TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الِاسْتِعَاذَة - پناہ مانگنے کا بیان - دعاؤں کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 8 of دعاؤں کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 9 · 25 Hadith
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا فَزِعَ أَحَدُكُمْ فِي النَّوْمِ فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونَ فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ «وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يُعَلِّمُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ وَمَنْ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهُمْ كَتَبَهَا فِي صَكٍّ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيّ وَهَذَا لَفظه
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص نیند میں گھبرا جائے تو وہ یوں کہے :’’ میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے ، اس کے غضب ، اس کے عقاب ، اس کے بندوں کے شر اور شیاطین کے وسوسوں سے کہ وہ میرے پاس آئیں ، پناہ چاہتا ہوں ‘‘ وہ (وسوسے) اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچائیں گے ۔‘‘ عبداللہ بن عمرو ؓ اپنے بالغ بچوں کو یہ کلمات سکھایا کرتے تھے ، اور جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے تو آپ انہیں کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں ڈال دیا کرتے تھے ۔ ابوداؤد ، ترمذی ۔ اور یہ الفاظ ترمذی کے ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۸۹۳ و قال : حسن غریب) * محمد ابن اسحاق بن یسار مدلس و لم اجدہ تصریح سماعہ ۔
2477
Zaeef
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص تین مرتبہ اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت کہتی ہے : اے اللہ ! اسے جنت میں داخل فرما ، اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ طلب کرتا ہے تو جہنم عرض کرتی ہے : اے اللہ ! اسے جہنم سے بچا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۲۵۷۲) و النسائی (۸ / ۲۷۹ ح ۵۵۲۳) ۔
2478
Sahih
عَنِ الْقَعْقَاعِ: أَنَّ كَعْبَ الْأَحْبَارِ قَالَ: لَوْلَا كَلِمَاتٌ أَقُولُهُنَّ لَجَعَلَتْنِي يَهُودُ حِمَارًا فَقِيلَ لَهُ: مَا هُنَّ؟ قَالَ: أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيمِ الَّذِي لَيْسَ شَيْءٌ أَعْظَمَ مِنْهُ وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التامَّاتِ الَّتِي لَا يُجاوزُهنَّ بَرٌّ وَلَا فاجرٌ وَبِأَسْمَاءِ اللَّهِ الْحُسْنَى مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وبرأ. رَوَاهُ مَالك
قعقاع بیان کرتے ہیں ، کعب احبار نے کہا : اگر میں چند کلمات نہ کہوں تو یہودی (جادو کے ذریعے) مجھے گدھا بنا دیں ، ان سے پوچھا گیا ، وہ کلمات کون سے ہیں ؟ انہوں نے کہا : میں اللہ عظیم کے چہرے کے ذریعے پناہ حاصل کرتا ہوں جس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ، اور اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے (پناہ حاصل کرتا ہوں) جن سے کوئی نیک تجاوز کر سکتا ہے نہ کوئی فاجر ، اور اللہ کے اسمائے حسنی کے ذریعے جنہیں میں جانتا ہوں اور جنہیں میں نہیں جانتا ، ہر چیز کے شر سے پناہ چاہتا ہوں جو اس نے پیدا فرمائی اور پھیلائی اور مناسب بنائی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ مالک (۲ / ۹۵۱ ۔ ۹۵۲ ح ۱۸۳۹) ۔
2479
Sahih
وَعَن مُسلم بن أبي بَكرةَ قَالَ: كَانَ أَبِي يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ إِن أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ فَكُنْتُ أَقُولُهُنَّ فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ عَمَّنْ أَخَذْتَ هَذَا؟ قُلْتُ: عَنْكَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يقولهُنَّ فِي دُبرِ الصَّلاةِ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ وَالتِّرْمِذِيّ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُذْكَرْ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ وَرَوَى أَحْمَدُ لَفْظَ الْحَدِيثِ وَعِنْدَهُ: فِي دُبُرِ كل صَلَاة
مسلم بن ابی بکرہ بیان کرتے ہیں ، میرے والد نماز کے بعد دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں کفر و فقر اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ میں بھی انہیں پڑھا کرتا تھا ، انہوں نے کہا : بیٹا تم نے انہیں کس سے سیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا ، آپ سے ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ انہیں نماز کے بعد کہا کرتے تھے ۔ ترمذی ، نسائی ۔ البتہ امام ترمذی ؒ نے ’’ نماز کے بعد ‘ کا ذکر نہیں کیا ۔ اور امام احمد ؒ نے حدیث کے الفاظ روایت کیے اور ان کی روایت میں ہے ’’ ہر نماز کے بعد ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و الترمذی و احمد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ النسائی (۳ / ۷۳ ۔ ۷۴ ح ۱۳۴۸) و الترمذی (۳۵۰۳ و قال : غریب) و احمد (۵ / ۴۴ ح ۲۰۷۲۰ [وھو حسن]) ۔
2480
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْكُفْرِ وَالدَّيْنِ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْدِلُ الْكُفْرَ بِالدَّيْنِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ» . قَالَ رَجُلٌ: وَيُعْدَلَانِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! میں کفر و قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا کفر ، قرض کے برابر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں !‘‘ اور دوسری روایت میں ہے :’’ اے اللہ ! میں کفر و فقر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ کسی آدمی نے عرض کیا : وہ دونوں برابر ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں !‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ النسائی (۸ / ۲۶۴ ۔ ۲۶۵ ح ۵۴۷۵ ۔ ۵۴۷۶ ، ۸ / ۲۶۷ ح ۵۴۸۷) ۔
2481
Sahih