TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے - حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے - قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 21 of قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 21 of 38 · 3 Hadith
۔ (۶۵۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: بَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْسِمُ شَیْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَلَبَّ عَلَیْہِ فَطَعَنَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعُرْجُوْنٍ کَانَ مَعَہُ فَجُرِحَ بِوَجْہٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَعَالَ فَاسْتَقِدْ۔)) قَالَ: قَدْ عَفَوْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!۔ (مسند احمد: ۱۱۲۴۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مال تقسیم کر رہے تھے، ایک آدمی آگے بڑھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کھجور کی ایک ٹہنی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو وہ مار دی، جس سے اس کا چہر ہ زخمی ہو گا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آگے آ اور مجھ سے قصاص لے لے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو معاف کر دیا ہے۔
Takhreej
(۶۵۶۱) تخریج: حدیث حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۳۶، والنسائی: ۸/۳۲ (انظر: ۱۱۲۲۹)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کوئی فرد قصاص کے قانون سے مستثنی نہیں ہے، اگر سید الانبیاء کییہ صورتحال ہے تو اوروں کا اندازہ از خود ہو جانا چاہیے۔
6561
Sahih
۔ (۶۵۶۲)۔ عَنْ اَبِیْ فِرَاسٍ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ (فَذَکَرَ حَدِیْثًا طَوِیْلًا فِیْہ: أَلَا اِنِّیْ وَاللّٰہِ! مَا أُرْسِلُ عُمَّالِیْ اِلَیْکُمْ لِیَضْرِبُوْا أَبْشَارَکُمْ وَلَا لِیَأْخُذُوْا أَمْوَالَکُمْ، وَلٰکِنْ أُرْسِلُہُمْ إِلَیْکُمْ لِیُعَلِّمُوْکُمْ دِیْنَکُمْ وَسُنَّتَکُمْ فَمَنْ فُعِلَ بِہِ شَیْئٌ سِوٰی ذَالِکَ فَلْیَرْفَعْہُ إِلَیَّ، فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ إِذًا لَاُقِصَّنَّہُ مِنْہُ، فَوَثَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! أَوَ رَاَیْتَ إِنْ کَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ عَلٰی رَعِیَّۃٍ فَأَدَّبَ بَعْضَ رَعِیَّتِہِ أَئِنَّکَ لَمُقْتَصُّہُ مِنْہُ؟ قَالَ: اِیْ وَالَّذِیْ نَفْسُ عُمَرَ بِیِدِہِ! إِذًا لَاُقِصَّنَّہُ مِنْہُ، وَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقِصُّ مِنْ نَفْسِہِ۔ (مسند احمد: ۲۸۶)
۔ ابو فراس سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطبہ دیا، جس میں انھوں نے ایک لمبی حدیث ذکر کی اور کہا: خبر دار! میں تم پر حکومتی کارندوں کو اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہارے جسموں پر ضربیں لگائیں اور تمہارے مال چھین لیں، میں تو ان کو تمہار ے پاس اس لیے بھیجتا ہوں کہ وہ تمہیں دین اور سنت کی تعلیم دیں، جس کے ساتھ کوئی اور کاروائی کی جائے، وہ مجھے بتائے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے ضرور ضرور قصاص دلوائوں گا، سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اچھل کر کھڑے ہوئے اور کہا: اے امیر المومنین، آپ بتائیں کہ ایکآدمی رعایا پر مقرر ہوتا ہے اور اسے ادب سکھانے کے لیے سزا دیتا ہے، کیا آپ اس سے بھی قصاص لیں گے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اس ذات قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے! میں اس کو ضرورقصاص دلواؤں گا، میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے نفس سے قصاص دلواتے تھے۔
Takhreej
(۶۵۶۲) تخریج: ابو فراس النھدی، وقال ابو زرعہ: لا اعرفہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۳۷، والنسائی: ۸/۳۴ (انظر: ۲۸۶)
Explanation
