۔ (۶۴۲۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَجُلَیْنِ تَدَارَئَ ا فِیْ دَابَّۃٍ لَیْسَ لِوَاحِدٍ مِنْہُمَا بَیِّنَۃٌ، فَأَمَرَھُمَا نَبِیُّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنْ یَسْتَہِمَا عَلٰی الْیَمِیْنِ، اَحَبَّا أَوْ کَرِھَا۔ (مسند احمد: ۱۰۳۵۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دوآدمی ایک جانور کے بارے میں جھگڑ پڑے، جبکہ کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قسم اٹھانے پر قرعہ ڈالنے کا حکم دیا،یہ حکم ان کو پسند ہو یا نہ ہو۔
Takhreej
(۶۴۲۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۱۶، ۳۶۱۸، وابن ماجہ: ۲۳۲۹(انظر: ۱۰۳۴۷)
6422
Sahih