TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

رسول اللہa کا ہدیہ قبول کرنا، اگرچہ وہ حقیر سا ہو اور صدقہ قبول نہ کرنا، اگرچہ وہ قیمتی ہو - رسول اللہa کا ہدیہ قبول کرنا، اگرچہ وہ حقیر سا ہو اور صدقہ قبول نہ کرنا، اگرچہ وہ قیمتی ہو - ہبہ اور ہدیہ کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of ہبہ اور ہدیہ کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 10 · 14 Hadith
۔ (۶۲۵۸)۔ عَنْ أَبیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ اُھْدِیَتْ اِلَیَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ، وَلَوْ دُعِیْتُ اِلٰی کُرَاعٍ لَاَجَبْتُ۔)) قَالَ وَکِیْعٌ فِیْ حَدِیْثِہٖ: ((لَوْ أُھْدِیَتْ اِلَیَّ ذِرَاعٌ۔)) (مسند احمد: ۹۴۸۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر مجھے گوشت کی دستی (پنڈلی سے اوپر والا حصہ) تحفہ میں دیا جائے تو میں اس کو قبول کروں گا، اور اگر مجھے پنڈلی کے پتلے حصے کی طرف دعوت دی جائے تو میں اس کو قبول کروں گا۔
Takhreej
(۶۲۵۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۱۷۸(انظر: ۹۴۸۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں آپ a کے حسن اخلاق، تواضع اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور ان پر مہربانی کرنے کا بیان ہے، معلوم ہوا کہ ہدیہ دینے والے کے ہدیے اور میزبان کی دعوت کی مقدار اور معیار کو سامنے نہ رکھا جائے، بلکہ ایسے آدمی کا خلوص قبول کر کے اس کے سامنے خوشی کا اظہار کیا جائے، اس کے لیے دعا کی جائے اور اگر ہو سکے تو اس کا بدلہ بھی دیا جائے۔ اس دور میں مال و زر اور ناز ونخرے والے لوگوں کے لیے اس قسم کی احادیث پر عمل کرنا خاصا دشوار کام ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ان کی دعوت کرنے والے اور ان کو تحفے تحائف دینے والے لوگ ان کے معیار کے ہوں، اگر ان کی دعوت کی جائے تو پرتکلف انداز ہونا چاہیے اور اگر ان کو تحفہ دیا جائے تو وہ بہت قیمتی چیز ہونی چاہیے، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ نبیوں کے سردار کے طرزِ حیات سے غفلت نہ برتیں اور جو چیز ان کی طبع کے مطابق نہ ہو، شریعت کی روشنی میں اس کو اچھے انداز میں قبول کریں۔
6258
Sahih
۔ (۶۲۵۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: ثَارَتْ اَرْنَبٌ فَتَبِعَھَا النَّاسُ، فَکُنْتُ فِیْ اَوَّلِ مَنْ سَبَقَ اِلَیْھَا فَاَخَذْتُھَا فَاَتَیْتُ بِھَا اَبَا طَلْحَۃَ، قَالَ: فَاَمَرَ بِھَا فَذُبِحَتْ ثُمَّ شَوَیْتُ، قَالَ: ثُمَّ اَخَذَ عَجُزَھَا، فَقَالَ: اِئْتِ بِہٖرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ،قَالَ: فَاَتَیْتُہٗ بِہٖ،قَالَ: قُلْتُ: اِنَّاَبَاطَلْحَۃَ اَرْسَلَ اِلَیْکَ بِِعَجُزِ ھٰذِہِ الْاَرْنَبِ، قَالَ: فَقَبِلَہٗمِنِّیْ۔ (مسند احمد: ۱۳۴۶۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خرگوش بھاگا اور لوگ اس کے پیچھے دوڑے، میں اس کی طرف پہلا سبقت لے جانے والا آدمی تھا، پس میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو لے کر سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، انھوں نے حکم دیا، پس اس کو ذبح کیا گیا، پھر میں نے اس کو بھونا، پھر انھوں نے اس کا نصف پچھلا حصہ پکڑا اور کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے جاؤ، پس میں وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے کر آیا اور کہا: بیشک سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خرگوش کا یہ پچھلا حصہ آپ کی طرف بھیجا ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے قبول کیا۔
Takhreej
(۶۲۵۹) حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف، وانظر الحدیث الآتی من طریق ثان (انظر: ۱۳۴۳۰)
6259
Sahih
۔ (۶۲۶۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنْفَجْنَا اَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّھْرَانِ، قَالَ: فَسَعٰی عَلَیْھَا الْغِلْمَانُ حَتّٰی لَغِبُوْ، قَالَ: فَاَدْرَکْتُھَا فَاَتَیْتُ بِھَا اَبَا طَلْحَۃَ فَذَبحَھَا، ثُمَّ بَعَثَ مَعِیَ بِوَرِکِھَا اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَبِلَ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۰۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس کہتے ہیں: ہم نے مر الظہران کے مقام پر ایک خرگوش کو بھگایا، لڑکے اس کو پکڑنے کے لیے دوڑے، لیکن وہ تھک گئے اور میں نے اس کو پکڑ لیا اور سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس لے کر آیا، انھوں نے اس کو ذبح کیا اور اس کا سرین مجھے دے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو قبول کیا۔
