TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6730 - Chapter: How The Human Being Is Created, In His Mother's Womb, And His Provision, Lifespan And Deeds Are Written Down, And His Misery and Happiness - The book of destiny - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 19 in this chapter
Chapter: How The Human Being Is Created, In His Mother's Womb, And His Provision, Lifespan And Deeds Are Written Down, And His Misery and Happiness
ماں کے پیٹ میں انسان کی تخلیق کی کیفیت، اس کے رزق، مدت حیات، عمل اور سعادت و شقاوت کا لکھا جانا
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَرَفَعَ الْحَدِيثَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقًا قَالَ قَالَ الْمَلَكُ أَيْ رَبِّ ذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الْأَجَلُ فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ
Anas b. Malik reported directly from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he said: Allah, the Exlated and Glorious, has appointed an angel as the caretaker of the womb, and he would say: My Lord, it is now a drop of semen; my Lord, It is now a clot of blood; my Lord, it has now become a lump of flesh, and when Allah decides to give it a final shape, the angel says: My Lord, would it be male or female or would he be an evil or a good person? What about his livelihood and his age? And it is all written as he is in the womb of his mother.
عبیداللہ بن ابی بکر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے یہ حدیث مرفوعا بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر دیتا ہے ، وہ کہتا ہے : اے میرے رب! ( اب ) یہ نطفہ ہے ، اے میرے رب! ( اب ) یہ عقلہ ہے ، اے میرے رب! ( اب یہ مضغہ ہے ، پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی ( انسان کی صورت میں ) تخلیق کا فیصلہ کرتا ہے تو انہوں نے کہا : فرشتہ کہتا ہے : اے میرے رب! مرد ہو یا عورت؟ بدبخت ہو یا خوش نصیب؟ رزق کتنا ہو گا؟ مدت عمر کتنی ہو گی؟ وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اور اسی طرح ( سب کچھ ) لکھ لیا جاتا ہے ۔ "
6730
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

147
1
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “He has created man from a clot.” (V.96:2)
آیت ( ( خلق الانسان من علق ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
2
Chapter: It Is Recommended To Perform Tahnik For The Newborn When He Is Born And To Take Him To A Righteous Man To Perform Tahnik For Him; It Is Permissible To Name Him On The Day He Is Born, And It Is Recommended To Use The Names 'Abdullah, Ibrahim, And The Names Of All Other Prophets, Peace Be Upon Them
نومولود کو ولادت کے وقت گھٹنی دلوانا اوراسے گھٹی دلوانے کے لئے کسی نیک انسان کے پاس اٹھا کر لے جانا مستحب ہے،پیدائش کے دن اس کا نام رکھنا جائز ہے ،اس کانام عبداللہ،ابراہیم یا جملہ انبیائے کرام علیہ السلام کے ناموں....
Sahih Muslim
3
Chapter: 'Man Is Created In Such A Way That He Is Not Steadfast'
انسان کی پیدائش ایسی ہے کہ وہ (عموما) خود پر قابو نہیں رکھ سکتا
Sahih Muslim
4
Chapter: Lifespans, Provisions, Etc. Do Not Increase Or Decrease From What Has Already Been Decreed
عمریں اور رزق وغیرہ جو پہلے سے تقدیر میں ہیں، کم یا زیادہ نہیں ہو سکتے
Sahih Muslim
5
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Night Prayer Of The Prophet (S)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تہجد کی کیفیت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Prostrations (Of Recitation) In: When The Heaven If Split Asunder And: Read! In The Name Of Your Lord Who Has Created
باب: سورۃ اقرأ اور سورۃ الانشقاق کے سجدے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Obligation Of Hajj While One Has The Provisions And The Means Of Conveyance
باب: سفر کے خرچ اور سواری ہونے سے حج کے واجب ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About How To Perform Tawaf
باب: طواف کی کیفیت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About: No Obedience To The Created In Disobedience To The Creator
باب: خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What has been Related About Predators Speaking
باب: درندوں کے انسانوں سے گفتگو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About 'The Lifespan Of (The Individuals) In This Ummah Is Between Sixty And Seventy [Years]
باب: امت محمدیہ کی اوسط عمر ساٹھ سے ستر برس کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
12
باب: قیامت کے دن انسانی اعمال پر گواہیوں کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Have Directed My Face Towards The One Who Created The Heavens And The Earth”
باب: تہجد میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About What One Says When Bidding Farewell To A Person
باب: کسی انسان کو الوداع (رخصت کرتے) وقت کیا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
15
Chapter: Something Else: The Supplication: “May Allah Grant You Taqwa As Your Provision”
باب: مسافر کو الوداع کہتے وقت پڑھی جانے والی دعا سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
16
Chapter: “Allah Created a Hundred Mercies”
باب: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں
Jam e Tirmazi
17
بَاب خلق الْجنَّة وَالنَّار
جنت اور دوزخ کی تخلیق کا بیان
Mishkat
18
انسان کی اس حالت کی تقدیر کا بیان، جبکہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو
Musnad Ahmad
19
لکڑی سے مسواک کرنے کی کیفیت اور کلی کرتے وقت وضو کرنے والے آدمی کا اپنی انگلی سے مسواک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
20
سیدنا عثمان بن عفانؓسے مروی کیفیت
Musnad Ahmad
21
پاؤں کو دھونے کی کیفیت
Musnad Ahmad
22
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
23
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
Musnad Ahmad
24
حیض اور نفاس والی عورت کے غسل کی کیفیت
Musnad Ahmad
25
جو شخص اس حالت میں نماز پڑھے کہ ا س کے آگے کوئی انسان یا چوپایہ ہو
Musnad Ahmad
26
سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
27
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
Musnad Ahmad
28
سلام کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس کے دو مرتبہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
29
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
30
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
31
نمازِ استسقاء کی کیفیت، اس کے لیے خطبے اور اس میں جہری قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
32
امام اور لوگوں کا دعا کے دوران اپنی اپنی چادریں تبدیل کرنے اور ان کی کیفیت اور وقت کا بیان
Musnad Ahmad
33
مرد اور عورت کے کفن کی کیفیت کا بیان ، نیز وہ کتنے کپڑے ہونے چاہئیں
Musnad Ahmad
34
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے، لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
Musnad Ahmad
35
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
36
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
37
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
Musnad Ahmad
38
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
Musnad Ahmad
39
شیطانوں کے مکر، سرکشی اور لغو کو انسان سے دفع کرنے کے لیے پڑھی جانی والی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
40
قاضی کے فیصلے میں درستی اور خطا دونوں کے امکان، مجتہد قاضی کے اجر اور اس کے فیصلہ کرنے کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
41
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
42
اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
44
توبہ کی کیفیت اور اس چیز کا بیان کہ توبہ کا ارادہ کرنے والا کیا کرے
Musnad Ahmad
45
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
Musnad Ahmad
46
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
Musnad Ahmad
47
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
Musnad Ahmad
48
سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی تخلیق کا بیان
Musnad Ahmad
49
جنین کی تخلیق اور رحم میں اس کی تکوین کا بیان
Musnad Ahmad
50
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,064
Jam e Tirmazi
759
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ . وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَثَوْبَانَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ صِيَامَ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ هُوَ حَسَنٌ هُوَ مِثْلُ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ وَيُرْوَى فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ وَيُلْحَقُ هَذَا الصِّيَامُ بِرَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَارَ ابْنُ الْمُبَارَكِ أَنْ تَكُونَ سِتَّةَ أَيَّامٍ فِي أَوَّلِ الشَّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ إِنْ صَامَ سِتَّةَ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ مُتَفَرِّقًا فَهُوَ جَائِزٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَسَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا. وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ أَخُو يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ. حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْرَائِيلَ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَهُ صِيَامُ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ بِصِيَامِ هَذَا الشَّهْرِ عَنِ السَّنَةِ كُلِّهَا.
Abu Ayub narrated that : the Messenger of Allah said: Whoever fasts Ramadan, then follows it with six from Shawwal, then that is (equal in reward) to fasting everyday.
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ ( نفلی ) روزے رکھے تو یہی صوم الدھر ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوایوب رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبدالعزیز بن محمد نے اس حدیث کو بطریق: «صفوان بن سليم بن سعيد عن عمر بن ثابت عن أبي أيوب عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۳- شعبہ نے یہ حدیث بطریق: «ورقاء بن عمر عن سعد بن سعيد» روایت کی ہے، سعد بن سعید، یحییٰ بن سعید انصاری کے بھائی ہیں، ۴- بعض محدثین نے سعد بن سعید پر حافظے کے اعتبار سے کلام کیا ہے۔ ۵- حسن بصری سے روایت ہے کہ جب ان کے پاس شوال کے چھ دن کے روزوں کا ذکر کیا جاتا تو وہ کہتے: اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ اس ماہ کے روزوں سے پورے سال راضی ہے، ۶- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ثوبان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۷- ایک جماعت نے اس حدیث کی رو سے شوال کے چھ دن کے روزوں کو مستحب کہا ہے، ۸- ابن مبارک کہتے ہیں: یہ اچھا ہے، یہ ہر ماہ تین دن کے روزوں کے مثل ہیں، ۹- ابن مبارک کہتے ہیں: بعض احادیث میں مروی ہے کہ یہ روزے رمضان سے ملا دیئے جائیں، ۱۰- اور ابن مبارک نے پسند کیا ہے کہ یہ روزے مہینے کے ابتدائی چھ دنوں میں ہوں، ۱۱- ابن مبارک سے نے یہ بھی کہا: اگر کوئی شوال کے چھ دن کے روزے الگ الگ دنوں میں رکھے تو یہ بھی جائز ہے۔
Jam e Tirmazi
2427
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ،‏‏‏‏ وَقَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ يُجَاءُ بِابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ بَذَجٌ، ‏‏‏‏‏‏فَيُوقَفُ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ:‏‏‏‏ أَعْطَيْتُكَ وَخَوَّلْتُكَ وَأَنْعَمْتُ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَاذَا صَنَعْتَ ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ جَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ فَتَرَكْتُهُ أَكْثَرَ مَا كَانَ فَارْجِعْنِي آتِكَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ لَهُ:‏‏‏‏ أَرِنِي مَا قَدَّمْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ جَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ فَتَرَكْتُهُ أَكْثَرَ مَا كَانَ فَارْجِعْنِي آتِكَ بِهِ كُلِّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا عَبْدٌ لَمْ يُقَدِّمْ خَيْرًا فَيُمْضَى بِهِ إِلَى النَّارِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْحَسَنِ قَوْلَهُ وَلَمْ يُسْنِدُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، ‏‏‏‏‏‏وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ.
