TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4231 - Chapter: Not Making A Will For One Who Has Nothing To Be Bequeathed - The book of wills - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 8 in this chapter
Chapter: Not Making A Will For One Who Has Nothing To Be Bequeathed
اس شخص کا وصیت نہ کرنا جس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس میں وہ وصیت کر سکے
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا، فَقَالَتْ: مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ؟ فَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي - أَوْ قَالَتْ: حَجْرِي - فَدَعَا بِالطَّسْتِ، فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حَجْرِي، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَاتَ، فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ
Aswad b. Yazid reported: It was mentioned before A'isha that will had been made (by the Holy Prophet) in favour of 'Ali (as the Prophet's first caliph), whereupon she said: When did he make will in his favour? I had been providing support to him (to the Holy Prophet) with my chest (or with my lap). He asked for a tray, when he fell in my lap (relaxing his body), and I did not realise that he had breathed his last. When did he make any will in his ('Ali's) favour?
اسود بن یزید سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ذکر کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وصی ( جسے وصیت کی جائے ) تھے ۔ تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کب وصیت کی؟ بلاشبہ آپ کو اپنے سینے سے ۔ ۔ یا کہا : اپنی گود سے ۔ ۔ سہارا دینے والی میں تھی ، آپ نے برتن منگوایا ، اس کے بعد آپ ( کمزوری سے ) میری گود ہی میں جھک گئے اور مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ آپ کی وفات ہو گئی ، تو آپ نے انہیں کب وصیت کی
4231
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

1,321
1
(105) CHAPTER. Whoever said: “Nothing annuls As-Salat (the prayer) (i.e. nothing of what others do, not the praying person himself).”
اس شخص کی دلیل جس نے یہ کہا کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی
Sahih Bukhari
2
(15) CHAPTER. If someone sends his Hady to be slaughtered then nothing lawful is rendered unlawful for him.
اگر کوئی شخص اپنی قربانی کاجانور حرم میں کسی کے سا تھ ذبح کرنے کے لیے بھیجے تو اس پر کوئی چیز حرام نہیں ہوئی ۔
Sahih Bukhari
3
(117) CHAPTER. The description of something by a man as ‘nothing' while he means that it is not true.
کسی شخص کا کسی چیز کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ کچھ نہیں اور مقصد یہ ہو کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے
Sahih Bukhari
4
Chapter: It is permissible for one who has broken his wudu’ to eat, and there is nothing disliked about doing so, and wudu’ need not be done immediately
بے وضو شخص کے لیے کھانا جائز ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں اور وضو فوری طور پر کرنا ضروری نہیں
Sahih Muslim
5
(49)Chapter: What Has Been Related About: Nothing Makes Water Impure
باب: پانی کو کوئی چیز نجس اور ناپاک نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
6
اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو معصیت میں ہو یا ایسی چیز میں ہو جو ابن آدم کی ملکیت میں نہ ہو
Musnad Ahmad
7
(55) CHAPTER. The selling of foodstuff before receiving it, and the selling of a thing which you don't have.
غلے کو اپنے قبضے میں لینے سے پہلے بیچنا اور ایسی چیز کو بیچنا جو تیرے پاس موجود نہیں
Sahih Bukhari
8
(3) CHAPTER. As-Salam to a person who has got nothing (to pay for the prices he receives in advance).
اس شخص سے سلم کرنا جس کے پاس اصل مال ہی موجود نہ ہو
Sahih Bukhari
9
(1) CHAPTER. Whoever buys a thing on credit and does not have its price or has it, but not at the place of the transaction.
جو شخص کوئی چیز قرض خریدے اور اس کے پاس قیمت نہ ہو یا اس وقت موجود نہ ہو تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
10
CHAPTER: What Has Been Related About A Man Who GIves A Gift, Then It Is Bequeathed To Him, Or He Inherits It.
