TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6141 - Chapter: The Virtue Of Looking At Him And Longing To See Him - The book of virtues - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 8 in this chapter
Chapter: The Virtue Of Looking At Him And Longing To See Him
حضرت ابرا ہیم خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as having said that Ibrahim (as) circumcised himself with the help of an adze when he was eighty years old.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نبی علیہ السلام نے اَسی سا ل کی عمر میں قدوم ( مقام پر تیشے یا بسولے کے ذریعے ) سے ختنہ کیا ۔ "
6141
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

495
1
(17) CHAPTER. The virtues of Zaid bin Haritha, the freed slave of the Prophet.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت زیدبنحارثہ کے فضائل کا بیان
Sahih Bukhari
2
Chapter: The Virtues Of Fatimah (RA), The Daughter Of The Prophet (SAW)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دختر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل :۔
Sahih Muslim
3
(12) CHAPTER. The virtues of the relatives of Allah's Messenger . And the merits of Fatima the daughter of the Prophet.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہداروں کے فضائل اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کا بیان
Sahih Bukhari
4
Chapter: The Virtues Of Ibrahim, Peace Be Upon Him
حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرما ن : کسی بندے کے لیے لائق نہیں کہ وہ کہے : میں یو نس بن متیٰ سے بہتر ہوں
Sahih Muslim
5
Chapter: The Virtues Of The Household Of The Prophet (SAW)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے فضائل:۔
Sahih Muslim
6
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
7
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
Musnad Ahmad
8
ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
9
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
Musnad Ahmad
10
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
Musnad Ahmad
11
ابراہیم علیہ السلام کا حلیہ مبارک، اسحاق کی پیدائش، سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی اور پھر ابراہیم علیہ السلام کی وفات کا بیان
Musnad Ahmad
12
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
Musnad Ahmad
13
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
14
سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فضائل اور اس کا بیان کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں، نیز اس چیز کی وضاحت کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے تین ماہ تک مقاطعہ کر لیا تھا
Musnad Ahmad
15
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
Musnad Ahmad
16
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
Musnad Ahmad
17
(37) CHAPTER. The asking of (angel) Jibril (Gabriel) from the Prophet about Belief, Islam, Ihsan (perfection) and the knowledge of the Hour (Doomsday) .
حضرت جبرائیل علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان ، اسلام ، احسان اور قیامت کے علم کے بارے میں پوچھنا
Sahih Bukhari
18
(42) CHAPTER. The statement of the Prophet : Religion is An-Nasihah (to be sincere and true) to Allah, to His Messenger (Muhammad ), to the Muslim rulers, and to all the Muslims.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ دین سچے دل سے اللہ کی فرمانبرداری اور اس کے رسول اور مسلمان حاکموں اور تمام مسلمانوں کی خیرخواہی کا نام ہے
Sahih Bukhari
19
(37) CHAPTER. It is incumbent on those who are present [in a religious meeting (or conference)] to convey the knowledge to those who are absent.
اس بارے میں کہ جو لوگ موجود ہیں وہ غائب شخص کو علم پہنچائیں ، یہ قول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جناب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔ ( اور بخاری کتاب الحج میں یہ تعلیق باسناد موجود ہے )
Sahih Bukhari
20
(45) CHAPTER. Offering Salat (prayer) in front of the people with the sole intention of teaching them the Salat of the Prophet and his Sunna (legal ways etc.).
کوئی شخص صرف یہ بتلانے کے لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیوں کر پڑھا کرتے تھے اور آپ کا طریقہ کیا تھا نماز پڑھائے تو کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
21
(48) CHAPTER. If somebody is leading the Salat (prayer) and (in the meanwhile) the first (usual) Imam comes, the Salat is valid whether the former retreats or does not retreat.
ایک شخص نے امامت شروع کر دی پھر پہلا امام آ گیا اب پہلا شخص ( مقتدیوں میں ملنے کے لیے ) پیچھے سرک گیا یا نہیں سرکا ، بہرحال اس کی نماز جائز ہو گی اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے
Sahih Bukhari
22
(104) CHAPTER. The recitation of the Quran in the Fajr prayer.