Anas narrated that the Prophet (s.a.w)said: The son of Adam will be brought on the Day of Judgement as if he is a goat kid to be stood before Allah, Most High. Allah will say to him: 'I gave to you, I granted you, and I bestowed favors upon you. So what did you do?' So he says: 'I collected it, increased it, and left it as more than what it was. So return me and I shall give it all to You.' So He will say to him: 'Show me what you have prepared.'So he says: 'My Lord! I collected it, increased it and left it more than it was, So return me and I shall give it all to You.' So when the servant does not present any good he will be entered into the Fire.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کو قیامت کے روز بھیڑ کے بچے کی شکل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: میں نے تجھے مال و اسباب سے نواز دے، اور تجھ پر انعام کیا اس میں تو نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا اے میرے رب! میں نے بہت سارا مال جمع کیا اور اسے بڑھایا اور دنیا میں اسے پہلے سے زیادہ ہی چھوڑ کر آیا، سو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیج! تاکہ میں ان سب کو لے آؤں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جو کچھ تو نے عمل خیر کیا ہے اسے دکھا، وہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے بہت سارا مال جمع کیا، اسے بڑھایا اور دنیا میں پہلے سے زیادہ ہی چھوڑ کر آیا، مجھے دوبارہ بھیج تاکہ میں اسے لے آؤں، یہ اس بندے کا حال ہو گا جس نے خیر اور بھلائی کی راہ میں کوئی مال خرچ نہیں کیا ہو گا، چنانچہ اسے اللہ کے حکم کے مطابق جہنم میں ڈال دیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی روایت کئی لوگوں نے حسن بصری سے کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ ان کا قول ہے، اسے مرفوع نہیں کیا، ۲- اسماعیل بن مسلم ضعیف ہیں، ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2586
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يُلْقَى عَلَى أَهْلِ النَّارِ الْجُوعُ فَيَعْدِلُ مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ فَيَسْتَغِيثُونَ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ مِنْ ضَرِيعٍ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جُوعٍ، ‏‏‏‏‏‏فَيَسْتَغِيثُونَ بِالطَّعَامِ فَيُغَاثُونَ بِطَعَامٍ ذِي غُصَّةٍ فَيَذْكُرُونَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ الْغَصَصَ فِي الدُّنْيَا بِالشَّرَابِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَسْتَغِيثُونَ بِالشَّرَابِ فَيُرْفَعُ إِلَيْهِمُ الْحَمِيمُ بِكَلَالِيبِ الْحَدِيدِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا دَنَتْ مِنْ وُجُوهِهِمْ شَوَتْ وُجُوهَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا دَخَلَتْ بُطُونَهُمْ قَطَّعَتْ مَا فِي بُطُونِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ ادْعُوا خَزَنَةَ جَهَنَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ أَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ ادْعُوا مَالِكًا فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ سورة الزخرف آية 77،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَيُجِيبُهُمْ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ سورة الزخرف آية 77 ،‏‏‏‏ قَالَ الْأَعْمَشُ:‏‏‏‏ نُبِّئْتُ أَنَّ بَيْنَ دُعَائِهِمْ وَبَيْنَ إِجَابَةِ مَالِكٍ إِيَّاهُمْ أَلْفَ عَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ ادْعُوا رَبَّكُمْ فَلَا أَحَدَ خَيْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ ‏‏‏‏ 106 ‏‏‏‏ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ ‏‏‏‏ 107 ‏‏‏‏ سورة المؤمنون آية 106-107 قَالَ:‏‏‏‏ فَيُجِيبُهُمْ اخْسَئُوا فِيهَا وَلا تُكَلِّمُونِ سورة المؤمنون آية 108 قَالَ:‏‏‏‏ فَعِنْدَ ذَلِكَ يَئِسُوا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ وَعِنْدَ ذَلِكَ يَأْخُذُونَ فِي الزَّفِيرِ وَالْحَسْرَةِ وَالْوَيْلِ ،‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالنَّاسُ لَا يَرْفَعُونَ هَذَا الْحَدِيثَ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ إِنَّمَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَوْلَهُ:‏‏‏‏ وَلَيْسَ بِمَرْفُوعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ هُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
Abu Ad-Darda' narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: The inhabitants of the Fire will suffer from a hunger equal to the punishment they experience, so they will seek relief, and be given to eat of Dari; which will neither nourish nor avail against hunger. So they will (again) seek food to relieve (their hunger), and they will be given to eat of a food that causes one to choke. Then they will remember that they used remedy for choking in the world by drinking something. So they will seek relief from drink. Then they will be given Hamim with meat hooks, so when it comes toward their faces it melts their faces, and when it enters their insides it cuts up what is inside of them. So (some of them) say: 'Call the keepers of Hell' so they say: Did there not come to you your Messengers with clear signs? They say: 'Yes!' They say: 'Then call as you like.' And the invocation of the disbelievers is nothing but in vain. He said: They will say: 'Call Malik.' So they say: O Malik! Let your Lord make an end of us!' He said: So he answers them: Verily you shall abide forever. Al-A'mash said: I was informed that there is a thousand years between their calling him, and Malik's answering them. He said: They say: 'Call your Lord, for there is none better than your Lord.' So they will say: Our Lord! Our wretchedness over came us, and we were (an) erring people. Our Lord! Bring us out of this. If we ever return (to evil), indeed we shall be wrong doers. He said: So the reply to them is: You remain in it in ignominy! And do not speak to Me. He said: So with that, they loose hope of any good, and with that they are taken to moaning, despair and severe ruin
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں پر بھوک مسلط کر دی جائے گی اور یہ عذاب کے برابر ہو جائے گی جس سے وہ دوچار ہوں گے، لہٰذا وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی «ضريع» ( خاردار پودا ) کے کھانے سے کی جائے گی جو نہ انہیں موٹا کرے گا اور نہ ان کی بھوک ختم کرے گا، پھر وہ دوبارہ کھانے کی فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی گلے میں اٹکنے والے کھانے سے کی جائے گی، پھر وہ یاد کریں گے کہ دنیا میں اٹکے ہوئے نوالے کو پانی کے ذریعہ نگلتے تھے، چنانچہ وہ پانی کی فریاد کریں گے اور ان کی فریاد رسی «حميم» ( جہنمیوں کے مواد ) سے کی جائے گی جو لوہے کے برتنوں میں دیا جائے گا جب مواد ان کے چہروں سے قریب ہو گا تو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور جب ان کے پیٹ میں جائے گا تو ان کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اسے کاٹ ڈالے گا، وہ کہیں گے: جہنم کے داروغہ کو بلاؤ، داروغہ کہیں گے: کیا تمہارے پاس رسول روشن دلائل کے ساتھ نہیں گئے تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں، داروغہ کہیں گے: پکارتے رہو، کافروں کی پکار بیکار ہی جائے گی“۔ آپ نے فرمایا: ”جہنمی کہیں گے: مالک کو بلاؤ اور کہیں گے: اے مالک! چاہیئے کہ تیرا رب ہمارا فیصلہ کر دے ( ہمیں موت دیدے ) “، آپ نے فرمایا: ”ان کو مالک جواب دے گا: تم لوگ ( ہمیشہ کے لیے ) اسی میں رہنے والے ہو“۔ اعمش کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا گیا کہ ان کی پکار اور مالک کے جواب میں ایک ہزار سال کا وقفہ ہو گا، آپ نے فرمایا: ”جہنمی کہیں گے: اپنے رب کو پکارو اس لیے کہ تمہارے رب سے بہتر کوئی نہیں ہے، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے اوپر شقاوت غالب آ گئی تھی اور ہم گمراہ لوگ تھے، اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال دے اگر ہم پھر ویسا ہی کریں گے تو ظالم ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ انہیں جواب دے گا: پھٹکار ہو تم پر اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو“، آپ نے فرمایا: ”اس وقت وہ ہر خیر سے محروم ہو جائیں گے اور اس وقت گدھے کی طرح رینکنے لگیں گے اور حسرت و ہلاکت میں گرفتار ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عبدالرحمٰن ( دارمی ) کہتے ہیں: لوگ اس حدیث کو مرفوعاً نہیں روایت کرتے ہیں، ۲- ہم اس حدیث کو صرف «عن الأعمش عن شمر بن عطية عن شهر بن حوشب عن أم الدرداء عن أبي الدرداء» کی سند سے جانتے ہیں جو ابودرداء کا اپنا قول ہے، مرفوع حدیث نہیں ہے۔
Jam e Tirmazi
2663
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَسَالِمٍ أبي النضر،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ وَغَيْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏رَفَعَهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ أَمْرٌ مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَا أَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏وَسَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَكَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ إِذَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى الِانْفِرَادِ، ‏‏‏‏‏‏بَيَّنَ حَدِيثَ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا جَمَعَهُمَا رَوَى هَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمُهُ:‏‏‏‏ أَسْلَمُ.
Narrated 'Ubaidullah bin Abu Rafi: from Abu Rafi' and others, from the Prophet (ﷺ) who said: Let me not find one of you reclining on his couch when a command I ordered, or a prohibition from me comes to him, and he says: 'I do not know. What we find in the Book of Allah, we follow it.'
ابورافع رضی الله عنہ وغیرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے ہو اور اس کے پاس میرے امر یا نہی کی قسم کا کوئی حکم پہنچے تو وہ یہ کہے کہ میں کچھ نہیں جانتا، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو چیز پائی اس کی پیروی کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض راویوں نے سفیان سے، سفیان نے ابن منکدر سے اور ابن منکدر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور بعض نے یہ حدیث سالم ابوالنضر سے، سالم نے عبیداللہ بن ابورافع سے، عبیداللہ نے اپنے والد ابورافع سے اور ابورافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ۳- ابن عیینہ جب اس حدیث کو علیحدہ بیان کرتے تھے تو محمد بن منکدر کی حدیث کو سالم بن نضر کی حدیث سے جدا جدا بیان کرتے تھے اور جب دونوں حدیثوں کو جمع کر دیتے تو اسی طرح روایت کرتے ( جیسا کہ اس حدیث میں ہے ) ۔ ۴- ابورافع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ان کا نام اسلم ہے۔
Jam e Tirmazi
2954
أَخْبَرَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْقَوْمُ:‏‏‏‏ هَذَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجِئْتُ بِغَيْرِ أَمَانٍ وَلَا كِتَابٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا دُفِعْتُ إِلَيْهِ أَخَذَ بِيَدِي وَقَدْ كَانَ قَالَ قَبْلَ ذَلِكَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ يَدَهُ فِي يَدِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَامَ بِي فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ وَصَبِيٌّ مَعَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَا:‏‏‏‏ إِنَّ لَنَا إِلَيْكَ حَاجَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ مَعَهُمَا حَتَّى قَضَى حَاجَتَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي حَتَّى أَتَى بِي دَارَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَلْقَتْ لَهُ الْوَلِيدَةُ وِسَادَةً فَجَلَسَ عَلَيْهَا وَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ مَا يُفِرُّكَ أَنْ تَقُولَ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَهَلْ تَعْلَمُ مِنْ إِلَهٍ سِوَى اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ تَكَلَّمَ سَاعَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا تَفِرُّ أَنْ تَقُولَ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ وَتَعْلَمُ أَنَّ شَيْئًا أَكْبَرُ مِنَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ الْيَهُودَ مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ وَإِنَّ النَّصَارَى ضُلَّالٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ فَإِنِّي جِئْتُ مُسْلِمًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ تَبَسَّطَ فَرَحًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ أَمَرَ بِي فَأُنْزِلْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ جَعَلْتُ أَغْشَاهُ آتِيهِ طَرَفَيِ النَّهَارِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ عَشِيَّةً إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ فِي ثِيَابٍ مِنَ الصُّوفِ مِنْ هَذِهِ النِّمَارِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَصَلَّى، ‏‏‏‏‏‏وَقَامَ فَحَثَّ عَلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَلَوْ صَاعٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ بِنِصْفِ صَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ بِقَبْضَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ بِبَعْضِ قَبْضَةٍ يَقِي أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ حَرَّ جَهَنَّمَ أَوِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ بِتَمْرَةٍ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَاقِي اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَائِلٌ لَهُ مَا أَقُولُ لَكُمْ:‏‏‏‏ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ سَمْعًا وَبَصَرًا ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَيْنَ مَا قَدَّمْتَ لِنَفْسِكَ ؟ فَيَنْظُرُ قُدَّامَهُ وَبَعْدَهُ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ لَا يَجِدُ شَيْئًا يَقِي بِهِ وَجْهَهُ حَرَّ جَهَنَّمَ، ‏‏‏‏‏‏لِيَقِ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي لَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الْفَاقَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ اللَّهَ نَاصِرُكُمْ وَمُعْطِيكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ فِيمَا بَيْنَ يَثْرِبَ وَالْحِيرَةِ أَوْ أَكْثَرَ مَا تَخَافُ عَلَى مَطِيَّتِهَا السَّرَقَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَعَلْتُ أَقُولُ فِي نَفْسِي فَأَيْنَ لُصُوصُ طَيِّئٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبَّادِ بْنِ حُبَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
Narrated 'Adiyy bin Hatim: that the Prophet (ﷺ) said: The Jews are those who Allah is wrath with, and the Christians have strayed.
