مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

وتر کا بیان

بَاب الْوتر

وَعَن سَالم بن أبي الْجَعْد قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ: لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ فَكَأَنَّهُمْ عَابُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «أَقِمِ الصَّلَاةَ يَا بِلَالُ أَرِحْنَا بِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

سالم بن ابی جعد ؒ بیان کرتے ہیں ، خزاعہ قبیلے کے ایک آدمی نے کہا : کاش میں نماز پڑھ کر راحت حاصل کرتا ، گویا انہوں (یعنی حاضرین مجلس) نے اس کی اس بات کو معیوب جانا ، (اس پر) انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بلال ! نماز کے لیے اقامت کہو اور اس کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَة توتر لَهُ مَا قد صلى»

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت ہے ، جب تم میں سے کسی کو صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہ ایک رکعت پڑھ لے تو وہ اس کی نماز کو وتر (طاق) بنا دے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخر اللَّيْل» . رَوَاهُ مُسلم

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وتر (کی نماز) رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَن سعد بن هِشَام قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ. قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعد فَتلك إِحْدَى عشرَة رَكْعَة يابني فَلَمَّا أَسَنَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَنَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهِ فِي الْأُولَى فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَلَّى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شهرا كَامِلا غير رَمَضَان. رَوَاهُ مُسلم

سعد بن ہشام ؓ بیان کرتے ہیں ، میں عائشہ ؓ کے پاس گیا تو میں نے عرض کیا ، ام المومنین ! رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے متعلق مجھے بتائیں ، انہوں نے فرمایا : کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، ضرور پڑھتا ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : نبی ﷺ کا اخلاق قرآن ہی تھا ، میں نے عرض کیا ، ام المومنین ! رسول اللہ ﷺ کے وتر کے متعلق مجھے بتائیں ، انہوں نے فرمایا : ہم آپ ﷺ کے لیے آپ کی مسواک اور وضو کے پانی کا انتظام کرتے ، پھر جب اللہ چاہتا تو آپ کو رات کے وقت جگا دیتا ، آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے اور آپ صرف آٹھویں رکعت میں (تشہد) بیٹھتے تھے ، آپ ﷺ اللہ کا ذکر کرتے ، اس کی حمد بیان کرتے اور اس سے دعا کرتے ، پھر آپ سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے اور نویں رکعت پڑھتے ، پھر بیٹھ جاتے ، اللہ کا ذکر کرتے ، اس کی حمد بیان کرتے اور اس سے دعا کرتے پھر سلام پھیرتے تو ہمیں سناتے ، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے ، بیٹا ! یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں ، جب آپ ﷺ بوڑھے ہو گئے اور جسم بھاری ہو گیا تو آپ نے سات رکعتیں وتر پڑھے ، اور دو رکعتیں ویسے ہی (بیٹھ کر) پڑھیں جیسے (بوڑھے ہونے سے) پہلے پڑھتے تھے ، پس بیٹا ! یہ نو ہو گئیں ، اور جب نبی ﷺ نماز پڑھتے تو اس پر دوام اختیار کرنا آپ کو بہت پسند تھا ، اور جب کبھی نیند کے غلبے یا کسی تکلیف کی وجہ سے نماز تہجد نہ پڑھتے تو پھر آپ دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھتے تھے ، اور میں نہیں جانتی کہ نبی ﷺ نے ایک رات میں پورا قرآن پڑھا ہو ، یا آپ نے پوری رات تہجد پڑھی ہو یا آپ ﷺ نے رمضان کے علاوہ پورا مہینہ روزے رکھے ہوں ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وترا» . رَوَاهُ مُسلم

ابن عمر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وتر کو اپنی آخری نماز بناؤ ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَادرُوا الصُّبْح بالوتر» . وَرَاه مُسلم

