TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2458 - بَاب الِاسْتِعَاذَة - دعاؤں کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 25 in this chapter
بَاب الِاسْتِعَاذَة
پناہ مانگنے کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں فکر و غم ، عاجزی اور سستی ، بزدلی اور بخل ، قرضے کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
2458
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
Conclusion
تخریج
مففق علیہ ، رواہ البخاری (۶۳۶۹) و مسلم (۵۰ / ۲۷۰۶) ۔ 6873

Related Chapters

148
1
عذاب قبر اور اس سے پناہ مانگنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
3
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
Musnad Ahmad
4
Chapter: The permissibility of cursing the Shaitan during prayer, and seeking refuge with Allah from him; and the permissibility of doing a few actions while in salat
نماز کے دوران میں شیطان پر لعنت بھیجنے ، اس سے پناہ مانگنے اور تھوڑے سے عمل کا جواز
Sahih Muslim
5
CHAPTER: Regarding Seeking Refuge.
باب: ( بری باتوں سے اللہ کی ) پناہ مانگنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
6
نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے (یعنی شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
7
بھوک سے اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
8
قاری کا عذاب سے متعلق آیت پر گزر ہو تو اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
باب: عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
10
باب: اللہ کے ڈر سے خالی دل سے اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
باب: سینے دل کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
باب: کان اور آنکھ کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
13
باب: بزدلی و کم ہمتی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
14
باب: بخل اور کنجوسی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
باب: فکر و سوچ اور پریشانی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
باب: حزن و ملال (رنج و غم) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
باب: قرض اور معصیت (گناہ) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
18
باب: ۱۰- باب: کان اور آنکھ کی برائی سے اہ(ّ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
باب: آنکھ کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
باب: سستی و کاہلی سے اللہ تعالیٰ پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
21
باب: عاجزی اور مجبوری سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
باب: ذلت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
23
باب: قلت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
24
باب: فقر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
25
باب: قبر کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
باب: آسودہ اور سیراب نہ ہونے والے نفس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
باب: بھوک سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
باب: خیانت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
29
باب: دشمنی، نفاق اور برے اخلاق سے اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
30
باب: قرض سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
31
باب: قرض کے غلبے اور بوجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
32
باب: قرض کے بوجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
33
باب: مالداری کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
باب: دنیا کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
باب: عضو تناسل کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
باب: کفر و شرک کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
باب: ضلالت و گمراہی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
باب: دشمن کے قہر و غلبے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
39
باب: شماتت اعداء یعنی دشمنوں کے ہنسنے سے پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
40
باب: بڑھاپے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
41
باب: بری تقدیر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
42
باب: شقاوت و بدبختی آنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
43
باب: جنون اور پاگل پن سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
44
باب: جنوں کی نظر بد سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
45
باب: بڑھاپے کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
46
باب: بےبسی و لاچاری اور مجبوری کی عمر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
47
باب: بری عمر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
باب: خوشحالی کے بعد بدحالی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
باب: مظلوم کی بددعا سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
50
باب: سفر سے لوٹتے وقت کے رنج و غم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

16
Sunnan Nisai
5505
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو،‏‏‏‏ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ:‏‏‏‏ الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يَرْدُفُنِي وَرَاءَهُ،‏‏‏‏ فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَرَمِ وَالْحُزْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ .
Anas bin Malik said: The Messenger of Allah [SAW] said to Abu Talhah: 'Find me one of your boys to serve me.' Abu Talhah brought me out, riding behind him, and I served the Prophet [SAW] every time he stopped (on his journey). And I often heard him say: 'Allahumma, inni a'udhu bika min al-harami, wal-huzni, wal-'ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wa dala'id-dain, wa ghalabatir-rijal (O Allah, I seek refuge in You from old age, grief, incapacity, laziness, miserliness, cowardice, the burden of debt and being overpowered by men.)'
