TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 624 - سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی حدیث کا بیان - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کی کیفیت - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 8 in this chapter
سیدنا علی بن ابو طالبؓسے مروی حدیث کا بیان
۔ (۶۲۴)۔عَنْ رِبْعِیٍ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ ؓ قَامَ خَطِیْبًا فِی الرَّحْبَۃِ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَقُوْلَ، ثُمَّ دَعَا بِکُوْزٍ مِن مَائٍ فَتَمَضْمَضَ مِنْہُ وَتَمَسَّحَ وَشَرِبَ فَضْلَ کُوْزِہِ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: طُہُوْرِہِ) وَہُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: بَلَغَنِیْ أَنَّ الرَّجُلَ مِنْکُمْ یَکْرَہُ أَنْ یَشْرَبَ وَہُوَ قَائِمٌ وَھٰذَا وُضُوئُ مَنْ لَمْ یُحْدِثْ وَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ ہٰکَذَا۔ (مسند أحمد: ۷۹۷)
ربعی بن حراش کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالبؓ نے رحبہ میں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے بعد کچھ باتیں کیں، پھر پانی کا ایک برتن منگوایا اور اس سے کلی کی اور (چہرے، بازوؤں، سر اور پاؤں پر) ہاتھ پھیرا اور برتن کا (ایک روایت کے مطابق وضو کا) بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پی لیا اور پھر کہا: مجھے یہ بات موصول ہوئی ہے کہ تم میں سے ایک آدمی کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند کرتا ہے، یہ اس کا وضو ہے، جو بے وضو نہیں ہوا اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایسا ہی کرتے تھے۔
624
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۲۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ (انظر: ۷۹۷)

Related Chapters

445
1
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
2
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
3
کاتبین میں سے ایک سیدنا علی بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے
Musnad Ahmad
4
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
Musnad Ahmad
5
اس بارے میں سیدنا ابو رزین لقیط بن عامر بن منتفق عقیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
6
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
Musnad Ahmad
7
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، اور اس میں اصدقائ، انبیاء اور شہداء کی شفاعت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
8
سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓکے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
Musnad Ahmad
9
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
Musnad Ahmad
10
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
11
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
Musnad Ahmad
12
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
13
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
Musnad Ahmad
14
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ردّ کر دیا
Musnad Ahmad
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
Musnad Ahmad
16
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
Musnad Ahmad
17
یہود کے پہلوان مرحب یہودی کے قتل اور اس کے قاتل کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وَکَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہٗکی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
18
اس امر کا بیان کہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی قوم کے ایک وفد کے ہمراہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے مہاجرین حبشہ ساتھی ان دنوں تشریف لائے جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر میں تشریف فرما تھے
Musnad Ahmad
19
سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قیادت میں حج کی ادائیگی اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اہلِ مکہ کی طرف اعلانِ براء ت کے لیے روانہ کئے جانے کا بیان
Musnad Ahmad
20
سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییمن کی طرف مہم کا بیان
Musnad Ahmad
21
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
22
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
23
صحابہ کرام اور اہل بیت پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کا اثر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی روح قبض ہونے پر ان کے دہشت زدہ ہونے، رونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انتقال کے بعد سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بوسہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
24
ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
Musnad Ahmad
25
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
26
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
Musnad Ahmad
27
فصل دوم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
Musnad Ahmad
28
باب ششم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات ، ان کی نمازجنازہ اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے ان کی مدح سرائی کا بیان
Musnad Ahmad
29
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
Musnad Ahmad
30
سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان
Musnad Ahmad
31
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
Musnad Ahmad
32
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
Musnad Ahmad
33
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
34
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث
Musnad Ahmad
35
بسلسلۂ شفاعت سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث
Musnad Ahmad
36
(9) CHAPTER. The merits of Ali bin Abi Talib Al-Qurashi Al-Hashimi, Abul-Hasan.
حضرت ابوالحسن علی بنابیطالب القرشی الہاشمی کے فضائل کا بیان
Sahih Bukhari
37
(12) CHAPTER. A believer eats in one intestine (i.e., he is satisfied with a little food).
مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ( اور کافر سات آنتوں میں ) اس باب میں ایک حدیث مرفوع حضرت ابوہریرہ رضیاللہعنہ سے مروی ہے
Sahih Bukhari
38
Chapter: The Obligation of Transmitting on Authority of Trustworthy Narrators and Abandoning the Liars
ثقہ راویوں سے حدیث بیان کرنا، کذابوں کو ترک کرنا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ باندھنے سے احتراز کرنا واجب ہے۔
Sahih Muslim
39
Chapter: The Intercession of the Prophet (saws) for Abu Talib and the reduction of his punishment as a result
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف
Sahih Muslim
40
وتر کے سلسلے میں سعید بن جبیر کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی حدیث میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
41
باب: روزے کی فضیلت اور اس سلسلے میں علی رضی الله عنہ کی حدیث کے بارے میں ابواسحاق سبیعی پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
42
Chapter: What Saying Has Been Prohibited Regarding The Hadith Of the Prophet (SAW)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی حدیث سن کر کیا کہنا منع ہے؟
Jam e Tirmazi
43
باب: علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب
Jam e Tirmazi
44
بَاب مَنَاقِب عَليّ بن أبي طَالب
علی بن ابی طالب ؓ کے مناقب کا بیان
Mishkat
45
سیدنا ابو رزین عقیلی ؓ، جن کا نام لقیط بن عامر تھا، کی آمد کا بیان
Musnad Ahmad
46
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
47
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
48
صحیح اور ضعیف کے سلسلے میں اہلِ حدیث کی معرفت اور علی اکمل الوجوہ ثابت ہونے والی حدیث لینے کا بیان
Musnad Ahmad
49
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
50
سیدنا عثمان بن عفانؓسے مروی کیفیت
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

9
Musnad Ahmad
618
۔ (۶۱۸)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِیْ ثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ (بْنُ مَہْدِیٍّ) ثَنَا زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ثَنَا عَبْدُ خَیْرٍ قَالَ: جَلَسَ عَلِیٌؓ بَعْدَ مَا صَلَّی الْفَجْرَ فِی الرَّحْبَۃِ ثُمَّ قَالَ لِغُلَامِہِ: ائْتِنِی بِطَہُورٍ، فَأَتَاہُ الْغُلَامُ بِاِنَائٍ فِیْہِ مَائٌ وَطَسْتٍ، قَالَ عَبْدُ خَیْرٍ: وَنَحْنُ جُلُوْسٌ نَنْظُرُ اِلَیْہِ، فَأَخَذَ بِیَمِیْنِہِ الْاِنَائَ فَأَکْفَأَہُ عَلٰی یَدِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ غَسَلَ کَفَّیْہِ، فَعَلَہُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ عَبْدُ خَیْرٍ: کُلُّ ذَالِکَ لَا یُدْخِلُ یَدَہُ فِی الْاِنَائِ حَتّٰی یَغْسِلَہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فِی الْاِنَائِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَر بِیَدِہِ الْیُسْرٰی، فَعَلَ ذَالِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ کَفٍّ وَاحِدٍ) ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فِی الْاِنَائِ فَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی ثَلَاثَ مَرَّاتٍ اِلَی الْمِرْفَقِ ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُسْرٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ اِلَی الْمِرْفَقِ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فِی الْاِنَائِ حَتّٰی غَمَرَہَا الْمَائُ ثُمَّ رَفَعَہَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَائِ ثُمَّ مَسَحَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَہُ بِیَدَیْہِ کِلْتَیْہِمَا مَرَّۃً، (وَفِی رِوَایَۃٍ: فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِہِ اِلَی مُؤَخَّرِہِ، قَالَ الرَّاوِی: وَلَا أَدْرِی أَ رَدَّ یَدَہُ أَمْ لَا) ثُمَّ صَبَّ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ عَلٰی قَدَمِہِ الْیُمْنٰی ثُمَّ غَسَلَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ صَبَّ بِیَدِہِ الْیُمْنٰی عَلٰی قَدَمِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ غَسَلَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی فَغَرَفَ بِکَفِّہِ فَشَرِبَ، (وَفِی رِوَایَۃٍ: وَشَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِہِ) ثُمَّ قَالَ: ھٰذَا طُہُورُ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَنْظُرَ اِلَی طُہُورِ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَھٰذَا طُہُوْرُہُ۔(مسندأحمد:۱۱۳۳)
عبد ِ خیرکہتے ہیں: سیدنا علیؓ نماز فجر ادا کرنے کے بَعْد رحبہ میں بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے اپنے غلام سے کہا: وضو کا پانی میرے پاس لاؤ، پس وہ ایک برتن لایا ، جس میں پانی تھا اور ایک چلمچی لایا عبد ِ خیر کہتے ہیں: ہم بیٹھے دیکھ رہے تھے، انھوں نے دائیں ہاتھ سے برتن کو پکڑا اور بائیں ہاتھ پر بہا کر ہتھیلیوں کو دھویا اور ایسے تین بار کیا۔ عبد ِ خیر کہتے ہے: جب بھی وہ برتن میں ہاتھ داخل کرتے تھے تو پہلے ان کو تین بار دھوتے تھے، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور بائیں ہاتھ سے جھاڑا، ایسے تین بار کیا، ایک روایت میں یہ وضاحت ہے کہ: انھوں نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور یہ عمل تین دفعہ کیا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، پھر کہنی سمیت دایاں بازو تین دفعہ دھویا اور پھر تین دفعہ بایاں بازو دھویا، پھر انھوں نے دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، یہاں تک کہ اس کے ہر طرف پانی پھیل گیا، پھر اس کو پانی سمیت برتن سے نکالا اور بائیں ہاتھ پر لگایا اور پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، ایک روایت میں ہے: سر کے سامنے والے حصے سے پچھلے حصے تک مسح کیا، راوی کہتا ہے: مجھے یہ علم نہیں ہے کہ ہاتھوں کو واپس بھی لوٹایا تھا یا نہیں، پھر دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کو دھویا اور دائیں ہاتھ سے ہی بائیں پاؤ پر پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے اس کو تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور ایک چلّو بھر کر پی لیا، ایک روایت میں ہے: اپنے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا اور پھر فرمایا: یہ اللہ کے نبی کا وضو ہے، جو آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کو دیکھنا چاہتا ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو یہ ہے۔
Musnad Ahmad
568
۔ (۵۶۸)۔ عَنْ أَبِیْ مَطَرٍ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ جُلُوْسٌ مَعَ أَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلِیٍّ فِی الْمَسْجِدِعَلَی بَابِ الرَّحْبَۃِ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرِنِیْ وُضُوْئَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ، فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ: ائْتِنِیْ بِکُوْزٍ مِنْ مَائٍ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ وَوَجْہَہُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصْابِعِہِ فِیْ فِیْہِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا۔ (اَلْحَدِیْثَ سَیَأْتِیْ بِطُوْلِہِ فِیْ بَابِ صِفَۃِ الْوُضُوْئِ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی) (مسند أحمد: ۱۳۵۶)
ابو مطر کہتے ہیں: ہم مسجد میں امیرالمؤمنین سیدنا علیؓ کے پاس رحبہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو دکھاؤ، یہ زوال کا وقت تھا، پس انھوں نے قنبر غلام کو بلایا اور کہا: پانی کا برتن میرے پاس لاؤ، پس انھوں نے ہتھیلیوں اور چہرے کو تین تین دفعہ دھویا، تین بار کلی کی اور انگلی کو منہ میں داخل کیا اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا۔ (پوری حدیث بَابُ صِفَۃِ الْوُضُوْئِ میں آئے گی۔)