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے، لوگوں نے کہا: یہ عدی بن حاتم ہیں، میں آپ کے پاس بغیر کسی امان اور بغیر کسی تحریر کے آیا تھا، جب مجھے آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ آپ اس سے پہلے فرما چکے تھے کہ ”مجھے امید ہے کہ اللہ ان کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے گا“ ۱؎۔ عدی کہتے ہیں: آپ مجھے لے کر کھڑے ہوئے، اسی اثناء میں ایک عورت ایک بچے کے ساتھ آپ سے ملنے آ گئی، ان دونوں نے عرض کیا: ہمیں آپ سے ایک ضرورت ہے۔ آپ ان دونوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ان کی ضرورت پوری فرما دی۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے لیے اپنے گھر آ گئے۔ ایک بچی نے آپ کے لیے ایک گدا بچھا دیا، جس پر آپ بیٹھ گئے اور میں بھی آپ کے سامنے بیٹھ گیا، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ” ( بتاؤ ) تمہیں «لا إلہ إلا اللہ» کہنے سے کیا چیز روک رہی ہے؟ کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو معبود سمجھتے ہو؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ نے کچھ دیر باتیں کیں، پھر فرمایا: ”اللہ اکبر کہنے سے بھاگ رہے ہو؟“ کیا تم سمجھتے ہو کہ اللہ سے بھی بڑی کوئی چیز ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”یہود پر اللہ کا غضب نازل ہو چکا ہے اور نصاریٰ گمراہ ہیں“، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: میں تو مسلمان ہونے کا ارادہ کر کے آیا ہوں۔ وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا، پھر آپ نے میرے لیے حکم فرمایا: تو میں ایک انصاری صحابی کے یہاں ( بطور مہمان ) ٹھہرا دیا گیا، پھر میں دن کے دونوں کناروں پر یعنی صبح و شام آپ کے پاس حاضر ہونے لگا۔ ایک شام میں آپ کے پاس بیٹھا ہی ہوا تھا کہ لوگ چیتے کی سی دھاری دار گرم کپڑے پہنے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوئے ( ان کے آنے کے بعد ) آپ نے نماز پڑھی، پھر آپ نے کھڑے ہو کر تقریر فرمائی اور لوگوں کو ان پر خرچ کرنے کے لیے ابھارا۔ آپ نے فرمایا: ” ( صدقہ ) دو اگرچہ ایک صاع ہو، اگرچہ آدھا صاع ہو، اگرچہ ایک مٹھی ہو، اگرچہ ایک مٹھی سے بھی کم ہو جس کے ذریعہ سے تم میں کا کوئی بھی اپنے آپ کو جہنم کی گرمی یا جہنم سے بچا سکتا ہے۔ ( تم صدقہ دو ) چاہے ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو؟ چاہے آدھی کھجور ہی کیوں نہ ہو؟ کیونکہ تم میں سے ہر کوئی اللہ کے پاس پہنچنے والا ہے، اللہ اس سے وہی بات کہنے والا ہے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، ( وہ پوچھے گا ) کیا ہم نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں نہیں بنائیں؟ وہ کہے گا: ہاں، کیوں نہیں! اللہ پھر کہے گا: کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد نہ دی؟، وہ کہے گا: کیوں نہیں تو نے ہمیں مال و اولاد سے نوازا۔ وہ پھر کہے گا وہ سب کچھ کہاں ہے جو تم نے اپنی ذات کی حفاظت کے لیے آگے بھیجا ہے؟ ( یہ سن کر ) وہ اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں بائیں ( چاروں طرف ) دیکھے گا، لیکن ایسی کوئی چیز نہ پائے گا جس کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی گرمی سے بچا سکے۔ اس لیے تم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ کو جہنم کی گرمی سے بچانے کی کوشش و تدبیر کرنی چاہیئے ایک کھجور ہی صدقہ کر کے کیوں نہ کرے۔ اور اگر یہ بھی نہ میسر ہو تو اچھی و بھلی بات کہہ کر ہی اپنے کو جہنم کی گرمی سے بچائے۔ مجھے اس کا خوف نہیں ہے کہ تم فقر و فاقہ کا شکار ہو جاؤ گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے، اور تمہیں دینے والا ہے ( اتنا دینے والا ہے ) کہ ایک ہودج سوار عورت ( تنہا ) یثرب ( مدینہ ) سے حیرہ تک یا اس سے بھی لمبا سفر کرے گی اور اسے اپنی سواری کے چوری ہو جانے تک کا ڈر نہ ہو گا ۲؎“ عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں: ( اس وقت ) میں سوچنے لگا کہ قبیلہ بنی طی کے چور کہاں چلے جائیں گے ۳؎؟ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف سماک بن حرب کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۳- شعبہ نے سماک بن حرب سے، سماک نے، عباد بن حبیش سے، اور عباد بن حبیش نے عدی بن حاتم رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوری حدیث روایت کی ہے۔
Jam e Tirmazi
3148
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاهُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَفْزَعُ النَّاسُ ثَلَاثَ فَزَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتُونَ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ أَنْتَ أَبُونَا آدَمُ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أُهْبِطْتُ مِنْهُ إِلَى الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتُونَ نُوحًا، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي دَعَوْتُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ دَعْوَةً فَأُهْلِكُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي كَذَبْتُ ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْهَا كَذِبَةٌ إِلَّا مَا حَلَّ بِهَا عَنْ دِينِ اللَّهِ وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتُونَ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ:‏‏‏‏ إِنِّي عُبِدْتُ مِنْ دُونِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَأْتُونَنِي فَأَنْطَلِقُ مَعَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ جُدْعَانَ:‏‏‏‏ قَالَ أَنَسٌ:‏‏‏‏ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ فَآخُذُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ فَأُقَعْقِعُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيُقَالُ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا ؟ فَيُقَالُ:‏‏‏‏ مُحَمَّدٌ فَيَفْتَحُونَ لِي وَيُرَحِّبُونَ بِي، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ مَرْحَبًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَخِرُّ سَاجِدًا فَيُلْهِمُنِي اللَّهُ مِنَ الثَّنَاءِ وَالْحَمْدِ، ‏‏‏‏‏‏فَيُقَالُ لِي:‏‏‏‏ ارْفَعْ رَأْسَكَ سَلْ تُعْطَ، ‏‏‏‏‏‏وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَقُلْ يُسْمَعْ لِقَوْلِكَ وَهُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ:‏‏‏‏ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا سورة الإسراء آية 79 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ لَيْسَ عَنْ أَنَسٍ إِلَّا هَذِهِ الْكَلِمَةُ فَآخُذُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ فَأُقَعْقِعُهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ..
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: I am the chief of the children of Adam on the Day of Judgement and I am not boasting, and in my hand is the banner of praise and I am not boasting, and there has been no Prophet since Adam or other than him, except that he is under my banner. And I am the first for whom the earth will split open, and I am not boasting. He said: The people will be frightened by three frights. So they will come to Adam saying: 'You are our father Adam, so intercede for us with your Lord.' So he says: 'I committed a sin for which I was expelled to the earth, so go to Nuh.' So they will come to Nuh and he will say: 'I supplicated against the people of the earth, so they were destroyed. So go to Ibrahim.' So they will go to Ibrahim, and he says: 'I lied three times.' Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: He did not lie except defending Allah's religion. So go to Musa.' So they will come to Musa, and he will say: 'I took a life. So go to 'Eisa. So they go to 'Eisa and he says: 'I was worshiped besides Allah. So go to Muhammad (ﷺ).' He said: So they will come to me, and I will go to them. (One of the narrators) Ibn Ju'dan said: Anas said: 'It is as if I am looking at the Messenger of Allah (ﷺ), and he is saying: So I will take hold of a ring of a gate of Paradise to rattle it, and it will be said: 'Who is there?' It will be said: 'Muhammad.' They will open it for me, and welcome me saying, 'Welcome.' I will fall prostrate and Allah will inspire me with statements of gratitude and praise and it will be said to me: 'Raise your head, ask and you shall be given, intercede, and your intercession shall be accepted, speak, and your saying shall be heard.' And that is Al-Maqam Al-Mahmud about which Allah said: It may be that your Lord will raise you to Maqaman-Mahmud (17:79). Sufyan said: None of it is from Anas except this sentence: 'I will take hold of a ring of a gate of Paradise to rattle it.'
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن میں سارے انسانوں کا سردار ہوں گا، اور اس پر مجھے کوئی گھمنڈ نہیں ہے، میرے ہاتھ میں حمد ( و شکر ) کا پرچم ہو گا اور مجھے ( اس اعزاز پر ) کوئی گھمنڈ نہیں ہے۔ اس دن آدم اور آدم کے علاوہ جتنے بھی نبی ہیں سب کے سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے، میں پہلا شخص ہوں گا جس کے لیے زمین پھٹے گی ( اور میں برآمد ہوں گا ) اور مجھے اس پر بھی کوئی گھمنڈ نہیں ہے“، آپ نے فرمایا: ” ( قیامت میں ) لوگوں پر تین مرتبہ سخت گھبراہٹ طاری ہو گی، لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپ ہمارے باپ ہیں، آپ اپنے رب سے ہماری شفاعت ( سفارش ) کر دیجئیے، وہ کہیں گے: مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو چکا ہے جس کی وجہ سے میں زمین پر بھیج دیا گیا تھا، تم لوگ نوح کے پاس جاؤ، وہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، مگر نوح علیہ السلام کہیں گے: میں زمین والوں کے خلاف بد دعا کر چکا ہوں جس کے نتیجہ میں وہ ہلاک کیے جا چکے ہیں، لیکن ایسا کرو، تم لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، ابراہیم علیہ السلام کہیں گے: میں تین جھوٹ بول چکا ہوں“، آپ نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی جھوٹ جھوٹ نہیں تھا، بلکہ اس سے اللہ کے دین کی حمایت و تائید مقصود تھی، البتہ تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، تو وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، موسیٰ علیہ السلام کہیں گے: میں ایک قتل کر چکا ہوں، لیکن تم عیسیی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ تو وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے: اللہ کے سوا مجھے معبود بنا لیا گیا تھا، تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ“، آپ نے فرمایا: ”لوگ میرے پاس ( سفارش کرانے کی غرض سے ) آئیں گے، میں ان کے ساتھ ( دربار الٰہی کی طرف ) جاؤں گا“، ابن جدعان ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: انس نے کہا: مجھے ایسا لگ رہا ہے تو ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ نے فرمایا: ”میں جنت کے دروازے کا حلقہ ( زنجیر ) پکڑ کر اسے ہلاؤں گا، پوچھا جائے گا: کون ہے؟ کہا جائے گا: محمد ہیں، وہ لوگ میرے لیے دروازہ کھول دیں گے، اور مجھے خوش آمدید کہیں گے، میں ( اندر پہنچ کر اللہ کے حضور ) سجدے میں گر جاؤں گا اور حمد و ثنا کے جو الفاظ اور کلمے اللہ میرے دل میں ڈالے گا وہ میں سجدے میں ادا کروں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھائیے، مانگیے ( جو کچھ مانگنا ہو ) آپ کو دیا جائے گا۔ ( کسی کی سفارش کرنی ہو تو ) سفارش کیجئے آپ کی شفاعت ( سفارش ) قبول کی جائے گی، کہئے آپ کی بات سنی جائے گی۔ اور وہ جگہ ( جہاں یہ باتیں ہوں گی ) مقام محمود ہو گا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» ”توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود میں بھیجے“ ( بنی اسرائیل: ۷۹ ) ۔ سفیان ثوری کہتے ہیں: انس کی روایت میں اس کلمے «فآخذ بحلقة باب الجنة فأقعقعها» کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض محدثین نے یہ پوری حدیث ابونضرہ کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کی ہے۔
