TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے - اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے - نکاح کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of نکاح کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 17 · 10 Hadith
۔ (۶۸۴۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ، قَالَ: ((اِنَّ الدُّنْیَا کُلَّہَا مَتَاعٌ وَخَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا الْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ۔)) (مسند احمد: ۶۵۶۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دنیاساری کی ساری متاع ہے اور دنیا کا بہترین سرمایہ نیک عورت ہے۔
Takhreej
(۶۸۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۶۷(انظر: ۶۵۶۷)
Explanation
فوائد:… ’’متاع‘‘ اس چیز کو کہتے ہیں، جس سے تھوڑا سا فائدہ اٹھایا جائے اور وہ جلد ہی ختم ہو جائے، دنیا اور اس کی ہر چیز متاع ہے، آخرت کے مقابلے میں اس کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور وہ بھی جلد زائل ہو جانے والا ہے۔ نیک خاتون دنیا کا سب سے بہترین سرمایہ ہے، کیونکہ وہ خاوند کو حرام سے بچاتی ہے اور اس کے دنیوی اور دینی امور کو سرانجام دینے پر اس کا تعاون کرتی ہے اور ہر وہ لذت جو آخرت کی لذتوں کے حصول کے لیے معاون ہو، وہ اللہ تعالی کی محبوب اور پسندیدہ چیز ہے۔
6844
Sahih
۔ (۶۸۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُنْکَحُ النِّسَائُ لِأَرْبَعٍ، لِمَالِھَا وَجَمَالِھَا وَحَسَبِہَا وَدِیْنِہَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّیْنِ، تَرِبَتْ یَدَاکَ۔)) (مسند احمد: ۹۵۱۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار وجوہات کی بنا پر عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے، مال، جمال، حسب اور دین، تو دین والی کے ساتھ کامیاب ہو، تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں۔
Takhreej
(۶۸۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۹۰، ومسلم: ۱۴۶۶ (انظر: ۹۵۲۱)
Explanation
فوائد:… اسلام میں اللہ کا خوف اور عمل صالح کی سب سے زیادہ اہمیت ہے، اللہ تعالی کے ہاں وہی زیادہ معزز ہے، جو اس سے زیادہ ڈرنے والا ہے، اس لیے نیک اور دین دار خاتون کو ترجیح دینی چاہیے، اسی میں دین و دنیا کی خیر و بھلائی ہے۔ تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، تیری ماں تجھے گم پائے،تیرا ناک خاک آلود ہو جائے، تجھ پر افسوس ہے، تیری ماں مر جائے، عرب اس قسم کے جملوں کے اصل معانی مراد نہیں لیتے، جو کہ بد دعا پر مشتمل ہیں، بلکہ ان کا مقصود ان امور میں سے کوئی ایک ہوتا ہے: مدح کرنا، مذمت کرنا، انکار کرنا، رغبت دلانا، تعجب کرنا۔
6845
Sahih
۔ (۶۸۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی اِحْدٰی خِصَالٍ ثَلَاثَۃٍ، تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی مَالِھَا، وَتُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی جَمَالِھَا، وَتُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی دِیْنِہَا، فَخُذْ ذَاتَ الدِّیْنِ وَالْخُلُقِ، تَرِبَتْ یَمِیْنُکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۷)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک عورت سے تین خصلتوں میں سے کسی ایک کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، عورت سے اس کے مال کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے، ایک عورت سے اس کے حسن و جمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے اور ایک عورت سے اس کے دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے تو دین اور اخلاق والی خاتون کو منتخب کر لے۔
Takhreej
(۶۸۴۶) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۴/ ۳۱۰، والبزار: ۱۴۰۳، وابویعلی: ۱۰۱۲، وابن حبان: ۴۰۳۷، والحاکم: ۲/۱۶۱ (انظر: ۱۱۷۶۵)
6846
Sahih
۔ (۶۸۴۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۰۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۶۸۴۷) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۲۵۱۹۱)
6847
Sahih
۔ (۶۸۴۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمَرْأَۃَ تُنْکَحُ لِدِیْنِہَا وَمَالِھَا وَجَمَالِھَا، فَعَلَیْکَ بِذَاتِ الدِّیْنِ، تَرِبَتْ یَدَاکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۸۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت سے اس کے دین، اس کے مال اور اس کے جمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، تو دین والی کو لازم پکڑ۔
