TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

والد کے علاوہ سب کے لیے ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے کی ممانعت کا بیان - والد کے علاوہ سب کے لیے ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے کی ممانعت کا بیان - ہبہ اور ہدیہ کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of ہبہ اور ہدیہ کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 10 · 9 Hadith
۔ (۶۲۸۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْئِ، الْعَائِدُ فِیْ ھِبَتِہِ کَالْکَلْبِ یَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارے لئے بری مثال نہیں ہے، اپنے ہبہ میں لوٹنے والا اس کتے کی مانند ہے جو اپنی قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۲۲، ۶۹۷۵، ومسلم: ۱۶۲۲ (انظر: ۱۸۷۲)
6289
Sahih
۔ (۶۲۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابنِ عَبَّاسٍ رَفَعَاہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَا یَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ یُعْطِیَ الْعَطِیَّۃَ فَیَرْجِعَ فِیْہَا اِلَّا الْوَالِدُ فِیْمَایُعْطِیْ وَلَدَہُ وَمَثَلُ الَّذِیْیُعْطِی الْعَطِیَّۃَ ثُمَّ یَرْجِعُ فِیْہَا کَمَثَلِ الْکَلْبِ أَکَلَ حَتّٰی اِذَا شَبِعَ قَائَ ثُمَّ رَجَعَ فِیْ قَیْئِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۸۱۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمراور سیدنا عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ عطیہ دے کر اس کو واپس لے لے، ما سوائے والد کے کہ جو وہ اپنے بچے کو بطورِ عطیہ دیتا ہے، اس آدمی کی مثال جو عطیہ دیتا ہے اور پھر اس کو واپس کر لیتا ہے، کتے کی طرح ہے کہ جو کوئی چیز کھاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے اور پھر قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۲۲، ۶۹۷۵، ومسلم: ۱۶۲۲ (انظر: ۱۸۷۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ والداپنے بچے کو بطورِ عطیہ دی ہوئی چیز اس سے واپس لے سکتا ہے۔
6290
Sahih
۔ (۶۲۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّمَا مَثَلُ الَّذِیْیَتَصَدَّقُ ثُمَّ یَعُوْدُ فِیْ صَدَقَتِہِ کَالَّذِیْیَقِیْئُ ثُمَّ یَاْکُلُ قَیْئَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عبا س ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو صدقہ کرتا ہے اور پھر اپنے صدقے کو واپس لے لیتا ہے اس شخص کی مانند ہے، جو قے کرتا ہے اور پھر اسے چاٹنا شروع کر دیتاہے۔
Takhreej
(۶۲۹۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۲۲(انظر: ۲۶۲۲)
6291
Sahih
۔ (۶۲۹۲)۔ وعَنْہُ أَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْعَائِدُ فِیْ ھِبَتِہِ کَالْعَائِدِ فِیْ قَیْئِہِ۔)) قَالَ قَتَادَۃُ: وَلَا أَعْلَمُ الْقَیْئَ اِلَّا حَرَامًا۔ (مسند احمد: ۲۶۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہبہ کی ہوئی چیز کو لوٹانے والا اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنی قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔ امام قتادہ نے کہا: میرا تو یہی خیال ہے کہ قے حرام ہے۔
Takhreej
(۶۲۹۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۲۱، ومسلم: ۱۶۲۲۲ (انظر: ۲۶۴۶)
Explanation
فوائد:… کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو قے کی حرمت یا نجاست پر دلالت کرتی ہو، دراصل سلیم الفطرت انسان کی طبیعت کو دیکھ کر بات کہی جا رہی ہے۔ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ قے کی حرمت و نجاست کی کوئی دلیل نہیں، لیکن تحفہ دے کر واپس لینا حرام ہے جیسا کہ حدیث۶۲۹۰ سے واضح ہے۔
6292
Sahih
۔ (۶۲۹۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَرْجِعُ فِیْ ھِبَتِہِ اِلَّا الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِہِ وَالْعَائِدُ فِیْ ھِبَتِہِ کَالْعَائِدِ فِیْ قَیْئِہِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۰۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنی ہبہ کی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتا، البتہ والد اپنی اولاد سے واپس لے سکتاہے۔ ہبہ کوواپس لینے والے کی مثال اس شخص کی مانند ہے، جو قے کرنے کے بعد اس کو چاٹ لیتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۹۳) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۳۹، والنسائی: ۶/ ۲۴۶، والترمذی: ۲۱۳۱، وابن ماجہ: ۲۳۷۷ (انظر: ۶۷۰۵)
6293
Sahih
۔ (۶۲۹۴)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الَّذِیْیَعُوْدُ فِیْ صَدَقَتِہِ کَمَثِلِ الَّذِیْیَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہِ۔)) (مسند احمد: ۳۸۴)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا صدقہ واپس لے لیتا ہے، اس کی مثال اس کی مانند ہے جو اپنی قے کو چاٹ لیتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۹۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۳۶، ۲۹۷۰، ومسلم: ۱۶۲۰ (انظر: ۳۸۴)
