TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الِاسْتِعَاذَة - پناہ مانگنے کا بیان - دعاؤں کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 8 of دعاؤں کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 9 · 25 Hadith
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ القضاءِ وشَماتة الْأَعْدَاء»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آزمائش کی شدت ، بدبختی کی آمد ، تقدیر کی زحمت اور دشمنوں کی خوشی سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۶۱۶) و مسلم (۵۳ / ۲۷۰۷) ۔ 6877
2457
Sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں فکر و غم ، عاجزی اور سستی ، بزدلی اور بخل ، قرضے کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
مففق علیہ ، رواہ البخاری (۶۳۶۹) و مسلم (۵۰ / ۲۷۰۶) ۔ 6873
2458
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمغْرب»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں سستی ، بڑھاپے ، تاوان اور گناہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! میں آگ کے عذاب ، آگ کے فتنہ ، قبر کے فتنے ، قبر کے عذاب ، تونگری کے فتنہ کے شر سے ، فقر کے فتنہ کے شر سے اور مسیح دجال کے فتنہ کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! میرے گناہوں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے ، میرے دل کو ایسے صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے ، اور میرے درمیان اور میرے گناہوں کے درمیان ایسی دوری پیدا فرما دے جیسے تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری پیدا فرمائی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۲۷۵) و مسلم (۴۹ / ۲۷۰۵) ۔ 6871
2459
Sahih
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَاب لَهَا» . رَوَاهُ مُسلم
زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں عاجزی اور سستی ، بزدلی اور بخل ، بڑھاپے اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما ، اس کا تزکیہ فرما اور تو بہترین تزکیہ کرنے والا ہے ، تو اس کا کارساز و مددگار ہے ، اے اللہ ! میں ایسے علم سے جو نفع مند نہ ہو ، ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو ، ایسے نفس سے جو بھرتا نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۷۳ / ۲۷۲۲) ۔ 6906
2460
Sahih
وَعَن عبد بنِ عمرَ قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ سوسلم: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں تیری نعمت کے زائل ہو جانے ، تیری عافیت کے بدل جانے ، تیرے عذاب کے ناگہاں آ جانے سے اور تیری تمام ناراضیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۹۶ / ۲۷۳۹) ۔ 6943
2461
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أعمَلْ» . رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں نے جو عمل کیا اس کے شر سے اور جو عمل نہیں کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۶۵ / ۲۷۱۶) ۔ 6895
2462
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يموتون»
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں نے تیری اطاعت اختیار کی ، میں تجھ پر ایمان لایا ، تجھ پر توکل کیا ، تیری طرف رجوع کیا ، تیری توفیق سے (دشمنوں کے ساتھ) جھگڑا کیا ، اے اللہ ! میں تیری عزت و غلبہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تو مجھے گمراہ کر دے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تو زندہ ہے جسے موت نہیں آئے گی جبکہ جن اور انسان فوت ہو جائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۳۱۷) و مسلم (۶۷ / ۲۷۱۷) ۔ 6899
2463
Sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ . رَوَاهُ أحمدُ وَأَبُو دَاوُد وابنُ مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، ایسے علم سے جو نفع مند نہ ہو ، ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو ، ایسے نفس سے جو بھرتا نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۲ / ۳۶۵ ح ۷۸۶۵) و ابوداؤد (۱۵۴۸) و ابن ماجہ (۲۵۰) و النسائی (۸ / ۲۶۳ ح ۵۴۶۹) ۔
2464
Sahih
وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. وَالنَّسَائِيّ عَنْهُمَا
امام ترمذی ؒ نے اسے عبداللہ بن عمرو ؓ سے اور امام نسائی ؒ نے ان دونوں (عبداللہ بن عمرو ؓ اور ابوہریرہ ؓ) سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۳۴۸۲ و قال : حسن صحیح غریب) و النسائی (۸ / ۲۵۵ ح ۵۴۴۴) [من طریقین] ۔
2465
Sahih
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَسُوءِ الْعُمُرِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ القَبرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ پانچ چیزوں سے پناہ طلب کیا کرتے تھے : بزدلی اور بخل سے ، عمر کی خرابی سے ، سینہ کے فتنے (یعنی وسوسے) سے اور عذاب قبر سے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۵۳۹) و النسائی (۸ / ۲۵۵ ح ۵۴۴۵) [و ابن ماجہ (۳۸۴۴) و ابن حبان (۲۴۴۵)] * ابو اسحاق عنعن ۔
2466
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ وَأَعُوذُ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں فقر و قلت اور ذلت سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۱۵۴۴) و النسائی (۸ / ۲۶۱ ح ۵۴۶۴) ۔
2467
Sahih
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں تنازع و اختلاف ، نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۵۴۶) و النسائی (۸ / ۲۶۴ ح ۵۴۷۳) * فیہ ضبارۃ : مجھول ۔
2468
Zaeef
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں بھوک سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، کیونکہ وہ برا ساتھی ہے ، اور میں خیانت سے تیری پناہ چاہتا ہوں کیونکہ وہ بری خصلت ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۵۴۷) و النسائی (۸ / ۲۶۳ ح ۵۴۷۰) و ابن ماجہ (۳۳۵۴) [و صححہ ابن حبان : ۲۴۴۴] * محمد بن عجلان مدلس و عنعن ۔