Musnad Ahmad
619
۔ (۶۱۹)۔عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ سَلْعٍ قَالَ: کَانَ عَبْدُخَیْرٍ یَؤُمُّنَا فِی الْفَجْرِ فَقَالَ: صَلَّیْتُ یَوْمًا الْفَجْرَ خَلْفَ عَلِیٍّؓ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ وَقُمْنَا مَعَہُ فَجَائَ یَمْشِی حَتَّی انْتَہٰی اِلَی الرَّحْبَۃِ فَجَلَسَ وَسَنَدَ ظَہْرَہُ اِلَی الْحَائِطِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: یَا قَنْبَرُ! ائْتِنِی بِالرَّکْوَۃِ وَالطَّسْتِ، ثُمَّ قَالَ لَہُ: صُبَّ، فَصَبَّ عَلَیْہِ فَغَسَلَ کَفَّہُ ثَلَاثًا،(فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ السَّابِقِ مُخْتَصَرًا وَفِی آخِرِہِ) فَقَالَ: ھٰذَا وُضُوْئُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔(مسندأحمد:۱۰۰۸)
عبد الملک بن سلع کہتے ہیں: عبد ِ خیر نمازِ فجر میں ہماری امامت کرواتے تھے، انھوں نے کہا: ایک دن میں نے سیدنا علیؓ کی اقتدا میں نمازِ فجر ادا کی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو وہ کھڑے ہوئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے، وہ چلتے چلتے رَحْبَہ میں آ گئے اور اپنی کمر کو دیوار کا سہارا دے کر بیٹھ گئے، پھر سر اٹھایا اور کہا: قنبر! ڈول اور چلمچی لے آؤ۔ پھر اس کو کہا: پانی بہاؤ، پس اس نے ان پر پانی بہایا اور انھوں نے اپنی ہتھیلیوں کو تین دفعہ دھویا، … پھر سابقہ حدیث کی طرح بالاختصار ذکر کیا اور اس کے آخر میں ہے : انھوں نے کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو ہے۔
Musnad Ahmad
622
۔ (۶۲۲)۔عَنْ أَبِیْ مَطَرٍ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ أَمِیْرِ الْمُؤمِنِیْنَ عَلِیٍّ ؓ فِی الْمَسْجِدِ عَلٰی بَابِ الرَّحْبَۃِ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرِنِیْ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ: ائْتِنِیْ بِکُوْزٍ مِنْ مَّائٍ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ وَوَجْہَہُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصَابِعِہِ فِیْ فِیْہِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَیْہِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَأْسَہُ وَاحِدَۃً فَقَالَ: دَاخِلُہَا مِنَ الوَجْہِ وَخَارِجُہَا مِنَ الرَّأْسِ، وَرِجْلَیْہِ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثَـلَاثًا وَلِحْیَتُہُ تَہْطِلُ عَلٰی صَدْرِہِ ثُمَّ حَسَا حَسْوَۃً بَعْدَ الْوُضُوئِ فَقَالَ: أَینَ السَّائِلُ عَن وُضُوئِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ کَذَا کَانَ وُضُوئُ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۱۳۵۶)
ابو مطر کہتے ہیں: ہم امیر المؤمنین سیدنا علی ؓ کے پاس مسجد میں رحبہ کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: آپ مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو کر کے دکھائے، جبکہ یہ زوال کا وقت تھا، پس انھوں نے قنبر کو بلایا اور کہا: پانی کا برتن لاؤ، پس اپنی ہتھیلیاں اور چہرہ تین تین بار دھوئے اور تین کلیاں کیں، پھر بعض انگلیاں اپنے مِنْہُ میں ڈالیں اور تین بار ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ بازوؤں کو دھویا اور سر کا ایک دفعہ مسح کیا اور کہا: سر کا داخلی حصہ چہرے سے ہے اور خارجی حصہ سر ہے، پھر انھوں نے پاؤں کو ٹخنوں تک تین تین بار دھویا، اس وقت ان کی داڑھی ان کے سینے پر بوندیں ٹپکا رہی تھی، پھر انھوں نے وضو کے پانی میں سے ایک گھونٹ پانی پی لیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌کے وضو کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو اس طرح ہوتا تھا۔
Musnad Ahmad
623