نماز فجر میں قرآن شریف پڑھنا اور ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الطور پڑھی
Sahih Bukhari
23
(146) CHAPTER. Whoever considered that the first Tashah-hud is not compulsory. As the Prophet stood up after the second Raka (without sitting for Tashah-hud) and did not perform it.
اس شخص کی دلیل جو پہلے تشہد کو ( چار رکعت یا تین رکعت نماز میں ) واجب نہیں جانتا ( یعنی فرض ) کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے اور بیٹھے نہیں ۔
Sahih Bukhari
24
(6) CHAPTER. Standing of the Prophet [for the Salat (prayer)] at night.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز میں اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ پاؤں سوج جاتے
Sahih Bukhari
25
(11) CHAPTER. The waking up of the Prophet from his sleep for the night prayer and what (how much) was cancelled from the night prayer.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رات میں اور سوجانا اور رات کی نماز میں سے جو منسوخ ہوا ( اس کا بیان )
Sahih Bukhari
26
(5) CHAPTER. The superiority of the place between the pulpit and the grave (of the Prophet ).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرشریف اور منبر مبارک کے درمیانی حصہ کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
27
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
Sahih Bukhari
28
(35) CHAPTER. He who tears off his clothes (when afflicted with a calamity) is not from us.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ گریبان چاک کرنے والے ہم میں سے نہیں ہیں
Sahih Bukhari
29
(43) CHAPTER. The saying of the Prophet (at the death of his son Ibrahim): “ Indeed we are grieved by your separation.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ اے ابراھیم ! ہم تمہاری جدائی پر غمگین ہیں
Sahih Bukhari
30
(32) CHAPTER. Whoever assumed Ihram with the same intention as that of the Prophet (for Hajj and Umra) in the lifetime of the Prophet (without being objected by the Prophet ).
جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے احرام میں یہ نیت کی جو نیت آنحضرت کی ہے
Sahih Bukhari
31
(9) CHAPTER. The Itikaf and coming of the Prophet out of Itikaf in the morning of the twentieth (of Ramadan).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کا اور بیسویں کی صبح کو آپ کا اعتکاف سے نکلنے کا بیان
Sahih Bukhari
32
(62) CHAPTER. Al-Limas or Mulamasa sale, i.e., by touching the thing only and not looking at it.
بیع ملامسۃ کا بیان اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے
Sahih Bukhari
33
(4) CHAPTER. The pledge of protection given to Abu Bakr (by someone) during the lifetime by Allah's Messenger .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ( ایک مشرک کو ) امان دینا اور اس کے ساتھ آپ کا عہد کرنا
Sahih Bukhari
34
(9) CHAPTER. The saying of the Prophet (p.b.u.h) to Al-Hasan bin Ali.
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میرا یہ بیٹا ہے
Sahih Bukhari
35
(89) CHAPTER. What is said regarding the armour of the Prophet (p.b.u.h) and the coat of mail during the battle.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لڑائی میں زرہ پہننا
Sahih Bukhari
36
(121) CHAPTER. What has been said regarding the flag of the Prophet (p.b.u.h) .
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا بیان
Sahih Bukhari
37
(122) CHAPTER. The Statement of the prophet (p.b.u.h) : I have been made victorious for a distance of one month journey with terror (cast in the hearts of the enemy).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک مہینے کی راہ سے اللہ نے میرا رعب ( کافروں کے دلوں میں ) ڈال کر میری مدد کی ہے
Sahih Bukhari
38
(13) CHAPTER. Blessed is the wealth of a living or a dead Ghazi (i.e., Muslim fighter) who fought aling with the Prophet (p.b.u.h) or along with the ruler.
اللہ پاک نے مجاہدین کرام کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے بادشاہان اسلام کے ساتھ ہو کر لڑے کیسی برکت دی تھی ‘ اس کا بیان
Sahih Bukhari
39
(16) CHAPTER. The free emancipation of the captives by the Prophet (p.b.u.h) without taking out the Khumus from the booty.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان رکھ کر قیدیوں کو مفت چھوڑ دینا ، اور خمس وغیرہ نہ نکالنا
Sahih Bukhari
40
(19) CHAPTER. What the Prophet (p.b.u.h) used to give to those Muslims whose faith was not so firm, and to other Muslims, from the Khumus or other resources.
