TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان - مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان - مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 12 · 7 Hadith
۔ (۹۳۶۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: دَخَلَتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُوْعَکُ، فَسَمِعْتُہُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، اِنَّکَ لَتُوْعَکُ وَعْکًا شَدِیْدًا؟ قَالَ: ((اَجَلْ اِنِّیْ اُوَعَکُ کَمَا یُوْعَکُ رَجْلَانِ مِنْکُمْ،۔)) قُلْتُ: اِنَّ لَکَ اَجْرَیْنِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِھِ، مَا عَلَی الْاَرْضِ مُسْلِمٌ یُصِیْبُہُ اَذًی، مِنْ مَرْضٍ فَمَا سِوَاہُ، اِلَّا حَطَّ اللّٰہُ عَنْہُ بِہٖخَطَایَاہُ، کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرُ وَرَقَھَا۔)) (مسند احمد: ۳۶۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بخار تھا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک آپ کو بہت سخت بخار ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: جی، بیشک مجھے اتنا بخار ہوتا ہے، جتنا تم میں سے دو افراد کو ہوتا ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ کے لیے اجر بھی دو گنا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میرے جان ہے! روئے زمین پر رہنے والے جس مسلمان کو جو تکلیف لاحق ہوتی ہے، وہ بیماری ہو یا کوئی اور تکلیف، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو یوں مٹاتا ہے، جیسے درخت اپنے پتوں کو گرا دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۶۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۴۷، ۵۶۴۸، ومسلم: ۲۵۷۱(انظر: ۳۶۱۸)
9366
Sahih
۔ (۹۳۶۷)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ جَدِّہِ اَسَدِ بْنِ کُرْزٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْمَرِیْضُ تَحَاتُّ خَطَایَاہُ کَمَا یَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۷۱)
۔ سیدنا اسد بن کرز ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مریض کی خطائیں اس طرح گرتی ہیں، جیسے درخت کے پتے گرتے ہیں۔
Takhreej
(۹۳۶۷) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۰۰۲(انظر: ۱۶۶۵۴)
9367
Sahih
۔ (۹۳۶۸)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ شَیْئٍیُصِیْبُ الْمُؤْمِنَ فِیْ جَسَدِہِ یُؤْذِیْہِ اِلاَّ کَفَّرَ اللّٰہُ بِہٖمِنْسَیِّاٰتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۲۳)
۔ سیدہ معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چیز مؤمن کے جسم کو تکلیف پہنچاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۶۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲۳۰، والحاکم: ۱/ ۳۴۷، والطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۸۴۲ (انظر: ۱۶۸۹۹)
9368
Sahih
۔ (۹۳۶۹)۔ عَنْ اَبِی الْاَشْعَثِ الصَّنْعَانِیْ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اِنَّہُ رَاحَ اِلٰی مَسْجِدِ دِمَشْقَ وَھَجَّرَ بِالرَّوَاحِ، فَلَقِیَ شَدَّادَ بْنَ اَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَالصُّنَابِحِیُّ مَعَہُ، فَقُلْتُ: اَیْنَ تُرِیْدَانِیَرْحَمُکُمَااللّٰہُ؟ قَالا: نُرِیْدُ ھَاھُنَا اِلٰی اَخٍ لَّنَا مَرِیْضٍ نَعُوْدُہُ، فَانْطَلَقْتُ مَعَھُمَا حَتّٰی دَخَلا عَلٰی ذٰلِکَ الرَّجُلِ فَقَالا لَہُ: کَیْفَ اَصْبَحْتَ؟ قَالَ: اَصْبَحْتُ بِنِعْمَۃٍ، فَقَالَ لَہُ شَدَّادُ: اَبْشِرْ بِکَفَّارَاتِ السَّیِّئَاتِ وَحَطِّ الْخَطَایَا، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: اِذَا ابْتَلَیْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِیْ مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِیْ عَلٰی مَا ابْتَلَیْتُہُ فَاِنَّہُ یَقُوْمُ مِنْ مَّضْجَعِہِ ذٰلِکَ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ اُمُّہُ مِنَ الْخَطَایَا وَیَقُوْلُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ: اَنَا قَیَّدْتُّ عَبْدِیْ وَابْتَلَیْتُہُ وَاَجْرُوْا لَہُ کَمَا کُنْتُمْ تُجْرُوْنَ لَہُ وَھُوَ صَحِیْحٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۴۸)