2469
Zaeef
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُذَامِ وَالْجُنُونِ وَمِنْ سَيِّئِ الأسقام» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں برص و جذام (پھلبہری اور کوڑھ کی بیماری) ، جنون اور بُری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۵۵۴) و النسائی (۸ / ۲۷۰ ح ۵۴۹۵) * قتادۃ مدلس و عنعن ۔
2470
Zaeef
وَعَن قُطْبةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاق والأعمال والأهواء» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
قطبہ بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں برے اخلاق ، بُرے اعمال اور بُری خواہشات سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۳۵۹۱ و قال : حسن غریب) [و صححہ الحاکم علی شرط مسلم (۱ / ۵۳۲) و وافقہ الذھبی] ۔
2471
Sahih
وَعَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِيه قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلِّمْنِي تَعْوِيذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ قَالَ: «قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بك من شَرّ سَمْعِي وَمن شَرّ بَصَرِي وَشَرِّ لِسَانِي وَشَرِّ قَلْبِي وَشَرِّ مَنِيِّي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
شُتیر بن شکل بن حُمید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! مجھے کوئی ایسا دم سکھائیں کہ میں اس کے ذریعے پناہ حاصل کیا کروں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کہو :’’ اے اللہ ! میں اپنے کان ، اپنی آنکھ ، اپنی زبان ، اپنے دل اور اپنی منی کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۱۵۵۱) و الترمذی (۳۴۹۲ و قال : حسن غریب) و النسائی (۸ / ۲۶۷ ح ۵۴۸۶) [و صححہ الحاکم (۱ / ۵۳۳) و وافقہ الذھبی] ۔
2472
Sahih
وَعَن أبي الْيُسْر أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي وَمِنَ الْغَرَقِ وَالْحَرْقِ وَالْهَرَمِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا» رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى «الْغم»
ابویسر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ کوئی عمارت مجھ پر گر پڑے ، میں کسی اونچی جگہ سے گرنے ، ڈوب جانے ، جل جانے اور بڑھاپے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ موت کے وقت شیطان مجھے مخبوط الحواس بنا دے ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں تیری راہ میں پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے فوت ہوں ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ کسی چیز کے ڈسنے سے میری موت واقع ہو ۔‘‘ ابوداؤد ، نسائی ، اور انہوں نے دوسری روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ اور غم سے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۱۵۵۲) و النسائی (۸ / ۲۸۲ ح ۵۵۳۳) [و صححہ الحاکم (۱ / ۵۳۱) و وافقہ الذھبی] ۔
2473
Sahih
وَعَنْ مُعَاذٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أستعيذُ بِاللَّهِ مِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى طَبَعٍ) رَوَاهُ أَحْمد وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير
معاذ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ سے ایسی طمع سے پناہ طلب کرو جو گناہ کی طرف لے جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۵ / ۲۳۲ ح ۲۲۳۷۱ مختصرًا) و البیھقی فی الدعوات الکبیر (۲ / ۵۳ ح ۲۸۶) [و الحاکم (۱ / ۵۳۳)] * فیہ عبداللہ بن عامر الاسلمی ضعیف : ضعفہ الجمھور ۔
2474
Zaeef
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا فَإِنَّ هَذَا هُوَ الْغَاسِقُ إِذا وَقب» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے چاند کی طرف دیکھا تو فرمایا :’’ عائشہ ؓ ! اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرو ، کیونکہ یہی وہ غاسق ہے جب بے نور ہو جائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۳۶۶ و قال : حسن صحیح) [و صححہ الحاکم (۲ / ۵۴۰ ۔ ۵۴۱) و وافقہ الذھبی] ۔
2475
Sahih
وَعَن عمرانَ بنِ حُصينٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأبي: «يَا حُصَيْن كم تعبد الْيَوْم إِلَهًا؟» قَالَ أَبِي: سَبْعَةً: سِتًّا فِي الْأَرْضِ وواحداً فِي السَّماءِ قَالَ: «فَأَيُّهُمْ تَعُدُّ لِرَغْبَتِكَ وَرَهْبَتِكَ؟» قَالَ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ قَالَ: «يَا حُصَيْنُ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَسْلَمْتَ عَلَّمْتُكَ كَلِمَتَيْنِ تَنْفَعَانِكَ» قَالَ: فَلَمَّا أَسْلَمَ حُصينٌ قَالَ: يَا رسولَ الله علِّمني الكلمتينِ اللَّتينِ وَعَدتنِي فَقَالَ: «قل اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے میرے والد سے فرمایا :’’ حصین ! آج تم کتنے معبودوں کی پوجا کرتے ہو ؟‘‘ میرے والد نے کہا : سات کی ، چھ زمین پر ہیں اور ایک آسمان میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اپنے نفع و نقصان کے لئے کسے خاص کرتے ہو ؟‘‘ اس نے کہا : جو آسمانوں میں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ حصین ! سن لو ! اگر تم اسلام قبول کر لو تو میں تمہیں دو کلمے سکھاؤں گا جو تمہیں فائدہ پہنچائیں گے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، جب حصین مسلمان ہو گئے تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے وہ دو کلمے سکھائیں جن کا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کہو :’’ اے اللہ ! میری بھلائی مجھے الہام فرما دے ، اور مجھے میرے نفس کی خرابی سے بچا لے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۸۳ و قال : حسن غریب) * الحسن البصری مدلس و عنعن ۔
2476
Zaeef