TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اشارہ کنایہ سے طلاق کا حکم - اشارہ کنایہ سے طلاق کا حکم - طلاق کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of طلاق کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 8 · 5 Hadith
۔ (۷۱۶۰)۔حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ قَالَ سَأَلْتُ الزُّہْرِیَّ عَنْ الرَّجُلِ یُخَیِّرُ امْرَأَتَہُ فَتَخْتَارُہُ قَالَ حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ أَتَانِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّی سَأَعْرِضُ عَلَیْکِ أَمْرًا فَلَا عَلَیْکِ أَنْ لَا تَعْجَلِی فِیہِ حَتّٰی تُشَاوِرِی أَبَوَیْکِ فَقُلْتُ وَمَا ہٰذَا الْأَمْرُ قَالَتْ فَتَلَا عَلَیَّ {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ إِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَزِینَتَہَا فَتَعَالَیْنَ أُمَتِّعْکُنَّ وَأُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیلًا وَإِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ فَإِنَّ اللّٰہَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْکُنَّ أَجْرًا عَظِیمًا۔} قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقُلْتُ وَفِی أَیِّ ذٰلِکَ تَأْمُرُنِی أُشَاوِرُ أَبَوَیَّ بَلْ أُرِیدُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ، قَالَتْ فَسُرَّ بِذٰلِکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَعْجَبَہُ وَقَالَ: ((سَأَعْرِضُ عَلٰی صَوَاحِبِکِ مَا عَرَضْتُ عَلَیْکِ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ لَہُ: فَلَا تُخْبِرْہُنَّ بِالَّذِی اخْتَرْتُ، فَلَمْ یَفْعَلْ وَکَانَ یَقُولُ لَہُنَّ کَمَا قَالَ لِعَائِشَۃَ ثُمَّ یَقُولُ: ((قَدْ اِخْتَارَتْ عَائِشَۃُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ قَدْ خَیَّرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَرَ ذٰلِکَ طَلَاقًا۔ (مسند احمد: ۲۶۰۳۳)
۔ جعفر بن برقان کہتے ہیں: میں نے امام زہری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ سے سوال کیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کورہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیتا ہے، وہ اپنے خاوند کو اختیار کر لیتی ہے، اس کے متعلق کیا رائے ہیں؟ زہری نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت کیا، وہ کہتی ہیں: میرے پاس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ((میں تجھ پر ایک معاملہ پیش کر رہا ہوں،تو نے جواب دینے میں جلدی نہیں کرنا، بلکہ اپنے ماں باپ سے مشورہ کرنا۔ میں نے عرض کیا: وہ کیا معاملہ ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ آیات پڑھ کر سنائیں: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا۔ وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: بھلا یہ کونسی چیز ہے کہ میںاپنے ماں باپ سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں، اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہت خوش ہوئے اور یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بہت پسند آئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! جوبات میں نے تمہارے سامنے پیش کی ہے، یہی میں تمہاری دیگر سوکنوں پر پیش کرنے والا ہوں۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: لیکن میں نے جو چیز پسند کی ہے، اس کے بارے میں آپ نے میری سوکنوں کو نہیں بتانا۔لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسا نہیں کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری بیویوں پر یہی بات پیش کی اور سیدہ عائشہ نے جس کو اختیار کیا تھا، وہ بھی ان کو بتایا کہ عائشہ نے اللہ تعالی اور اس کے رسول اور آخرت کو چن لیا ہے۔ تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا، جو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے دیا تھا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیا اورہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اختیار کر لیا،لیکن اس کو طلاق شمار نہ کیا تھا۔
Takhreej
(۷۱۶۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۷۸۵، ومسلم: ۱۴۷۵ (انظر: ۲۵۵۱۷)
7160
Sahih
۔ (۷۱۶۱)۔عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیَّرَ نِسَائَہُ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: بَیْنَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ) وَلَمْ یُخَیِّرْھُنَّ الطَّلاقَ۔ (مسند احمد: ۵۸۸)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کو دنیا و آخرت میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا تھا، اور ان کو طلاق کا اختیار تو نہیں دیا تھا۔
Takhreej
(۷۱۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن عبید اللہ، قال البخاری: منکر الحدیث (انظر: ۵۸۸)
7161
Zaeef
۔ (۷۱۶۲)۔عَنْ اَبِی اُسَیْدٍ السَّاعِدِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا أوْتِیَ بِالْجَوْنِیَّۃِ وَدَخَلَ عَلَیْھَا قَالَ: ((ھَبِیْ لِیْ نَفْسَکِ۔)) قَالَتْ: وَھَلْ تَہَبُ الْمَلِکَۃُ نَفْسَہَا لِلسُّوْقَۃِ؟ قَالَتْ: إِنِّیْ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْکَ، قَالَ: ((لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ۔)) ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْنَا فَقَالَ: ((یَا أبَا أَسَیْدٍ اَکْسِہَا رَازِقِیَّتَیْنِ وَ اَلْحِقْہَا بِأھْلِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۵۸)
