TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

وقف کے جواز، اس کی فضیلت اورغیر منقسم اور منقول چیز کے وقف کا بیان - وقف کے جواز، اس کی فضیلت اورغیر منقسم اور منقول چیز کے وقف کا بیان - وقف کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of وقف کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 2 · 5 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۶۳۱۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَمَلُہُ اِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ، اِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ، أَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہٖأَوْوَلَدٍصَالِحٍیَدْعُوْ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۸۳۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم فوت ہو جاتا ہے تو تین اعمال کے علاوہ اس کے تمام اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، ایک صدقہ جاریہ، دوسرا وہ علم جس سے فائدہ اٹھائے جائے اور تیسرا وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔
Takhreej
(۶۳۱۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۳۱(انظر: ۸۸۴۴)
Explanation
فوائد:… وقف، صدقہ جاریہ کی ایک صورت ہے۔
6312
Sahih
۔ (۶۳۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَصَابَ أَرْضًا مِنْ یَہُوْدِ بَنِیْ حَارِثَۃَیُقَالُ لَھَا: ثَمْغٌ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ أَصَبْتُ مَالًا نَفِیْسًا اُرِیْدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِہٖ،قَالَ: فَجَعَلَہَاصَدَقَۃً لَا تُبَاعُ وَلَا تُوْھَبُ وَلَا تُوْرَثُ، یَلِیْہَا ذَوُوْ الرَّأْیِ مِنْ آلِ عُمَرَ، فَمَا عَفَا مِنْ ثَمَرَتِہَا جَعَلَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَابْنِ السَّبِیْلِ وَفِی الرِّقَابِ وَالْفُقَرَائِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالضَّیْفِ، وَلَیْسَ عَلٰی مَنْ وَلِیَہَا جُنَاحٌ اَنْ یَاْکُلَ بِالْمَعْرُوْفِ أَوْ یُؤْکِلَ صَدِیْقًا غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْہُ، قَالَ حَمَّادٌ: فَزَعَمَ عَمْرُو بْنُ دِیْنَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُہْدِیْ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَفْوَانَ مِنْہُ، قَالَ: فَتَصَدَّقَتْ حَفْصَۃُ بِأَرْضٍ لَھَا عَلٰی ذٰلِکَ وَتَصَدَّقَ ابْنُ عُمَرَ بِأَرْضٍ لَہُ عَلٰی ذٰلِکَ وَوَلِیَتْہَا حَفْصَۃُ۔ (مسند احمد: ۶۰۷۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بنی حارثہ کے یہودیوں سے ثمغ نامی جو زمین حاصل کی تھی، اس کے بارے میں انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میںیہ گزارش کی: اے اللہ کے رسول! مجھے بڑا نفیس اور عمدہ مال ملا ہے، میں اس کو صدقہ کرنا چاہتا ہوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کے مطابق انھوں نے اس کو اس طرح صدقہ کیا کہ نہ اس کو بیچا جائے گا، نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ یہ کسی کے ورثے میں آئے گی، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آل کے سمجھ دار لوگ اس کی سرپرستی کریں گے، جو مال اس کے خرچ سے زائد ہوگا، اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ، مسافروں، غلاموں کو آزاد کرنے، فقرائ، رشتہ داروں اور مہمانوں پر خرچ کیا جائے گا۔ اس کا نگران اچھے طریقے سے اس سے خود بھی کھا لے اور مہمان کو بھی کھلا لے، لیکن اس سے مال بنانے کی کوشش نہ کرے۔ حماد کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن صفوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اسی زمین سے تحفہ بھیجا کرتے تھے۔ سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اپنے باپ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرح اپنی اپنی زمین صدقہ کر دی تھیں، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زمین کی نگران خود سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہی تھیں۔