تالیف قلوب کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض کافروں وغیرہ نو مسلموں یا پرانے مسلمانوں کو خمس میں سے دینا
Sahih Bukhari
41
(3) CHAPTER. The advice to take care of non-Muslims who have a covenant of Allah's Messenger (p.b.u.h).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کافروں کو امان دی ( اپنے ذمہ میں لیا ) ان کے امان کو قائم رکھنے کی وصیت کرنا
Sahih Bukhari
42
(4) CHAPTER. What grants the Prophet (p.b.u.h) gave from the land of Bahrain, and what he promised to give (some people) from the Bahrain money resources and from Al-Jizya. And to whom should the Fai (i.e., booty gained without fight) and the Jizya be distributed?
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بحرین سے ( مجاہدین کو کچھ معاش ) دینا اور بحرین کی آمدنی اور جزیہ میں سے کسی کو کچھ دینے کا وعدہ کرنا اس کا بیان اور اس کا کہ جو مال کافروں سے بن لڑے ہاتھ آئے یا جزیہ وہ کن لوگوں کو تقسیم کیا جائے ۔
Sahih Bukhari
43
(11) CHAPTER. Allah's Statement: “And tell them about the guests (the angels) of Ibrahim (Abraham).” (V.15:51).
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجر میں فرمایا ‘ اے پیغمبر ! ان لوگوں کو ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا قصہ سنائیے ۔
Sahih Bukhari
44
(18) CHAPTER. The last (i.e., the end) of all the Prophets (Muhammad (p.b.u.h)).
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ۔
Sahih Bukhari
45
(25) CHAPTER. The signs of Prophethood in Islam.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان ۔
Sahih Bukhari
46
(27) CHAPTER. The demand of Al-Mushrikun to the Prophet (p.b.u.h) to show them a miracle. The Prophet (p.b.u.h) showed them the splitting of the moon.
مشرکین کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نشانی چاہنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ شق القمر دکھانا ۔
Sahih Bukhari
47
(1) CHAPTER. The virtues of the Companions of the Prophet.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
48
(3) CHAPTER. The saying of the Prophet , “Close the gates (in the Mosque), except the gate of Abu Bakr.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم فرماناکہ حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ کے دروازے کو چھوڑ کر ( مسجدنبوی کی طرف کے ) تمام دروازے بند کر دو ۔
Sahih Bukhari
49
(4) CHAPTER. The merits of Abu Bakr as next to those of the Prophet (in excellence).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضیاللہعنہ کی ( دوسرے صحابہ ) پر فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
50
(7) CHAPTER. The virtues of Uthman bin Affan Abi Amr Al-Qurashi.
حضرت ابوعمرو عثمان بنعفان القرشی ( اموی ) رضیاللہعنہ کے فضائل کا بیان
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

143
Sahih Muslim
647
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح، وَحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح، وَحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ، وَابْنُ رَافِعٍ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا جَمِيعًا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ فِي رِوَايَتِهِمْ جَمِيعًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ كُلُّهُمْ يَقُولُ حَتَّى يَغْسِلَهَا، وَلَمْ يَقُلْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ ثَلَاثًا إِلَّا مَا قَدَّمْنَا مِنْ رِوَايَةِ جَابِرٍ، وَابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، وَأَبِي صَالِحٍ، وَأَبِي رَزِينٍ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِمْ ذِكْرَ الثَّلَاثِ
This hadith has been transmitted through other chains of transmitters on the authority of Abu Huraira in which it is reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) made a mention of washing the hand, and did not instruct to wash it three times. But the hadith narrated from Jabir and Ibn Musayyab. Abu Salama, and Abdullah b. Shaqiq, Abu Salih, Abla Razin, there is a mention of three times .