۔ سیدنا ابو اسیدساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جون قبیلہ کی عورت پیش کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا: اپنے نفس کو میرے لئے ہبہ کر دو۔ وہ کہنے لگی: کیا ایک ملکہ کسی عام آدمی کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے؟ پھر اس نے کہا: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے تو واقعی اس ذات کی پناہ طلب کی، جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پا س آئے اور فرمانے لگے: ابو اسید! اس عورت کو کتان کے دو سفید کپڑے پہنا کر اسے اس کے گھر والوں کے ہاں پہنچا دوں۔
Takhreej
(۷۱۶۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۲۵۵، ۵۲۵۷(انظر: ۱۶۰۶۱)
Explanation
فوائد:…اصل واقعہ یوں ہے کہ نعمان بن جون کندی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں آپ کی شادی امیمہ بنت نعمان بن شراحیل سے نہ کرا دوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو اسید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطور نمائندہ نکاح بھیجا، وہ اس خاتون کو لے آئے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس گئے، آپ کا کسی کو قبول کر لینا ہی شادی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا نمائندہ بھیجا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہبہ کرنے کی بات دلجوئی کے لیے کی تھی، وگرنہ وہ شرعاً آپ کی بیوی بن چکی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بات کو ترجیح دی اور اس کو واپس بھیج دیا۔
7162
Sahih
۔ (۷۱۶۳)۔عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ حَدِیْثِ تَخَلُّفِہِ عَنْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ وَقَدْ ھَجَرَہُ وَصَاحِبَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالصَّحَابَۃُ قَبْلَ نُزُوْلِ تَوْبَتِہِمْ، قَالَ: حَتّٰی إِذَا مَضَتْ اَرْبَعُوْنَ لَیْلَۃً مِنَ الْخَمْسِیْنَ إِذَا بِرَسُوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأتِیْنِیْ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأمُرُکَ أنْ تَعْتَزِلَ اِمْرَاَتَکَ، قَالَ: فَقُلْتُ: اُطَلِّقُہَا اَمْ مَاذَا اَفْعَلُ؟ قَالَ: بَلِ اعْتَزِلْھَا فَلَا تَقْرُبْھَا، قَالَ: وَاَرْسَلَ اِلٰی اَصْحَابِیْ بِمِثْلِ ذَالِکَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِامْرَاَتِیْ: الْحَقِیْ بِاَھْلِکِ، فَکُوْنِیْ عِنْدَھُمْ حَتّٰی یَقْضِیَ اللّٰہُ فِیْ ھٰذَا الْاَمْرِ، الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۸۹)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں، جب وہ غزوہ تبوک میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جانے سے پیچھے رہ گئے تھے، ان کی توبہ قبول ہونے سے پہلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ نے ان کو اور ان کے دو ساتھیوں کو چھوڑ دیا تھا، جب یہ بول چال چھوڑے ہوئے چالیس دن گزر گئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قاصد میرے پاس یہ پیغام لے کر آیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تم کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے بھی الگ ہو جاؤ، میں نے کہا: کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اسنے کہا: بس الگ ہو جاؤ اور اس کے قریب نہ جاؤ، میرے باقی دو ساتھیوں کی طرف بھی یہی پیغام بھیجا، پس میں نے اپنی اہلیہ سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے ہاں چلی جائو اوران کے پاس رہو،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں کوئی فیصلہ کر دے۔ الخ۔
Takhreej
(۷۱۶۳) تخریج: ھذا حدیث طویل و أخرجہ مطولا و مختصرا البخاری: ۳۸۸۹، ۴۶۷۶، ۴۶۷۷، ۶۶۹۰، ومسلم: ۲۷۶۹ (انظر: ۱۵۷۸۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی بیوی کے لیے لفظ الْحَقِیْ بِاَھْلِکِ (تو اپنے گھر والوں کی طرف چلی جا) استعمال کیے، لیکن اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ ان کی نیت طلاق کی نہیں تھی۔
7163
Sahih
۔ (۷۱۶۴)۔حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ اَنْبَاَنَا ھِشَامٌ قَالَ: کَتَبَ اِلٰی یَحْیَی بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ یُحَدِّثُ عَنْ عِکْرِمَۃَ اَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَقُوْلُ فِیْ الْحَرَامِ یَمِیْنٌ یُکَفِّرُھَا، قَالَ ھِشَامٌ: وَکَتَبَ اِلَیَّ یَحْیٰی یُحَدِّثُ عَنْ یَعْلَی بْنِ حَکِیْمٍ عِنْدَ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ اَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یَقُوْلُ فِیْ الْحَرَامِ یَمِیْنٌ یُکَفِّرُھَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ}۔ (مسند احمد: ۱۹۷۶)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے تھے کہ خاوند کا اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنا، یہ ایک قسم ہے، جس کا وہ کفارہ ادا کرے گا، اور سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی یہی کہتے تھے کہ بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنا ایک قسم ہے، جس کا وہ کفارہ ادا کرے گا۔ نیز سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت پڑھی:{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … تمہارے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔
Takhreej
(۷۱۶۴) تخریج: حدیث عکرمۃ عن عمر منقطع، وحدیث ابن عباس صحیح علی شرط البخاری، أخرجہ البخاری: ۴۹۱۱، ۵۲۶۶، ومسلم: ۱۴۷۳ (انظر: ۱۹۷۶)
Explanation
فوائد:…سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی مراد درج ذیل آیت ہے:
7164
Sahih