فوائد:… عبد اللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر b نے کہا: إِنَّ أُنَاسًا کَانُوا یُؤْخَذُونَ بِالوَحْیِ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ الوَحْیَ قَدِ انْقَطَعَ، وَإِنَّمَا نَأْخُذُکُمُ الآنَ بِمَا ظَہَرَ لَنَا مِنْ أَعْمَالِکُمْ، فَمَنْ أَظْہَرَ لَنَا خَیْرًا، أَمِنَّاہُ، وَقَرَّبْنَاہُ، وَلَیْسَ إِلَیْنَا مِنْ سَرِیرَتِہِ شَیْء ٌ اللَّہُ یُحَاسِبُہُ فِی سَرِیرَتِہِ، وَمَنْ أَظْہَرَ لَنَا سُوء ًا لَمْ نَأْمَنْہُ، وَلَمْ نُصَدِّقْہُ، وَإِنْ قَالَ: إِنَّ سَرِیرَتَہُ حَسَنَۃٌ۔… بیشک عہد ِ نبوی میں وحی کے ذریعے لوگوں کا مؤاخذہ ہو جاتا تھا، اب وحی تو منقطع ہو چکی ہے، پس اب ہم تمہارے ظاہری اعمال کی روشنی میں تمہاری گرفت کریں گے، جو ہمارے لیے خیر و بھلائی کا اظہار کرے گا، ہم اس کو امین سمجھیں گے اور اس کو اپنے قریب کریں گے، جبکہ اس کے باطن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہو گا، اللہ تعالی اس کے باطن کا محاسبہ کرے گا، اور جو آدمی ہمارے لیے برے اعمال کو ظاہر کرے گا، ہم اس کو امین سمجھیں گے نہ اس کی تصدیق کریں گے، اگرچہ اس کا باطن پاک ہو۔ (صحیح بخاری: ۲۶۴۱)
6562
Zaeef
۔ (۶۵۶۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ أَبَاجَہْمٍ مُصَدِّقًا فَلَاجَّہُ رَجُلٌ فِیْ صَدَقَتِہِ فَضَرَبَہُ أَبُوْ جَہْمٍ فَشَجَّہُ فَأَتَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: الْقَوَدَ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَکُمْ کَذَا وَکَذَا۔)) فَلَمْ یَرْضَوْا، قَالَ: ((فَلَکُمْ کَذَا وَکَذَا۔)) فَلَمْ یَرْضَوْا، قَالَ: ((فَلَکُمْ کَذَا وَکَذَا۔)) فَرَضُوْا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنِّیْ خَاطِبٌ عَلَی النَّاسِ وَمُخْبِرُھُمْ بِرِضَاکُمْ۔)) قَالُوْا: نَعَمْ، فَخَطَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اِنَّ ھٰؤُلَائِ اللَّیْثِیِّیْنَ أَتَوْنِیْیُرِیْدُوْنَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَیْہِمْ کَذَا وَکَذَا فَرَضُوْا، أَ رَضِیْتُمْ؟)) قَالُوْا: لَا، فَہَمَّ الْمُہَاجِرُوْنَ بِہِمْ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَکُفُّوْا فَکَفُّوْا ثُمَّ دَعَاھُمْ فَزَادَھُمْ وَقَالَ: ((أَرَضِیْتُمْ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاِنِّیْ خَاطِبٌ عَلَی النَّاسِ وَمُخْبِرُھُمْ بِرَضَاکُمْ۔)) فَخَطَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَرَضِیْتُمْ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۸۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو جہم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو صدقہ کی وصولی کے لیے بھیجا، ایک آدمی نے صدقہ دینے میں ان سے جھگڑا کیا، جواباً ابو جہم نے اسے مار کر اس کا سرزخمی کر دیا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور قصاص کا مطالبہ کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اتنا کچھ لے لو۔ لیکن وہ راضی نہ ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو تمہیں اتنا کچھ مل جائے گا۔ لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو، تم کو اتنا کچھ دے دیتے ہیں۔ پس اب کی بار وہ راضی ہوگئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: میں لوگوں سے خطاب کرتا ہوں اور ان کو تمہاری رضا مندی سے آگا ہ کرتا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: لیث قبیلے کے یہ افراد میرے پاس آئے، انھوں نے قصاص کا مطالبہ کیا، میں نے ان پر اتنا مال پیش کیا اور ان سے پوچھا: کیا اب راضی ہو گئے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، مہاجرین نے ان کو کچھ کہنا چاہا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو رکنے کا حکم دیا تو وہ رک گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بلایا اور مزید دے کر فرمایا: اب راضی ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس بیشک میں لوگوں کو خطاب کر کے ان کو تمہاری رضا کے بارے میں بتلانے والا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مخاطب ہوئے اور فرمایا: کیا تم لوگ اب راضی ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۶۵۶۳) اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۵۳۴، والنسائی: ۸/ ۳۵، وابن ماجہ: ۲۶۳۸ (انظر: ۲۵۹۵۸)