اعرج ، محمد ، علاء کے والد عبد الرحمان بن یعقوب ، ہمام بن منبہ اور ثابت بن عیاض ( سب ) نےکہا : ہمیں ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحدیث بیان کی ، سبھی نے اپنی ا پنی روایت میں ( ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے واسطے سے ) نبی ﷺ سے یہ حدیث بیان کی ۔ سبھی کہتے ہیں : ’’ حتی کہ اس ( ہاتھ ) کو دھولے ‘ ‘ اور ان میں سے کسی نے بھی ’’تین بار ‘ ‘ کا لفظ نہیں بولا ، سوائے ان روایات کے جو ہم نے اوپر جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ، ابن مسیب ، ابو سلمہ ، عبد اللہ بن شقیق ، ابوصالح اور ابو زرین سے بیان کی ہیں کیونکہ ان سب کی احادیث میں ’’تین بار ‘ ‘ کا ذکر ہے ۔
Sahih Muslim
859
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّأْذِينُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ، أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ لَهُ: اذْكُرْ كَذَا وَاذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ مِنْ قَبْلُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ مَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى
Abu Huraira reported: The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said When the call to prayer is made, Satan runs back and breaks wind so as not to hear the call being made, and when the call is finished. he turns round. When Iqama is proclaimed he turns his back, and when it is finished he turns round to distract a man, saying: Re- member such and such; remember such and such, referring to something the man did not have in his mind, with the result that he does not know how much he has prayed.
اعرج نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کہ بلاشبہ نبیﷺ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیچھا بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سنے ، چنانچہ جب اذان پوری کر دی جاتی ہے تو آ جاتا ہے حتیٰ کہ جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو ( پھر ) پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے ، یہاں تک کہ جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو آ جاتا ہے تاکہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈالے ۔ اسے کہتا ہے : فلاں چیز کو یاد کرو ، فلاں چیز کو یاد کرو ، وہ چیزیں جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتیں ، یہاں تک کہ آدمی کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ اس کو پتہ ہی نہیں چلتا اس نے کتنی نماز پڑھی ہے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
930
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The Imam is appointed, so that he should be followed, so don't be at variance with him. Recite takbir when he recites it; bow down when he bows down and when he says: Allah listens to him who praises Him, say: O Allah, our Lord, to Thee be the Praise. And when he (the Imam) prostrates, you should also prostrate, and when he says prayer sitting, you should all observe prayer sitting.
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’امام اقتدا ہی کے لیے بنایا گیا ہے ، اس لیے اس کی مخالفت نہ کرو ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
4701
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِيَانِ الْحِزَامِيَّ، ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: - وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ عَمْرٌو: رِوَايَةً - «النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ، مُسْلِمُهُمْ لِمُسْلِمِهِمْ، وَكَافِرُهُمْ لِكَافِرِهِمْ
It has been narrarted on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: People are subservient to the Quraish: the Muslims among them being subservient to the Muslims among them, and the disbelievers among the people being subservient to the disbelievers among them.
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب اور قتیبہ بن سعید نے مغیرہ حزامی سے اور زہیر بن حرب اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ سے ( مغیرہ اور سفیان ) دونوں نے ابوزناد سے انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور زہیر کی حدیث میں ہے ، انہوں ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) نے حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی ( آپ سے بیان کی ) اور عمرو نے کہا : ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " لوگ اس اہم معاملے ( حکومت ) میں قریش کے تابع ہیں ، مسلمان ، قریشی مسلمانوں کے پیچھے چلنے والے ہیں اور کافر ، قریشی کافروں کے پیچھے چلنے والے ہیں
Sahih Muslim
5850
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا، فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ، فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: An Apostle from amongst the Apostles of Allah encamped under a tree, and an ant bit him, and he commanded his belongings to be removed from underneath the tree. He then commanded and it was burnt, and Allah revealed to bin): Why one ant (which had bitten you) was not killed?