باب: آدمی کوئی چیز ہبہ کر دے پھر وصیت یا میراث سے وہی چیز پا لے تو کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
11
(50)Chapter: Something Else For That
باب: پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About 'The Salat Is Not severed By Anything'
باب: کوئی بھی چیز نماز کو باطل نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About 'Salat Is Not Severed Except By A Dog, A Donkey, And A Woman'
باب: نماز کو کتے، گدھے اور عورت نماز کے سوا کوئی اور چیز باطل نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What has been Related That The Prophet (s.a.w) did not Leave A Will
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے (کوئی مالی) وصیت نہیں کی
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What has been Related About 'There Is No Will For The Heir'
باب: وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں
Jam e Tirmazi
16
باب: خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھنے پر کیا کرنا چاہئے؟
Jam e Tirmazi
17
مقتدی کا امام کی اقتدا اس حال میں کرنا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل ہو
Musnad Ahmad
18
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
Musnad Ahmad
19
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
Musnad Ahmad
20
جب فریقین کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو قرعہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کابیان، اسی طرح اس چیز کی وضاحت کہ اگر دونوں کے پاس گواہ تو ہوں، لیکن متعارض ہوں
Musnad Ahmad
21
اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ a کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
Musnad Ahmad
22
زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو
Musnad Ahmad
23
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
Musnad Ahmad
24
باب پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خواب کی تعبیر کا ثابت ہونا، عجمی کا ان پر حملہ کرنا، ان کی کچھ وصیتوں کا بیان، لوگوں کا ان کی تعریف کرنا اور ان کے پاس رونا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کسی خلیفہ نامزد نہ کرنا
Musnad Ahmad
25
(51) CHAPTER. Whoever offered Salat (prayer) with furnace or fire or any other worshipable thing in front of him but he intended Salat solely for Allah.
اگر کوئی شخص نماز پڑھے اور اس کے آگے تنور ، یا آگ ، یا اور کوئی چیز ہو جسے مشرک پوجتے ہیں ، لیکن اس نمازی کی نیت محض عبادت الٰہی ہو تو نماز درست ہے
Sahih Bukhari
26
(58) CHAPTER. If a man stood on the left side of the Imam and the Imam drew him to his right side, then the Salat of none of them would be invalid.
اگر کوئی شخص امام کے بائیں طرف کھڑا ہو اور امام اسے پھر دائیں طرف کر لے تو دونوں میں سے کسی کی بھی نماز فاسد نہیں ہوگی
Sahih Bukhari
27
(94) CHAPTER. Is it permissible for one to look around in Salat (prayer) if something happens to one? Or can one look at something like expectoration in the direction of the Qiblah?
اگر نمازی پر کوئی حادثہ ہو یا نمازی کوئی بری چیز دیکھے یا قبلہ کی دیوار پر تھوک دیکھے ( تو التفات میں کوئی قباحت نہیں )
Sahih Bukhari
28
(30) CHAPTER. Every Muslim has to give in charity; and whoever does not find anytingto give, should do all that is good [i.e. enjoin Al-Maruf (Islamic Monotheism, and all that Islam has ordained)].
ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے اگر ( کوئی چیز دینے کے لیے ) نہ ہو تو اس کے لیے اچھی بات پر عمل کرنا یا اچھی بات دوسرے کو بتلا دینا بھی خیرات ہے
Sahih Bukhari
29
(59) CHAPTER. Can one buy the thing which he has given in charity?
کیا آدمی اپنی چیز کو جو صدقہ میں دی ہو پھر خرید سکتا ہے ؟ اور دوسرے کا دیا ہوا صدقہ خریدنے میں تو کوئی حرج نہیں
Sahih Bukhari
30
(10) CHAPTER. If a person deputes somebody, and the deputy leaves something, and the owner agrees that, then it is allowed, and the deputy lends something of what is in his custody, for a specific time, it is permissible (if the owner agrees).
کسی نے ایک شخص کو وکیل بنایا پھر وکیل نے ( معاملہ میں ) کوئی چیز ( خود اپنی رائے سے ) چھوڑ دی
Sahih Bukhari
31
(5) CHAPTER. If someone finds a piece of wood or a lash or similar things in the sea.
اگر کوئی سمندر میں لکڑی یا ڈنڈا یا اور کوئی ایسی ہی چیز پائے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
32
(10) CHAPTER. If the oppressed one forgives the oppressor, is it necessary to describe his oppression?
اگر کسی شخص نے دوسرے پر کوئی ظلم کیا ہو اور اس سے معاف کرائے تو کیا اس ظلم کو بیان کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
33
(14) CHAPTER. If somebody allows another to do something, the permission is valid.
جب کوئی شخص کسی دوسرے کو کسی چیز کی اجازت دیدے تو وہ اسے استعمال کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
34
34) CHAPTER. If a person breaks a wooden bowl or something belonging to somebody, (should he give a compensation)?
جس کسی شخص نے کسی دوسرے کا پیالہ یا کوئی اور چیز توڑ دی تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
35
(5) CHAPTER. Mortgaging things to Jews and others.
