TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

آزادی کو اور قرآن مجید کے بعض حصے کی تعلیم کو مہر بنانے کا بیان - آزادی کو اور قرآن مجید کے بعض حصے کی تعلیم کو مہر بنانے کا بیان - مہر کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of مہر کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 6 · 3 Hadith
۔ (۶۹۲۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَعْتَقَ صَفِیَّۃَ بِنْتَ حُیَیٍّ وَجَعَلَ عِتْقَہَا صَدَاقَہَا۔(مسند احمد: ۱۳۵۴۰)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ صفیہ بنت حیی کو آزاد کیا او ر ان کی آزادی کوہی ان کا حق مہر مقرر کر دیا۔
Takhreej
(۶۹۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۸۶، ومسلم: ص ۱۰۴۵(انظر: ۱۳۵۰۶)
Explanation
فوائد:… یہ رمضان ۷ ھ کا واقعہ ہے، یہ غزوہ بنو مصطلق میں قید ہو کر آئیں۔ حیییہودی کی بیٹی تھیں آپa نے انہیں غلامی سے آزاد کر دیا اور اسی آزادی کو حق مہر قرار دیتے ہوئے ان سے نکاح کر لیا اور اس طرح سیدہ صفیہ ام المومنین بن گئیں۔
6929
Sahih
۔ (۶۹۳۰)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَتْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ قَدْ وَھَبْتُ نَفْسِیْ لَکَ، فَقَامَتْ قِیَامًا طَوِیْلًا،فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! زَوِّجْنِیْہَا اِنْ لَمْ یَکُنْ لَکَ بِہَا حَاجَۃٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَلْ عِنْدَکَ مِنْ شَیْئٍ تُصْدِقُہَا إِیَّاہ؟)) فَقَالَ: مَاعِنْدِیْ اِلَّا إِزَارِیْ ھٰذَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنْ أَعْطَیْتَہَا إِزَارَکَ جَلَسْتَ لَا اِزَارَ لَکَ فَالْتَمِسْ شَیْئًا))، فَقَالَ: مَا أَجِدُ شَیْئًا، فَقَالَ: ((الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِیْدٍ۔)) فَالْتَمَسَ فَلَمْ یَجِدْ شَیْئًا، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَلْ مَعْکَ مِنَ الْقُرْآنِ شَیْئٌ؟)) قَالَ: نَعَمْ، سُوْرَۃُ کَذَا وَسُوْرَۃُ کَذَا لِسُوَرٍ یُسَمِّیْہَا، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدْ زَوَّجْتُکُمَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((فَقَدْ أَمْلَکْتُہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ۔)) قَالَ: فَرَأَیْتُہُیَمْضِیْ وَھِیَ تَتْبَعُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۳۸)
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے نفس کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں، پھر وہ کافی دیر تک کھڑی رہی، اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو میرے ساتھ اس کی شادی کردیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس اس کو حق مہر دینے کے لئے کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس تو یہ تہہ بند ہی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ تہہ بند تو اسے دے دے گا تو تو خود بغیر تہبند کے رہ جائے گا، جا کوئی اور چیز تلاش کر کے لا۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تلاش تو کر، اگر چہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ اس نے تلاش کی، مگر وہ کوئی چیز نہ پا سکا، بالآخرنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تجھے قرآن کا کوئی حصہ یاد ہے؟ اس نے کہا : جی فلاں فلاں سورتیںیاد ہیں، اس نے ان سورتوں کے نام بھی لئے، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: جو قرآن مجید تجھے یاد ہے، میں نے اس کے عوض تیری اس خاتون سے شادی کر دی ہے۔ ایک روایت میں ہے: قرآن مجید کا جو حصہ تجھے یاد ہے، میں نے اس کے عوض تجھے اس خاتون کا مالک بنا دیا ہے۔ پھر میں نے اس آدمی کو دیکھا، وہ جا رہا تھا اور اس کی بیوی اس کے پیچھے چل رہی تھی۔
