TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اہل کتاب کے کھانے کا حکم - اہل کتاب کے کھانے کا حکم - ان چیزوں سے متعلقہ ابواب، جن کاکھانا مباح اور حلال ہے - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of ان چیزوں سے متعلقہ ابواب، جن کاکھانا مباح اور حلال ہے in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 22 · 10 Hadith
۔
۔ سیدنا ہلب طائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا اور ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تھا کہ ایک کھانا ایسا ہے، جس سے میں دل میں تنگی محسوس کرتا ہوں، دوسری روایت میں ہے: اس نے کہا: میں نے عیسائیوں کے کھانا کے متعلق آپ سے دریافت کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسے کھانے کے بارے میں تیرے سینے میں کوئی شبہ پیدا نہیں ہونا چاہیے، جس میں عیسائیت سے مشابہت پیدا ہو۔
Takhreej
(۷۳۲۵) تخریج: صحیح لغیرہ دون قصۃ مضارعۃ طعام النصرانیۃ، وھذا اسناد ضعیف، شریک بن عبد اللہ النخعی سییء الحفظ، وقد توبع، وقبیصۃ بن ھلب مجھول، أخرجہ الطبرانی: ۴۱۷، ۴۱۹، ۴۲۲(انظر: ۲۱۹۶۹)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ جو چیزیں شریعت کی روشنی میں حلال ہیں، ان کو کسی وسوسے اور شبہے کی بنا پر نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنا اہل نصرانیت کی روش تھی۔
7325
Sahih
۔
۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ حاتم طائی صلہ رحمی کرتے تھے اور کئی نیک کام کرتے تھے؟ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے والد نے جس کام کا ارادہ کیا تھا، اس نے اس کو پا لیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد شہرت اور نمود و نمائش تھی،میں نے کہا: اچھا میں آپ سے ایسے کھانے کے متعلق سوال کرتا ہوں، جسے میں شک اور حرج کی بنا پر ہی چھوڑ دیتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ایسی چیز کو نہ چھوڑ، جس میں نصرانیت کی مشابہت ہو رہی ہو۔
Takhreej
(۷۳۲۶) قولہ ان اباک اراد امرا فادرکہ حسن، والباقی ضعیف لجھالۃ مری بن قطری، أخرجہ ابوداود الطیالسی: ۱۰۳۳، ۱۰۳۴، وابن حبان: ۳۳۲، والطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۲۴۷(انظر: ۱۸۲۶۲)
Explanation
فوائد:… حاتم مذہباً عیسائی تھا، دورِ جاہلیت میں فوت ہو گیا تھا، جود و سخاوت میں عدیم النظیر تھا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سخاوت اور دوسرے اچھے خصائل کا مقصد شہرت اور تعریف کا حصول تھا، نہ کہ رضائے الہی کی تلاش اور ایسے ہی ہوا۔حافظ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میںکہا: حاتم ایک سخی آدمی تھا، دور جاہلیت میں اس کی بڑی تعریف کی جاتی تھی، اس کے بیٹے نے اسلام کو پا لیا تھا۔ حاتم اپنی سخاوت میں عجیب امور اور غریب اخبار والا تھا، لیکن اس کا مقصد شہرت طلبی اور ریاکاری تھا، نہ کہ اللہ تعالی کی ذات اور آخرت ۔
7326
Sahih
۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غزوہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پنیر پیش کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کہاں تیار کیا گیا؟ انہوں نے کہا: یہ فارس کے علاقہ میں تیار کیا گیا اور ہمارا خیال ہے کہ اس میں مردار کا گوشت ڈالتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے چھری سے کاٹو اور بسم اللہ پڑھ کر کھا لو۔ دوسری مرتبہ جب شریک نے روایت کی تو یہ اضافہ کیا: لوگوں نے اسے لاٹھیوں کے تیزدھار حصہ کے ساتھ کاٹنا شروع کر دیا۔
Takhreej