6294
Sahih
۔ (۶۲۹۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ طَاؤُوْسٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کُنَّا نَقُوْلُ وَنَحْنُ صِبْیَانٌ: اَلْعَائِدُ فِیْ ھِبَتِہِ کَالْکَلْبِ یَقِیْئُ ثُمَّ یَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہِ وَلَمْ نَعْلَمْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَرَبَ فِیْ ذٰلِکَ مَثَلًا حَتّٰی حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْعَائِدُ فِیْ ھِبَتِہِ کَالْکَلْبِ یَقِیْئُ ثُمَّ یَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۴۷)
۔ امام طائوس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم بچے ہوتے تھے تو یہ کہا کرتے تھے کہ اپنے ہبہ میں لوٹنے والا اس کتے کی مانند ہے جو قے کرتا ہے اور پھر اس کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے، اور ہمیںیہ معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بارے میں کوئی مثال بیان کی ہے، یہاںتک کہ ایک دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمارے سامنے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے ہبہ میں لوٹنے والا اس کتے کی مانند ہے، جو قے کرتا ہے اور پھر اس کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۹۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۸۹، ومسلم: ۱۶۲۲ (انظر: ۲۶۴۷)
6295
Sahih
۔ (۶۲۹۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلُ الَّذِیْیَعُوْدُ فِیْ عَطِیَّتِہِ کَمَثَلِ الْکَلْبِ یَاْکُلُ حَتّٰی اِذَا شَبِعَ قَائَ ثُمَّ عَادَ فِیْ قَیْئِہِ فَأَکَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۵۱۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو اپنا عطیہ لوٹا لیتا ہے، اس کتے کی مانند ہے، جو کھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے اور پھر اپنی قے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۹۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۸۴(انظر: ۷۵۲۴)
Explanation
فوائد:… مذکورہ بالا تمام احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ عطیے میں دی ہوئی چیز واپس نہیں لی جا سکتی، کیونکہ اس کی مثال بری ہے اور حدیث نمبر (۶۲۸۹) میںیہ بات گزر چکی ہے کہ آپa نے فرمایا: ((لَیْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْئِ۔))… ’’ہمارے لیے بری مثال نہیں ہے۔‘‘ البتہ اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل حدیث قابل توجہ ہے۔
6296
Sahih
۔ (۶۲۹۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلُ الَّذِیْیَسْتَرِدُّ مَا وَھَبَ کَمَثَلِ الْکَلْبِ یَقِیْئُ فَیَاْکُلُ مِنْہُ وَاِذَا اسْتَرَدَّ الْوَاھِبُ فَلْیُوْقِفْ بِمَا اسْتَرَدَّ ثُمَّ لِیَرُدَّ عَلَیْہِ مَا وَھَبَ۔)) (مسند احمد: ۶۶۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے لیتا ہے، اس کتے کی مانند ہے، جو قے کرتا ہے اور پھر اس کو چاٹتا ہے، ہبہ کرنے والا جب واپسی کا مطالبہ کرے تو اس کو کھڑا کر کے اس سے واپسی کی وجہ پوچھی جائے اور پھر اس کووہ چیز واپس کر دی جائے، جو اس نے ہبہ کی تھی۔
Takhreej
(۶۲۹۷) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۴۰، والترمذی: ۲۱۳۱، وابن ماجہ: ۲۳۷۷، والنسائی: ۶/ ۲۶۵ (انظر: ۶۶۲۹)
Explanation
فوائد:… حدیث کے پہلے حصے میں رسول اللہa نے کتے کی مثال بیان کر کے ہبہ کرنے والے کو اس کمینے پن سے باز رہنے کی تلقین فرمائی۔ حدیث ِ مبارکہ کے دوسرے حصے کے دو مفہوم بیان کیے گئے ہیں: (۱) جب کوئی آدمی ہبہ کی ہوئی چیز کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے تو اس سے ایسا کرنے کا سبب دریافت کیا جائے، ہو سکتا ہے کہ اس کا مقصود یہ ہو کہ ہبہ وصول کرنے والا اسے بھی متبادل دے گا، تو پھر ممکن ہو گا کہ وہ اسے متبادل دے دے اور وہ اپنا ہبہ واپس نہ لے اور متبادل نہ ہونے کی صورت میں اس کو اس کی ہبہ کی ہوئی چیز واپس کر دی جائے۔ (۲) جو آدمی ہبہ دے اور پھر واپس لینے کا مطالبہ کرے، اسے کھڑا کر لیا جائے اور اس کیلئے ہبہ کے مسئلہ کی وضاحت کی جائے، تاکہ اسے بھی علم ہو جائے، مثلا اس سے کہا جائے کہ ہبہ دینے والے کو جب تک متبادل نہ دیا جائے تو وہ اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کا مستحق تو ہے، لیکن ہو گا وہ اس کتے کی طرح، جو قے کر کے چاٹنے لگ جاتا ہے، اب اگر تو چاہتا ہے تو پھر اس کتے کی مانند ہو جا، جو اپنی قے چاٹ لیتا ہے اور اگرتوں چاہتا ہے کہ کتے کی تشبیہ سے بچ سکے تو یہ مطالبہ نہ کر، اگر اتنی وضاحت کے بعد بھی وہ واپسی کا مطالبہ کرے تو اس کی چیزاس کو دے دی جائے۔ (دیکھئے: عون المعبود: ۳۵۴۰)
6297
Sahih