Takhreej
(۶۹۳۰) أخرجہ البخاری: ۲۳۱۰، ۵۱۳۵، ومسلم: ۱۴۲۵ ،وابوداود!: ۲۱۱۱(انظر: ۲۲۸۵۰)
6930
Sahih
۔ (۶۹۳۱)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلَ رَجُلًا مِنْ صَحَابَتِہِ فَقَالَ: ((أَیَ فُلَانُ! ھَلْ تَزَوَّجْتَ؟)) قَالَ: لَا، وَلَیْسَ عِنْدِیْ مَا أَتَزَوَّجُ بِہِ، قَالَ: ((أَ لَیْسَ مَعَک {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ}؟)) قَالَ: بَلٰی، قَالَ: ((رُبُعُ الْقُرْآنِ۔)) قَالَ: ((أَ لَیْسَ مَعَکَ {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ}؟)) قَالَ: بَلٰی، قَالَ: ((رُبُعُ الْقُرْآنِ۔)) قَالَ: ((أَ لَیْسَ مَعَکَ {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ}؟)) قَالَ: بَلٰی، قَالَ: ((رُبُعُ الْقُرْآنِ۔)) قَالَ: ((أَ لَیْسَ مَعَکَ {اِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ}؟)) قَالَ: بَلٰی، قَالَ: ((رُبُعُ الْقُرْآنِ۔)) قَالَ: ((أَ لَیْسَ مَعَکَ آیَۃُ الْکُرْسِیِّ {اَللّٰہُ لَا إِلٰہَ اِلَّا ھُوَ}؟)) قَالَ: بَلٰی، قَالَ: ((رُبُعُ الْقُرْآنِ۔)) قَالَ: ((تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۳۳۴۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی سے سوال کیا: اے فلاں! کیا تو نے شادی شدہ ہے۔ اس نے کہا: جی نہیں، میرے پاس شادی کے لئے مالی گنجائش نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورۂ اخلاص یاد ہے؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورۂ کافرون یاد ہے؟ اس نے کہا: جی بالکل، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورہ زلزال یاد ہے؟ اس نے کہا: جییاد ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تجھے سورۂ نصر یاد ہے؟ اس نے کہا: جییاد ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تجھے آیۃ الکرسییاد ہے؟ اس نے کہا: جی بالکل، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک چوتھائی قرآن ہو گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر شادی کرلے، شادی کرلے، شادی کر لے۔ تین مرتبہ اس بات کو دوہرایا۔
Takhreej
(۶۹۳۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف سلمۃ بن وردان، أخرجہ الترمذی: ۲۸۹۵(انظر: ۱۳۳۰۹)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ وَّاٰتَیْتُمْ اِحْدٰھُنَّ قِنْطَارًا فَلاَ تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْئًا} … ’’اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا ہی چاہو اور ان میں کسی کو تم نے خزانہ کا خزانہ دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۲۰) یہاں خزانہ سے مراد حق مہر ہے۔ مذکورہ بالا دو ابواب کی احادیث اور اس موضوع سے متعلقہ دیگر دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ کوئی مقدار متعین نہیں ہے۔ پانچ درہم، ایک تہبند اور لوہے کی انگوٹھی تک کا ذکر ہو چکا ہے، دراصل یہ عورت کا حق ہے اور وہ جس حق پر راضی ہو جائے، وہ اس کا مہر قرار پائے گا۔ احناف نے مہر کے لیے کم از کم دس درہم یا اس کے برابر قیمت کی چیز کی قید لگائی ہے اور یہ روایت بطورِ دلیل پیش کی ہے: ((لَا مَھْرَ اَقَلُّ مِنْ عَشْرَۃِ دَرَاھِمَ۔)) … ’’دس درہموں سے کم کوئی مہر نہیں ہے۔‘‘ (دارقطنی: ۳/ ۲۴۴، بیہقی: ۷/ ۱۳۳) لیکنیہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں دو راویوں پر اعتراض ہے، ایک حجاج بن ارطاۃ جو مدلس ہے اور دوسرا مبشر بن عبید جو کہ متروک ہے، نیزاس کے مقابلے میں ایسی صحیح احادیث اوپر گزر چکی ہے، جو دس درہم سے کم مہر پر دلالت کرتی ہیں۔ البتہیہ قید ضرور ہے کہ مہر کے سلسلے میں غلوّ سے بچنا چاہیے۔
6931
Zaeef