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میری خدمت کے لیے اپنے لڑکوں میں سے ایک لڑکا تلاش کرو“، تو ابوطلحہ مجھے اپنے پیچھے بٹھائے ہوئے لے کر نکلے۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، جب جب آپ قیام کرتے میں اکثر آپ کو کہتے ہوئے سنتا: «اللہم إني أعوذ بك من الهرم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن وضلع الدين وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں بڑھاپے سے، حزن و غم، عاجزی و کاہلی، بخیلی و بزدلی سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے قہر اور غلبے سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔
Sahih Bukhari
2893
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ : الْتَمِسْ غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى خَيْبَرَ ، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي وَأَنَا غُلَامٌ رَاهَقْتُ الْحُلُمَ ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ ، وَالْحَزَنِ ، وَالْعَجْزِ ، وَالْكَسَلِ ، وَالْبُخْلِ ، وَالْجُبْنِ ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ، ثُمَّ قَدِمْنَا خَيْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ فَبَنَى بِهَا ، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ ، ثُمَّ قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ ، فَقَالَ : هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا بِمِثْلِ مَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said to Abu Talha, Choose one of your boy servants to serve me in my expedition to Khaibar. So, Abu Talha took me letting me ride behind him while I was a boy nearing the age of puberty. I used to serve Allah's Apostle when he stopped to rest. I heard him saying repeatedly, O Allah! I seek refuge with You from distress and sorrow, from helplessness and laziness, from miserliness and cowardice, from being heavily in debt and from being overcome by men. Then we reached Khaibar; and when Allah enabled him to conquer the Fort (of Khaibar), the beauty of Safiya bint Huyai bin Akhtab was described to him. Her husband had been killed while she was a bride. So Allah's Apostle selected her for himself and took her along with him till we reached a place called Sa`d-AsSahba,' where her menses were over and he took her for his wife. Haris (a kind of dish) was served on a small leather sheet. Then Allah's Apostle told me to call those who were around me. So, that was the marriage banquet of Allah's Apostle and Safiya. Then we left for Medina. I saw Allah's Apostle folding a cloak round the hump of the camel so as to make a wide space for Safiya (to sit on behind him) He sat beside his camel letting his knees for Safiya to put her feet on so as to mount the camel. Then, we proceeded till we approached Medina; he looked at Uhud (mountain) and said, This is a mountain which loves us and is loved by us. Then he looked at Medina and said, O Allah! I make the area between its (i.e. Medina's) two mountains a sanctuary as Abraham made Mecca a sanctuary. O Allah! Bless them (i.e. the people of Medina) in their Mudd and Sa (i.e. measures).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے کہا، ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے بچوں میں سے کوئی بچہ میرے ساتھ کر دو جو خیبر کے غزوے میں میرے کام کر دیا کرے، جب کہ میں خیبر کا سفر کروں۔ ابوطلحہ اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر مجھے ( انس رضی اللہ عنہ کو ) لے گئے، میں اس وقت ابھی لڑکا تھا۔ بالغ ہونے کے قریب۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں قیام فرماتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا۔ اکثر میں سنتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے۔ «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن وضلع الدين وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم، عاجزی، سستی، بخل، بزدلی، قرض داری کے بوجھ اور ظالم کے اپنے اوپر غلبہ سے، آخر ہم خیبر پہنچے اور جب اللہ تعالیٰ نے خیبر کے قلعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صفیہ بنت حی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے جمال ( ظاہری و باطنی ) کا ذکر کیا گیا ان کا شوہر ( یہودی ) لڑائی میں کام آ گیا تھا اور وہ ابھی دلہن ہی تھیں ( اور چونکہ قبیلہ کے سردار کی لڑکی تھیں ) اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کا اکرام کرنے کے لیے کہا ) انہیں اپنے لیے پسند فرما لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لے کر وہاں سے چلے۔ جب ہم سدا الصبہاء پر پہنچے تو وہ حیض سے پاک ہوئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خلوت کی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیس ( کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کیا ہوا ایک کھانا ) تیار کرا کر ایک چھوٹے سے دستر خوان پر رکھوایا اور مجھ سے فرمایا کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو دعوت دے دو اور یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا ولیمہ تھا۔ آخر ہم مدینہ کی طرف چلے، انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے اپنے پیچھے ( اونٹ کے کوہان کے اردگرد ) اپنی عباء سے پردہ کئے ہوئے تھے ( سواری پر جب صفیہ رضی اللہ عنہا سوار ہوتیں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنا گھٹنا کھڑا رکھتے اور صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہو جاتیں۔ اس طرح ہم چلتے رہے اور جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھا اور فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا: اے اللہ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو حرمت والا قرار دیا تھا اے اللہ! مدینہ کے لوگوں کو ان کی مد اور صاع میں برکت دیجئیے!