۔ (۶۲۳)۔عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ قَالَ: أُتِیَ عَلِیٌّؓ بِکُوْزٍ مِن مَائٍ وَہُوَ فِی الرَّحْبَۃِ فَأَخَذَ کَفَّا مِن مَائٍ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَمَسَحَ وَجْہَہُ وَذِرَاعَیْہِ وَرَأْسَہُ ثُمَّ شَرِبَ وَہُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: ھٰذَا وُضُوئُ مَنْ لَمْ یُحْدِثْ، ہٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ۔ (مسند أحمد: ۵۸۳)
نزال بن سبرہ کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ کے پاس ایک برتن لایا گیا، جبکہ وہ رحبہ میں تھے، انھوں نے پانی کا ایک چلّو لیا، اس سے کلِیْ کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے چہرے، بازوؤں اور سر پر ہاتھ پھیر دیا اور کھڑے ہو کر ہی کچھ پانی پی لیا اور پھر انھوں نے کہا: یہ اس آدمی کا وضو ہے، جو بے وضو نہیں ہوا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
Musnad Ahmad
6095
۔ (۶۰۹۵)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی فِی الرَّحْبَۃِ تَکُوْنُ بَیْنَ الطَّرِیْقِ ثُمَّ یُرِیْدُ أَھْلُہَا الْبُنْیَانَ فِیْہَا، فَقَضٰی أَنْ یَتْرُکَ لِلطَّرِیْقِ فِیْہَا سَبْعَ أَذْرُعٍ، قَالَ: وَکَانَتْ تِلْکَ الطَّرِیْقُ تُسَمَّی الْمِیْتَائَ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ راستے میں پڑنی والی ایک کھلی جگہ تھی، جب اس کے مالکوں نے وہاں تعمیر کرنا چاہی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ سات ہاتھ راستہ چھوڑا جائے، اس راستے کو آمدورفت والا رستہ کہا جاتا تھا۔
Musnad Ahmad
6425
۔ (۶۴۲۵)۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْأِمَامِ أَحْمَدَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ کَامِلٍ الْجَحْدَرِیُّ ثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ثَنَا مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ یَحْیَ بْنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَۃَ قَالَ: إِنَّ مِنْ قَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْعَجْمَائُ جَرْحُہَا جُبَارٌ، وَالْعَجْمَائُ: اَلْبَہِیْمَۃُ مِنَ الْأَنْعَامِ وَغَیْرِھَا، وَالْجُبَارُ: ھُوَ الْھَدْرُ وَالَّذِیْ لَا یُغَرَّمُ، (وَقَضٰی) فِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ، (وَقَضٰی) اَنَّ تَمْرَ النَّخْلِ لِمَنْ أَبَّرَھَا اِلَّا أَنْ یَشْتَرِطُ الْمُبْتَاعُ، (وَقَضٰی) اَنَّ مَالَ الْمَمْلُوْکِ لِمَنْ بَاعَہُ اِلَّا أَنْ یَشْتَرِطُ الْمُبْتَاعُ، (وَقَضٰی) أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاھِرِ الْحَجَرُ، (وَقَضٰی بِِالشُّفْعَۃِ بَیْنَ الشُّرَکَائِ فِی الْاَرْضِیْنَ وَالدُّوْرِ، (وَقَضٰی) لِحَمَلِ (بِفَتْحِ الْحَائِ وَالْمِیْمِ) بْنِ مَالِکٍ الْھُذَلِیِّ بِمِیْرَاثِہِ عَنْ اِمْرَأَتِہِ الَّتِیْ قَتَلَتْہَا الْأُخْرٰی، (وَقَضٰی) فِی الْجَنِیْنِ الْمَقْتُوْلِ بِغُرَّۃٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَۃٍ، قَالَ: فَوَرِثَہَا بَعْلُہَا وَبَنُوْھَا، قَالَ: وَکَانَ لَہُ مِنْ إِمرَأَتَیْہِ کِلْتَیْہِمَا وَلَدٌ، قَالَ: فَقَالَ اَبُوْ الْقَاتِلَۃِ الْمَقْضِیُّ عَلَیْہِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ اَغْرَمُ مَنْ لَاصَاحَ وَلا اسْتَہَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا اَکَلَ فَمِثْلُ ذٰلِکَ یُطَلُّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا مِنَ الْکُہَّانِ۔))