(۷۳۲۷) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی: ۱۱۸۰۷، والبیھقی: ۱۰/ ۶(انظر: ۲۷۵۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اُتِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِجُبْنَۃٍ فِیْ تَبُوْکَ، فَدَعَا بِسِکِّیْنٍ فَسَمّٰی وَقَطَعَ۔ … تبوک کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پنیر کا ٹکڑا لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری منگوائی اور اللہ تعالی کا نام لے کر اس کو کاٹا۔ (ابوداود: ۳۸۱۹)
7327
Sahih
۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن لوگوں کو بہت بھوک لگی ہوئی تھی، پس انہوں نے گھریلو گدھے پکڑ کر ذبح کئے اور ہنڈیاں بھر بھر کر انہیں پکانا شروع کر دیا، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ ہنڈیاں الٹ دو، سو ہم نے ہنڈیاں الٹ دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی عنقریب تمہیں اس سے زیادہ بہتر اور حلال رزق عنایت فرمائیں گے۔ ہم نے اس دن ہنڈیاں الٹ دیں، جبکہ وہ جوش مار رہی تھیں،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دن گھریلو گدھوں،خچروں کا گوشت، ہر کچلی والا درندہ، پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ، وہ جانور جسے گاڑھ کر اس پر نشانہ باندھا گیا ہو، جس جانور کو درندہ چھین کر لے جائے اور وہ مر جائے اور لوٹا ہوا مال، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سب چیزوں کو حرام قرار دیا۔
Takhreej
(۷۳۲۸) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ مختصرا الترمذی: ۱۴۷۸(انظر: ۱۴۴۶۳)
Explanation
فوائد:… ذِی نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ سے مراد ایسا درندہ ہے جو کچلیوں کے ساتھ شکار کرکے کھائے، مثلا شیر، بھیڑیا، چیتا، گیدڑ اور لومڑ وغیرہ۔ یہ حدیث نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اقوال و افعال کے حجت ہونے پر قطعی اور واضح دلیل ہے، کیونکہ قرآن مجید کی رو سے ان جانوروں کا حرام ہونا ثابت نہیں ہوتا، لیکن ہر مسلمان ان کو حرام سمجھتا ہے۔ ایسے تمام جانوروں کی حرمت احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتی ہے۔
7328
Sahih
۔
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر کے دن پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ،گھریلو گدھے کا گوشت، جس جانور کو درند چیر پھاڑ کر مار دے، جس جانور کو باندھ کر نشانہ بازی سے مارا گیا ہو اور حاملہ لونڈیوں سے جماع کرنا، جب تک وہ حمل وضع نہ کر دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سب چیزوں کو حرام قرار دیا۔
Takhreej
(۷۳۲۹) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۴۷۴،۱۵۶۴(انظر: ۱۷۱۵۳)
7329
Sahih
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خبیر کے دن ہر ایک کچلی والا درندہ، نشانہ لگا کر مارا گیا جانور اور گھریلو گدھے کو حرام قرار دیا۔
Takhreej
(۷۳۳۰) تخریج: صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۷۹۵(انظر: ۸۷۸۹)
7330
Sahih
۔
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ مل کر گرمیوں میں غزوہ کیا، ہمارے ساتھیوں کو گوشت کھانے کی بہت چاہت ہوئی، انہوں نے کہا: کیا آپ ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ ہم گھوڑی ذبح کر لیں، انہوںنے انہیں دیئے اور رسیوں میں باندھ دیئے، پھر میں نے کہا: ٹھہر جائیں، میں سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جاتا ہوں اور ان سے پوچھتا ہوں، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر غزوہ خیبرکیا، لوگوں نے بہت ہی تیز رفتاری سے یہودیوں کے باڑوں کی طرف پیش قدمی کی، آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں لوگوں کو جمع کرنے کے لیے یہ آواز دوں: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ اور کہوں کہ جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! تم نے یہودیوں کے باڑوں کی جانب بڑھنے میں بہت زیادہ تیز رفتاری کا مظاہرہ کیا ہے، خبردار! ذمیوںکا مال تمہارے لیے حلال نہیں ہے، مگر حق کے ساتھ اور تم پر گھریلو گدھوں، گھوڑوں اور خچروں کا گوشت، ہر کچلی والا درندہ اور پنجے سے شکار کرنے والا ہر پرندہ تم پر حرام ہے۔