Jam e Tirmazi
3198
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ابْنُ أَبْجَرَ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ‏‏‏‏‏‏يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام سَأَلَ رَبَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ رَبِّ، ‏‏‏‏‏‏أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَدْنَى مَنْزِلَةً ؟ قَالَ:‏‏‏‏ رَجُلٌ يَأْتِي بَعْدَمَا يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَيُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ ادْخُلِ الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ كَيْفَ أَدْخُلُ وَقَدْ نَزَلُوا مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَيُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مَا كَانَ لِمَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏أَيْ رَبِّ قَدْ رَضِيتُ، ‏‏‏‏‏‏فَيُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ فَإِنَّ لَكَ هَذَا وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ رَضِيتُ أَيْ رَبِّ، ‏‏‏‏‏‏فَيُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ فَإِنَّ لَكَ هَذَا وَعَشْرَةَ أَمْثَالِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ رَضِيتُ أَيْ رَبِّ، ‏‏‏‏‏‏فَيُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ فَإِنَّ لَكَ مَعَ هَذَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْمُغِيرَةِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَرْفُوعُ أَصَحُّ.
Narrated Ash-Sha'bi: While he was on the Minbar, I heard Al-Mughirah bin Shu'bah saying - and he attributed it to the Prophet (ﷺ) - 'Indeed Musa [peace be upon him] asked his Lord: O Lord! Who is the lowest in rank among the people of Paradise? He said: A man who comes after the people of Paradise have been admitted to Paradise, and he is told to enter. He says: 'How can I enter when they have gotten all of their abodes, and all that is to be had?' He said: So it is said to him: 'Would you accept if you were to have what a king in the world?' He says: 'Yes, O Lord! I accept.' So it is said to him: 'Then for you is this and its like, and its like again, and its like again.' So he says: 'I accept, O Lord!' So it is said to him: 'Then for you is this and ten the like thereof.' So he says: 'I accept, O Lord!' So it is said: 'Indeed you shall have this, and whatever your soul desires, and whatever delights your eyes.'
شعبی کہتے ہیں میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کو منبر پر کھڑے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے پوچھتے ہوئے کہا: اے میرے رب! کون سا جنتی سب سے کمتر درجے کا ہو گا؟ اللہ فرمائے گا: جنتیوں کے جنت میں داخل ہو جانے کے بعد ایک شخص آئے گا، اس سے کہا جائے گا: تو بھی جنت میں داخل ہو جا، وہ کہے گا: میں کیسے داخل ہو جاؤں جب کہ لوگ ( پہلے پہنچ کر ) اپنے اپنے گھروں میں آباد ہو چکے ہیں اور اپنی اپنی چیزیں لے لی ہیں“، آپ نے فرمایا: ”اس سے کہا جائے گا: دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے پاس جتنا کچھ ہوتا ہے اتنا تمہیں دے دیا جائے، تو کیا تم اس سے راضی و خوش ہو گے؟ وہ کہے گا: ہاں، اے میرے رب! میں راضی ہوں، اس سے کہا جائے گا: تو جا تیرے لیے یہ ہے اور اتنا اور اتنا اور اتنا اور، وہ کہے گا: میرے رب! میں راضی ہوں، اس سے پھر کہا جائے گا جاؤ تمہارے لیے یہ سب کچھ اور اس سے دس گنا اور بھی وہ کہے گا، میرے رب! بس میں راضی ہو گیا، تو اس سے کہا جائے گا: اس ( ساری بخشش و عطایا ) کے باوجود تمہارا جی اور نفس جو کچھ چاہے اور جس چیز سے بھی تمہیں لذت ملے وہ سب تمہارے لیے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ان میں سے بعض ( محدثین ) نے اس حدیث کو شعبی سے اور انہوں نے مغیرہ سے روایت کیا ہے۔ اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، لیکن ( حقیقت یہ ہے کہ ) مرفوع روایت زیادہ صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3331
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعيدٍ الْأَمَوِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا مَا عَرَضْنَا عَلَى هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ أُنْزِلَ عَبَسَ وَتَوَلَّى فِي ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، ‏‏‏‏‏‏أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقُولُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْشِدْنِي، ‏‏‏‏‏‏وَعِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرِضُ عَنْهُ وَيُقْبِلُ عَلَى الْآخَرِ وَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَتَرَى بِمَا أَقُولُ بَأْسًا، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏فَفِي هَذَا أُنْزِلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُنْزِلَ عَبَسَ وَتَوَلَّى فِي ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ.
