۔ (۶۳۳۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَۃَ الْخُشَنِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خَطَبَہُمْ عَلٰی رَاحِلَتِہِ وَاِنَّ رَاحِلَتَہُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِہَا وَأَنَّ لُعَابَہَا یَسِیْلُ بَیْنَ کَتِفَیَّ فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِکُلِّ إِنْسَانٍ نَصِیْبَہُ مِنَ الْمِیْرَاثِ فَـلَا تَجُوْزُ وَصِیَّۃٌ لِوَارِثٍ۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۵۴)
۔ سیدنا عمرو بن خارجہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری جگالی کر رہی تھی اوراس کا لعاب میرے کندھوں پر بہہ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے میراث سے ہر انسان کا حصہ مقرر کر دیا ہے، اس لیے کسی وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔
Takhreej
(۶۳۳۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۷۱۲، والنسائی: ۲/۲۷۴(انظر: ۱۸۰۸۶)
Explanation
فوائد:… ایک تہائی مال کی وصیت کا تعلق اس آدمی سے ہے، جو وارث نہ بن رہا ہو، مرنے والے کو کسی وارث کے حق میں اس کے شرعی حصے سے زیادہ وصیت کرنے کی اجازت نہیں ہے، اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کی وصیت کو ردّ کر دیا جائے گا۔
6332
Sahih