نکاح کے اعلان اور اس میں کھیل کود اور دف بجانے کے حکم کا بیان - نکاح کے اعلان اور اس میں کھیل کود اور دف بجانے کے حکم کا بیان - ولیمہ کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 7 of ولیمہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا ابو الحسن مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوشیدہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے، آپ چاہتے تھے کہ دف بجائی جائے اور یہ کہاجائے: ہم تمہارے پاس آئے،ہم تمہارے پاس آئے، تم ہمیں سلام کہو، ہم تمہیں سلام کہتے ہیں۔
Takhreej
(۷۰۵۹، ۷۰۶۰) اسنادہ مظلم، حسین بن عبد اللہ بن ضمیرۃ من رجال ’’التعجیل‘‘، وقد کذبہ مالک، وقال احمد: لا یساوی شیئا متروک الحدیث، وقال ابو حاتم الرازی: متروک الحدیث کذاب (انظر: ۱۶۷۱۲)
۔ عبد اللہ بن عمیریا عمیرہ کہتے ہیں: ابو لہب کے داماد نے مجھے بیان کرتے ہوئے کہا: جب میں نے ابو لہب کی بیٹی سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: تھوڑے بہت شغل کا اہتمام نہیں کیا تم لوگوں نے؟
Takhreej
(۷۰۵۹، ۷۰۶۰) اسنادہ مظلم، حسین بن عبد اللہ بن ضمیرۃ من رجال ’’التعجیل‘‘، وقد کذبہ مالک، وقال احمد: لا یساوی شیئا متروک الحدیث، وقال ابو حاتم الرازی: متروک الحدیث کذاب (انظر: ۱۶۷۱۲)
۔ فوائد:… شغل سے مراد یہ ہے کہ کوئی بچی دف بجا کر کوئی جائز کلام گا کر پڑھ دیتی۔
Takhreej
(۷۰۶۱) تخریج: مرفوعہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ معبد بن قیس وشیخِہ عبد اللہ بن عمیر او عمیرۃ، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۴/ ۶۵۹ (انظر: ۱۶۶۲۶)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میری پرورش میں انصار کی ایک لڑکی تھی، میں نے اس کی شادی کی اور اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی شغل نہ سنا تو فرمایا: اے عائشہ! انصاریوں کا یہ قبیلہ تو شغل وغیرہ کو بڑا پسند کرتا ہے۔
Takhreej
(۷۰۶۲) تخریج: صحیح، أخرجہ ابن حبان: ۵۸۷۵ (انظر: ۲۶۳۱۳)
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ c نے ایک عورت کی ایک انصاری آدمی کے ساتھ شادی کی، آپ a نے فرمایا: ((یَاعَائِشَۃُ! مَاکَانَ مَعَکُمْ لَھْوٌ؟ اَنَّ الْاَنْصَارِیَّیُعْجِبُھُمُ اللَّھْوُ۔)) … ’’’اے عائشہ! تمہارے پاس کوئی شغل وغیرہ نہیں تھا، کیونکہ انصاری لوگ شغل وغیرہکو بڑا پسند کرتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری: ۵۱۶۲)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا تم نے بچی کو اس کے گھر کی طرف رخصت کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے ساتھ ایسے لوگوں کو کیوں نہیں بھیجا، جو گا کر اس طرح کہتے: ہم تمہارے پاس آئے ہیں، ہم تمہارے پاس آئے ہیں، پس تم ہم کو سلام کہو، ہم تم کو سلام کہتے ہیں، کیونکہ انصاری ایسے لوگ ہیں جو اس قسم کی غزل کو پسند کرتے ہیں۔
Takhreej
(۷۰۶۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۰۰(انظر: ۱۵۲۰۹)
۔ ابو بلج کہتے ہیں: میں نے محمد بن حاطب جمحی سے کہا: میں نے دو عورتوں سے شادی کی ہے اور میرے لئے کوئی دف نہیں بجائی گئی، انہوں نے کہا: تو نے برا کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حلال اور حرام کے درمیان فرق آواز ہے۔ یعنی دف بجانا،ایک روایت میں ہے: حلال اور حرام کے درمیان فرق کرنے والی چیز دف بجانا اور آواز نکالنا ہے۔
فوائد:… ہماری شریعت میں نکاح کے موقع پر ولی اور دولہا دلہن کی رضامندی کے بعد کم از کم دو گواہوں کی شرط لگائی گئی ہے، باقی نبی کریمa اس حدیث میں جو چیز بیان کر رہے ہیں،یہ استحبابی امور ہیں،یعنی بہتر یہ ہے کہ شادی کے موقع پر تھوڑا بہت شغل لگ جائے، دف بجایا جائے اور جائز کلام گا کر پڑ لیا جائے، تاکہ دور دور تک نکاح کی خبر بھی پہنچ جائے اور لوگ بھی خوش ہو جائیں۔
۔ سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری شادی کے موقع پر میرے پاس تشریف لائے اور میرے بستر پر یہاں بیٹھ گئے، میرے پاس دو بچیاں تھیں، جو دف بجارہی تھیں اور بدر میں شہید ہونے والے میرے آباء کے اوصاف بیان کررہی تھیں، انہوں نے بیچ میں اس طرح بھی کہہ دیا: اور ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو کل کی بات بھی جانتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح یہ نہ کہو۔
فوائد:… ان احادیث ِ مبارکہ کے مطابق شادی کے موقع پر کوئی شغل وغیرہ لگ جانا چاہیے، مثلا دف بجا کر یا گاہ کر جائز کلام پڑھنا یا جائز کھیل کود کا اہتمام کرنا۔
لیکنیہ ضروری ہے کہ شغل اور لطف اندوزی کی آڑ میں شرعی حدود کو پامال نہ کیا جائے، مثلا: مرد وزن کا اختلاط اور بے پردگی، ایسا کلام پڑھنا جو بے حیائی اور فحاشی پر مشتمل ہو، موسیقی بجانا، بینڈ باجے کا اہتمام کرنا