Sahih Bukhari
5425
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ : الْتَمِسْ غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي ، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ، فَلَمْ أَزَلْ أَخْدُمُهُ حَتَّى أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ وَأَقْبَلَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَدْ حَازَهَا ، فَكُنْتُ أَرَاهُ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ أَوْ بِكِسَاءٍ ثُمَّ يُرْدِفُهَا وَرَاءَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي ، فَدَعَوْتُ رِجَالًا ، فَأَكَلُوا وَكَانَ ذَلِكَ بِنَاءَهُ بِهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ ، قَالَ : هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle said to Abu Talha, Seek one of your boys to serve me. Abu Talha mounted me behind him (on his riding animal) and took me (to the Prophet ). So I used to serve Allah's Apostle whenever he dismounted (to stay somewhere). I used to hear him saying very often, O Allah! I seek refuge with You from, having worries sadness, helplessness, laziness, miserliness, cowardice, from being heavily in debt and from being overpowered by other persons unjustly. I kept on serving till we -returned from the battle of Khaibar. The Prophet then brought Safiyya bint Huyai whom he had won from the war booty. I saw him folding up a gown or a garment for her to sit on behind him (on his shecamel). When he reached As-Sahba', he prepared Hais and placed it on a dining sheet. Then he sent me to invite men, who (came and) ate; and that was his and Safiyya's wedding banquet. Then the Prophet proceeded, and when he saw (noticed) the mountain of Uhud, he said, This mountain loves us, and we love it. When we approached Medina, he said, O Allah! I make the area between its two mountains a sanctuary as Abraham has made Mecca a sanctuary. O Allah! Bless their Mudd and Sa (special kinds of measure).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے یہاں کے بچوں میں کوئی بچہ تلاش کر لاؤ جو میرے کام کر دیا کرے۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر لائے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی، جب بھی آپ کہیں پڑاؤ کرتے خدمت کرتا۔ میں سنا کرتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعا پڑھا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والعجز والكسل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والبخل والجبن وضلع الدين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے، رنج سے، عجز سے، سستی سے، بخل سے، بزدلی سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبہ سے۔“ ( انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) پھر میں اس وقت سے برابر آپ کی خدمت کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ہم خیبر سے واپس ہوئے اور صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بھی ساتھ تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پسند فرمایا تھا۔ میں دیکھتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے کپڑے سے پردہ کیا اور پھر انہیں وہاں بٹھایا۔ آخر جب مقام صہبا میں پہنچے تو آپ نے دستر خوان پر حیس ( کھجور، پنیر اور گھی وغیرہ کا ملیدہ ) بنایا پھر مجھے بھیجا اور میں نے لوگوں کو بلا لایا، پھر سب لوگوں نے اسے کھایا۔ یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی دعوت ولیمہ تھی۔ پھر آپ روانہ ہوئے اور جب احد دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اس کے بعد جب مدینہ نظر آیا تو فرمایا کہ اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی علاقے کو اسی طرح حرمت والا علاقہ بناتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر بنایا تھا۔ اے اللہ! اس کے رہنے والوں کو برکت عطا فرما۔ ان کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت فرما۔
Sahih Bukhari
6363