۔ ابو اشعث صنعانی کہتے ہیں: میں پہلے وقت میںیا دوپہر کے وقت مسجد ِ دمشق کی طرف جا رہا تھا، سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہو گئی، جبکہ سیدنا صنابحی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے ساتھ تھے، میں نے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہم اِدھر ایک بیماربھائی کی تیمار داری کرنے کے لیے جا رہے ہیں، پس میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، یہاں تک کہ وہ اس بھائی کے پاس پہنچ گئے اور کہا: آپ نے کیسے صبح کی ہے؟ اس نے کہا: جی نعمت کے ساتھ صبح کی ہے، پھر سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: برائیوں کے معاف ہونے اور گناہوں کے مٹ جانے کے ساتھ خوش ہو جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب میں اپنے کسی مؤمن بندے کو آزماتا ہوں اور وہ میری اس آزمائش پر تعریف کرتا ہے تو وہ اس دن کی طرح خطاؤں سے پاک ہو کر اپنے بستر سے کھڑا ہوتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا، پھر اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہیں: میں نے اپنے بندے کو مقید کر دیا ہے اور اس کو آزمایا ہے، لہٰذا فرشتو! تم اس کے وہ سارے اعمال لکھتے رہو، جو تم اس وقت لکھتے تھے، جب وہ صحت مند تھا۔
Takhreej
(۹۳۶۹) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۱۳۶(انظر: ۱۷۱۱۸)
Explanation
فوائد:… مسلمان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی عافیت کا سوال کرنا چاہیے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی آزمائش آ پڑے تو خندہ پیشانی کے ساتھ اس کو برداشت کرنا چاہیے، صبر کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کی تعریف کرنی چاہیے۔
9369
Sahih
۔ (۹۳۷۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: مَارَاَیْتُ الْوَجْعَ عَلٰی اَحَدٍ اَشَّدَ مِنْہُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۱۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ہی سب سے سخت تکلیف کو دیکھا ہے ۔
Takhreej
(۹۳۷۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۴۶، ومسلم: ۲۵۷۰ (انظر: ۲۵۳۹۸)
9370
Sahih
۔ (۹۳۷۱)۔ عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ خَاِلدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، وَکَانَ لِجَدِّہِ صُحْبَۃٌ، اِنَّہُ خَرَجَ زَائِرًا لِرَجُلٍ مِّنْ اِخْوَانِہِ، فَبَلَغَہُ بِشَکَائِہِ قَالَ: فَدَخَلَ عَلَیْہِ فَقَالَ: اَتَیْتُکَ زَائِرًا، عَائِدًا، وَمُبَشِّرًا، قَالَ: کَیْفَ جَمَعْتَ ھٰذَا کُلَّہُ؟ قَالَ: خَرَجْتُ وَاَنَا اُرِیْدُ زِیَارَتَکَ، فَبَلَغَنِیْ شَکَاتُکَ، فَکَانَتْ عِیَاَدَۃً، وَاُبَشِّرُکَ بِشَیْئٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا سَبَقَتْ لِلْعَبْدِ مِنَ اللّٰہِ مَنْزِلَۃٌ لَمْ یَبْلُغْھَابِعَمَلِہِ اِبْتَلاہُ اللّٰہُ فِیْ جَسَدِہِ، اَوْ فِیْ مَالِہِ، اَوْ فِیْ وَلَدِہِ ثُمَّ صَبَّرَہُ،حَتّٰییُبْلِغَہُ الْمَنْزِلَۃَ الَّتِیْ سَبَقَتْ لَہْ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۴)