یہود وغیرہ کے پاس کوئی چیز گروی رکھنا
Sahih Bukhari
36
(6) CHAPTER. What is said about manumission and divorce by mistake or forgetfulness. Manumission of slave should be for Allah's sake only.
اگر بھول چوک کر کسی کی زبان سے عتاق ( آزادی ) یا طلاق یا اور کوئی ایسی ہی چیز نکل جائے
Sahih Bukhari
37
(2) CHAPTER. What conditions are permissible for a writing of emancipation and whoever stipulates conditions that are not (present) in Allah's Book (i.e., not in accordance with Allah's Laws).
مکاتب سے کون سی شرطیں کرنا درست ہیں اور جس نے کوئی ایسی شرط لگائی جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو ( وہ شرط باطل ہے )
Sahih Bukhari
38
(3) CHAPTER. Whoever asks his friends to grant him a gift.
جو شخص اپنے دوستوں سے کوئی چیز بطور تحفہ مانگے
Sahih Bukhari
39
(37) CHAPTER. If somebody gives another person a horse (as a gift) then the rule is the same as that concerning the Umra or Sadaqa (i.e., the giver has no right to claim restitution).
جب کوئی کسی شخص کو گھوڑا سواری کے لیے ہدیہ کر دے تو وہ عمریٰ اور صدقہ کی طرح ہوتا ہے ( کہ اسے واپس نہیں لیا جا سکتا ) لیکن بعض لوگوں نے کہا ہے کہ وہ واپس لیا جا سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
40
(6) CHAPTER. A legal heir has no right to inherit through a will.
وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے
Sahih Bukhari
41
(10) CHAPTER. If somebody founds an endowment (or bequeathes) his relatives by a will (is it permissible?). And who are considered as relatives.
اگر کسی نے اپنے عزیزوں پر کوئی چیز وقف کی یا ان کے لئے وصیت کی تو کیا حکم ہے اور عزیزوں سے کون لوگ مراد ہوں گے
Sahih Bukhari
42
(12) CHAPTER. Making peace with Al-Mushrikun (polytheists, pagans, idolaters, and disbelievers in the Oneness of Allah and in His Messenger Muhammad (p.b.u.h)) and the reconciliation with them by means of money or other means, and the sin of the person who does not fulfil the terms of the treaty.
مشرکوں سے مال وغیرہ پرصلح کرنا ، لڑائی چھوڑ دینا ، اور جو کوئی عہد پورا نہ کرے اس کا گناہ
Sahih Bukhari
43
(31) CHAPTER. The marriage of a Muhrim.
احرام والا شخص صرف نکاح ( عقد ) کرسکتاہے حالت احرام میں اپنی بیوی سے جماع کرنا جائز نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
44
(62) CHAPTER. Consummation of marriage during the daytime without a marriage procession or lighting of fires.
دولہا کا دلہن کے پاس یا دلہن کا دولہا کے پاس دن کو آنا سواری یا روشنی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
45
(107) CHAPTER. (It is not recommended for) one to claim that one has more things or better qualities than one really has. And what is forbidden as regards the pride of lady over the other wives of her husband.
جھوٹ موٹھ جو چیز ملی نہیں اس کو بیان کرنا کہ مل گئی ، اس طرح اپنی سوکن کا دل جلانے کے لئے کرنا عورت کے واسطے منع ہے ۔
Sahih Bukhari
46
(2) CHAPTER. The severity of disease.
بیماری کی سختی (کوئی چیز نہیں ہے )
Sahih Bukhari
47
(1) CHAPTER. There is no disease that Allah has sent down except that He also has sent down its treatment.
اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو
Sahih Bukhari
48
(14) CHAPTER. If a man is invited, should he ask permission to enter at his arrival?
اگر کوئی شخص بلانے پر آیا ہو تو کیا اسے بھی اندر داخل ہونے کے لئے اذن لینا چاہئے یا نہیں
Sahih Bukhari
49
(31) CHAPTER. To vow for something which one does not possess, and to vow for something sinful.
ایسی چیز کی نذر جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے
Sahih Bukhari
50
(11) CHAPTER. To inflict the legal punishment on the noble and the weak people (impartially).
کوئی بلند مرتبہ شخص ہو یا کم مرتبہ سب پر برابر حد قائم کرنا ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

2,595
Sahih Muslim
2494
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى، كُلُّهُمْ عَنْ دَاوُدَ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ فَلْيَصْدُرْ عَنْكُمْ وَهُوَ عَنْكُمْ رَاضٍ»
Jarir b. 'Abdullah said: 'When the collector of sadaqat (Zakat) comes to you, (you should see) that he goes away pleased with you.
حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تمھا رے پاس صدقہ وصول کرنے والا آئے تو وہ تمھارے ہاں سے اس حال میں لو ٹے کہ وہ تم سے خوش ہو ۔
Sahih Muslim
2800
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَيْتَنِي أَرَى نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ، وَعَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ عَلَيْهِ، مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ عُمَرُ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ، مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَمَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً، ثُمَّ سَكَتَ، فَجَاءَهُ الْوَحْيُ، فَأَشَارَ عُمَرُ بِيَدِهِ إِلَى يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ: تَعَالَ، فَجَاءَ يَعْلَى، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ، يَغِطُّ سَاعَةً، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: «أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا؟» فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ، فَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ، فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا، ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ، مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ»
Safwan b. Ya'la b. Umayya reported that Ya'la used to say to 'Umar b. Khattab (Allah be pleased with him): Would that I see revelation descending upon the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). (Once) when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was in Ji'rana and there was a cloth which provided shade over him, and there were his Companions with him. 'Umar being one of them, there came a person with a cloak of wool on him daubed with perfume and he said: Messenger of Allah, what about the person who entered upon the state of Ihram with a cloak after daubing it with perfume? The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) looked at him for a short while, and then became quiet, and revelation began descending upon him, and 'Umar gestured (with his hand) to Ya'la b. Umayya to come. Ya'la came and he entered his head (beneath the cloth and saw) the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) with his face red, and breathing heavily. Then he felt relieved (of that burden) and he said: Where is the man who was just asking me about Umra? The man was searched for and he was brought, and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: So far as the perfume is concerned, wash it three times, and remove the cloak too (as it was sewn) and do in 'Umra as you do in Hajj.
۔ ابن جریج نے کہا : مجھے عطاء نے خبر دی کہ صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن امیہ نے انھیں خبر دی کہ یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہاکرتے تھے : کاش!میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پروحی نازل ہورہی ہو ۔ ( ایک مرتبہ ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک کپڑے سےسایہ کیاگیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی تھے ۔ جن میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ۔ اس نے خوشبوسےلت پت جبہ پہنا ہواتھا ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کے بارے میں کیا خیا ل ہے ۔ جس نےاچھی طرح خوشبولگاکر جبے میں عمرے کا احرام باندھاہے ۔ ؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا ، پھرسکوت اختیار فرمایا تو ( اس اثناء میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوناشروع ہوگئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہاتھ سے یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اشارہ کیا ، ادھرآؤ یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگئے اور اپنا سر ( چادر ) میں داخل کردیا ۔ ادھر آؤ ، یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگئے اور پنا سر ( چادر ) میں داخل کردیا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہورہاتھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر بھاری بھاری سانس لیتے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کیفیت دور ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی مجھ سے عمرے کے متعلق سوال کیا تھا؟ " آدمی کو تلاش کرکے حاضر کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ خوشبو جو تم نے لگا رکھی ہے ۔ اسے تین مرتبہ دھو لو اور یہ جبہ ( لباس ) ، اسے اتار دو ، پھر اپنے عمرے میں ویسے ہی کرو جیسے تم اپنے حج میں کرتے ہو ۔ "
Sahih Muslim
4185
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: انْطَلَقَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ كَذَا وَكَذَا مِنْ مَالِي، فَقَالَ: «أَكُلَّ بَنِيكَ قَدْ نَحَلْتَ مِثْلَ مَا نَحَلْتَ النُّعْمَانَ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي»، ثُمَّ قَالَ: «أَيَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟» قَالَ: بَلَى، قَالَ: «فَلَا إِذًا
Nu'man b. Bashir (Allah be pleased with them) reported: My father took me to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Allah's Messenger, bear witness that I have given such and such gift to Nu'man from my property, whereupon he (the Holy Prophet) said: Have you conferred upon all of your sons as you have conferred upon Nu'man? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Call someone else besides me as a witness. And he further said: Would it, please you that they (your children) should all behave virtuously towards you? He said: Yes. He (the Holy Prophet) said: Then don't do that (i e. don't give gift to one to the exclusion of others).