Takhreej
(۶۸۴۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۸۶۰، والنسائی: ۶/ ۶۵، أخرجہ مختصرا الترمذی: ۱۰۸۶(انظر: ۱۴۲۳۷)
6848
Sahih
۔ (۶۸۴۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَنْکِحُوْا اُمَّہَاتِ الْأَوْلَادِ، فَاِنِّی أُبَاھِی بِہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۹۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیادہ بچے جنم دینی والی خواتین سے شادی کرو، کیونکہ میں روزِ قیامت تمہاری کثرت کی وجہ سے فخرکروں گا۔
Takhreej
(۶۸۴۹) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۶۵۹۸)
6849
Sahih
۔ (۶۸۵۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْمُرُ بِالْبَائَۃِ وَیَنْہٰی عَنِ التَّبَتُّلِ نَہْیًا شَدِیْدًا، وَیَقُوْلُ: ((تَزَوَّجُوْا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَاِنِّی مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاَنْبِیَائَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۴۰)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شادی کرنے کا حکم دیتے اور تبتّل سے سختی کے ساتھ منع کرتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیار کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ میں روزِ قیامت تمہاری کثرت ِ تعداد کی وجہ سے دیگر انبیائے کرام پر فخر کروں گا۔
Takhreej
(۶۸۵۰) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۵۰۹۵، والبزار: ۱۴۰۰، وابن حبان: ۴۰۲۸، والبیھقی: ۷/ ۸۱ (انظر: ۱۲۶۱۳)
Explanation
فوائد:… یہ کیسے پتہ چلے گا کہ فلاں خاتون زیادہ بچے جنم دینے والی ہے؟ خاندان کی شادی شدہ خواتین سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس خاندان کی عورتوں کی زیادہ اولاد ہوتی ہے اور یہ بھی ممکن ہو کہ آپ a کی مراد کنواری خواتین ہوں، کیونکہ وہ بیوہ کے مقابلے میں زیادہ بچے جنم دینے والی ہوتی ہیں۔
6850
Sahih
۔ (۶۸۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیُّ النِّسَائِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((الَّتِیْ تَسُرُّہُ، اِذَا نَظَرَ، وَتُطِیْعُہ اِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُہُ فِیْمَایَکْرَہُ فِی نَفْسِہَا وَمَالِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۴۱۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کونسی عورت سب سے بہتر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہے کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے اور جب وہ اس کو حکم دے تو وہ فرمانبرداری کرے اور خاوند اس کے نفس اور اپنے مال کے بارے میں جس چیز کو ناپسند کرتا ہے، وہ اس کی مخالفت نہ کرے۔
Takhreej
(۶۸۵۱) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ النسائی: ۶/ ۶۸(انظر: ۷۴۲۱)
Explanation
فوائد:… میاں بیوی کی موافقت کے بغیر معاشرہ پرسکون نہیں رہ سکتا اور اگر دونوں کی مساوی حیثیت ہو تو موافقت کا امکان بہت کم ہے، اس لیے بیوی کو خاوند کے تابع کر دیا گیا ہے، کیونکہ مرد بلکہ مذکر کی فضیلت فطرتاً اور عملاً مسلم ہے، لہذا بہترین بیوی وہ ہے جو اپنے خاوند کے تابع فرمان رہے تاکہ معاشرہ جنت نظیر بن سکے۔ جس معاشرے میں مرد و زن کی حیثیت مساوی ہے، وہاں معاشرتی بے سکونی اور ازدواجی ابتری عام ہے۔
6851
Sahih
۔ (۶۸۵۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مِنْ یُمْنِ الْمَرْأَۃِ تَیْسِیْرُ خِطْبَتِہَا وَ تَیْسِیْرُ صَدَاقِہَا وَتَیْسِیْرُ رَحِمِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۸۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورت کی برکت میں سے یہ (بھی) ہے کہ اس کی منگنی آسانی سے ہوئی ہو، مہر آسان ہو اور جلدی حاملہ ہونے والی ہو۔
Takhreej
(۶۸۵۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ البزار: ۱۴۱۷، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۳۶۳۷، والبیھقی: ۷/ ۲۳۵ (انظر: ۲۴۴۷۹)
Explanation
