TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 588 - وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان - وضو کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 7 in this chapter
وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۸۸)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا یَتَوَضَّأُ أَحَدٌ فَیُحْسِنُ وُضُوْئَہُ وَیُسْبِغُہُ ثُمَّ یَأْتِی الْمَسْجِدَ لَا یُرِیْدُ اِلَّا الصَّلوٰۃَ فِیْہِ اِلَّا تَبَشْبَشَ اللّٰہُ بِہِ کَمَا یَتَبَشْبَشُ أَھْلُ الْغَائِبِ بِطَلْعَتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۵۱)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کوئی آدمی وضو کرتا ہے اور اچھا اور مکمل وضو کرتا ہے اور پھر وہ صرف نماز کے ارادے سے مسجد میں آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس طرح خوش ہوتا ہے، جیسے لوگ اس آدمی کے ظہور کے وقت خوش ہوتے ہیں، جو پہلے غائب ہوتا ہے۔
588
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۵۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی عبیدۃ الراوی عن سعید بن یسار۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۴۹۱ (انظر: ۸۰۶۵)

Related Chapters

1,142
1
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Tread On Graves, Sit On Them, (And Pray Towards Them)
باب: قبروں پر چلنے، ان پر بیٹھنے اور ان کی طرف نماز پڑھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
2
قبروں کے اوپر عمارت بنانے، ان کو چونا گچ کرنے، ان کے اوپر بیٹھنے اور ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان اور میت کی ہڈی توڑنے اور جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے (کے جواز یا عدم جواز) کا بیان
Musnad Ahmad
3
(17) CHAPTER. The superiority of remaining with ablution during the day and night and the superiorit of offering As-Salat (prayers) after ablution during the day and night.
دن اور رات میں باوضو رہنے کی فضیلت اور وضو کے بعد رات اور دن میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
4
Chapter: The virtue of performing wudu’ and salat
وضو اور اس کے بعد نماز پڑھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
5
(45)Chapter: What Had Been Related About Performing The (Five Obligatory) Prayers With One Wudu
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Salat On A Beast Whichever Direction It Is Facing
باب: سواری کے اوپر نماز پڑھنے کا بیان جس طرف بھی وہ متوجہ ہو جائے
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Salat Toward One's Mount
باب: سواری کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
Musnad Ahmad
12
ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
14
نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
15
دور والی مسجد کی اور مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
16
سکون کے ساتھ جماعت کی طرف چلنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
17
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
18
(5) CHAPTER. Superiority of offering As-Salat (the prayer) at the stated times.
نماز وقت پر پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں
Sahih Bukhari
19
(31) CHAPTER. Superiority of the Fajr (early morning) prayer in congregation.
فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں
Sahih Bukhari
20
Chapter: The virtue of taking many steps to the masjid
مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت
Sahih Muslim
21
نماز میں قرآن مجید پڑھنے اور اسے سیکھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
22
Chapter: The virtue of offering the funeral prayer and following the bier
جنازے پر نماز پڑھنے اور جنازے کے ساتھ جانے کی فضیلت
Sahih Muslim
23
Chapter: The virtue of praying in the Masajid of Makkah and Al-Madinah
مکہ اور مدینہ کی دونوں مسجدوں(مسجد حرام اور مسجد نبوی )میں نماز پڑھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
24
Chapter: The virtue of the Masjid of Quba', and the virtue of praying therein and visiting it
مسجد قباء اس میں نماز پڑھنے اور اس کی زیارت کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
25
CHAPTER: Praying Towards A Mount.
باب: سواری کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
26
CHAPTER: Praying Behind People Who Are talking Or Sleeping.
باب: بات کرنے والوں اور سونے والوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
27
CHAPTER: The Virtue Of Offering Voluntary Prayers At Home.