داود بن ابی ہند نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد مجھے اٹھائے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! گواہ رہیں کہ میں نے نعمان کو اپنے مال میں سے اتنا اتنا دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : " کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی جیسا عطیہ دیا ہے جیسا تم نے نعمان کو دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اس پر میرے سوا کسی اور کو گواہ بناؤ ۔ " پھر فرمایا : " کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ سب تمہارے ساتھ نیکی ( حسنِ سلوک ) کرنے میں برابر ہوں؟ " انہوں نے کہا : کیوں نہیں! آپ نے فرمایا : " تو پھر ( تم بھی ایسا ) نہ کرو
Sahih Muslim
97
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولُ اللهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكِتَابِهِ، وَلِقَائِهِ، وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: «الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللهَ، وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: «أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهَ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّهَا، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا كَانَتِ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللهُ، ثُمَّ تَلَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِنَّ اللهِ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [لقمان: 34] قَالَ: ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ»، فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوهُ، فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ
Abu Huraira reported: One day the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) appeared before the public that a man came to him and said: Prophet of Allah, (tell me) what is Iman. Upon this he (the Holy Prophet) replied: That you affirm your faith in Allah, His angels, His Books, His meeting, His Messengers and that you affirm your faith in the Resurrection hereafter. He (again) said: Messenger of Allah, (tell me) what does al-Islam signify. He (the Holy Prophet) replied: Al-Islam signifies that you worship Allah and do not associate anything with Him and you establish obligatory prayer and you pay the obligatory poor-rate (Zakat) and you observe the fast of Ramadan. He (the inquirer) again said: Messenger of Allah, what does al-Ihsan imply? He (the Holy Prophet) replied: That you worship Allah as if you are seeing Him, and in case you fail to see Him, then observe prayer (with this idea in your mind) that (at least) He is seeing you. He (the inquirer ) again said: Messenger of Allah, when would there be the hour (of Doom)? He (the Holy Prophet) replied: The one who is asked about it is no better informed than the inquirer. I, however, narrate some of its signs (and these are): when the slave-girl will give birth to he master, when the naked, barefooted would become the chiefs of the people - these are some of the signs of (Doom). (Moreover) when the shepherds of the black (camels) would exult themselves in buildings, this is one of the signs of (Doom). (Doom) is one of the five (happenings wrapped in the unseen) which no one knows but Allah. Then he (the Messenger of Allah) recited (the verse): Verily Allah! with Him alone is the knowledge of the hour and He it is Who sends (down the rain) and knows that which is in the wombs and no person knows whatsoever he shall earn tomorrow, and a person knows not in whatsoever land he shall die. Verily Allah is Knowing, Aware. He (the narrator, Abu Huraira) said: Then the person turned back and went away. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Bring that man back to me. They (the Companions of the Prophet present there) went to bring him back, but they saw nothing there. Upon this the Messenger of Allah remarked: he was Gabriel, who came to teach the people their religion
اسماعیل بن ابراہیم ( ابن علیہ ) نے ابو حیان سے ، انہوں نے ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کے سامنے ( تشریف فرما ) تھے ، ایک آدمی آپﷺ کے پاس آیا اور پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’تم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ، ( قیامت کے روز ) اس سے ملاقات ( اس کے سامنے حاضری ) اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور آخری ( بار زندہ ہو کر ) اٹھنے پر ( بھی ) ایمان لے آؤ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اسلام کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’اسلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ ، لکھی ( فرض کی ) گئی نمازوں کی ‎پابندی کرو ، فرض کی گئی زکاۃ ادا کرو ۔ اور رمضان کے روزے رکھو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! احسان کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! قیامت کب ( قائم ) ہو گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’جس سے سوال کیا گیا ہے ، وہ ا س کے بارے میں پوچھنے والے سےزیادہ آگاہ نہیں ۔ لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتائے دیتا ہوں : جب لونڈی اپنا مالک جنے گی تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے ، اور جب ننگے بدن اور ننگے پاؤں والے لوگوں کے سردار بن جائیں گے تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے ، اور جب بھیڑ بکریاں چرانے والے ، اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے تو یہ اس کی علامات میں سے ہے ۔ ( قیامت کے وقت کا علم ) ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے ‘ ‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے ، وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ارحام ( ماؤں کے پیٹوں ) میں کیا ہے ، کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا ، نہ کسی متنفس کویہ معلوم ہے کہ وہ زمین کے کس حصے میں فوت ہو گا ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ علم والا خبردار ہے ۔ ‘ ‘ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : پھر وہ آدمی واپس چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اس آ دمی کو میرے پاس واپس لاؤ ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اسے واپس لانے کے لیے بھاک دوڑ کرنےلگے تو انہیں کچھ نظر نہ آیا ، رسول اللہ نے فرمایا : ’’یہ جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
211
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) said: Three are the signs of a hypocrite: when he spoke he told a lie, when he made a promise he acted treacherously against it, when he was trusted he betrayed.
