مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

نماز تہجد کے اذکار

بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ


وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» . رَوَاهُ مُسلم

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی ﷺ رات تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ اپنی نماز کا افتتاح اس دعا سے کرتے تھے :’’ اے اللہ ! جبرائیل ، میکائیل اور اسرافیل کے رب ! زمین و آسمان کو عدم سے وجود میں لانے والے حاضر و غائب کے جاننے والے ، تو ہی اپنے بندوں کا ان امور میں فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں ، ان اختلافی امور میں اپنی توفیق سے تو ہی میری راہنمائی فرما ، بے شک تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف راہنمائی فرماتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ مسلم (۲۰۰ / ۷۷۰) ۔ 1811