهُمْ. وَلَا يَنْظُرْ فِي قَعْرِ بَيْتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ فَإِنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ خَانَهُمْ وَلَا يُصَلِّ وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وللترمذي نَحوه
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین کام ایسے ہیں جن کا کرنا کسی کے لیے حلال نہیں ، کوئی شخص جو مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنی ذات کے لیے دعا کرتا ہو وہ ان کی امامت نہ کرائے ، اگر وہ ایسے کرے گا تو وہ ان سے خیانت کرے گا ، کوئی شخص اجازت طلب کرنے سے پہلے کسی گھر میں نہ جھانکے ، اگر اس نے ایسے کیا ، تو اس نے ان سے خیانت کی ، اور کوئی شخص بول و براز روک کر نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ وہ (اس سے فارغ ہو کر) ہلکا ہو جائے ۔‘‘ ابوداؤد اور ترمذی کی روایت بھی اسی طرح ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۹۰) و الترمذی (۳۵۷ وقال : حسن) [ولہ شواھد] ۔
1070
Sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُؤَخِّرُوا الصَّلَاةَ لِطَعَامٍ وَلَا لغيره» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کھانے اور کسی اور کام کی خاطر نماز کو مؤخر نہ کرو ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۳ / ۳۵۷ تحت ح ۸۰۰) بغیر ھذا اللفظ [و ابوداؤد (۳۷۵۸ و اللفظ لہ] * محمد بن میمون الزعفرانی ضعیف : ضعفہ الجمھور ۔
1071
Zaeef

Chapters

53
01
بَاب الْمَوَاقِيت
نماز کے اوقات کا بیان
6 Hadith
02
بَاب تَعْجِيل الصَّلَوَات
اول وقت نماز پڑھنے کا بیان
37 Hadith
03
بَاب فَضَائِل الصَّلَاة
فضائل نماز کا بیان
17 Hadith
04
بَاب الْأَذَان
اذان کا بیان
13 Hadith
05
بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَإِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ
اذان دینے اور اذان کا جواب دینے کی فضیلت
26 Hadith
06
بَاب تَأْخِير الْأَذَان
اذان کے بعض احکام کا بیان
9 Hadith
07
بَاب الْمَسَاجِد ومواضع الصَّلَاة
مساجد اور نماز پڑھنے کے مقامات کا بیان
65 Hadith
08
بَاب السّتْر
ستر کا بیان
18 Hadith
09
بَاب الستْرَة
سترہ کا بیان
18 Hadith
10
بَاب صفة الصَّلَاة
نماز پڑھنے کا بیان
22 Hadith
11
بَابُ مَا يُقْرَأُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ
تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جانے والی چیزوں کا بیان
10 Hadith
12
بَاب الْقِرَاءَة فِي الصَّلَاة
نماز میں قراءت کا بیان
46 Hadith
13
بَاب الرُّكُوع
رکوع کا بیان
19 Hadith
14
بَاب السُّجُود وفضله
سجود اور ان کی فضیلت کا بیان
19 Hadith
15
بَاب التَّشَهُّد
تشہد کا بیان
13 Hadith
16
بَابُ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وفضلها
نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے اور اس کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
17
بَاب الدُّعَاء فِي التَّشَهُّد
تشہد کی دعا کا بیان
20 Hadith
18
بَاب الذّكر بعد الصَّلَاة
نماز کے بعد ذکر کا بیان
19 Hadith
19
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ
دوران نماز نا جائز اور مباح اعمال کا بیان
36 Hadith
20
بَاب السَّهْو
۔ (نماز میں) بھول جانے کا بیان
9 Hadith
21
بَاب سُجُود الْقُرْآن
سجدۂ تلاوت کا بیان
16 Hadith
22
بَاب أَوْقَات النَّهْي
نماز کے لیے ممنوعہ اوقات کا بیان
13 Hadith
23
بَاب الْجَمَاعَة وفضلها
با جماعت نماز اور اس کی فضیلت کا بیان
33 Hadith
24
بَاب تَسْوِيَة الصَّفّ
صفیں برابر کرنے کا بیان
21 Hadith
25
بَاب الْموقف
(نماز میں) کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان
11 Hadith
26
بَاب الْإِمَامَة
امامت کا بیان
12 Hadith
27
بَاب مَا على الإِمَام
امام کی ذمہ داری کا بیان
7 Hadith
28
بَابُ مَا عَلَى الْمَأْمُومِ مِنَ الْمُتَابَعَةِ وَحُكْمِ الْمَسْبُوق
مقتدی کے لیے امام کی متابعت اور مسبوق کے حکم کا بیان
14 Hadith
29
بَابُ مَنْ صَلَّى صَلَاةً مَرَّتَيْنِ
دو مرتبہ نماز پڑھنے والے آدمی کا بیان
9 Hadith
30
بَاب السّنَن وفضائلها
سنتوں اور ان کی فضیلت کا بیان
29 Hadith
31
بَاب صَلَاة اللَّيْل
نماز تہجد کا بیان
23 Hadith
32
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ
نماز تہجد کے اذکار
8 Hadith
33
بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ
رات کے قیام پر رغبت دلانے کا بیان
22 Hadith
34
بَاب الْقَصْد فِي الْعَمَل
عمل میں میانہ روی کا بیان
12 Hadith
35
بَاب الْوتر
وتر کا بیان
35 Hadith
36
بَاب الْقُنُوت
قنوت کا بیان
7 Hadith
37
بَاب قيام شهر رَمَضَان
ماہ رمضان کے قیام کا بیان
14 Hadith
38
بَاب صَلَاة الضُّحَى
نماز چاشت کا بیان
13 Hadith
39
بَاب التَّطَوُّع
نفل نماز کا بیان
6 Hadith
40
بَاب صَلَاة التَّسْبِيح
نماز تسبیح کا بیان
5 Hadith
41
بَاب صَلَاة السّفر
نماز سفر کا بیان
21 Hadith
42
بَاب الْجُمُعَة
جمعہ کا بیان
16 Hadith
43
بَاب وُجُوبهَا
وجوب جمعہ کا بیان
11 Hadith
44
بَاب التَّنْظِيف والتبكير
نظافت اور اول وقت آنے کا بیان
20 Hadith
45
بَاب الْخطْبَة وَالصَّلَاة
خطبہ اور نماز جمعہ کا بیان
19 Hadith
46
بَاب صَلَاة الْخَوْف
نماز خوف کا بیان
6 Hadith
47
بَاب صَلَاة الْعِيدَيْنِ
نماز عیدین کا بیان
27 Hadith
48
بَاب فِي الْأُضْحِية
قربانی کا بیان
24 Hadith
49
بَاب فِي العتيرة
عتیرہ کا بیان
3 Hadith
50
باب صلٰوۃ الخسوف
نماز خسوف کا بیان
14 Hadith
51
بَابٌ فِي سُجُودِ الشُّكْرِ
سجدۂ شکر کا بیان
3 Hadith
52
بَاب الاسْتِسْقَاء
نماز استسقا کا بیان
14 Hadith
53
بَاب فِي الرِّيَاح
آندھیوں کا بیان
12 Hadith
No chapter matched that.