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( پہلے ) انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے ( آرام ) کرنے کے لیے سواری سے ) اترے تو ایک چیونٹی نے ان کو کا ٹ لیا ۔ انھوں نے اس کے پورے بل کے بارے میں حکم دیا ، اسے نیچے سے نکل دیا گیا پھر حکم دیا ان کو جلا دیا گیا ۔ اللہ تعا لیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ آپ نے ایک ہی چیونٹی کو کیوں ( سزا ) نہ ( دی ؟ )
Sahih Muslim
6442
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا - يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغِفَارُ، وَأَسْلَمُ، وَمُزَيْنَةُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ، - أَوْ قَالَ: جُهَيْنَةُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ، خَيْرٌ عِنْدَ اللهِ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مِنْ أَسَدٍ، وَطَيِّئٍ، وَغَطَفَانَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, (the tribes of) Ghifar, Aslam, Muzaina, or from the tribe of Juhaina or from the tribe of Muzaina, they would be better in the eye of Allah than Asad, Tayyi, and Ghatfan on the Day of Resurrection.
ابو زناد اور صالح نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جا ن ہے! یقیناً غفار ، اسلم مزینہ اورجو لوگ جہینہ سے ہیں یا آپ نے فرمایا : " جہینہ اور جو لو گ مزینہ سے ہیں ( خود آکر اسلام قبول کرنے کی بنا پر ) قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اسد طے اور غطفان سے بہتر ہوں گے ۔ "
Jam e Tirmazi
236
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَمَّ أَحَدُكُمُ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ الصَّغِيرَ وَالْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَالْمَرِيضَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا صَلَّى وَحْدَهُ فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي وَاقِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ اخْتَارُوا أَنْ لَا يُطِيلَ الْإِمَامُ الصَّلَاةَ مَخَافَةَ الْمَشَقَّةِ عَلَى الضَّعِيفِ وَالْكَبِيرِ وَالْمَرِيضِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَأَبُو الزِّنَادِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَعْرَجُ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْمَدِينِيُّ وَيُكْنَى أَبَا دَاوُدَ.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: When one of you leads the people in prayer then let him be brief, for indeed here are among them the young and the old, the weak and the ill. When one of you prays alone, then let him pray as he wishes.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرے تو چاہیئے کہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ ان میں چھوٹے، بڑے، کمزور اور بیمار سبھی ہوتے ہیں اور جب وہ تنہا نماز پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عدی بن حاتم، انس، جابر بن سمرہ، مالک بن عبداللہ، ابوواقد، عثمان، ابومسعود، جابر بن عبداللہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی اکثر اہل علم کا قول ہے، ان لوگوں نے اسی کو پسند کیا کہ امام نماز لمبی نہ پڑھائے تاکہ کمزور، بوڑھے اور بیمار لوگوں کو پریشانی نہ ہو۔
Jam e Tirmazi
488
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي لُبَابَةَ،‏‏‏‏ وَسَلْمَانَ،‏‏‏‏ وَأَبِي ذَرٍّ،‏‏‏‏ وَسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ،‏‏‏‏ وَأَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that: the Prophet said: The best day that the sun has risen upon is Friday. On it Adam was created, on it he entered Paradise, and on it, he was expelled from it. And the Hour will not be established except on Friday.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دن جس میں سورج نکلا، جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا، اور قیامت بھی اسی دن قائم ہو گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابولبابہ، سلمان، ابوذر، سعد بن عبادہ اور اوس بن اوس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
3538
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ أَحَدِكُمْ بِضَالَّتِهِ إِذَا وَجَدَهَا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مَكْحُولٍ، ‏‏‏‏‏‏بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَ هَذَا.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah is more delighted with the repentance of one of you, than one of you is, when finding his lost animal.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ کوئی شخص اپنی کھوئی ہوئی چیز ( خاص طور سے گمشدہ سواری کی اونٹنی پا کر خوش ہوتا ہے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، یعنی ابوالزناد کی روایت سے، ۲- یہ حدیث مکحول سے بھی ان کی اپنی سند سے آئی ہے، انہوں نے ابوذر کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابن مسعود، نعمان بن بشیر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