TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان - وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان - وضو کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of وضو کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 6 · 7 Hadith
۔ (۵۸۸)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا یَتَوَضَّأُ أَحَدٌ فَیُحْسِنُ وُضُوْئَہُ وَیُسْبِغُہُ ثُمَّ یَأْتِی الْمَسْجِدَ لَا یُرِیْدُ اِلَّا الصَّلوٰۃَ فِیْہِ اِلَّا تَبَشْبَشَ اللّٰہُ بِہِ کَمَا یَتَبَشْبَشُ أَھْلُ الْغَائِبِ بِطَلْعَتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۵۱)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کوئی آدمی وضو کرتا ہے اور اچھا اور مکمل وضو کرتا ہے اور پھر وہ صرف نماز کے ارادے سے مسجد میں آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس طرح خوش ہوتا ہے، جیسے لوگ اس آدمی کے ظہور کے وقت خوش ہوتے ہیں، جو پہلے غائب ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی عبیدۃ الراوی عن سعید بن یسار۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۴۹۱ (انظر: ۸۰۶۵)
588
Zaeef
۔ (۵۸۹)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی مَا یُکَفِّرُاللّٰہُ بِہِ الْخَطَایَا وَیَزِیْدُ بِہِ فِیْ الْحَسَنَاتِ؟)) قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِسْبَاغُ الْوُضُوْئِ عَلَی الْمَکَارِہِ وَکَثْرَۃُ الْخُطَا اِلَی الْمَسَاجِدِ وَاِنْتَظَارُ الصَّلٰوۃِ بَعْدَ الصَّلٰوۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۰۰۷)
سیدنا ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا میں ایسے اعمال پر تمہاری رہنمائی نہ کر دوں کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ کرتاہے؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ناپسندیوں کے باوجود وضو مکمل کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔
Takhreej
(۵۸۹) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۷، ۷۶۶ (انظر: ۱۰۹۹۴)
589
Sahih
۔ (۵۹۰)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ وَزَادَ: ((فَذٰلِکَ الرِّبَاطُ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۱۵)
سیدنا ابوہریرہؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اسی طرح کی ایک حدیث روایت کی ہے، البتہ اس میں یہ زیادتی ہے: یہی رِباط ہے۔
Takhreej
(۵۹۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۱ (انظر: ۷۷۲۹)
Explanation
فوائد:… میدان جنگ یا محاذ میں مورچہ بند ہو کر ہمہ وقت چوکنا اور جہاد کے لیے تیار رہنا رِباط ہے، گویا آدمی درج بالا اعمال کے ذریعے سے اصل دشمن شیطان کے شرّ سے محفوظ رہتا ہے اور نفس کو شہوات سے بچا لیتا ہے، دراصل رِباط کے معانی نفس اور جسم کو اطاعت کے ساتھ پابند کر دینے کے ہیں
590
Sahih
۔ (۵۹۱)۔عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ فَأَتَی الْمَسْجِدَ کَتَبَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوْہَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، فَاِذَا صَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ ثُمَّ قَعَدَ فِیْہِ کَانَ کَالصَّائِمِ الْقَانِتِ حَتَّی یَرْجِعَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۵۹۵)
سیدنا عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ وضو کر کے مسجد میں آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں لکھتے ہیں، پھر جب وہ مسجد میں نماز پڑھ کر وہیں بیٹھ جاتا ہے تووہ روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے کی طرح ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ لوٹ آتا ہے۔
Takhreej
(۵۹۱) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۴۹۲، وابن حبان: ۲۰۳۸، ۲۰۴۵، والحاکم: ۱/ ۲۱۱، والبیھقی: ۳/ ۶۳، والطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۸۴۲ (انظر: ۱۷۴۵۶)
591
Sahih
۔ (۵۹۲)۔عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُکُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوْئَہُ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا اِلَی الصَّلوٰۃِ فَلَا یُشَبِّکْ بَیْنَ یَدَیْہِ فَاِنَّہُ فِی الصَّلوٰۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۸۲)
سیدنا کعب بن عجرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے اور پھر نماز کے قصد سے نکل پڑتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں میں تشبیک نہ ڈالا کرے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے۔
Takhreej
(۵۹۲) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۵۶۲، والترمذی: ۳۸۶ (انظر: ۱۸۱۰۳)
Explanation
فوائد:… ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا تشبیک ہے، یہ اس وقت منع ہے کہ جب مسلمان نماز کے لیے جا رہا ہو یا نماز کے انتظار میں بیٹھا ہو یا نماز ادا کر رہا ہو۔
592
Sahih
۔ (۵۹۳)۔عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ مَشٰی اِلٰی صَلوٰۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ فَصَلّٰاہَا غُفِرَ لَہُ ذَنْبُہُ)) (مسند أحمد: ۵۱۶)
سیدنا عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور مکمل وضو کیا، پھر فرضی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد کی طرف گیا اور وہ نماز ادا کی تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
Takhreej
(۵۹۳) تخریج: انظر الحدیث الآتی
593
Sahih
۔ (۵۹۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ ھٰذَا الْمَجْلِسِ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوْئِیْ ھٰذَا ثُمَّ اََتَی الْمَسْجِدَ فَرَکَعَ فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔)) وَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَغْتَرُّوْا۔)) (مسند أحمد: ۴۵۹)
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس مجلس میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا اور پھر فرمایا: جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر مسجد میں آیا اور دو رکعتیں ادا کیں، اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پس دھوکہ نہ کھا جانا۔
Takhreej
(۵۹۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۳۳، ومسلم: ۲۲۶ (انظر: ۴۵۹)
594
Sahih