Explanation
فوائد:… اگر بادشاہ اور کوئی صاحب ِ اختیار و اقتدار حکمران کسی کے ساتھ اس قسم کی زیادتی اور مار کٹائی والا معاملہ کرے، جیسا کہ سیدنا ابو جہم b نے کیا تھا تو اس سے قصاص لیا جائے گا، تاہم فریقِ ثانی کو کچھ دے دلا کر بھی معاملہ رفع دفع کیا جا سکتا ہے۔ اس حدیثسےیہ بھی معلوم ہوا کہ جب مظلوم قصاص کا ہی مطالبہ کر رہا ہو تو اس کو اس کی دیت سے زیادہ دے کر اس کو راضی کیا جا سکتا ہے۔ دیہاتی طبعاً سخت مزاج اور لاعلم ہوتے ہیں، اسی بنا پر انھوں نے نبی کریمa کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا، آپa نے اپنی وسعت ِ ظرفی اور حسن اخلاق کی روشنی میں ان کے اس رویے سے در گزر فرمایا۔
6563
Sahih

Chapters

38
01
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
13 Hadith
02
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
8 Hadith
03
مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان
5 Hadith
04
ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
4 Hadith
05
خود کشی کرنے پر وعید کا بیان، وہ جس چیز سے مرضی خود کشی کرے
8 Hadith
06
نفس کی حفاظت کرنے اوراسے ہلاکت سے بچانے کے واجب ہونے کا بیان
3 Hadith
07
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
13 Hadith
08
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
8 Hadith
09
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
6 Hadith
10
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
7 Hadith
11
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
5 Hadith
13
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
6 Hadith
14
ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
2 Hadith
15
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
16
ہر روح والی چیز کو آگ سے جلانے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
3 Hadith
18
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
5 Hadith
19
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
4 Hadith
20
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
4 Hadith
21
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
3 Hadith
22
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
23
دانت توڑنے کے قصاص کا بیان
2 Hadith
24
کان کا بعض حصہ کاٹنے میں قصاص لینے کا بیان
1 Hadith
25
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
3 Hadith
26
زخم کے درست ہونے سے پہلے قصاص لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
27
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
3 Hadith
28
قسامہ کا بیان
3 Hadith
29
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
3 Hadith
30
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
6 Hadith
31
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
4 Hadith
32
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
6 Hadith
33
ذمیوں اور مکاتَب کی دیت کا بیان
6 Hadith
34
جنین کی دیت کا بیان
5 Hadith
35
اس شخص کا بیان کہ جس کے والد کو از راہِ خطا قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے اس کی دیت کو مسلمانوں پر خیرات کر دیا
1 Hadith
36
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
1 Hadith
37
عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
5 Hadith
38
کسی شخص کا دوسرے کے جرم کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں ہو گا، اگرچہ وہ اس کا سب سے قریبی رشتہ دار ہو
4 Hadith
No chapter matched that.