۔
(۱۱۴۶۴)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: بَلَغَ صَفِیَّۃَ أَنَّ
حَفْصَۃَ قَالَتْ: إِنِّی ابْنَۃُیَہُودِیٍّ فَبَکَتْ، فَدَخَلَ عَلَیْہَا النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہِیَ تَبْکِی، فَقَالَ: ((مَا شَأْنُکِ؟)) فَقَالَتْ: قَالَتْ لِی حَفْصَۃُ: إِنِّی ابْنَۃُیَہُودِیٍّ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((إِنَّکِ ابْنَۃُ نَبِیٍّ، وَإِنَّ عَمَّکِ لَنَبِیٌّ، وَإِنَّکِ لَتَحْتَ نَبِیٍّ، فَفِیمَ تَفْخَرُ عَلَیْکِ؟)) فَقَالَ: ((اتَّقِ اللّٰہَ یَا حَفْصَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۱۹)
سیدنا انس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو یہ خبر ملی کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ یہ صفیہ تو ایکیہودی کی بیٹی ہے، اس سے وہ رونے لگ گئیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے اور وہ رہ رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: حفصہ نے میرے بارے میں کہا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو ایک نبی کی بیٹی ہو، تمہارا چچا بھی نبی ہے اور تم ایک نبی کی بیوی بھی ہو، سو وہ حفصہ کس بنا پر تجھ پر فخر کرتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حفصہ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔
Takhreej
(۱۱۴۶۴) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، اخرجہ الترمذی: ۳۸۹۴(انظر: ۱۲۳۹۲)
Explanation
فوائد:… باپ سے مراد ہارون علیہ السلام ، چچا سے مراد موسی علیہ السلام اور خاوند سے مراد خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے باپ کا نام حیی بن اخطب تھا، یہ بنو نضیر سے تھا، بنو نضیر لاوی بن یعقوب کی نسل سے ہیں اور پھر یہ سلسلہ ہارون بن عمران علیہ السلام تک جا پہنچتا ہے، اس طرح سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے باپ ہارون علیہ السلام قرار پائے، اور اِن کے بھائی موسی علیہ السلام تھے، پس وہ چچا قرار پائے۔
11464
Sahih