باب: نفلی نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
28
ہر نماز کے لیے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری نمازیں پڑھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
29
Chapter: The Virtue Of Prayer In Congregation
جماعت سے نماز پڑھنے کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
30
مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
31
بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
32
اچھی طرح وضو کرنے پھر دو رکعت نماز پڑھنے کے ثواب کا بیان۔
Sunnan Nisai
33
وقت پر نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
مساجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔
Sunnan Nisai
35
مسجد الاقصیٰ (بیت المقدس) اور اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
گھروں میں نماز پڑھنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی نماز کی بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی نماز پر فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی نماز کی لیٹ کر پڑھنے والے کی نماز پر فضیلت۔
Sunnan Nisai
39
باب: مسجد الحرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
40
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Asr Prayer
باب: نماز عصر دیر سے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Last Isha Prayer
باب: نماز عشاء دیر سے پڑھنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
42
Chapter: : What Has Been Related About Prayer After Asr And After Fajr Is Disliked
باب: عصر اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: : What Has Been Related About Salat After Asr
باب: عصر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Salat Before Maghrib
باب: مغرب سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of Isha And Fajr In Congregation
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Salat Behind The Line Alone
باب: صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

45
Musnad Ahmad
394
۔ (۳۹۴)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا یَبُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ فِیْ الْمَائِ الدَّائِمِ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ مِنْہُ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((ثُمَّ یَغْتَسِلُ مِنْہُ۔)) بَدْلَ ((یَتَوَضَّأُ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۱۷)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی آدمی کھڑے پانی میں ہر گز پیشاب نہ کرے، پھر وہ اس میں وضو کرے گا۔ اور ایک روایت میں ہے: پھر وہ اس سے غسل کرے گا۔ یہ الفاظ یَتَوَضَّأُ کی جگہ پر ہیں۔
Musnad Ahmad
242
۔ (۲۴۲)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ وَزَادَ: ((وَ اِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَیُعْطِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۷۱۹۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ زائد بات ہے: صرف اور صرف میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اور عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔
Musnad Ahmad
250
۔ (۲۵۰)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَلْتَمِسُ فِیْہِ عِلْمًا سَھَّلَ اللّٰہُ لَہُ طَرِیْقًا اِلَی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۸۲۹۹)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی علم تلاش کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے۔
Musnad Ahmad
262
۔ (۲۶۲)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((مَثَلُ الَّذِیْ یَجْلِسُ فَیَسْمَعُ الْحِکْمَۃَ، ثُمَّ لَا یُحَدِّثُ عَنْ صَاحِبِہِ اِلَّا بِشَرِّ مَا سَمِعَ، کَمَثَلِ رَجُلٍ أَتٰی رَاعِیًا فَقَالَ: یَا رَاعِیْ! اجْزُرْ لِیْ شَاۃً مِنْ غَنَمِکَ، قَالَ: اذْہَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَیْرِہَا، فَذَہَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ کَلْبِ الْغَنَمِ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۲۴)
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو شخص حکمت کی بات سن کر اس کو اس کے کہنے والے کے حوالے سے بیان نہیں کرتا، مگر وہ جو صرف اس نے شرّ والی بات سنی ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے ایک چرواہے کے پاس آ کر کہا: اے چرواہے! ایک بکری تو دے دو، جو ذبح کے قابل ہو، اس نے کہا: جا اور سب سے بہترین بکری کا کان پکڑ لے (اور اس کو لے جا)، لیکن وہ گیا اور بکریوں کے رکھوالے کتے کا کان پکڑ کر لیا گیا۔
Musnad Ahmad
264
