TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زمین کو غصب کرنے یا اس کو چوری کرنے والے کا بیان، اگرچہ وہ ایک بالشت یا ایک ہاتھ کے برابر ہو - زمین کو غصب کرنے یا اس کو چوری کرنے والے کا بیان، اگرچہ وہ ایک بالشت یا ایک ہاتھ کے برابر ہو - غصب کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of غصب کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 8 · 8 Hadith
۔ (۶۱۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکِ نِ الْاَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَعْظَمُ الْغُلُوْلِ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ذِرَاعٌ مِنْ أَرْضٍ یَکُوْنُ بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ أَوْ بَیْنَ الشَّرِیْکَیْنِ فَیَقْتَسِمَانِ فَیَسْرِقُ أَحَدُھُمَامِنْ صَاحِبِہِ ذِرَاعًا مِنْ أَرْضٍ فَیُطَوَّقُہُ مِنْ سَبْعِ أَرْضِیْنَ)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِذَا فَعَلَ ذٰلِکَ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرْضِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۰۲)
۔ سیدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : روز قیامت اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑی خیانتیہ ہو گی کہ دو آدمیوںیا شریکوں کے درمیان زمین ساجھی ہو، پھر جب وہ اسے تقسیم کرنا چاہیں تو ان میں سے ایک دوسرے کی اس زمین سے ایک ہاتھ کے برابر چرا لے، ایسے شخص کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: جب وہ ایسے کرے گا تو اسے سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔
Takhreej
(۶۱۹۴) اسنادہ حسن فی المتابعات والشواھد۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۳۴۶۳ (انظر: ۲۲۹۱۴)
6194
Sahih
۔ (۶۱۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکِ نِ الْاَشْجَعِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَعْظَمُ الْغُلُوْلِ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ تَجِدُوْنَ الرَّجُلَیْنِ جَارَیْنِ فِیْ الْأَرْضِ أَوْ فِیْ الدَّارِ فَیَقْتَطِعُ أَحَدُھُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِہِ ذِرَاعًا فَاِذَا اقْتَطَعَہُ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرْضِیْنَ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۸۳)
۔ سیدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑی خیانت ایک ہاتھ زمین ہے اور وہ یوں کہ دو آدمی ایک زمینیا گھر میں شریک ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے میں سے ایک ہاتھ کے بقدر ناحق اپنے قابو میںکر لیتا ہے، جب وہ اس پر قبضہ کرتا ہے تو اسے روز قیامت تک سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔
Takhreej
(۶۱۹۵) تخریج: انظر الحدیث السابق
6195
Sahih
۔ (۶۱۹۶)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! أَیُّ الظُّلْمِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: ((ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ یَنْتَقِصُہُ مِنْ حَقِّ أَخِیْہِ فَلَیْسَتْ حَصَاۃٌ مِنَ الْأَرْضِ أَخَذَھَا اِلَّا طُوِّقَہَا یَوْمَ الْقِیَامَہِ إِلٰی قَعْرِ الْأَرْضِ، وَلَا یَعْلَمُ قَعْرَھَا اِلَّا الَّذِیْ خَلَقَہَا۔)) (مسند احمد:۳۷۶۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا ظلم سب سے بڑا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک ہاتھ زمین، جسے آدمی اپنے بھائی کے حق سے چھین لیتا ہے،جو آدمی اس طرح کی ایک کنکری کے بقدر زمین ہتھیا لیتا ہے، قیامت کے دن اسے زمین کی گہرائی تک طوق پہنایا جائے گااور زمین کی گہرائی کو کوئی نہیں جانتا، مگر وہی جس نے اس کو پیدا کیا۔
Takhreej
(۶۱۹۶) اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن لھیعۃ ولانقطاعہ، فابو عبد الرحمن الحبلی لم یُذکر انہ روی عن ابن مسعود، وروایتہ عن صغار الصحابۃ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۰۵۱۶ (انظر: ۳۷۶۷)
6196
Zaeef
۔ (۶۱۹۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَعَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَخَذَ شَیْئًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا خُسِفَ إِلٰی سَبْعِ أَرْضِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۵۷۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لیتا ہے، اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔
Takhreej
(۶۱۹۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۵۴، ۳۱۹۶ (انظر: ۵۷۴۰)
Explanation
فوائد:… دھنسایا جانا یا طوق پہنایا جانا معلوم ہوتا ہے۔ مختلف غاصب افراد کو مختلف سزائیں ملیں گی۔
6197
Sahih
۔ (۶۱۹۸)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ مُرَّۃَ الثَّقَفِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَیْرِ حَقِّہَا کُلِّفَ اَنْ یَحْمِلَ تُرَابَہَا اِلَی الْمَحْشِرِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۱۲)
۔ سیدنایعلیٰ بن مرہ ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کر لیا، اسے قیامت کے دن یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ اس جگہ کی مٹی کو اٹھا کر محشر میں لائے۔
Takhreej
(۶۱۹۸) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۶۹۰ (انظر: ۱۷۵۶۹)
6198
Sahih
