TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ہیجڑوں کا عورتوں پر داخل ہونے سے ممانعت کا بیان - ہیجڑوں کا عورتوں پر داخل ہونے سے ممانعت کا بیان - زنا کی حد کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 8 of زنا کی حد کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 8 · 5 Hadith
۔ (۶۶۷۷)۔ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَھَا مُخَنِّثٌ وَعِنْدَھَا أَخُوْھَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ أُمَیَّۃِ وَالْمُخَنِّثُ یَقُوْلُ لِعَبْدِ اللّٰہِ: یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اَبِیْ أُمَیَّۃَ إِنْ فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَعَلَیْکَ بِاِبْنَۃِ غَیْلَانَ فَاِنَّہَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، قَالَتْ: فَسَمِعَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَۃَ: ((لَا یَدْخُلَنَّ ھٰذَا عَلَیْکِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۲۳)
۔ سیدنا ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میرے پاس ایک ہیجڑا بیٹھا ہوا تھا، لیکن میرا بھائی سیدنا عبد اللہ بن ابی امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، اس ہیجڑے نے عبد اللہ سے کہا: اے عبد اللہ بن زمعہ! اگر کل اللہ تعالی نے تمہارے لیے طائف کو فتح کر لیا تو غیلان کی بیٹی کو تو نے لازمی طور پر پکڑ لینا ہے، کیونکہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ جاتی ہے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے یہ الفاظ سنے تو سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے فرمایا: آئندہ یہ ہیجڑا ہر گز تجھ پر داخل نہ ہونے پائے۔
Takhreej
(۶۶۷۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۳۲۴، ۵۲۳۵، ومسلم: ۲۱۸۰ (انظر: ۲۶۴۹۰)
6677
Sahih
۔ (۶۶۷۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَجُلٌ یَدْخُلُ عَلٰی أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُخَنِّثٌ وَکَانُوْا یَعُدُّوْنَہُ مِنْ غَیْرِ أُوْلِی الْإِرْبَۃِ، فَدَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا وَھُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِہِ وَھُوَ یَنْعَتُ امْرَأَۃً فَقَالَ: إِنَّہَا اِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ، وَاِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا أَرٰی ھٰذَا یَعْلَمُ مَا ھَاھُنَا، لَا یَدْخُلُ عَلَیْکُنَّ ھٰذَا۔)) فَحَجَبُوْہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۰۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک ہیجڑا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس آتا رہتا تھا، لوگ سمجھتے تھے کہ وہ شہوانی خواہشات سے عاری ہے، ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب تشریف لائے تو وہ ہیجڑا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کسی اہلیہ کے پاس موجود تھا، وہ ایک عورت کا حسن یوں بیان کرنے لگا کہ وہ جب آتی ہے تو چار بَلْ کے ساتھ آتی ہے اور جب وہ جاتی ہے تو آٹھ بل کے ساتھ جاتی ہے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ اتنا کچھ جانتا ہے، یہ آئندہ تمہارے پاس نہ آنے پائے۔ پس لوگوں نے اس کو منع کر دیا۔
Takhreej
(۶۶۷۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۸۱، وابوداود!: ۴۱۰۹(انظر: ۲۵۱۸۵)
Explanation
فوائد:… عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ ہیجڑوں میں سنجیدگی اور شرم و حیا کم ہوتا ہے، بلکہ پایا ہی نہیں جاتا، یہ لوگ مردوں سے بھی شہوانی باتیں کرتے ہیں اور عورتوں سے بھی، درج بالا احادیث سے پتہ چلا کہ یہ مرد و زن کی کیفیت بھی بتلا سکتے ہیں، جبکہ ایسا کرنے سے پردہ بے معنی ہو جاتا ہے، پھر آگے سے ان کے مخاطَب افراد بھی غیر سنجیدہ ہو کر شرارت والی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں اور شہوانی جذبات ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں، ایسے ہیجڑوں کو خواتین و حضرات دونوں کے پاس آنے سے منع کر دینا چاہیے۔
6678
Sahih
۔ (۶۶۷۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمُخَنِّثِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ وَقَالَ: ((اَخْرِجُوْھُمْ مِنْ بُیُوْتِکُمْ۔)) فَأَخْرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فُلَانًا وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا۔ (مسند احمد: ۱۹۸۲)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو ہیجڑا پن اپناتے ہیں اور ان عورتوں پر بھی لعنت کی ہے جو مردانہ پن اپناتی ہیں اور فرمایا: ہیجڑوں کو اپنے گھروں سے نکال دو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فلاں کو اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فلاں کو گھر سے نکال دیا تھا۔
Takhreej
(۶۶۷۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۸۸۶، ۶۸۳۴، وابوداود!: ۴۹۳۰(انظر: )
6679
Sahih
۔ (۶۶۸۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُخَنِّثِی الرِّجَالِ الَّذِیْنَیَتَشَبَّہُوْنَ بِالنِّسَائِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ الْمُتَشَبِّہَاتِ بِالرِّجَالِ، وَرَاکِبَ الْفَلَاۃِ وَحْدَہُ۔ (مسند احمد: ۷۸۴۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مردوں کے ان ہیجڑوں پر لعنت کی ہے، جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوںپر بھی لعنت کی، جو مردوں کا سا انداز اپناتی ہیں اور ان کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور اس پر بھی لعنت کی ہے جو جنگل میں تنہا سفر کرتا ہے۔
Takhreej
(۶۶۸۰) تخریج: صحیح دون قولہ ’’وراکب الفلاۃ وحدہ‘‘، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ طیب بن محمد۔ أخرجہ البیھقی فی ’’الشعب‘‘: ۴۷۲۸، وابن ابی شیبۃ: ۹/ ۶۳ (انظر: ۷۸۵۵)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالی نے مرد و زن دونوں کی وضع قطع، بول چال، چلن پھرن، نقل و حرکت اور دیگر کئی صفات علیحدہ علیحدہ بنائی ہیں اور ہر جنس کے لیے بعض خاص احکام نافذ کیے ہیں، مثلا لباس، خوشبو، سر کے بال، وغیرہ۔ ہر جنس کو چاہیے کہ وہ اپنی فطرتی صفات پر پابند رہے اور تکلف اختیار کرتے ہوئے مرد، عورت کی اور عورت، مرد کی صفات اختیار نہ کرے، وگرنہ وہ آپ a کی لعنت کے مستحق ٹھہریں گے۔
6680
Sahih
۔ (۶۶۸۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَعَنَ الْمُخَنِّثِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ۔ (مسند احمد: ۵۳۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مردوں میں سے بہ تکلف ہیجڑا پن اختیار کرنے والوں پر لعنت کی ہے اور عورتوں میں سے جو مردوں کا سا پن اپناتی ہیں، ان پر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لعنت کی ہے۔
Takhreej
(۶۶۸۱) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف ثویر۔ أخرجہ البزار: ۲۰۷۵، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۳۴۷۷ (انظر: ۵۳۲۸)
6681
Sahih