، قَالَ: (وَقَضٰی) فِی الرَّحْبَۃِ تَکُوْنُ بَیْنَ الطَّرِیْقِ ثُمَّ یُرِیْدُ أَھْلُہَا الْبُنْیَانَ فِیْہِمَا فَقَضٰی اَنَّ یُتْرَکَ لِلطَّرِیْقِ فِیْہَا سَبْعَۃُ اَذْرُعٍ وَقَالَ: وَکَانَتْ تِلْکَ الطَّرِیْقُ سُمِّیَ الْمِیْتَائُ، (وَقَضٰی) فِی النَّخْلَۃِ أَوِ النَّخْلَتَیْنِ أَوِ الثَّلَاثِ فَیَخْتَلِفُوْنَ فِیْ حُقُوْقِ ذٰلِکَ فَقَضٰی أَنَّ لِکُلِّ نَخْلَۃٍ مِنْ اُوْلٰئِکَ مَبْلَغُ جَرِیْدَتِہَا حَیِّزٌ لَھَا، (وَقَضٰی) فِیْ شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّیْلِ أَنَّ الْأَعْلٰییُشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَیُتْرَکُ الْمَائُ اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثُمَّ یُرْسَلُ الْمَائُ اِلَی الْأَسْفَلِ الَّذِیْیَلِیْہِ وَکَذٰلِکَ تَنْقَضِی الْحَوَائِطُ أَوْ یَفْنَی الْمَائُ، (وَقَضٰی) أَنَّ الْمَرْأَۃَ لَا تُعْطِی مِنْ مَالِھَا شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ زَوْجِہَا، (وَقَضٰی) لِلْجَدَّتَیْنِ مِنِ الْمِیْرَاثِ بِالسُّدُسِ بَیْنَہُمَا بِالسَّوَائِ، (وَقَضٰی) أَنَّ مَنْ اَعْتَقَ شِرْکًا لَہُ فِیْ مَمْلُوْکٍ فَعَلَیْہِ جَوَازُ عِتْقِہِ إِنْ کَانَ لَہُ مَالٌ، (وَقَضٰی) أَنْ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ، (وَقَضٰی) أَنَّہُ لَیْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ، (وَقَضٰی) بَیْنَ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ فِی النَّخْلِ لَا یُمْنَعُ نَقْعُ بِئْرٍ، (وَقَضٰی) بَیْنَ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ أَنَّہُ لَا یُمْنَعُ فَضْلُ مَائٍ لِیُمْنَعَ فَضْلُ الْکَلَائِ، (وَقَضٰی) فِیْ دِیَۃِ الْکُبْرَی الْمُغَلَّظَۃِ ثَلَاثِیْنَ ابْنَۃَ لَبُوْنٍٍ وَ ثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَاَرْبَعِیْنَ خَلِفَۃً، (وَقَضٰی) فِیْ دِیَۃِ الصُّغْرٰی ثَلَاثِیْنَ ابْنَۃَ لَبُوْنٍ وَثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَعِشْرِیْنَ ابْنَۃَ مَخَاضٍ وَعِشْرِیْنَ بَنِیْ مَخَاضٍ ذُکُوْرًا، ثُمَّ غَلَتِ الْاِبِلُ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھَانَتِ الدَّرَاھِمُ فَقَوَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِبِلَ الْمَدِیْنَۃِ سِتَّۃَ آلافِ دِرْھَمٍ حِسَابَ اَوْ قِیَۃٍ وَنِصْفٍ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْاِبِلُ وَھَانَتِ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اَلْفَیْنِ حِسَابَ أُوْقِیَتَیْنِ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْأِبِلُ وَھَانَتِ الدَّرَاھِمُ فَأَتَمَّھَا عُمَرُ اثْنَیْ عَشَرَ اَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، قَالَ: فَزَادَ ثُلُثُ الدِّیَۃِ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ وَثُلُثٌ آخَرُ فِی الْبَلَدِ الْحَرَامِ قَالَ: فَتَمَّتْ دِیَۃُ الْحَرَمَیْنِ عِشْرِیْنَ اَلْفًا، قَالَ: فَکَانَ یُقَالُ: یُؤْخَذُ مِنْ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ مِنْ مَاشِیَتِہِمْ لَا یُکَلَّفُوْنَ الْوَرَقَ وَلَا الذَّھَبَ، وَیُؤْخَذُ مِنْ کُلِّ قَوْمٍ مَالَھُمْ قِیْمَۃُ الْعَدْلِ مِنْ أَمْوَالِھِمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ کان بھی رائیگاں ہے، کنواں بھی رائیگاں ہے، چوپائے کا زخم بھی رائیگاں ہے۔ عَجْمَائ سے مراد چوپایہ ہے اور جُبَار سے مراد ہدر ہو جانے والی وہ چیز ہے، جس کی چٹی نہیں بھری جاتی۔ رکاز میں پانچویں حصے کافیصلہ فرمایا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ کھجور کے درخت کا پھل اس کاہے جس نے اس کو پیوند لگایا ہے، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت لینے کی شرط لگا لے۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ فروخت ہونے والے غلام کا مال بیچنے والے کی ملکیت ہوگا، الا یہ کہ خریدار سودا کرتے وقت اس کی شرط لگا لے۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ اولاد اس کی ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوئی ہو، اور زانی کیلئے پتھر ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمین اور گھروں میں حصہ داروں کیلئے شفعہ کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ سیدنا حمل بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس کی بیوی کی میراث سے حصہ دیا جائے گا، جس کو اس کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیٹ کے مقتول بچے کی دیت کا فیصلہ دیا کہ ایک لونڈییا غلام دیا جائے اور فرمایا کہ قتل ہونے والی عورت کا خاوند اور اسکے بیٹے وارث ہوں گے اور حمل بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی، قتل کرنے والی کے باپ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی چٹی کیسے بھروں، جس نے نہ توآواز نکالی، نہ چیخا، نہ پیا اور نہ کھایا۔