نافع بن مالک بن ابی عامر نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ منافق کی تین علامتیں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو ( اس کی ) خلاف ورزی کرے اور جب اسے ( کسی چیز کا ) امین بنایا جائے تو ( اس میں ) خیانت کرے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
606
دَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ ح، وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ قَالَ: فَقَالَ: أَجَلْ «لَقَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ، أَوْ بَوْلٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ»
Salman reported that it was said to him: Your Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) teaches you about everything, even about excrement. He replied: Yes, he has forbidden us to face the Qibla at the time of excretion or urination, or cleansing with right hand or with less than three pebbles, or with dung or bone.
اعمش کے دوشاگرد وکیع اور ابو معاویہ كی سندوں سے حضرت سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ( اور یہ الفاظ ابو معاویہ کےشاگردیحییٰ بن یحییٰ کے ہیں ) کہ ان ( سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے ( طنزاً ) کہا گیا : تمہارے نبی نے تم لوگوں کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت ( کےطریقے ) کی بھی ۔ کہا : انہوں نے جواب دیا : ہاں ( ہمیں سب کچھ سکھایا ہے ، ) آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے ہم پاخانے یا پیشاب کے وقت قبلے کی طرف رخ کریں یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں یا استنجے میں تین پتھروں سے کم استعمال کریں یاہم کوپر یا ہڈی سے استنجا کریں ۔
Sahih Muslim
883
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو -، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «فِي كُلِّ الصَّلَاةِ يَقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى مِنَّا، أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنْ لَمْ أَزِدْ عَلَى أُمِّ الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: «إِنْ زِدْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ خَيْرٌ، وَإِنِ انْتَهَيْتَ إِلَيْهَا أَجْزَأَتْ عَنْكَ»
Ata' narrated on the authority of Abu Huraira who said that one should recite (al-Fatiha) in every (rak'ah of) prayer. What we heard (i. e. recitation) from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), we made you listen to that. And that which he (recited) inwardly, we (recited) inwardly for you. A person said to him: If I add nothing to the (recitation) of the Umm al Qur'an (Surat al-Fatiha), would it make the prayer incomplete? He (AbuHuraira) said: If you add to that (if you recite some of verses of the Qur'an along with Surat at-Fatiha) that is better for you. But if you are contented with it (Surat al-Fatiha) only, it is sufficient for you.
۔ ابن جریج نے عطا سے خبر دی ، کہا : حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ( نماز پڑھنے والا ) پوری نماز میں ( ہر رکعت میں ) قراءت کرے ۔ رسول اللہﷺ نے جو ( قراءت ) ہمیں ( بلند آواز سے ) سنائی ، ہم نے بھی تمہیں سنائی اور جو آ پ نے ہم سے ( آواز آہستہ کر کے ) مخفی رکھی ہم نے اسے تم سے مخفی رکھا ۔ ایک آدمی نے ان سے کہا : اگر میں ام القرآن سے زیادہ نہ پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا : اگر اس سے زیادہ پڑھو تو بہتر ہے اور اگر اس ( فاتحہ ) پر رک جاؤ تو وہ تمہیں کفایت کرے گی ۔
Sahih Muslim
1362
دَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَلَا يَسْعَ إِلَيْهَا أَحَدُكُمْ، وَلَكِنْ لِيَمْشِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ، صَلِّ مَا أَدْرَكْتَ، وَاقْضِ مَا سَبَقَكَ»
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When the words of Iqama are pronounced, none of you should run to it (to join the prayer) but walk with tranquillity and dignity, and pray what you are in time for and complete what has gone before (what the Imam has completed).
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو تم میں سے کوئی شخص اس کی طرف بھاگ کر نہ آئے بلکہ اس طرح چل کر آئے کہ اس پر سکون وقار طار ی ہو ، جتنی ( نماز ) پا لو ، پڑھ لو اور جو تمھارے ( پہنچنے ) سے پہلے گزر چکی اسے پورکر لو ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
2486
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى -، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقِيلَ: هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ»
A'isha reported that (once) the Messenger of Allah (may peace be upon him, ) was presented with beef. It was said (by someone) that it had been given to Barira as Sadaqa. Upon this he (the Prophet) said: It is a Sadaqa for her and a gift for us.
اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گائے کا گو شت پیش کیا گیا اور بتا یا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بطور صدقہ دیا گیا تھا تو آپ نے فر ما یا : " وہ اس کے لیے صدقہ اورہما رے لیے ہدیہ ہے ۔