Takhreej
(۷۳۳۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لاضطرابہ، علی نکارۃ فی بعض الفاظہ، أخرجہ ابوداود: ۳۸۰۶، والنسائی: ۷/ ۲۰۲، وابن ماجہ: ۳۱۹۸(انظر: ۱۶۸۱۶)
7331
Zaeef
۔
۔ (دوسری سند)سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۷۳۳۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7332
Zaeef
۔
۔ (تیسری سند) سیدنا مقدام بن معدیکرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، میں نے موسم گرما میں سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ مل کر غزوہ کیا، پھر پہلے سند والے متن کی طرح کا متن بیان کیا۔
Takhreej
(۷۳۳۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7333
Zaeef
۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر کچلی والے درندے، پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے، مردار کی قیمت ، گھریلو گدھوں کے گوشت اور زانی خاتون کی کمائی، سانڈ کی جفتی کا عوض لینے اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۷۳۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، حسن بن ذکوان ضعیف، وھو لم یسمع من حبیب بن ابی ثابت، بینھما عمرو بن خالد القرشی المتھم بالکذب، أخرجہ الدارقطنی: ۲/ ۱۲۱ (انظر: ۱۲۵۴)
Explanation
فوائد:… اس باب میںمختلف حرام چیزوں کا ذکر ہوا ہے، البتہ گھوڑے کی حرمت پر دلالت کرنے والی حدیث ضعیف ہے، گھوڑا حلال جانور ہے ، جیسا کہ پہلے وضاحت ہو چکی ہے۔
7334
Zaeef

Chapters

22
01
گھوڑے اورجنگلی گدھے کی حلت کا بیان
3 Hadith
02
سانڈا کھانے کا بیان
15 Hadith
03
بجو کے حلال ہونے کا بیان
3 Hadith
04
خرگوش ‘ سیہی اور مرغی کے گوشت کا حکم
4 Hadith
05
مچھلی اور ٹڈی کابیان
5 Hadith
06
لہسن اور پیاز اور ان جیسی چیز کھانے کا بیان
10 Hadith
07
اہل کتاب کے کھانے کا حکم
10 Hadith
08
گھریلو گدھے کے گوشت اور جلالہ کے گوشت کا بیان
12 Hadith
09
مجبوراً مردارکھانے کی رخصت کی کا بیان
3 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسندیدہ کھانوں کا ذکر
19 Hadith
11
اجتماعی کھانے میں برکت ہے
9 Hadith
12
کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے اور نہ دھونے کے جواز کا بیان
5 Hadith
13
جب کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا وقت ہو تو کھانا پہلے کھانا
2 Hadith
14
کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
7 Hadith
15
کھڑے ہو کر اور ٹیک لگا کرکھانا کھانے کے مکروہ ہونے کا حکم
4 Hadith
16
دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا مستحب اور بائیں ہاتھ کے ساتھ مکروہ ہے
9 Hadith
17
ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
18
کھانے والے کا پلیٹ کے اس حصے سے کھانا، جو اس کے سامنے ہو
3 Hadith
19
گوشت کو پکانے، اس کو نوچ کر کھانے، اس میں زیادہ شوربا بنانے اور اس کو گرم گرم نہ کھانے کا بیان
4 Hadith
20
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
9 Hadith
21
کھانے کے بعد کی دعاؤں کا بیان
6 Hadith
22
اس شخص کا بیان، جس کو کھانے کی دعوت دی گئی اور اس نے کھانے سے فراغت کے بعد اپنے ساتھیوں کے لیے دعا کی
3 Hadith
No chapter matched that.