اس قسم کا معاملہ تو باطل اور ہدر ہو جانا چاہیے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کاہنوں کی قافیہ بندی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چبوترے کے بارے میں فیصلہ کیا جو راستے میں تھا اور اس کے مالکوں نے عمارت تعمیر کر نے کا ارادہ کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ سات سات ہاتھ راستہ چھوڑ کر عمارت بنائی جائے۔ اور وہ چلنے کا عام راستہ ہو گا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ جب لوگ ایکیا دو یا تین کھجوروں کے درختوں میں اختلاف کریں تو ہر درخت کی ٹہنیوں کی مقدار تک کی جگہ مالک کی ملکیت قرار پائے گی۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ نالوں میں بہتے ہوئے پانی سے کھجوروں کو سیراب کرتے وقت نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین اس طرح سیراب کی جائے کہ پانی ٹخنوں تک آ جائے، پھر اس کو اس سے متصل نیچے والی زمین کی طرف چھوڑا جائے، پھر اسی طریقے سے پانی آگے کی طرف پہنچایا جائے، یہاں تک کہ باغات ختم ہو جائیںیا پانی ختم ہو جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ کہ عورت اپنا مال بھی خاوند کی اجازت کے بغیر نہیں دے گی۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ دو جدّات کومیراث سے چھٹا حصہ ملے گا، وہ دونوں میں برابر تقسیم ہوگا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ جس نے مشترک غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگراس کے پاس مال ہواتو اسے سارا غلام آزاد کرنا ہو گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا (اپنے بھائی کو اس کے حق میں کمی کر دینے والا ) نقصان پہچانا اور (پہنچائی گئی اذیت سے ) زیادہ ضرر پہنچانا جائز نہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ظالم جڑ کا کوئی حق نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ والوں کے درمیان کھجوروں کے بارے میںیہ فیصلہ کیا کہ کنوئیں کا زائد پانی نہ روکا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیہات والوں کے درمیانیہ فیصلہ کیا کہ زائد پانی اس لیے نہ روکا جائے کہ زائد گھاس سے لوگوں کو روک دیا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ کیا دیت ِ کبری میں تیس اونٹنیاں دو دو سالوں کی، تیس تین تین سالوں کی اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہونی چاہئیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیت ِ صغری میں فیصلہ کیا کہ تیس دو دو سال کی اونٹنیاں، تیس تین تین سال کی ، بیس ایک ایک سال کی اونٹنیاں اور بیس ایک ایک سال کے اونٹ ہونے چاہئیں۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں اونٹ مہنگے ہوگئے اور درہم سستے ہوگئے تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیت کے اونٹوں کی قیمت چھ ہزار درہم مقرر کی، ایک اونٹ کی ایک اوقیہ کے برابر قیمت لگائی، بعد میں پھر جب اونٹ مہنگے ہوئے اور درہم گر گئے تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہر اونٹ کے دو دو اوقیے قیمت لگا کر دو ہزار درہم کی قیمت بڑھا دی، پھر جب تیسری مرتبہ اونٹ مہنگے ہو گئے اور درہم گر گئے تو ہر اونٹ کی تین اوقیے قیمت لگا کر بارہ ہزار درہم کر دی۔ دیت کے ایک تہائی حصے کا اضافہ حرمت والے مہینے میںکیا اور مزید ایک تہائی کا حرمت والے شہر میںکیا، ان دو حرمتوں کی دیت بیس ہزار درہم ہو گئی۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا تھا کہ دیہاتیوں سے ان کے مویشیوں میں سے دیت لی جائے، انہیں سونے اور چاندی کا پابند نہ بنایا جائے، ہر قوم کے مال سے اندازہ لگا کر وہی چیز دیت میں لی جائے، جو ان کے پاس ہے۔