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ : الْتَمِسْ لَنَا غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي ، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ ، وَالْحَزَنِ ، وَالْعَجْزِ ، وَالْكَسَلِ ، وَالْبُخْلِ ، وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ، فَلَمْ أَزَلْ أَخْدُمُهُ حَتَّى أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ ، وَأَقْبَلَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَدْ حَازَهَا ، فَكُنْتُ أَرَاهُ يُحَوِّي وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ أَوْ كِسَاءٍ ، ثُمَّ يُرْدِفُهَا وَرَاءَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَدَعَوْتُ رِجَالًا ، فَأَكَلُوا وَكَانَ ذَلِكَ بِنَاءَهُ بِهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ : هَذَا جُبَيْلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا ، مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said to Abu Talha, Choose one of your boys to serve me. So Abu Talha took me (to serve the Prophet ) by giving me a ride behind him (on his camel). So I used to serve Allah's Apostle whenever he stayed somewhere. I used to hear him saying, O Allah! I seek refuge with you (Allah) from (worries) care and grief, from incapacity and laziness, from miserliness and cowardice, from being heavily in debt and from being overpowered by other men. I kept on serving him till he returned from (the battle of) Khaibar. He then brought Safiya, the daughter of Huyay whom he had got (from the booty). I saw him making a kind of cushion with a cloak or a garment for her. He then let her ride behind him. When we reached a place called As-Sahba', he prepared (a special meal called) Hais, and asked me to invite the men who (came and) ate, and that was the marriage banquet given on the consummation of his marriage to her. Then he proceeded till the mountain of Uhud appeared, whereupon he said, This mountain loves us and we love it. When he approached Medina, he said, O Allah! I make the land between its (i.e., Medina's) two mountains a sanctuary, as the prophet Abraham made Mecca a sanctuary. O Allah! Bless them (the people of Medina) in their Mudd and the Sa' (units of measuring).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو، مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے غلام نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے یہاں کے لڑکوں میں سے کوئی بچہ تلاش کرو جو میرا کام کر دیا کرے۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھا کر لے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی گھر ہوتے تو میں آپ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا اکثر پڑھا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن،‏‏‏‏ والعجز والكسل،‏‏‏‏ والبخل والجبن،‏‏‏‏ وضلع الدين،‏‏‏‏ وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے، عاجزی و کمزوری سے اور بخل سے اور بزدلی سے اور قرض کے بوجھ سے اور انسانوں کے غلبہ سے۔“ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہا۔ پھر ہم خیبر سے واپس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ واپس ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے عبا یا چادر سے پردہ کیا اور انہیں اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ جب ہم مقام صہبا پہنچے تو آپ نے ایک چرمی دستر خوان پر کچھ مالیدہ تیار کرا کے رکھوایا پھر مجھے بھیجا اور میں کچھ صحابہ کو بلا لایا اور سب نے اسے کھایا، یہ آپ کی دعوت ولیمہ تھی۔ اس کے بعد آپ آگے بڑھے اور احد پہاڑ دکھائی دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ آپ جب مدینہ منورہ پہنچے تو فرمایا ”اے اللہ! میں اس شہر کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی علاقہ کو اس طرح حرمت والا قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا۔ اے اللہ! یہاں والوں کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت عطا فرما۔“
Sahih Bukhari
6369
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سليمان ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ ، وَالْحَزَنِ ، وَالْعَجْزِ ، وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ ، وَالْبُخْلِ ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet used to say, O Allah! I seek refuge with You from worry and grief, from incapacity and laziness, from cowardice and miserliness, from being heavily in debt and from being overpowered by (other) men. (See Hadith No. 374)
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن،‏‏‏‏ والعجز والكسل،‏‏‏‏ والجبن والبخل،‏‏‏‏ وضلع الدين،‏‏‏‏ وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے، عاجزی سے، سستی سے، بزدلی سے، بخل، قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبہ سے۔“
Sunnan Nisai
5451
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَوَاتٌ لَا يَدَعُهُنَّ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ .
