TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نکاح کے اعلان اور اس میں کھیل کود اور دف بجانے کے حکم کا بیان - نکاح کے اعلان اور اس میں کھیل کود اور دف بجانے کے حکم کا بیان - ولیمہ کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of ولیمہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 15 · 8 Hadith
۔ (۷۰۵۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَعْلِنُوْا النِّکَاحَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نکاح کا اعلان کیا کرو۔
Takhreej
(۷۰۵۸) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ البزار: ۲۲۱۴، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۳۲۵ (انظر: ۱۶۱۳۰)
7058
Sahih
۔ (۷۰۵۹، ۷۰۶۰)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی الْمَازِنِیِّ عَنْ جَدِّہِ اَبِیْ حَسَنٍ الْمَازنِیِّ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَکْرَہُ نِکَاحَ السِّرِّ حَتّٰییُضْرَبَ بِدُفٍّ، وَیُقَالُ: ((أَتَیْنَاکُمْ أَتَیْنَاکُمْ فَحَیُّوْنَا نُحَیِّیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۳۲)
۔ سیدنا ابو الحسن مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پوشیدہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے، آپ چاہتے تھے کہ دف بجائی جائے اور یہ کہاجائے: ہم تمہارے پاس آئے،ہم تمہارے پاس آئے، تم ہمیں سلام کہو، ہم تمہیں سلام کہتے ہیں۔
Takhreej
(۷۰۵۹، ۷۰۶۰) اسنادہ مظلم، حسین بن عبد اللہ بن ضمیرۃ من رجال ’’التعجیل‘‘، وقد کذبہ مالک، وقال احمد: لا یساوی شیئا متروک الحدیث، وقال ابو حاتم الرازی: متروک الحدیث کذاب (انظر: ۱۶۷۱۲)
7059
Zaeef
۔ (۷۰۵۹، ۷۰۶۰)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی الْمَازِنِیِّ عَنْ جَدِّہِ اَبِیْ حَسَنٍ الْمَازنِیِّ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَکْرَہُ نِکَاحَ السِّرِّ حَتّٰییُضْرَبَ بِدُفٍّ، وَیُقَالُ: ((أَتَیْنَاکُمْ أَتَیْنَاکُمْ فَحَیُّوْنَا نُحَیِّیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۳۲)
۔ عبد اللہ بن عمیریا عمیرہ کہتے ہیں: ابو لہب کے داماد نے مجھے بیان کرتے ہوئے کہا: جب میں نے ابو لہب کی بیٹی سے شادی کی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: تھوڑے بہت شغل کا اہتمام نہیں کیا تم لوگوں نے؟
Takhreej
(۷۰۵۹، ۷۰۶۰) اسنادہ مظلم، حسین بن عبد اللہ بن ضمیرۃ من رجال ’’التعجیل‘‘، وقد کذبہ مالک، وقال احمد: لا یساوی شیئا متروک الحدیث، وقال ابو حاتم الرازی: متروک الحدیث کذاب (انظر: ۱۶۷۱۲)
7060
Sahih
۔ (۷۰۶۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَیْرٍ أَوْ عُمَیْرَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ زَوْجُ ابْنَۃِ اَبِیْ لَھَبٍ قَالَ: دَخَلَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ تَزَوَّجْتُ ابْنَۃَ اَبِیْ لَھَبٍ فَقَالَ: ((ھَلْ مِنْ لَھْوٍ؟)) (مسند احمد: ۱۶۷۴۳)
۔ فوائد:… شغل سے مراد یہ ہے کہ کوئی بچی دف بجا کر کوئی جائز کلام گا کر پڑھ دیتی۔
Takhreej
(۷۰۶۱) تخریج: مرفوعہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ معبد بن قیس وشیخِہ عبد اللہ بن عمیر او عمیرۃ، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۴/ ۶۵۹ (انظر: ۱۶۶۲۶)
7061
Sahih
