TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

پتھراور دوسری تیز دھار اور بھاری اشیاء سے قتل کرنے کی صورت میں قصاص اور عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کرنے کا ثبوت - پتھراور دوسری تیز دھار اور بھاری اشیاء سے قتل کرنے کی صورت میں قصاص اور عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کرنے کا ثبوت - The book of oaths,muharibin,qasas( retaliation), and diyat (blood money_ - Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Chapter 3 of The book of oaths,muharibin,qasas( retaliation), and diyat (blood money_ in Sahih Muslim. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 11 · 5 Hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، قَالَ: فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ لَهَا: «أَقَتَلَكِ فُلَانٌ؟» فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ قَالَ لَهَا الثَّانِيَةَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، وَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا، «فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ
Anas b. Malik reported that a Jew killed a girl with a stone for her silver ornaments. She was brought to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) when there was yet some life in her. He (the Holy Prophet) said to her: Has so and so killed you? She indicated with the nod of her head: No. He said for the second time, and she again said: No with the nod of her head. He asked for the third time, and she said: Yes with the nod of her head and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanded to crush his head between two stones.
بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے زیورات ( حاصل کرنے ) کی خاطر مار ڈالا ، اس نے اسے پتھر سے قتل کیا ، کہا : وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی اور اس میں زندگی کی رمق موجود تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک یہودی کا نام لیتے ہوئے ) اس سے پوچھا : " کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟ " اس نے اپنے سر سے نہیں کا اشارہ کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دوسری بار ( دوسرا نام لیتے ہوئے ) پوچھا : تو اس نے اپنے سر سے نہیں کا اشارہ کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ( تیسرا نام لیتے ہوئے ) تیسری بات پوچھا : تو اس نے کہا : ہاں ، اور اپنے سر سے اشارہ کیا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( ملوث یہودی کو اس کے قرار کے بعد ، حدیث : 4365 ) دو پتھروں کے درمیان قتل کروا دیا ۔
4361
Sahih
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ: فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters and in the hadith narrated on the authority of Ibn Idris (the words are): He (commanded) to crush his head between two stones.
خالد بن حارث اور ابن ادریس دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی اور ابن ادریس کی حدیث میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلوا ڈالا ۔ ( اس طرح بھاری پتھر مارا گیا کہ اس کا سر کچلا گیا
4362
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، «أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ قَتَلَ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا، ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي الْقَلِيبِ، وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ، فَأُخِذَ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ، فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ
Anas reported that a Jew killed a girl of the Ansar for her ornaments and then threw her in a well and smashed her head with a stone. He was caught and brought to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and he commanded that he should be stoned to death. So he was stoned until he died.
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں معمر نے ایوب سے خبر دی ، انہوں نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ یہود کے ایک آدمی نے انصار کی ایک لڑکی کو اس کے زیورات کی خاطر قتل کر دیا ، پھر اسے کنویں میں پھینک دیا ، اس نے اس کا سر پتھر سے کچل دیا تھا ، اسے پکڑ لیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اسے مر جانے تک پتھر مارنے کا حکم دیا ، چنانچہ اسے پتھر مارے گئے حتی کہ وہ مر گیا
4363
Sahih
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters.
ابن جریج نے کہا : مجھے معمر نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
4364
Sahih
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَسَأَلُوهَا مَنْ صَنَعَ هَذَا بِكِ؟ فُلَانٌ؟ فُلَانٌ؟ حَتَّى ذَكَرُوا يَهُودِيًّا، فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَأَقَرَّ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ
Anas b. Malik reported: A girl was found with her head crushed between two stones. They asked her as to who had done that-has so and so (done it) until they mentioned a Jew. She indicated with the nod of her head (that it was so). So the Jew was caught, and he made confession (of his guilt). And Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanded that his head be smashed with stones.
) قتادہ نے ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا ہوا ملا تو لوگوں نے اس سے پوچھا : تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا؟ فلاں نے؟ فلاں نے؟ حتی کہ انہوں نے خاص ( اسی ) یہودی کا ذکر کیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا ۔ یہودی کو پکڑا گیا تو اس نے اعتراف کیا ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے
4365
Sahih

Chapters

11
01
قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتمائی قسمیں
11 Hadith
02
قتل و غارت کرنے اور مرتد ہو جانے والوں کے بارے میں(شریعت کا ) حکم
8 Hadith
03
پتھراور دوسری تیز دھار اور بھاری اشیاء سے قتل کرنے کی صورت میں قصاص اور عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کرنے کا ثبوت
5 Hadith
04
کسی انسان کی جان یا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو ‘جب وہ شخص جس پر حملہ کیا گیا ہےدور دھکیلے اور اس طرح اس کی جان یا کسی عضو کو ضائع کر دے تو اس
8 Hadith
05
دانتوں اور معنوی اعتبار سے ان جیسے اعضاء میں قصا ص کا ثبوت
1 Hadith
06
مسلمان کا خون کس وجہ سے مباح ہو سکتا ہے
4 Hadith
07
اس شخص کا گناہ جس نے قتل کا طریقہ شروع کیا
2 Hadith
08
آخرت میں خون کی جزا اور یہ کہ قیامت کے دن لوگوں کے مابین سب سے پہلے اسی کا فیصلہ کیا جائے گا
2 Hadith
09
خون ‘عزت اور اموال کی حرمت کی تاکید
4 Hadith
10
قتل کا اعتراف اور مقتول کے ولی کو قصاص کا حق دینا بالکل درست ہے اور اس سے معافی مانگنا مستحب ہے
2 Hadith
11
جنین کی دیت اور قتل خطا اورقتل شبہ عمد میں مجرم کے عاقلہ (باپ کی طرف سے عصبہ رشتہ داروں )پر دیت واجب ہے
9 Hadith
No chapter matched that.