والد کے علاوہ سب کے لیے ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے کی ممانعت کا بیان
۔ (۶۲۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابنِ عَبَّاسٍ رَفَعَاہُ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَا یَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ یُعْطِیَ الْعَطِیَّۃَ فَیَرْجِعَ فِیْہَا اِلَّا الْوَالِدُ فِیْمَایُعْطِیْ وَلَدَہُ وَمَثَلُ الَّذِیْیُعْطِی الْعَطِیَّۃَ ثُمَّ یَرْجِعُ فِیْہَا کَمَثَلِ الْکَلْبِ أَکَلَ حَتّٰی اِذَا شَبِعَ قَائَ ثُمَّ رَجَعَ فِیْ قَیْئِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۸۱۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمراور سیدنا عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ عطیہ دے کر اس کو واپس لے لے، ما سوائے والد کے کہ جو وہ اپنے بچے کو بطورِ عطیہ دیتا ہے، اس آدمی کی مثال جو عطیہ دیتا ہے اور پھر اس کو واپس کر لیتا ہے، کتے کی طرح ہے کہ جو کوئی چیز کھاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے اور پھر قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
6290
Sahih