TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے، اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے - اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے، اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے - مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 12 · 4 Hadith
۔ (۹۳۸۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا اَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یُصَابُ بِبَلائٍ فِیْ جَسَدِہِ، اِلاَّ اَمَرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْمَلائِکَۃَ الَّذِیْنَیَحْفَظُوْنَہُ، فَقَالَ: اکْتُبُوْا لِعَبْدِیْ کُلَّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ مَا کَانَ یَعْمَلُ مِنْ خَیْرٍ، مَا کَانَ فِیْ وِثَاقِیْ۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کو اس کے جسم میں کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نگرانی کرنے والے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرا بندہ دن رات میں جو نیک عمل کرتا تھا، تم اس وقت تک وہی عمل لکھتے رہو، جب تک یہ میری قید میں ہے۔
Takhreej
(۹۳۸۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الدارمی: ۲/ ۳۱۶، والحاکم: ۱/ ۳۴۸، وابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲۳۰ (انظر: ۶۴۸۲)
Explanation
فوائد:… آدمی باقاعدگی کے ساتھ جو اعمالِ صالحہ سرانجام دے رہا ہو، اگر بیماری کی وجہ سے اس کی روٹین متاثر ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ثواب پورا ملتا رہتا ہے۔
9386
Sahih
۔ (۹۳۸۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا کَانَ عَلٰی طَرِیْقَۃٍ حَسَنَۃٍ مِنَ الْعِبَادَۃِ ثُمَّ مَرِضَ، قِیْلَ لِلْمَلَکِ الْمُوَکَّلِ بِہٖ: اکْتُبْلَہُمِثْلعَمَلِہِاِذَاکَانَطَلِیْقًا، حَتّٰی اُطْلِقَہُ، اَوْ اَکْفِتَہُ اِلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۶۸۹۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جب بندہ عبادت کے معاملے میں اچھے طریقے پر رواں ہوتا ہے اور پھر بیمار ہو جاتا ہے تو اس پر مقررہ فرشتے کو کہا جاتا ہے: تو اس کے وہی عمل لکھتا رہے جو یہ صحتمندی کی حالت میں کرتا تھا، یہاں تک کہ میں اس کو دوبارہ صحت عطا کر دوں یا پھر موت دے دوں۔
Takhreej
(۹۳۸۷) تخریج: انظر الحدیث السابق
9387
Sahih
۔ (۹۳۸۸)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَیْسَ مِنْ عَمَلِ یَوْمٍ اِلاَّ وَھُوَ یُخْتَمُ عَلَیْہِ، فَاِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ قَالَتِ الْمَلائِکَۃُ: یَا رَبَّنَا! عَبْدُکَ فُـلَانٌ قَدْ حَبَسْتَہُ؟، فَیَقُوْلُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ: اخْتِمُوْا لَہُ عَلٰی مِثْلِ عَمَلِہِ حَتّٰییَبْرَاَ اَوْ یَمُوْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۴۹)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر دن کے عمل کو اسی دن پر ہی ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن جب مؤمن بیمار ہو جاتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں: اے ہمارے ربّ! تو نے اپنے فلاں بندے کو پابند کر دیا ہے، (اب اس کے عمل کا کیا جائے)؟ اللہ تعالیٰکہتا ہے: تم اس کے دن کو اس کے اسی عمل پر ختم کرتے رہو، جو یہ کرتا تھا، یہاں تک کہ یہ شفایاب ہو یا جائے یا فوت ہو جائے۔
Takhreej
(۹۳۸۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۷۸۲، والحاکم: ۴/ ۲۶۰ (انظر: ۱۷۳۱۶)
9388
Sahih
۔ (۹۳۸۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا ابْتَلَی اللّٰہُ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ بِبَـلَائٍ فِیْ جَسَدِہِ قَالَ اللّٰہُ: اکْتُبْ لَہُ صَالِحَ عَمَلِہِ الَّذِیْ کَانَ یَعْمَلُہُ، فَاِنْ شَفَاہُ غَسَلَہُ وَطَھَّرَہُ، وَاِنْ قَبَضَہُ غَفَرَلَہُ وَرَحِمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۳۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی مسلمان بندے کو اس کی جسمانی تکلیف کے ساتھ آزماتا ہے تو وہ فرشتے سے کہتا ہے: یہ آدمی جو نیک عمل کرتا تھا، تو اس کو لکھتا جا، اگر اس کو شفا دے دی تو وہ اس کو دھودے گا اور پاک کردے گا اور اگر اس کو وفات دے دی تو بخش دے گا اور رحم کرے گا۔
Takhreej
(۹۳۸۹) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲۳۳، وابویعلی: ۴۲۳۳ (انظر: ۱۲۵۰۳)
Explanation
فوائد:… بیمار ہونے سے جہاں مختلف قسم کی آزمائشوں اور بیماریوں سے بندوں کو صبر آزما ساعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہاں ان کو اجرو ثواب ملتا ہے، گناہوں کے اثرات زائل ہوتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ جب بندہ بیماری کی وجہ سے وہ نفلی عبادات برقرار نہیں رکھ سکتا ، جو وہ صحت و تندرستی کے زمانے میں سرانجام دیتا تھا، یا فرضی عبادات کو ان کی اصل کیفیت میں ادا نہیں کر سکتا، مثلا بیٹھ کر نماز ادا کرنا، تو اللہ تعالیٰ اس کی عبادات کے اجر و ثواب میں کمی نہیں آنے دیتا، بلکہ اس کی نیت اور ارادے کو دیکھ کر اس کے نامۂ اعمال میں اس کے عبادت والے سلسلے کا انداراج ہوتا رہتا ہے، حالانکہ وہ عملی طور پر عمل کرنے سے عاجز ہوتا ہے۔
9389
Sahih

Chapters

12
01
اس چیز کا بیان کہ انبیاء سب سے زیادہ آزمائش والے ہوتے اور پھر دوسرے نیکوکار
14 Hadith
02
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
03
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
04
بخار اور درد سر پر صبر کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
05
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب کرنے اور اس کے ثواب کا بیان
2 Hadith
06
آنکھوں سے محروم ہو جانے پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
6 Hadith
07
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے، اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے
4 Hadith
08
جس کو دنیا میں آزمایا نہیں گیا، اس کے غیر مقبول ہونے کا بیان
2 Hadith
09
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
26 Hadith
10
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
2 Hadith
11
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
1 Hadith
12
مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.