۔ (۷۰۶۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ فِیْ حِجْرِیْ جَارِیَۃٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَزَوَّجْتُہَا قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عُرْسِہَا فَلَمْ یَسْمَعْ لَعِبًا، فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! اِنَّ ھٰذَا الْحَیَّ مِنَ الْأَنْصَارِیُحِبُّوْنَ کَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۴۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میری پرورش میں انصار کی ایک لڑکی تھی، میں نے اس کی شادی کی اور اس موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی شغل نہ سنا تو فرمایا: اے عائشہ! انصاریوں کا یہ قبیلہ تو شغل وغیرہ کو بڑا پسند کرتا ہے۔
Takhreej
(۷۰۶۲) تخریج: صحیح، أخرجہ ابن حبان: ۵۸۷۵ (انظر: ۲۶۳۱۳)
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ c نے ایک عورت کی ایک انصاری آدمی کے ساتھ شادی کی، آپ a نے فرمایا: ((یَاعَائِشَۃُ! مَاکَانَ مَعَکُمْ لَھْوٌ؟ اَنَّ الْاَنْصَارِیَّیُعْجِبُھُمُ اللَّھْوُ۔)) … ’’’اے عائشہ! تمہارے پاس کوئی شغل وغیرہ نہیں تھا، کیونکہ انصاری لوگ شغل وغیرہکو بڑا پسند کرتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری: ۵۱۶۲)
7062
Sahih
۔ (۷۰۶۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَائِشَۃَ: ((أَھَدَیْتُمُ الْجَارِیَۃَ اِلٰی بَیْتِہَا؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَہَلَّا بَعَثْتُمْ مَعَہَا مَنْ یُغَنِّیْہِمْیَقُوْلُ:أَتَیْنَاکُمْ أَتَیْنَاکُمْ فَحَیُّوْنَا نُحَیِّیْکُمْ، فَاِنَّ الْاَنْصَارَ قَوْمٌ فِیْھِمْ غَزَلٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۷۹)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے فرمایا: کیا تم نے بچی کو اس کے گھر کی طرف رخصت کر دیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے ساتھ ایسے لوگوں کو کیوں نہیں بھیجا، جو گا کر اس طرح کہتے: ہم تمہارے پاس آئے ہیں، ہم تمہارے پاس آئے ہیں، پس تم ہم کو سلام کہو، ہم تم کو سلام کہتے ہیں، کیونکہ انصاری ایسے لوگ ہیں جو اس قسم کی غزل کو پسند کرتے ہیں۔
Takhreej
(۷۰۶۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۰۰(انظر: ۱۵۲۰۹)
7063
Sahih
۔ (۷۰۶۴)۔ عَنْ اَبِیْ بَلْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبِ نِ الْجُمَحِیِّ: إِنِّیْ قَدْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَتَیْنِ لَمْ یُضْرَبْ عَلَیَّ بِدُفٍّ، قَالَ: بِئْسَمَا صَنَعْتَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ فَصْلَ مَابیَنْ َالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُیَعْنِی الضَّرْبَ بِالدُّفِّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) فَصْلُ مَا بَیْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ وَالصَّوْتُ فِی النِّکَاحِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۶۹)
۔ ابو بلج کہتے ہیں: میں نے محمد بن حاطب جمحی سے کہا: میں نے دو عورتوں سے شادی کی ہے اور میرے لئے کوئی دف نہیں بجائی گئی، انہوں نے کہا: تو نے برا کیا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حلال اور حرام کے درمیان فرق آواز ہے۔ یعنی دف بجانا،ایک روایت میں ہے: حلال اور حرام کے درمیان فرق کرنے والی چیز دف بجانا اور آواز نکالنا ہے۔
Takhreej
(۷۰۶۴) اسنادہ حسن، أخرجہ النسائی: ۶/ ۱۲۷، والترمذی: ۱۰۸۸، وابن ماجہ: ۱۸۹۶ (انظر:۱۸۲۸۰)
Explanation
فوائد:… ہماری شریعت میں نکاح کے موقع پر ولی اور دولہا دلہن کی رضامندی کے بعد کم از کم دو گواہوں کی شرط لگائی گئی ہے، باقی نبی کریمa اس حدیث میں جو چیز بیان کر رہے ہیں،یہ استحبابی امور ہیں،یعنی بہتر یہ ہے کہ شادی کے موقع پر تھوڑا بہت شغل لگ جائے، دف بجایا جائے اور جائز کلام گا کر پڑ لیا جائے، تاکہ دور دور تک نکاح کی خبر بھی پہنچ جائے اور لوگ بھی خوش ہو جائیں۔
