TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

وارث کے لیے وصیت کے نہ ہونے کا بیان - وارث کے لیے وصیت کے نہ ہونے کا بیان - وصیتوں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of وصیتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 4 · 2 Hadith
۔ (۶۳۳۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَۃَ الْخُشَنِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَہُمْ عَلٰی رَاحِلَتِہِ وَاِنَّ رَاحِلَتَہُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِہَا وَأَنَّ لُعَابَہَا یَسِیْلُ بَیْنَ کَتِفَیَّ فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِکُلِّ إِنْسَانٍ نَصِیْبَہُ مِنَ الْمِیْرَاثِ فَـلَا تَجُوْزُ وَصِیَّۃٌ لِوَارِثٍ۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۵۴)
۔ سیدنا عمرو بن خارجہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری جگالی کر رہی تھی اوراس کا لعاب میرے کندھوں پر بہہ رہا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے میراث سے ہر انسان کا حصہ مقرر کر دیا ہے، اس لیے کسی وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔
Takhreej
(۶۳۳۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۷۱۲، والنسائی: ۲/۲۷۴(انظر: ۱۸۰۸۶)
Explanation
فوائد:… ایک تہائی مال کی وصیت کا تعلق اس آدمی سے ہے، جو وارث نہ بن رہا ہو، مرنے والے کو کسی وارث کے حق میں اس کے شرعی حصے سے زیادہ وصیت کرنے کی اجازت نہیں ہے، اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کی وصیت کو ردّ کر دیا جائے گا۔
6332
Sahih
۔ (۶۳۳۳)۔ عَنْ اَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِیْ خُطْبَتِہِ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَعْطٰی کُلَّ ذِیْ حَقٍّ حَقَّہُ، فَـلَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۵۰)
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے حجۃ الوداع والے سال خطبہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ہرحقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، پس وارث کے لئے وصیت جائز نہیں ہے۔ … الحدیث
Takhreej
(۶۳۳۳) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۷۰، ۳۵۶۵، وابن ماجہ: ۲۰۰۷، ۲۲۹۵، ۲۳۹۸، ۲۴۰۵، ۲۷۱۳(انظر: ۲۲۲۹۴)
6333
Sahih