فوائد:… موجودہ معاشرے کے رسم و رواج نے عورتوں سے یہ برکت چھین لی ہے، اب تو منگنی بھی اچھی خاصی تقریب میں طے کی جاتی ہے اور اس وقت سے لینے دینے کے وہ سلسلے شروع ہو جاتے ہیں کہ جن کی وجہ سے عوام کا دم گھٹنے لگ گیا ہے ، لیکن کیا کیا جائے، ظاہر پرستی کا غلبہ ہے، بناوٹی عزتوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے، معاشرے کی رفتار کے ساتھ چلنا ہے، منگنی کے بعد والی عیدوں پر تحائف کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے، دبی زبانوں کے ساتھ والدین شکوہ کر رہے ہیں، لیکن جب ان کو شرعی مسئلہ سمجھایا جاتا ہے تو کہتے ہیں: اب کیا کریں جی، فلاں ناراض ہوتا ہے، فلاں باتیں کرتے ہیں، بچہ مانتا نہیں ہے، ایک علاقے میںیہ رواج ہے کہ دولہا کی طرف سے شادی کے دن کا تعین کرنے کے لیے جتنے لوگ دلہن کے گھر آئیں گے، ان سب کو ایک ایک قیمتی سوٹ دیا جائے گا، اتفاق سے ایک غریب گھرانے کی بچی کا دن رکھنے کے لیےپچیس افراد آ گئے اور ان کو کرنڈی کے بہترین پچیس سوٹ دیئے، جبکہ عام دنوں میں گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا اور وہ سوٹ تیار کرنے کے لیے صرف قرض نہیں مانگا گیا، بلکہ بھیک بھی مانگی گئی اور دست ِ سوال بھی پھیلایا گیا۔ منگنی کی رسم کے بعد جہیز کی تیاری، مہندی اور ابٹن کی رسمیں، پھر سینکڑوں افراد پر مشتمل بارات، اس میں دودھ پلائی رسم، عام سطح پر پندرہ بیس بیس ہزار روپے دے کر دلہن کا بیوٹی پارلر میں میک اپ کرانا، حاضرین کا دلہن کو دیکھنے کا کرایہ دینا، پھر ولیمہ اور اس میں شرکت کرنے والے کا نیندرا اور ملبوسات کی صورت میں تحائف دینا، تقریب کے بعد تحائف کی چیکنگ اور گلے شکوے۔ ایتھے کوئی ہک مصیبت اے!!! اور تقریباً بیشتر گھرانوں میں شادی کے کچھ دنوں کے بعد ماحول میںکشیدگی کا آغاز ہو جاتا ہے، کہیں ساس بہو کا مسئلہ، کہیں بیٹے اور اس کے والدین کا مسئلہ، کہیں بھاوج اور دیور دیوارنیوں کا مسئلہ، کہیں گھر علیحدہ کرنے کا مطالبہ نبی کریمa سیدہ عائشہ c کو لینے کے لیے اکیلے گئے تھے اور گھر والوں نے سیدہ کو فی الفور تیار کر کے آپa کے سپرد کر دیا۔ اللہ تعالی خیر کرے، اگر بیوی کو حمل نہ ٹھہرنے کا مسئلہ پیدا ہو جائے یا کچھ ماہ کے بعد حمل ساقط ہو جاتا ہویا ولادت کے وقت آپریشن وغیرہ کی ضرورت پڑ جائے تو اس سے خوشکن ماحول کم ہونے لگتا ہے، ذہنی اذیت میں اضافہ ہوتا ہے اور اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں۔
6852
Sahih
۔ (۶۸۵۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْسَلَ أُمَّ سُلَیْمٍ تَنْظُرُ اِلٰی جَارِیَۃٍ، فَقَالَ: ((شُمِّی عَوَارِضَہَا وَانْظُرِیْ اِلٰی عُرْقُوْبِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۵۷)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو ایک لڑکی دیکھنے کے لئے بھیجا اور فرمایا: اس لڑکی کے سائیڈوں والے دانت سونگھنا اور اس کی ایڑھی کے اوپر کا پٹھا دیکھنا۔
Takhreej
(۶۸۵۳) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۱۶۶، والبیھقی: ۷/۸۷ (انظر: ۱۳۴۲۵)
Explanation
فوائد:… اس پٹھے سے موٹے اور پتلے دبلے جسم کا اندازہ کیا جا سکتاہے، اگر یہ پٹھا واضح نظر آ رہا ہو توباقی جسم پتلا ہوتا ہے اور اگر یہ واضح نہ ہو تو جسم موٹا ہوتا ہے۔ امام حاکم اور امام بیہقی کی روایات میںیہ تفصیل ہے: جب سیدہ ام سلیمc ان کے پاس گئیں تو انھوں نے کہا: اے ام فلاں! ہم آپ کو کھانا کھلائیں؟ انھوں نے کہا: لیکن میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گی، جب تک فلاں لڑکی کھانا پیش نہ کرے، پس وہ ایک کارنس کی طرف چڑھی، اُدھر سیدہ ام سلیمc نے اس کا پٹھا دیکھ لیا، پھر اس سے کہا: بیٹی! میری جوئیں نکالو، پس وہ جوئیں نکالنے لگ گئی اور وہ اس کے دانتوں کو سونگنے لگ گئی، پھر وہ واپس آئی اور رسو ل اللہa کو تفصیل بتائی۔
6853
Sahih

Chapters

17
01
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
8 Hadith
03
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
10 Hadith
04
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
3 Hadith
05
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
4 Hadith
06
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
07
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
6 Hadith
08
منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
6 Hadith
09
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
6 Hadith
10
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
11
نکاح میںیتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
3 Hadith
12
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
2 Hadith
13
باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
4 Hadith
14
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
1 Hadith
15
نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
5 Hadith
16
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
17
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.