۔ (۶۱۹۹)۔ ( وَعِنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَیُّمَا رَجُلٍ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْاَرْضِ کَلَّفَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ أَنْ یَحْفِرَہُ حَتّٰییَبْلُغَ آخِرَ سَبْعِ أَرْضِیْنَ ثُمَّ یُطَوَّقُہُ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ حَتّٰییُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۱۴)
۔ (دوسری سند) سیدنایعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوشخص ظلم کرتے ہوئے کسی کی ایک بالشت زمین ہتھیا لے گا، اللہ تعالی اسے یہ تکلیف دے گا کہ وہ اس زمین کو سات زمینوں تک کھودے اور پھر اسے قیامت کے دن لوگوں کے مابین فیصلہ ہونے تک (اس مٹی) کا طوق پہنا دیا جائے گا۔
Takhreej
(۶۱۹۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الربیع بن عبد اللہ۔ أخرجہ ابن حبان: ۵۱۶۴، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۶۹۲ (انظر: ۱۷۵۷۱)
6199
Zaeef
۔ (۶۲۰۰)۔ عَنِ الْاَشْعَتِ بْنِ قَیْسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ کِنْدَۃَ وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اِخْتَصَمَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ أَرْضٍ بِالْیَمَنِ فَقَالَ الْحَضْرَمِیُّ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرْضِیْ اِغْتَصَبَہَا ھٰذَا وَأَبُوْہُ، فَقَالَ الْکِنْدِیُّ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرْضِیْ وَرِثْتُہَا مِنْ اَبِیْ، فَقَالَ الْحَضْرَمِیُّ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اسْتَحْلِفْہُ أَنَّہُ مَا یَعْلَمُ اَنَّھَا أَرْضِیْ وَأَرْضُ وَالِدِیْ وَالَّذِیْ اِغْتَصَبَہَا أَبُوْہُ، فَتَہَیَّأَ الْکِنْدِیُّ لِلْیَمِیْنِ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُ لَا یَقْتَطِعُ عَبْدٌ أَوْ رَجُلٌ بِیَمِیْنِہِ مَالًا اِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَھُوَ أَجْذَمُ۔)) فَقَالَ الْکِنْدِیُّ: ھِیَ أَرْضُہُ وَأَرْضُ وَالِدِہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۹۲)
۔ سیدنا اشعث بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ کندہ کے ایک شخص اور حضرموت کے ایک آدمی کے مابینیمن میں واقع ایک زمین کے معاملے میں جھگڑا ہو گیا، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ زمین میری ہے، اس نے اور اس کے باپ نے اس پر ناجائز قبضہ کر لیاہے، کندہ کے باشندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ زمین میری ہے، مجھے اپنے باپ کے ورثے میںملیہے، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ قسم لے لیں کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ یہ میری اور میرے والد کی زمین ہے اور غصب کرنے والا اس کا باپ ہے۔اُدھر کندی قسم اٹھانے کے لئے تیارہو گیا، لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص جھوٹی قسم کے ذریعے کس کا مال ہتھیا لے گا تو روز قیامت جب اس کی ملاقات اللہ تعالیٰ سے ہوگی تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا۔ یہ فرمان سن کر کندی نے کہا: یہ زمین اس کی اور اس کے باپ کی ہے۔
Takhreej
(۶۲۰۰) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۲۴۴، ۳۶۲۲ (انظر: ۲۱۸۴۹)
6200
Zaeef
۔ (۶۲۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّہُ دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ وَھُوَ یُخَاصِمُ فِیْ أَرْضٍ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: یَا أَبَا سَلَمَۃَ! اجْتَنِبِ الْأَرْضَ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ سَبْعِ اَرْضِیْنَ)) (مسند احمد: ۲۴۸۵۷)
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن ، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئے اور وہ زمین کے معاملے میں کسی سے جھگڑ رہے تھے، سیدہ نے کہا: اے ابو سلمہ! زمین کے معاملے میں احتیاط برتنا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص ایک بالشت کے بقدر نا حق زمین ہتھیا لیتا ہے، اس کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔
Takhreej
(۶۲۰۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۵۳، ومسلم: ۱۶۱۲(انظر: ۲۴۳۵۳)
Explanation
فوائد:… تمام احادیث ِ مبارکہ کا مضمون ہے کہ کسی کی معمولی مقدار میں زمین ہتھیا لینا بہت بڑا جرم ہے اور یہ گناہ بندے کی آخرت کو خسارے میں ڈال دینے والا ہے۔
6201
Sahih

Chapters

8
01
جان بوجھ کر اور از راہِ مذاق غصب کی ممانعت اور مسلمان بھائی کا مال غصب کرنے کی وعید کا بیان
8 Hadith
02
زمین کو غصب کرنے یا اس کو چوری کرنے والے کا بیان، اگرچہ وہ ایک بالشت یا ایک ہاتھ کے برابر ہو
8 Hadith
03
فصل: ارویٰ بنت اویس اور سیدنا سعید بن زیدbکا واقعہ
2 Hadith
04
اس شخص کا بیان جس نے مالک کی اجازت کے بغیر بکری پکڑ کر اس کو ذبح کیا اور اس کو بھونا یا پکایا
2 Hadith
05
غصب شدہ چیز ہی واپس کرنا، اگر وہ اسی حالت میں باقی ہو، یا اس کی قیمت ادا کرنا، اگر وہ قیمت والی ہو یا اس کے متبادل اس کی مثل واپس کرنا، اگر وہ مثل والی ہو، جب غاصب نے اس کو تلف کر دیا ہو یا وہ اس کے ہاتھ میں تلف ہو گئی ہو
2 Hadith
06
دوسروں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کھیتی کاشت کرنے والے اور مالکوں کی اجازت کے بغیر پھل یا کھیتی میں سے کچھ لینے والے کا بیان
4 Hadith
07
حیوانوں کے نقصان کا بیان
3 Hadith
08
حملہ کرنے والے کو روکنا، اگرچہ اس کو قتل کرنا پڑے اور اس لڑائی میں اگر وہ قتل ہو جائے جس پر حملہ کیا گیا تو وہ شہید ہو گا
5 Hadith
No chapter matched that.