TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیند میں شیطان کے کھیلنے کی اطلاع نہ دینے کا بیان - نیند میں شیطان کے کھیلنے کی اطلاع نہ دینے کا بیان - خوابوں کی تعبیر کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of خوابوں کی تعبیر کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 9 · 5 Hadith
۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری گردن مار دی گئی ہے اور میرا سر گر پڑا، میں اس کے پیچھے جاتا ہوں، اسے پکڑ کر پھر اس کی جگہ پر لگادیتا ہوں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک کے ساتھ شیطان کھیل کرے تو ہر گز لوگوں کو نہ بتائے۔
Takhreej
(۷۸۴۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۶۸(انظر: ۱۴۳۸۳)
7840
Sahih
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر مار دیا گیا ہے، پھر میں نے اس کو دیکھا کہ وہ لڑھکتا گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا پڑے اور پھر فرمایا: تم میں سے ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے ہولناکی میں مبتلا کر دیتا ہے اور پھر وہ صبح کو لوگوں کو بتا رہا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۷۸۴۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۱۱ (انظر: ۸۷۶۳)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آدمی جن خوابوں کو برا اور شیطانی سمجھتا ہے، ان کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے خیال کو دفع کرنے کا جو طریقہ بتلایا، اس پر عمل کرے اور ان کے شرّ سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے۔
7841
Sahih
۔
۔ ابو اسرائیل جشمی اپنے قبیلے کے جعدہ نامی بزرگ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو خواب میں دیکھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا، جب وہ آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ خواب اس کے سامنے بیان کیا، وہ آدمی بڑے پیٹ والا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی انگلی اس کے پیٹ میں لگا کر فرمانے لگے: اگر یہ اس پیٹ کی جگہ کے علاوہ دوسری چیزوں میں بڑا ہوتا تو اس کے لئے بہتر تھا۔
Takhreej
(۷۸۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو اسرائیل الجشمی فی عداد المجھولین، أخرجہ القصۃ الاولی الطبرانی فی الکبیر : ۲۱۸۵، والحاکم: ۴/ ۱۲۱، والقصۃ الثانیۃ النسائی فی الکبری : ۱۰۹۰۳(انظر: ۱۸۹۸۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر پیٹ کے بجائے دوسرے اعضا میں یہ بڑا پن ہوتا، جیسے بازو یا سر وغیرہ، پیٹ بڑا ہونے کی بجائے اس کی ذہانت اور عقل زیادہ ہوتی تو یہ بہتر ہوتا، پیٹ کے بڑا ہونے میں تو کوئی خوبی نہیں ہے، بلکہ یہ تو قابل مذمت چیز ہے، کئی بیماریوں کا سبب بنتا ہے، طبیعت میں کاہلی اور سستی آ جاتی ہے۔
7842
Zaeef
۔
۔ مولائے ابو اسرائیل سیدنا جعدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، جبکہ ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر خواب بیان کررہا تھا، اس نے اپنے موٹاپے اور بڑے پیٹ کا ذکر کیا،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اگر تیرا یہ بڑا ہونا دوسرے اعضاء (یا صلاحیت) میں ہوتا تو بہتر تھا۔
Takhreej
(۷۸۴۳) تخریج: انظر الحدیث السابق (۷۸۴۴) تخریج: انظر الحدیث السابق
7843
Zaeef
۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک موٹے آدمی کو دیکھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے پیٹ کی جانب اشارہ کیا اورفرمایا: اگر یہ بڑا پن کسی دوسرے (عضو یا عقلی صلاحیت وغیرہ) میں ہوتا تو بہتر تھا۔
Explanation
فوائد:… یہ روایات ضعیف ہے، بہرحال بسیار خوری کی وجہ سے پیٹ کا بڑا ہونا قابل مذمت ہے۔
7844
Zaeef