Aishah narrated: “He frowned and turned away” was revealed about Ibn Umm Maktum the blind man. He came to the Messenger of Allah saying: ‘O Messenger of Allah! Guide me.’ At that time, there was a revered man from the idolaters with the Messenger of Allah. So the Messenger of Allah turned away from him and faced the other man, saying: ‘Do you think that there is something wrong with what I am saying?’ He said: ‘No.’ So it was about that that it was revealed.”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ «عبس وتولى» والی سورۃ ( عبداللہ ) ابن ام مکتوم نابینا کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آ کر کہنے لگے: اللہ کے رسول! مجھے وعظ و نصیحت فرمائیے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکین کے اکابرین میں سے کوئی بڑا شخص موجود تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اعراض کرنے لگے اور دوسرے ( مشرک ) کی طرف توجہ فرماتے رہے اور اس سے کہتے رہے میں جو تمہیں کہہ رہا ہوں اس میں تم کچھ حرج اور نقصان پا رہے ہو؟ وہ کہتا نہیں، اسی سلسلے میں یہ آیتیں نازل کی گئیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ عروہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں «عبس وتولى» ابن ام مکتوم کے حق میں اتری ہے اور اس کی سند میں عائشہ رضی الله عنہا کا ذکر نہیں کیا۔
Jam e Tirmazi
3410
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خَلَّتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ أَلَا وَهُمَا يَسِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ:‏‏‏‏ يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ تُسَبِّحُهُ وَتُكَبِّرُهُ وَتَحْمَدُهُ مِائَةً، ‏‏‏‏‏‏فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَكَيْفَ لَا يُحْصِيهَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا حَتَّى يَنْفَتِلَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَعَلَّهُ لَا أَنْ يَفْعَلُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَأْتِيهِ وَهُوَ فِي مَضْجَعِهِ فَلَا يَزَالُ يُنَوِّمُهُ حَتَّى يَنَامَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَالثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى الْأَعْمَشُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ مُخْتَصَرًا، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
Abdullah bin `Amr [may Allah be pleased with both of them] said: “The Messenger of Allah said: ‘There are two characteristics over which a Muslim man does not guard, except that he enters Paradise. And indeed, they are easy, and those who act upon them are few: He glorifies Allah at the end of every prayer ten times (saying Subḥān Allāh) and praises Him ten times saying (Al-Ḥamdulillāh) and extols His greatness ten times (saying Allāhu Akbar).’”He said: “And I have seen the Messenger of Allah counting them with his hand. He said: ‘So this is one hundred and fifty with the tongue, and one thousand and five hundred on the Scale. When you go to bed, you glorify Him, extol His greatness, and praise Him a hundred times, so this is one hundred with the tongue and one thousand on the Scale. Which of you perform two thousand and five hundred evil deeds in a single day and night?’ They said: ‘How could we not guard over them?’ He said: ‘Shaitan comes to one of you when he is in his Salat and says: “Remember such and such, remember such and such” until he turns perhaps he will not do it. And he comes to him and he is lying down and makes him sleepy until he falls asleep.’”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو عادتیں ایسی ہیں جنہیں جو بھی مسلمان پابندی اور پختگی سے اپنائے رہے گا وہ جنت میں جائے گا، دھیان سے سن لو، دونوں آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں، ہر نماز کے بعد دس بار اللہ کی تسبیح کرے ( سبحان اللہ کہے ) دس بار حمد بیان کرے ( الحمدللہ کہے ) اور دس بار اللہ کی بڑائی بیان کرے ( اللہ اکبر کہے ) ۔ عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں اپنی انگلیوں پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ نے فرمایا: ”یہ تو زبان سے گننے میں ڈیڑھ سو ۱؎ ہوئے لیکن یہ ( دس گنا بڑھ کر ) میزان میں ڈیڑھ ہزار ہو جائیں گے۔ ( یہ ایک خصلت و عادت ہوئی ) اور ( دوسری خصلت و عادت یہ ہے کہ ) جب تم بستر پر سونے جاؤ تو سو بار سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمدللہ کہو، یہ زبان سے کہنے میں تو سو ہیں لیکن میزان میں ہزار ہیں، ( اب بتاؤ ) کون ہے تم میں جو دن و رات ڈھائی ہزار گناہ کرتا ہو؟ لوگوں نے کہا: ہم اسے ہمیشہ اور پابندی کے ساتھ کیوں نہیں کر سکیں گے؟ آپ نے فرمایا: ” ( اس وجہ سے ) کہ تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: فلاں بات کو یاد کرو، فلاں چیز کو سوچ لو، یہاں تک کہ وہ اس کی توجہ اصل کام سے ہٹا دیتا ہے، تاکہ وہ اسے نہ کر سکے، ایسے ہی آدمی اپنے بستر پر ہوتا ہے اور شیطان آ کر اسے ( تھپکیاں دیدے کر ) سلاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ( بغیر تسبیحات پڑھے ) سو جاتا ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ اور ثوری نے یہ حدیث عطاء بن سائب سے روایت کی ہے۔ اور اعمش نے یہ حدیث عطاء بن سائب سے اختصار کے ساتھ روایت کی ہے، ۳- اس باب میں زید بن ثابت، انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