مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

وتر کا بیان

بَاب الْوتر

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوَتْرِ: «اللَّهُمَّ اهدني فِيمَن هديت وَعَافنِي فِيمَن عافيت وتولني فِيمَن توليت وَبَارك لي فِيمَا أَعْطَيْت وقني شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْك أَنه لَا يذل من واليت تَبَارَكت رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي

حسن بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے کچھ کلمات سکھائے جن کو میں قنوت وتر میں پڑھتا ہوں ’’ اے اللہ ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا ، اور مجھے بھی (ان لوگوں میں) عافیت عطا فرما جن کو تو نے عافیت عطا کی جن لوگوں کو تو نے اپنا دوست بنایا ہے ان میں مجھے بھی شامل کر کے اپنا دوست بنا لے ، جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت ڈال دے ، جس شر کا تو نے فیصلہ فرمایا ہے اس سے مجھے بچا لے ، بے شک تو ہی ہمارا فیصلہ صادر فرماتا ہے تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا ، اور جس کا تو والی و سر پرست بنا وہ کبھی رسوا نہیں ہو سکتا ، ہمارے رب ! تو بڑا ہی برکت والا اور بلند و بالا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ فِي الْوتر قَالَ: «سُبْحَانَكَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ: ثَلَاث مَرَّات يُطِيل فِي آخِرهنَّ

ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ وتر پڑھ کر سلام پھیرتے تو آپ ﷺ فرماتے : ((سبحان الملک القدوس)) ’’ پاک ہے بادشاہ نہایت پاک ۔‘‘ ابوداؤد ، نسائی ، اور انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے : تین مرتبہ لمبی آواز سے فرماتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَفِي رِوَايَةٍ لِلنَّسَائِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ثَلَاثًا وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بالثالثة

اور عبدالرحمن بن ابزیٰ عن ابیہ کی سند سے نسائی کی روایت میں ہے : جب آپ ﷺ سلام پھیرتے تو تین مرتبہ ((سبحان الملک القدوس)) فرماتے اور تیسری مرتبہ اپنی آواز بلند فرماتے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وَتْرِهِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ من سخطك وبمعافاتك من عُقُوبَتك وَأَعُوذ بك مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ وتر کے آخر پر یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضی سے ، تیرے درگزر کے ذریعے تیری سزا سے پناہ چاہتا ہوں ، میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، جیسے تو نے اپنی ذات کی ثنا فرمائی ہے ویسے میں کوشش کے باوجود تیری ثنا بیان نہیں کر سکتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِيلَ لَهُ: هَلْ لَكَ فِي أَمِير الْمُؤمنِينَ مُعَاوِيَة فَإِنَّهُ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ: أَصَابَ إِنَّهُ فَقِيهٌ وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا کیا امیر المومنین معاویہ ؓ کے بارے میں آپ کے پاس کوئی جواب یا فتویٰ ہے کہ وہ صرف ایک وتر پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : وہ درست ہیں کیونکہ وہ ایک فقیہ شخص ہیں ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے : ابن ملیکہ ؒ نے فرمایا : معاویہ نے نماز عشاء کے بعد ایک رکعت وتر پڑھی ، اور ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام آپ کے پاس تھے ، انہوں نے ابن عباس ؓ کے پاس آ کر انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا : انہیں چھوڑ دو کیونکہ انہیں نبی ﷺ کی صحبت اختیار کرنے کا شرف حاصل ہے ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ وتر حق (واجب) ہے ، جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ، وتر حق ہے ، پس جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ، وتر حق ہے پس جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من نَام عَن الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَ أَوْ إِذا اسْتَيْقَظَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص نیند یا بھول کی وجہ سے وتر نہ پڑھے تو جب اسے یاد آئے یا جب وہ بیدار ہو تو وتر پڑھ لے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ مَالِكٍ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ: أَوَاجِبٌ هُوَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ. فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ وَعَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ

مالک ؒ کو روایت پہنچی کہ کسی شخص نے عبداللہ بن عمر ؓ سے وتر کے بارے میں دریافت کیا ، کیا وہ واجب ہے ؟ تو عبداللہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے بھی وتر پڑھے ، وہ آدمی بار بار مجھ سے پوچھتا رہا اور عبداللہ ؓ یہی جواب دیتے رہے : رسول اللہ ﷺ نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے بھی وتر پڑھے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِتِسْعِ سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ يَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِثَلَاثِ سُوَرٍ آخِرُهُنَّ: (قل هوا لله أحد) رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ تین وتر پڑھا کرتے تھے ، اور ان میں ہر رکعت میں تین سورتوں کے حساب سے مفصل سورتوں میں سے نو سورتیں پڑھا کرتے تھے اور سب سے آخر پر سورۂ اخلاص پڑھا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ وَالسَّمَاءُ مُغَيِّمَةٌ فَخَشِيَ الصُّبْحَ فَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ انْكَشَفَ فَرَأَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا فَشَفَعَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا خَشِيَ الصُّبْح أوتر بِوَاحِدَة. رَوَاهُ مَالك

نافع ؒ بیان کرتے ہیں ، میں ابن عمر ؓ کے ساتھ مکہ میں تھا ، آسمان ابر آلود تھا ، انہوں نے صبح کے اندیشے کے پیش نظر ایک رکعت وتر پڑھا ، پھر جب موسم صاف ہو گیا تو انہوں نے دیکھا کہ ابھی تو رات باقی ہے ، تو انہوں نے ایک رکعت پڑھ کر نماز کو جفت بنا لیا ، پھر انہوں نے دو رکعتیں (تہجد) پڑھیں ، پھر جب صبح ہونے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھا ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ وَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ. رَوَاهُ مُسلم

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے قراءت کرتے تھے ، پھر جب تیس یا چالیس آیات کے برابر تلاوت باقی رہ جاتی تو آپ کھڑے ہو جاتے اور کھڑے ہو کر قراءت کرتے ، پھر رکوع کرتے ، پھر سجدہ کرتے اور پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْوِتْرِ رَكْعَتَيْنِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ ابْنُ مَاجَه: خفيفتين وَهُوَ جَالس

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔ ترمذی ، اور ابن ماجہ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : آپ ﷺ بیٹھ کر ہی دو خفیف رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ هَذَا السَّهَرَ جُهْدٌ وَثِقَلٌ فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ فَإِنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ وَإِلَّا كَانَتَا لَهُ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

ثوبان ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ بیداری ایک مشکل اور گراں کام ہے ، جب تم میں سے کوئی شخص وتر پڑھ لے تو وہ دو رکعت ادا کرے ، اگر وہ رات کے وقت بیدار ہو جائے (تو پھر وہ نماز تہجد پڑھے) ورنہ وہ دو رکعتیں اس کے لیے کافی ہوں گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْوِتْرِ وَهُوَ جَالس يقْرَأ فيهمَا (إِذا زلزلت) و (قل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ) رَوَاهُ أَحْمد

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ یہ دو رکعتیں وتروں کے بعد بیٹھ کر ادا کرتے تھے ، اور آپ ان میں سورۃ الزلزال اور سورۃ الکافرون پڑھا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