TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

پیشاب سے بچنے کا بیان - پیشاب سے بچنے کا بیان - پتھروں سے استنجا کرنے اور اس کے آداب کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of پتھروں سے استنجا کرنے اور اس کے آداب کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 5 · 5 Hadith
۔ (۵۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَبَرَیْنِ فَقَالَ: ((اِنَّہُمَا لَیُعَذَّبَانِ وَمَا یُعَذَّبَانِ فِیْ کَبِیْرٍ، أَمَّا أَحَدُہُمَا فَکَانَ لَا یَسْتَنْزِہُ مِنَ الْبَوْلِ (وَقَالَ وَکِیْعٌ: مِنْ بَوْلِہِ) وَأَمَّا الْأَخَرُ فَکَانَ یَمْشِیْ بِالنَّمِیْمَۃِ۔)) (۵۴۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَکْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِی الْبَوْلِ۔)) (مسند أحمد: ۸۳۱۳)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: بیشک اِن دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی مشکل کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔ (مسند أحمد: ۱۹۸۰)
Takhreej
(۵۴۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۸، ومسلم: ۲۹۲ (انظر: ۱۹۸۰)
Explanation
فوائد:… صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وَمَا یُعَذَّبَانِ فِیْ کَبِیْرٍ،وَاِنَّہٗ لَکَبِیْرٌ … اور ان کو مشکل کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، اور وہ بڑے گناہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا اور چغلی کرنا کبیرہ گناہ ہیں۔ حافظ ابن حجر کی تحقیق کے مطابق یہ دو مسلمان تھے، ان کو بقیع میں دفن کیا گیا تھا، البتہ اس موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ موجود نہیں تھے، یہ تفصیل ایک روایت کے ان الفاظ سے ثابت ہوتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: ((مَنْ دَفَنْتُمُ الْیَوْمَ ھٰھُنَا؟)) … آج تم لوگوں نے یہاں کن کو دفن کیا ہے۔ اس قسم کی احادیث سے ہمیں متنبہ ہو جانا چاہیے، کیونکہ ہماری ان ہستیوں سے کیا نسبت ہے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر براہِ راست ایمان لائی تھیں۔ جب وہ عظیم ہستیوں میں شامل ہونے کے باوجود مذکورہ کوتاہیوں کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہو گئے تو ہم ان کمزوریوں کی وجہ سے عذاب الٰہی سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
543
Sahih
۔ (۵۴۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَکْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِی الْبَوْلِ۔)) (مسند أحمد: ۸۳۱۳)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عذاب ِ قبر زیادہ تر پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۴۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۴۸ (انظر: ۸۳۳۱)
544
Sahih
۔ (۵۴۵)۔ عَنْ عِیْسَی بْنِ یَزْدَادَ بْنِ فَسَائَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا بَالَ أَحَدُکُمْ فَلْیَنْتُرْ ذَکَرَہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۶۴)
یزداد بن فساء ہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کوئی آدمی پیشاب کرے تو وہ اپنے عضو ِ خاص کو تین دفعہ نچوڑے۔
Takhreej
(۵۴۵) تخریج: اسنادہ ضعیف،عیسی بن یزداد وأبوہ مجھولان ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۲۶(انظر: ۱۹۰۵۴)
Explanation
فوائد:… یزداد بن فساء ہ کے بارے میں صحیح رائے یہ ہے کہ ان کی صحابیت کا شرف حاصل نہیں ہوا، سو اس کی روایت مرسل ہو گی، امام بخاری، ابو حاتم رازی، ابوداود اور دیگر اہل علم نے یزداد کے صحابی نہ ہونے کی صراحت کی ہے۔
545
Zaeef
۔ (۵۴۶) (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ)۔ وَزَادَ: فَاِنَّ ذٰلِکَ یُجْزِیئُ عَنْہُ۔(مسندأحمد:۱۹۲۶۳)
۔ (دوسری سند) اس میں یہ زائد بات ہے: پس بیشک یہ عمل اس کو کفایت کرے گا۔
Takhreej
(۵۴۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال اگر کسی مخصوص آدمی کو ظن غالب کی حد تک شبہ ہو جائے تو وہ عضو ِ خاص کو نچوڑ کر یا انگلی مار کر یا کچھ دیر بیٹھ کر اس شبہ کو ختم کر سکتا ہے، لیکن اس ضمن میں شیطان کے وسوسوں کو سمجھنا اور ان سے بچنا ضروری ہے، وگرنہ طہارت کے معاملات میں کئی اشکالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ استنجا کا اصل طریقہ یہی ہے کہ پیشاب منقطع ہو جانے کے بعد پتھر یا پانی استعمال کر لیا جائے۔
546
Zaeef
۔ (۵۴۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَایَقُوْمَنَّ أَحَدُکُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَبِہِ أَذًی مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ)) (مسند أحمد: ۱۰۰۹۶)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی آدمی نماز کے لیے اس حالت میں نہ جائے کہ اس کے ساتھ پائخانہ یا پیشاب کی نجاست لگی ہوئی ہو۔ -
Takhreej
(۵۴۷) تخریج: صحیح بطرقہ وشواھدہ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۶۱۸ (انظر: ۱۰۰۹۴)
Explanation
فوائد:… اس سے معلوم ہوا کہ انسان کا بول و براز نجس ہے اور اس سے اجتناب کرنا اور کپڑے یا جسم کے کسی حصہ کو لگ جانے کی صورت میں اس سے پاکی حاصل کرنا فرض ہے۔ اس ضمن میں احناف نے ایک درہم کی مقدار کے برابر نجاست کی اجازت دی ہے، لیکن یہ رائے مرجوح ہے، اس کی تفصیل حدیث نمبر (۴۴۰)میں گزر چکی ہے۔
547
Sahih