ابن عمر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ صبح ہو جانے سے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ وَمَنْ طَمِعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ» . رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں اٹھ سکے گا تو وہ رات کے اول حصے میں وتر پڑھ لے ، اور جسے رات کے آخری حصے میں جاگنے کی امید ہو تو وہ رات کے آخری حصے میں وتر پڑھے ، کیونکہ رات کے آخری حصے میں پڑھی جانے والی نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں ، اور یہ افضل ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مِنْ كُلَّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ وَانْتَهَى وَتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے رات کے تمام اوقات میں وتر پڑھے ہیں ، رات کے اول حصے میں ، اس کے وسط میں ، اس کے آخری حصے میں اور آخری دور میں آپ کی نماز وتر سحری (آخر شب) کے وقت ہوتی تھی ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّام من كل شهر وركعتي الضُّحَى وَأَن أوتر قبل أَن أَنَام

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میرے خلیل ﷺ نے مجھے تین کاموں کا حکم فرمایا ، ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنے ، چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا حکم فرمایا ۔ متفق علیہ ۔

عَن غُضَيْف بن الْحَارِث قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ: كَانَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ: كَانَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَخْفُتُ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ بِهِ وَرُبَّمَا خَفَتَ قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ الْفَصْلَ الْأَخِيرَ

غضیف بن حارث ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے عرض کیا ، مجھے بتائیں ، رسول اللہ ﷺ غسل جنابت رات کے اول حصے میں کرتے تھے یا رات کے آخری حصے میں ؟ انہوں نے فرمایا : کبھی رات کے پہلے حصے میں غسل کیا اور کبھی رات کے پچھلے حصے میں ، میں نے کہا : اللہ اکبر ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے دین میں وسعت رکھی ، میں نے پوچھا : آپ ﷺ رات کے اول حصے میں وتر پڑھا کرتے تھے یا رات کے آخری حصے میں ؟ انہوں نے فرمایا : آپ نے کبھی رات کے اول حصے میں وتر پڑھے اور کبھی رات کے آخری حصے میں ، میں نے کہا : اللہ اکبر ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے دین میں وسعت رکھی ، میں نے پوچھا : آپ ﷺ (نماز تہجد میں) بلند آواز سے قراءت کرتے تھے یا پست آواز سے ؟ انہوں نے فرمایا ، کبھی بلند آواز سے اور کبھی پست آواز سے ، میں نے کہا : اللہ اکبر ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے دین میں وسعت رکھی ۔‘‘ ابوداؤد ، اور ابن ماجہ نے آخری بات روایت کی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و النسائی ۔

وَعَن عبد الله بن أبي قيس قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاث عشرَة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عبداللہ بن ابی قیس ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے دریافت کیا ، رسول اللہ ﷺ کتنی رکعتیں وتر پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : چار اور تین (سات)، چھ اور تین (نو)، آٹھ اور تین (گیارہ) اور دس اور تین (تیرہ) رکعت وتر پڑھا کرتے تھے ، آپ سات سے کم اور تیرہ سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وتر ہر مسلمان پر واجب ہے ، جسے پسند ہو کہ وہ پانچ وتر پڑھے تو وہ پانچ پڑھے ، جو تین پڑھنا پسند کرے تو وہ تین پڑھے اور جسے ایک وتر پڑھنا پسند ہو تو وہ ایک پڑھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ وتر (اپنی ذات و صفات میں یکتا) ہے ، وہ وتر کو پسند فرماتا ہے ، پس حاملین قرآن وتر پڑھا کرو ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَن خَارِجَة بن حذافة قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النِّعَمِ: الْوَتْرُ جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

خارجہ بن حذافہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو انہوں نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے تمہیں ایک مزید نماز عطا فرمائی ہے اور وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ، اور وہ نماز وتر ہے جسے اللہ نے نماز عشاء اور طلوع فجر کے مابین پڑھنا مقرر کیا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَامَ عَنْ وَتْرِهِ فَلْيُصَلِّ إِذَا أَصْبَحَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسلا

زید بن اسلم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص وتر پڑھنا بھول جائے تو وہ صبح ہونے کے بعد وتر پڑھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى

امام نسائی ؒ نے اس حدیث کو عبدالرحمن بن ابزی سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔

وَرَوَاهُ ألأحمد عَن أبي بن كَعْب

امام احمد ؒ نے اس حدیث کو ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔

والدارمي عَن ابْن عَبَّاس وَلم يذكرُوا والمعوذتين

امام دارمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ، ابی بن کعب ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ نے ’’ معوذتین ‘‘ کا ذکر نہیں کیا ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