۔ (۲۶۴)۔عن أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ذَرُوْنِیْ مَا تَرَکْتُکُمْ، فَاِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلَافِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِ ہِمْ، مَا نَہَیْتُکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا وَمَا أَمَرْتُکُمْ فَأْتُوْا مِنْہُ مَااسْتَطَعْتُمْ۔)) (مسند أحمد: ۷۳۶۱)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تک میں تم کو چھوڑے رکھوں، تم بھی مجھے چھوڑے رکھو، تم سے پہلے والے لوگ کثرتِ سوال اور انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے، جس چیز سے میں تم کو منع کر دوں، اس سے باز آ جاؤ اور جس چیز کا حکم دے دوں، اس پر حسب ِ استطاعت عمل کرو۔
Musnad Ahmad
267
۔ (۲۶۷)۔عَنْ عَمْروٍ بْنِ أَبِیْ سَلَمَۃَ عن أَبِیْہِ عن أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَزَالُوْنَ یَسْأَلُوْنَ حَتَّی یُقَالَ: ھٰذَا اللّٰہُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: فَوَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَجَالِسٌ یَوْمًا اِذْ قَالَ لِیْ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْعَرَاقِ: ھٰذَا اللّٰہُ خَلَقَنَا فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: فَجَعَلْتُ اُصْبُعَیَّ فِیْ أُذُنَیَّ ثُمَّ صِحْتُ فَقُلْتُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ، اَللّٰہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ۔ (مسند أحمد: ۹۰۱۵)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگ سوالوں پر سوال کرتے رہیں گے، یہاں تک یہ بھی پوچھ لیا جائے گا کہ (یہ بات تو ٹھیک ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے ہم کو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عراقی آدمی نے یہی سوال کر دیا اور کہا: یہ اللہ تعالی، اس نے ہم کو تو پیدا کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ میں نے اپنی دو انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور چِلّا کر کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اللہ تعالیٰ یکتا ہے، بے نیاز ہے، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے۔
Musnad Ahmad
269
۔ (۲۶۹)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلَافِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ، لَا تَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ اِلَّا أَخْبَرْتُکُمْ بِہِ۔)) فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ حُذَافَۃَ: مَنْ أَبِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((أَبُوْکَ حُذَافَۃُ بْنُ قَیْسٍ۔)) فَرَجَعَ اِلٰی أُمِّہِ فَقَالَتْ: وَیْحَکَ مَا حَمَلَکَ عَلَی الَّذِیْ صَنَعْتَ، فَقَدْ کُنَّا أَھْلَ الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَھْلَ أَعْمَالٍ قَبِیْحَۃٍ، فَقَالَ لَہَا: اِنْ کُنْتُ لَأُحِبُّ أَنْ أَعْلَمَ مَنْ أَبِیْ وَمَنْ کَانَ مِنَ النَّاسِ۔ (مسند أحمد: ۱۰۵۳۸)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگ صرف اور صرف کثرتِ سوال اور اپنے انبیاء پر اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے، میں تم کو اس کا جواب دے دوں گا۔ سیدنا عبد اللہ بن حذافہ ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا باپ حذافہ بن قیس تھا۔ پھر جب وہ اپنی ماں کے پاس گئے تو اس نے ان کو کہا: تو ہلاک ہو جائے، کس چیز نے یہ سوال کرنے پر آمادہ کیا، ہم جاہلیت والے اور قبیح اعمال کرنے والے تھے۔ انھوںنے اپنی ماں سے کہا: میں یہ جاننا پسند کرتا تھا کہ میرا باپ کون تھا اور کن لوگوں میں سے تھا۔
Musnad Ahmad
273
۔ (۲۷۳)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَکَتَمَہُ أُلْجِمَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: أَلْجَمَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ) بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۶۱)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس آدمی سے علم سے متعلق کوئی سوال کیا گیا، لیکن اس نے اس کو چھپایا تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کو آگ سے لگام ڈالیں گے۔
Musnad Ahmad
278
۔ (۲۷۸)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا یُبْتَغٰی بِہِ وَجْہُ اللّٰہِ لَا یَتَعَلَّمُہُ اِلَّا لِیُصِیْبَ بِہِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْیَا لَمْ یَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّۃَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) یَعْنِیْ رِیْحَہَا۔ (مسند أحمد:۸۴۳۸)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ علم جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا چہرہ تلاش کیا جاتا ہے، جو آدمی اس کو سامانِ دنیا حاصل کرنے کے لیے سیکھتا ہے وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