7064
Sahih
۔ (۷۰۶۵)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ بْنِ ذَکْوَانَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ الرُّبَیِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ بْنِ مُعَوِّذٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عُرْسِیْ، فَقَعَدَ فِیْ مَوْضِعِ فِرَاشِیْ ھٰذَا وَعِنْدِیْ جَارِیَتَانِ تَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ وَتَنْدُبَانِ آبَائِی الَّذِیْنَ قُتِلُوْا یَوْمَ بَدْرٍ، فَقَالَتَا فِیْمَا تَقُوْلَانِ: وَفِیْنَا نَبِیٌّیَعْلَمُ مَایَکُوْنُ فِیْ الْیَوْمِ وَفِیْ غَدٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَّا ھٰذَا فَـلَا تَقُوْلَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۶۱)
۔ سیدہ ربیع بنت معوذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری شادی کے موقع پر میرے پاس تشریف لائے اور میرے بستر پر یہاں بیٹھ گئے، میرے پاس دو بچیاں تھیں، جو دف بجارہی تھیں اور بدر میں شہید ہونے والے میرے آباء کے اوصاف بیان کررہی تھیں، انہوں نے بیچ میں اس طرح بھی کہہ دیا: اور ہم میں ایک ایسا نبی ہے جو کل کی بات بھی جانتا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح یہ نہ کہو۔
Takhreej
(۷۰۶۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۰۰۱، ۵۱۴۷ (انظر: ۲۷۰۲۱)
Explanation
فوائد:… ان احادیث ِ مبارکہ کے مطابق شادی کے موقع پر کوئی شغل وغیرہ لگ جانا چاہیے، مثلا دف بجا کر یا گاہ کر جائز کلام پڑھنا یا جائز کھیل کود کا اہتمام کرنا۔ لیکنیہ ضروری ہے کہ شغل اور لطف اندوزی کی آڑ میں شرعی حدود کو پامال نہ کیا جائے، مثلا: مرد وزن کا اختلاط اور بے پردگی، ایسا کلام پڑھنا جو بے حیائی اور فحاشی پر مشتمل ہو، موسیقی بجانا، بینڈ باجے کا اہتمام کرنا
7065
Sahih

Chapters

15
01
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
9 Hadith
02
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
10 Hadith
03
جب دو داعی جمع ہو جائیں تو کیا کیا جائے، نیز دوسرے اور تیسرے دن کی دعوت قبول کرنے کا بیان
2 Hadith
04
اس امر کا بیان کہ جس شخص کو دعوت دی جائے، اگر وہ برائی دیکھے تو اس کو روکے، وگرنہ لوٹ جائے
3 Hadith
05
ولیمہ میں کھجوروں وغیرہ کو بکھیرنے اور پھر ان کو لوٹنے کا بیان
4 Hadith
06
ختنہ وغیرہ کے موقع کی دعوت کو قبول کرنے کا بیان اور اس چیز کا حکم کہ چھ افراد کو دعوت دی اور ایک آدمی ان کے ساتھ ویسے ہی چل پڑا
2 Hadith
07
نکاح کے اعلان اور اس میں کھیل کود اور دف بجانے کے حکم کا بیان
8 Hadith
08
ان اوقات کا بیان جن میں رخصتی مستحب ہے
1 Hadith
09
اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
5 Hadith
10
جماع کے وقت اللہ تعالی کا نام لینے اور پردہ کرنا اور دوبارہ جماع کرنے کے لیے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
11
عزل کا بیان اور اس کے بارے میںمنقول روایات عزل کے منہی عنہ اور مکروہ ہونے کا بیان
5 Hadith
12
عزل کی رخصت کا بیان
5 Hadith
13
غیلہ کی کراہت اور اس کی وجہ سے عزل کی رخصت کا بیان غیلہ: دودھ پلانے کی مدت میں بیوی سے مباشرت کرنا غیلہ کہلاتا ہے۔
4 Hadith
14
میاں بیوی کو جماع کے دوران والے امور کو دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کرنے سے منع کرنا
4 Hadith
15
بیوی کو پیچھے سے استعمال کرنے کی ممانعت اور تجبیب کے جواز کا بیانیعنی پچھلی سمت سے عورت کی قبل میں جماع کرنے کے جواز کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.