Musnad Ahmad
12305
۔ (۱۲۳۰۵)۔ عَنْ رِیَاحِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: جَائَ رَہْطٌ إِلٰی عَلِیٍّ بالرَّحْبَۃِ، فَقَالُوْا: السَّلَامُ عَلَیْکَیَا مَوْلَانَا، قَالَ: کَیْفَ أَکُونُ مَوْلَاکُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ، قَالُوْا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ غَدِیرِ خُمٍّ یَقُولُ: ((مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَإِنَّ ہٰذَا مَوْلَاہُ)) قَالَ رِیَاحٌ: فَلَمَّا مَضَوْا تَبِعْتُہُمْ فَسَأَلْتُ مَنْ ہٰؤُلَائِ؟ قَالُوْا: نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِیہِمْ أَبُو أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیُّ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۵۹) (وَعَنْہٗمِنْطَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: رَاَیْتُ قَوْمًا مِنَ الْاَنْصَارِ قَدِمُوْا عَلٰی عَلِیٍّ فِی الرَّحْبَۃِ، فَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالَ: مَوَالِیْکَ اَیْ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ، فَذَ کَرَ مَعْنَاہٗ، (مسنداحمد: ۲۳۹۶۰)
ریاح بن حارث سے مروی ہے کہ لوگوں کی ایک جماعت رحبہ کے مقام پر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئی اور انھوں نے کہا: اے ہمارے مولی! تم پر سلامتی ہو، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تمہارا مولیٰ کیسے ہوسکتا ہوں، تم تو عرب قوم ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم نے غدیر خم کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے سنا تھا کہ میں جس کا مولیٰ ہوں، یہ علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔ ریاح کہتے ہیں: جب وہ لوگ چلے گئے تو میں ان کے پیچھے ہولیا اور میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ انصاری لوگ ہیں، ان میں سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے۔
Musnad Ahmad
12308
۔ (۱۲۳۰۸)۔ عَنْ زَاذَانَ أَبِی عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا فِی الرَّحْبَۃِ، وَہُوَ یَنْشُدُ النَّاسَ مَنْ شَہِدَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ غَدِیرِ خُمٍّ؟ وَہُوَ یَقُولُ مَا قَالَ فَقَامَ ثَلَاثَۃَ عَشَرَ رَجُلًا، فَشَہِدُوا أَنَّہُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یَقُولُ: ((مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔)) (مسند احمد: ۶۴۱)
۔ (دوسری سند) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رحبہ میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھا، انھوں نے کہا: میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جو غدیر خم والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، وہ کھڑا ہو جائے، یہ بات سن کر بارہ آدمی کھڑے ہو گئے، سب نے کہا:ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا ہاتھ بھی پکڑا ہوا تھا: یا اللہ! جو اس علی سے دوستی رکھے تو بھی اسے اپنا دوست رکھ، جو اس سے عداوت رکھے تو بھی ا س سے عداوت رکھ، جو اس کی مدد کرے تو بھی ا س کی مدد کر اور جو اسے چھوڑ جائے تو بھی اسے چھوڑ دے۔ صرف تین آدمی نہیں اٹھے تھے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان پر بددعا کی اور ان کی بددعاان کو لگ گئی تھی۔ ابو عمر زاذان کہتے ہیں:میں نے رحبہ میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، وہ لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہہ رہے تھے کہ جو آدمی غدیر خم کے روز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے جو آپ نے فرمایا (جواب سے آپ کے اس فرمان کی سمجھ آرہی ہے) پس تیرہ آدمی کھڑے ہو گئے اور انھوں نے یہ گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے۔