۔ محمد بن خالد اپنے دادا، جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: وہ اپنے ایک بھائی کی زیارت کے لیے نکلے، پھر ان کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ وہ بیمار بھی ہے، پس وہ اس کے پاس گے اور کہا: میں تمہاری زیارت کرنے، تیمار داری کرنے اور تمہیں خوشخبری سنانے کے لیے آیا ہوں، انھوں نے کہا: یہ ساری چیزیں کیسے جمع کر دیں؟ میں نے کہا: میں تمہاری زیارت کے لیے نکلا تھا، پھر مجھے تمہاری بیماری کی خبر بھی مل گئی، اس طرح یہ آنا تیمار داری کا سبب بھی بن گیا اور میں تمہیں اس حدیث کے ذریعے خوشخبری سناتا ہوں، جو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسی منزلت اور درجے کا فیصلہ ہو جاتا ہے، جس تک بندہ اپنے عمل کی بنا پر نہیں پہنچ سکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے جسم یا مال یا اولاد کے ذریعے آزمانا شروع کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کو صبر کی توفیق بھی دیتا ہے، یہاں تک اس کو اس مقام تک پہنچا دیتا ہے، جس کا اس کے ہاں فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۷۱) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۳۰۹۰ (انظر: ۲۲۳۳۸)
9371
Sahih
۔ (۹۳۷۲)۔ حَدَّثَنَا یَحْيٰ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اِسْحٰقَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ زَیْنَبُ ابْنَۃُ کَعْبِ بْنِ عُجَرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَرَاَیْتَ ھٰذِہِ الْاَمْرَاضَ الَّتِیْ تُصِیْبُنَا مَالَنَا بِھَا؟ قَالَ: ((کَفَّارَاتٌ۔)) قَالَ اَبِیْ: وَاِنْ قَلَّتْ؟ قَالَ: ((وَاِنْ شَوْکَۃً فَمَا فَوْقَھَا۔)) قَالَ: فَدَعَا اَبِیْ عَلٰی نَفْسِہِ اَنْ لَّا یُفَارِقَہُ الْوَعْکُ حَتّٰییَمُوْتَ فِیْ اَنْ لَّا یَشْغَلَہُ عَنْ حَجٍّ، وَلَا عُمْرَۃٍ، وَلا جِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّّٰہِ، وَلَا صَلاَۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ فِیْ جَمَاعَۃٍ، فَمَا مَسَّہُ اِنْسَانٌ اِلَّا وَجَدَ حَرَّہُ حَتّٰی مَاتَ۔(مسند احمد: ۱۱۲۰۱)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: جو بیماریاں ہمیں لاحق ہوتی ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ گناہوں کا کفارہ بننے والی ہیں۔ میرے باپ نے کہا:اگرچہ وہ بیماری معمولی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: اگرچہ وہ کانٹا ہو یا اس سے بڑی کوئی چیز۔ یہ سن کر میرے باپ نے اپنے حق میں یہ بد دعا کر دی کہ اس کی موت تک بخار اس سے جدا نہ ہو، لیکن وہ بخار اس کو حج، عمرے، جہاد فی سبیل اللہ اور باجماعت فرضی نماز سے مشغول نہ کر دے، پس اس کے بعد جس انسان نے میرے باپ کو چھوا، بخار کی حرارت پائی،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔
Takhreej
(۹۳۷۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابویعلی: ۹۹۵، والحاکم: ۴/ ۳۰۸،والنسائی فی الکبری : ۷۴۸۹ (انظر: ۱۱۱۸۳)
9372
Sahih

Chapters

12
01
اس چیز کا بیان کہ انبیاء سب سے زیادہ آزمائش والے ہوتے اور پھر دوسرے نیکوکار
14 Hadith
02
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
03
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
04
بخار اور درد سر پر صبر کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
05
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب کرنے اور اس کے ثواب کا بیان
2 Hadith
06
آنکھوں سے محروم ہو جانے پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
6 Hadith
07
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے، اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے
4 Hadith
08
جس کو دنیا میں آزمایا نہیں گیا، اس کے غیر مقبول ہونے کا بیان
2 Hadith
09
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
26 Hadith
10
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
2 Hadith
11
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
1 Hadith
12
مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.