TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان - طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان - طاعون اور وبا کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of طاعون اور وبا کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 4 · 4 Hadith
۔
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس طاعون کا ذکر کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ عذاب تھا، جو تم سے پہلے لوگوں کو پہنچایا گیا، جب یہ کسی علاقے میں واقع ہو تو اس میں داخل نہ ہوا کرو اور جب تم کسی زمین میں موجود ہو تو یہ طاعون پڑ جائے تو وہاں سے باہر نہ جاؤ۔
Takhreej
(۷۸۰۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۲۰۴، وابویعلی: ۸۰۰، والطبران فی الکبیر : ۳۳۰ (انظر: ۱۵۲۷)
7800
Sahih
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شام کی جانب گئے، جب سرغ مقام تک پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون کی وباء پڑ چکی ہے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہاں بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سنو کہ کسی زمین میں طاعون پڑچکا ہے تو اس میں نہ جاؤاور جب تم ایسے علاقے میں موجود ہو، یہاں طاعون پڑ چکا ہو تو پھر راہ فرار اختیار کرتے ہوئے اس سے باہر مت نکلو۔ پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سرغ مقام سے ہی لوٹ گئے، ایک روایت میں ہے: اس پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور واپس لوٹ گئے۔
Takhreej
(۷۸۰۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۳۰، ومسلم: ۲۲۱۹ (انظر: ۱۶۸۲)
7801
Sahih
۔
۔ عکرمہ بن خالد مخزومی اپنے باپ سے یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی زمین میں جب طاعون واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے باہر نہ جاؤ اور جب طاعون ایسے علاقے میں پڑ جائے، جس میں تم پہلے سے موجود نہ ہو تو اس علاقے میں نہ گھسو۔
Takhreej
(۷۸۰۲) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۷۵۹۵)
7802
Sahih
۔
۔ سیدنا فروہ بن مسیک مرادی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہماری ایک زمین ہے،اس کو ابین کہتے ہیں، یہ زرخیز علاقہ ہے اور ہمارا غلہ وغیرہ بھی اسی سے حاصل ہوتا ہے، لیکن وہ وباء والی ہے اور وہاں سخت وبا پڑتی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کیونکہ وبا کے قریب ہونا ہلاکت ہے۔
Takhreej
(۷۸۰۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الرجل الذی سمع فروۃ بن مسیک، ولجھالۃ یحییی بن عبد اللہ بن بحیر، أخرجہ ابوداود: ۳۹۲۳(انظر: ۱۵۷۴۲)
Explanation
فوائد:… یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال اگر کسی علاقے میں سکونت اختیار کرنا فضیلت والا عمل نہ ہو، جبکہ اس میں ایسی وبائیں پائی جاتی ہوں، جو واقعی بندے کے جسم پر اثر کرتی ہوں تو اس علاقے کو چھوڑ دینا چاہیے، ایسے علاقے میں رہنے کی وجہ سے آدمی توہم پرستی میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے اور ایسی بیماریوں کو اپنی زمین اور علاقے کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے، نہ کہ اللہ تعالی کی طرف۔
7803
Zaeef