Takhreej
(۶۳۱۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۳۷، ۲۷۷۲، ۲۷۷۳، ومسلم: ۱۶۳۲(انظر: ۶۰۷۸)
Explanation
فوائد:… یہ صحابۂ کرام f کا جذبۂ انفاق تھا، عمدہ اور نفیس قسم کی زمینیں وقف کر دینا کسی سرمایہ دار کے بس کی بات نہیں ہے، ایسے عظیم عمل کے لیے اللہ تعالی پر مضبوط ایمان اور رسول اللہa سے سچی محبت کی ضرورت ہے، بہرحال سیدنا عمر b نے احکام مرتب کر کے یہ زمینوقف کر دی۔ معین افراد پر صدقہ کرنے کے بجائے عام لوگوں کے لیے وقف کر دینے کے فوائد زیادہ ہیں، پھر بھی ایسا اقدام کرنے والے کو حکمران یا سمجھ دار لوگوں سے مشورہ کر لینا چاہیے کہ علاقے میں عام وقف کی زیادہ ضرورت ہے یا چند افراد کو خاص کر دینے کی، نبی کریمa دونوں امور کا خیال رکھتے تھے۔
6313
Sahih
۔ (۶۳۱۴)۔ وَ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: اَوَّلُ صَدَقَۃٍ کَانَتْ فِیْ الْاِسْلَامِ صَدَقَۃُ عُمَرَ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((احْبِسْ اُصُوْلَھَا وَسَبِّلْ ثَمَرَتَہَا۔)) (مسند احمد: ۶۴۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اسلا م میں سب سے پہلا صدقہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کیا ہوا تھا، ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کھجوروں کی اصل کو روک لواور ان کے پھلوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خیرات کر دو۔
Takhreej
(۶۳۱۴) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۶۴۶۰)
Explanation
فوائد:… اس سے آپ a کا مقصود وقف ہی تھا۔
6314
Sahih
۔ (۶۳۱۵)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمَی النَّقِیْعَ لِلْخَیْلِ، قَالَ حَمَّادٌ: فَقُلْتُ لَہُ: لِخَیْلِہِ؟ قَالَ: لَا، لِخَیْلِ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (مسند احمد: ۶۴۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نقیع کی چراگاہ کو گھوڑوں کے لئے خاص کر دیا تھا۔ حماد کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی، انھوں نے کہا: جی نہیں، مسلمانوں کے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی۔
Takhreej
(۶۳۱۵) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابن حبان: ۴۶۸۳ (انظر: ۶۴۳۸)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ نبی کریمa نے رفاہ عامہ کے لئے چراگاہ وقف کی تھی، جس سے بلا امتیاز لوگ مستفید ہو تے تھے، مسلمانوں کے خلیفہ کو ایسا کرنے کا حق حاصل ہے، بعض دیہاتی علاقوں میں دیکھا گیا ہے کہ مویشیوں کے چرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی اور سارے چارے کا انتظام گھر میں ہی کرنا ہوتا ہے، اس سے مالکوں کا خرچ بھی زیادہ ہوتا ہے اور محنت بھی بہت کرناپڑتی ہے، ایسے علاقوں کے سرمایہ دار لوگوں کو چاہیے کہ ایک دو ایکڑ زمین خرید کر اس میں مختلف درخت لگا دیں، گھاس وغیرہ تو خود بخود اگ آتی ہے، اس سے لوگ آگ جلانے کے لیے لکڑیاں بھی کاٹ سکیں گے اور اپنے مویشی بھی چرائیں گے، یہ بہت بڑا صدقہ ہو گا، البتہ متعلقہ لوگوں کا پر خلوص ہونا ضروری ہے اور کہیں ایسا بھی نہ ہو کہ بعد میںآنے والے ان کی نسل کے لوگ احسان جتلانا شروع کر دیں۔
6315
Sahih
۔ (۶۳۱۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ اَبُوْطَلْحَۃَ أَکْثَرَ الْأَنْصَارِ بِالْمَدِیْنَۃِ مَالًا وَکَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِہِ إِلَیْہِ بَیْرُحَائُ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ، وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْخُلُہَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِیْہَا طَیِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ {لَنْ تَنَالُو الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} قَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰییَقُوْلُ: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِیْ إِلَیَّ بَیْرُحَائُ وَاِنَّہَا صَدَقَۃٌ لِلّٰہِ، أَرْجُوْ بِہَا بِرَّھَا وَذُخْرَھَا عِنْدَ اللّٰہِ تَعَالٰی، فَضَعْہَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَیْثُ أَرَاکَ اللّٰہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَخٍ، بَخٍ ذَاکَ مَالٌ رَابِحٌ، ذَاکَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ، وَأَنَا أَرٰی أَنْ تَجْعَلَہَا فِی الْاَقْرَبِیْنَ۔)) فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ: اَفْعَلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَسَمَہَا اَبُوْ طَلْحَۃَ فِیْ أَقَارِبِہِ وَبَنِیْ عَمِّہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۶۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ کے انصاریوں میں سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے زیادہ مال والے تھے اورانہیں بیرحاء والا مال سب سے زیادہ پسند تھا، یہ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں جاتے اور اس کا شیریں پانی پیتے رہتے تھے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے، جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز کو خرچ نہیں کرو گے۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ {لَنْ تَنَالُو الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} اور بیرحاء کا مال مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، لہٰذا میں اسے رضائے الٰہی کے لئے صدقہ کر تا ہوں اورمجھے اس کی نیکی اور اللہ تعالی کے ہاں ذخیرۂ آخرت بننے کی امید ہے۔ اے اللہ کے رسول! جہاں آپ اللہ تعالی کی توفیق سے مناسب سمجھتے ہیں، اس کو خرچ کر دیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واہ، واہ، یہ تو بہت نفع بخش مال ہے، میں نے اس کے بارے میں سن لیا تھا، اب میرا خیالیہ ہے کہ تو اس کو قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دے۔ یہسن کر سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں ایسے ہی کروں گا، پھر اس باغ کو اپنے رشتہ داروں اور چچوں کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔
Takhreej
(۶۳۱۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۴۶۱، ۲۳۱۸، ۲۷۵۲، ومسلم: ۹۹۸ (انظر: ۱۲۴۳۸)
Explanation
فوائد:… اب معاشرے کی صورتحال یہ ہے کہ لوگ اپنی مالی صلاحیت کے مطابق خرچ نہیں کرتے، ہر آدمی نے پانچ دس سو پچاس کو ہی کافی سمجھ لیا ہے، بلکہ اس پر مستزاد یہ کہ محتاجوں کا بڑے سرمایہ دار تک پہنچنا ہی ناممکن ہو گیا ہے، یہ مشاہدہ شدہ بات ہے کہ جب کسی مسجد یااجتماع میں کسی محتاج کا اعلان کیا جاتا ہے تو اس پر صدقہ کرنے والے درمیانی آمدنی والے لوگ ہوتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ اس پر کیا ہوا صدقہ دس بیس بیس کے نوٹوں پر مشتمل ہوتا ہے، بڑے سرمایہ دار یوں نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جیسے اس محتاج پر صدقہ کرنا ان کے شایانِ شان نہیں ہے، مگر وہ جس پر میرا ربّ رحم کر دے، اگر دورِ نبوت میں ایسی حاجت محسوس کی جاتی تو صدقہ کرنے والے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر d جیسے بڑے لوگ ہوتے یا سیدنا ابو طلحہ b جیسے سرمایہ دار۔ اب ایسی باتیں سننے کو نہیں ملتیں کہ فلاں نے کسی غریب کو گھر بنوا کر دیا ہے، فلاں نے کسی کو کاروبار دیا ہے، فلاں نے غریب کی اولاد کی تعلیم کا خرچ اٹھا لیا ہے، فلاں نے کسی کو دو چار ایکڑ زمین دی ہے، جبکہ اس سے بڑی نیکیاں کر سکنے والے کروڑ پتی اور ارب پتی موجود ہیں،یایوں کہیں کہ اب معاشرے کے کئی افراد کے پاس صحابۂ کرامf کی بہ نسبت بہت زیادہ سرمایہ موجود ہے، لیکن نیکی کے معاملے میں صحابہ کے ہزارویں حصے تک بھی نہیں پہنچا جا رہا، یہ مقدار کی بات ہو رہی ہے، معیار میں ہمارا خیر القرون کے لوگوں سے موازنہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔
6316
Sahih