It was narrated that Anas bin Malik said: The Messenger of Allah [SAW] had supplications that he never omitted to recite. He used to say: 'Allahumma inni a'udhu bika minal-hammi, wal-hazani, wal-'ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wa ghalabatar-rijal (O Allah, I seek refuge with You from worry, grief, incapacity, laziness, miserliness, cowardice and being overpowered by (other) men.)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ دعائیں تھیں جنہیں آپ ( پڑھنا ) نہیں چھوڑتے تھے: آپ فرماتے: «اللہم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں فکر و سوچ اور پریشانی سے، عاجزی و سستی سے، کنجوسی و بزدلی سے اور لوگوں کے غالب آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔
Sunnan Nisai
5452
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَوَاتٌ لَا يَدَعُهُنَّ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ هَذَا الصَّوَابُ،‏‏‏‏ وَحَدِيثُ ابْنِ فُضَيْلٍ خَطَأٌ.
It was narrated that Anas bin Malik said: The Messenger of Allah [SAW] had supplications that he never neglected. He used to say: 'Allahumma inni a'udhu bika minal-hammi, wal-hazani, wal-'ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wad-daini, wa ghalabatar-rijal (O Allah, I seek refuge with You from worry, grief, incapacity, laziness, miserliness, cowardice, debt, and being overpowered by (other) men.)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ دعائیں تھیں جنہیں آپ ( پڑھنا ) نہیں چھوڑتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن والدين وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں فکر و سوچ اور پریشانی سے، عاجزی و کاہلی سے، کنجوسی و بزدلی سے، قرض سے اور لوگوں کے غالب آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے اور ابن فضیل کی حدیث میں غلطی ہے ۱؎۔
Sunnan Nisai
5455
أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ السِّجِسْتَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَضَلَعِ الدَّيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ شَيْخٌ ضَعِيفٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا أَخْرَجْنَاهُ لِلزِّيَادَةِ فِي الْحَدِيثِ.
It was narrated from Anas bin Malik, that : When the Messenger of Allah [SAW] supplicated, he would say: Allahumma inni a'udhu bika minal-hammi, wal-hazani, wal-'ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wad-dala'id-daini, wa ghalabatir-rijal (O Allah, I seek refuge with You from worry, grief, incapacity, laziness, miserliness, cowardice, difficult debt and being overpowered by men.)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو فرماتے: «اللہم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن وضلع الدين وغلبة الرجال» ”اللہ! میں حزن و ملال، رنج و غم، عاجزی و کاہلی، کنجوسی و بزدلی، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: سعید بن سلمہ ضعیف ہیں ۱؎۔ ہم نے ان کی روایت اس لیے بیان کی ہے کہ اس کی سند ( ایک راوی کا ) اضافہ ہے ۲؎۔
Jam e Tirmazi
3484
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبُخْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَضَلَعِ الدَّيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو.
Anas bin Mallik [may Allah be pleased with him] narrates, saying: “I used to often hear the Prophet (ﷺ) supplicating with these words: ‘O Allah, I seek refuge in You from sadness, grief, helplessness, laziness, being stingy, overwhelming debt, and the overpowering of men (Allāhumma innī a`ūdhu bika minal-hammi wal-ḥazani wal-`ajzi wal-kasali wal-bukhli wa ḍala`id-dain wa ghalabatir-rijāl).’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر و بیشتر ان الفاظ سے دعا مانگتے سنتا تھا: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل وضلع الدين وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکرو غم سے، عاجزی سے اور کاہلی سے اور بخیلی سے اور قرض کے غلبہ سے اور لوگوں کے قہر و ظلم و زیادتی سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے حسن غریب ہے۔