Takhreej
(۶۲۵۹) حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف، وانظر الحدیث الآتی من طریق ثان (انظر: ۱۳۴۳۰)
6260
Sahih
۔ (۶۲۶۱)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَتْ اُخْتِیْ تَبْعَثُنِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْھَدِیَّۃِ فَیَقْبَلُھَا۔ (مسند احمد: ۱۷۸۳۹)
۔ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری بہن مجھے ہدیہ دے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھیجتی تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو قبول کر لیتے تھے۔
Takhreej
(۶۲۶۱) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۱۷۶۸۷)
6261
Sahih
۔ (۶۲۶۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗکَانَیَقْبَلُ الْھَدِیَّۃَ، وَلَا یَقْبَلُ الصَّدَقَۃَ۔ (مسند احمد: ۸۶۹۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہدیہ قبول کرلیتے تھے اور صدقہ قبول نہیں کرتے تھے۔
Takhreej
(۶۲۶۲) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۱۲ (انظر: ۸۷۱۴)
Explanation
فوائد:… آپ a اور آپ a کی آل کے لیے صدقہ حرام ہے۔
6262
Sahih
۔ (۶۲۶۳)۔ عَنْ سَلْمَانَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسنداحمد: ۲۴۱۰۴)
۔ سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۶۲۶۳) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۶۰۷۱، والبیھقی فی ’’دلائل النبوۃ‘‘: ۲/ ۹۸ (انظر: ۲۳۷۰۴)
6263
Sahih
۔ (۶۲۶۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسنداحمد: ۱۷۸۴۰)
۔ سیدنا عبدا للہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۶۲۶۴) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۷۶۸۸)
6264
Sahih
۔ (۶۲۶۵)۔ عَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُتِیَ بِلَحْمٍ فَقِیْلَ لَہٗ: اِنَّہٗقَدْتُصُدِّقَبِہٖعَلٰی بَرِیْرَۃَ، فَقَالَ: ((ھُوَ لَھَا صَدَقَۃٌ وَھُوَ لَنَا ھَدِیَّۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۳۹۶۴)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا گیا کہ یہ تو بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔
Takhreej
(۶۲۶۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۷۷، ومسلم: ۱۰۷۴ (انظر: ۱۳۹۲۲)
Explanation
فوائد:… جب سیدہ بریرہc پر صدقہ کیا جاتا اور وہ اس کی مالک بن جاتی تو اس کا حکم بدل جاتا تھا، بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ صدقہ و خیرات وصول کرنے والے لوگوں کی ضیافتیا تحفے کو قبول کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں،یہ ان لوگوں کی غلطی ہے۔ جب صدقہ و زکوۃ لینے والا صدقہ لے لیتا ہے تو اس کا حکم بدل جاتا ہے اور وہ اس کے ہاتھ میں صدقہ نہیں رہتا، دیکھیں حدیث نمبر (۶۲۶۷)۔
6265
Sahih
۔ (۶۲۶۶)۔ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ: اَنَّ اِمْرَاۃً اَھْدَتْ لَھَا رِجْلَ شَاۃٍ تُصُدِّقَتْ عَلَیْھَا بِھَا، فَاَمَرَھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَن تَقْبَلَھَا۔ (مسند احمد: ۲۷۱۶۳)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے بکری کی ایک ٹانگ ان کو تحفے میں دی،یہ ٹانگ اس خاتون پر صدقہ کی گئی تھی، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اس کو قبول کر لیں۔
Takhreej
(۶۲۶۶) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق فی ’’تفسیرہ‘‘: ۲/ ۲۷۹ (انظر: ۲۶۶۲۸)
6266
Sahih
۔ (۶۲۶۷)۔ عَنْ اُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ: بَعَثَ اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِشَاۃٍ مِنَ الصَّدَقَۃِ فَبَعَثْتُ اِلٰی عَائِشَۃَ بِشَیْئٍ مِنْھَا فَلَمَّا جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی عَائِشَۃَ قَالَ: ((ھَلْ عِنْدَکُمْ مِنْ شَیْئٍ؟)) قَالَتْ: لَا، اِلَّا اَنَّ نُسَبَیْبَۃَ بَعَثَتْ اِلَیْنَا مِنَ الشَّاۃِ الَّتِیْ بَعَثْتُمْ بِھَا اِلَیْھَا، فَقَالَ: ((اِنَّھَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّھَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۴۴)
۔ سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صدقہ کی ایک بکری ان کی طرف بھیجی اور انھوں نے اس میں سے کچھ حصہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف بھیج دیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کھانے کی کوئی چیز ہے؟ تو انھوں نے کہا: جی نہیں، البتہ نسیبہ (یعنی ام عطیہ) نے اس بکری کا ایک حصہ بھیجا ہے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک وہ اپنے محل تک پہنچ چکی ہے۔
Takhreej
(۶۲۶۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۴۴۶، ۱۴۹۴(انظر: ۲۷۳۰۱)
Explanation
فوائد:… کتنی دلچسپ بات ہے کہ آپ a نے خود سیدہ ام عطیہc کی طرف صدقہ کی ایک بکری بھیجی، پھر اسی بکری کا گوشت بھی قبول کر لیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سیدہ ام عطیہc بکری کی مالک بنیں تو اس کا حکم بدل گیا، اب وہ صدقہ نہیں رہا، اس وجہ سے آپ a نے اس کا گوشت قبول کر لیا۔
6267
Sahih
۔ (۶۲۶۸)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا اُتِیَ بِطَعَامٍ مِنْ غَیْرِ اَھْلِہٖسَأَلَہٗعَنْہُ،فَاِنْقِیْلَ: ھَدِیَّۃٌ، اَکَلَ، وَاِنْ قِیْلَ: صَدَقَۃٌ، قَالَ: ((کُلُوْا۔)) وَلَمْ یَأْکُلْ۔ (مسند احمد: ۹۲۵۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا لایا جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے بارے میں سوال کرتے، پس اگر کہا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھا لیتے، اور اگر کہا جاتا ہے کہ صدقہ ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: تم لوگ کھا لو۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود نہ کھاتے۔
Takhreej
(۶۲۶۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۷۶، ومسلم: ۱۰۷۷ (انظر: ۹۲۶۴)
6268
Sahih
۔ (۶۲۶۹)۔ عَنْ بَھْزِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖعَنِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسنداحمد: ۲۰۳۱۳)
۔ بہز بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادے سے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں۔
Takhreej
(۶۲۶۹) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الترمذی: ۶۵۶ (انظر: ۲۰۰۵۴)
6269
Sahih
۔ (۶۲۷۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ: أَہْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَۃَ إِلٰی رَسُولِ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَبَنًا، فَلَمْ تَجِدْہُ، فَقَالَتْ لَہَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَہٰی أَنْ یُؤْکَلَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُو بَکْرٍ فَقَالَ: ((مَا ہَذَا مَعَکِ یَا أُمَّ سُنْبُلَۃَ۔)) قَالَتْ: لَبَنًا أَہْدَیْتُ لَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ! قَالَ: ((اُسْکُبِی أُمَّ سُنْبُلَۃَ!)) فَسَکَبَتْ فَقَالَ: ((نَاوِلِی أَبَا بَکْرٍ۔)) فَفَعَلَتْ، فَقَالَ: ((اُسْکُبِی أُمَّ سُنْبُلَۃَ!)) فَسَکَبَتْ فَنَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشَرِبَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ وَرَسُولُ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَشْرَبُ مِنْ لَبَنٍ وَأَبْرَدَہَا عَلَی الْکَبِدِ یَا رَسُولَ اللَّہِ! کُنْتُ حُدِّثْتُ أَنَّکَ قَدْ نَہَیْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ؟ فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! إِنَّہُمْ لَیْسُوا بِالْأَعْرَابِ، ہُمْ أَہْلُ بَادِیَتِنَا وَنَحْنُ أَہْلُ حَاضِرَتِہِمْ وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا فَلَیْسُوا بِالْأَعْرَابِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۲۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ ام سنبلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے دودھ کا تحفہ لے کر آئیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھر پر نہ پایا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو ہمیں بدّو لوگوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف لے آئے اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! یہ تیرے پاس کیا ہے ؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دودھ ہے، آپ کے لیے بطورِ تحفہ لائی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! اس کو پیالے میں ڈالو۔ انھوں نے اس کو پیالے میں ڈالا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو پکڑاؤ۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ام سنبلہ! اور ڈالو۔ انھوں نے اور ڈالا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پکڑایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نوش فرمایا، جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دودھ پی رہے ہیں اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کلیجے کو کتنا ہی ٹھنڈا کر رہا ہے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے تو یہ بات بیان کی گئی تھی کہ آپ نے بدوؤں کے کھانے سے منع فرمایا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! یہ لوگ بدّو نہیںہیں،یہ ہمارے شہر کے متصل بیرونی علاقے سے ہیں اور ہم ان کے شہر سے ہیں، جب ان لوگوں کو (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور مسلمانوں کے امور کے لیے) بلایا جاتا ہے تو یہ جواب دیتے ہیں ، یہ بدّو نہیں ہیں۔
Takhreej
(۶۲۷۰) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابویعلی: ۴۷۷۳، والطحاوی: ۴/ ۱۶۷، والبزار فی ’’مسندہ‘‘: ۱۹۴۰ (انظر: ۲۵۰۱۰)
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ سیدہ عائشہ c کی مراد حدیث نمبر (۶۲۷۴) ہو، چونکہ آپ a نے سیدہ عائشہc کو ان کی بدوؤں کے کھانے سے ممانعت والی بات پر برقرار رکھا، اس لیے اب اس کا مفہوم بیان کرنا ضروری ہے کہ ممانعت کی کیا وجہ ہے، زیادہ سے زیادہ دو وجوہات ہو سکتی ہیں: (۱) بعض بدو اکھڑ مزاج، سخت دل اور غلیظ الطبع ہوتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَیَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَائِرَ}… ’’اور ان دیہاتیوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں، اس کو جرمانہ سمجھتے ہیں اور تم مسلمانوں کے واسطے برے وقت کے منتظر رہتے ہیں۔‘‘ (سورۂ توبہ: ۹۸) یہ بدوؤں کی مذموم قسم ہے، آپ a نے ایسے لوگوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے، جبکہ بعض بدّو قابل تعریف ہوتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللّٰہِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ}… ’’اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالی پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں، اس کو عند اللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ‘‘ (سورۂ توبہ: ۹۹) آپa نے سیدہ ام سنبلہ c کو قابل تعریف بدوؤں میں سے قرار دیا، نہ کہ مذموم دیہاتیوں میں سے۔ (۲) یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ بدو لوگ نہ صرف حلال و حرام کے علم سے محروم ہوتے ہیں، بلکہ سمجھ ہونے کے باوجود غیر محتاط بھی ثابت ہوتے ہیں اور ذبح، شکار اور کھانے پینے کے دوسرے معاملات میں اسلامی آداب کو مد نظر نہیں رکھتے۔ ہم نے خود ایسے لوگوں کو کتوں کے ذریعے شکار کرتے دیکھا ہے، یہ شکار پر کتا چھوڑتے وقت بسم اللہ بھی نہیں پڑھتے اور جب شکار کو کتوں سے چھین کر ذبح کرتے ہیں تو یہ جائزہ بھی نہیں لیتے کہ وہ ذبح سے پہلے مر چکا تھا یا ابھی تک زندگی کی رمق باقی تھی۔ ہاں جب کسی خاص شخص کے بارے میں ظن غالب یہ ہو کہ وہ ذی شعور ہے اور اسلامی احکام کا علم رکھتا ہے اور ان کا پابند بھی ہے، تو اس کے ساتھ یہ معاملات کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
6270
Sahih
۔ (۶۲۷۱)۔ عَنْ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ، فَقَالَ: ((ہَلْ مِنْ طَعَامٍ؟)) قُلْتُ؟ لَا إِلَّا عَظْمًا أُعْطِیَتْہُ مَوْلَاۃٌ لَنَا مِنْ الصَّدَقَۃِ، قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَقَرِّبِیہِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّہَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۶۵)
۔ سیدہ جویریہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اورفرمایا: کیا کوئی کھانا ہے؟ میں نے کہا: جی کچھ نہیں ہے، البتہ (گوشت والی) وہ ہڈی ہے، جو ہماری لونڈی پر صدقہ کی گئی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لاؤ، میرے قریب کرو، صدقہ اپنے محل تک پہنچ چکا ہے۔
Takhreej
(۶۲۷۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۰۷۳ (انظر: ۲۷۴۲۰)
6271
Sahih