سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان - سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان - آداب کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 5 of آداب کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالوں کی سفیدی کو تبدیل کرو اور یہودیوں کی مشابہت اختیاور نہ کرو۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفید بالوں کو تبدیل کرو اور یہود و نصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ بالوں کو نہیں رنگتے تم ان کی مخالفت کرو۔ امام زہری نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رنگنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے سخت سیاہ رنگ سب سے زیادہ پسند ہے، امام زہری خود سیاہ رنگ لگاتے تھے۔
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سر اور داڑھی کے بالوں کو رنگنے کی اصل وجہ اور علت یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت ہو، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان اہل کتاب کے مخالفت کرنے میں مبالغہ سے کام لیتے تھے، اس علت اور وجہ کی بنا پر بالوںکو رنگنا مستحب اور مؤکد ہے۔
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہندی اور کتم (پودا) کے ساتھ بال رنگتے تھے، آپ کے بال کندھوں تک پہنچتے تھے۔
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے کہ میں نے حج کیا اور میں نے کعبہ کے سائے میں ایک آدمی کو دیکھا، میرے ابا جان نے مجھ سے کہا:کیا تجھے معلوم ہے یہ کون آدمی ہے؟ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، جب ہم آپ تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کان تک تھے اور بالوں پر مہندی کے نشانات تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سبز رنگ کی چادریں اوڑھ رکھی تھیں، میں نے دیکھا کہ آپ کے سفید بال مہندی کی وجہ سے سرخ نظر آ رہے تھے۔
۔ عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ بال نکالے، وہ مہندی اور کتم سے رنگے ہوئے تھے۔
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین چیز، جس سے تم ان سفید بالوں کو تبدیل کرتے ہو، وہ مہندی اور وسمہ ہیں۔
۔ سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی رافع بن عمرو امیر المومنین سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، میں نے بالوں کو مہندی کے ساتھ اورمیرے بھائی نے زرد رنگ کے ساتھ بالوں کو رنگا ہوا تھا۔ مجھ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ اسلامی رنگ ہے، اور میرے بھائی رافع سے کہا: یہ ایمانی رنگ ہے۔
Takhreej
(۸۲۰۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حبیب بن عبد اللہ الازدی، وضعف ابنہ عبد الصمد بن حبیب (انظر: ۲۰۶۶۰)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ زرد رنگ مہندی سے افضل ہے، کیونکہ ایمان کا مرتبہ اسلام سے زیادہ ہے، لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
۔ حمید کہتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالوں کو رنگتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی مبارک کے شروع میں سترہ یا بیس سے زیادہ سفید بال نظر نہیں آتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑھاپے کے سفید بالوں کے عیب سے پاک رہے ہیں۔ کسی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا بڑھاپے کے سفید بال عیب ہیں؟ انھوں نے کہا: بس تم اس کو پسند نہیں کرتے، البتہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ سے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مہندی سے بالوں کو رنگ کرتے تھے۔
فوائد:… سفید بال مسلمان کے لیے نور اور وقار ہیں، عیب ہونے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بال کالے رہیں اور سفید نہ ہوں، یا سفید بالوں کا سفید باقی رہنا عیب ہے، یعنی مہندی وغیرہ کے ذریعے ان کی سفیدی کو تبدیل کر دینا چاہیے، تاکہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت ہو جائے، جیسا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے والد سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جن کے بال ثغامہ بوٹی کی طرح سفید تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سفیدی کو بدل دو۔
۔ سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں قربان گاہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا، قریش کا ایک اور آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کے جانور تقسیم کر رہے تھے، نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کا جانور لیا اور نہ اس آدمی نے لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک منڈوایا اور بال ایک کپڑے میں جمع کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھی کو وہ بال دئیے، اس نے انہیں کچھ آدمیوں میں تقسیم کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ناخن بھی ترشوا کر اپنے ساتھی کو دئیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ بال ابھی تک ہمارے پاس موجود ہیں، وہ مہندی اور وسمہ میں رنگے ہوئے ہیں۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا، بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک کے سامنے والے حصے میں، داڑھی بچے میں، کنپٹیوں میں اتنے معمولی بال سفید تھے کہ ان کو دیکھنا بھی مشکل ہوتا تھا، البتہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی سے رنگا کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۲۱۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۴۱(انظر: ۱۳۲۶۳)
Explanation
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہندی اور کتم وغیرہ لگانا یا نہ لگانا، اوپر دونوں قسم کی روایات گزری ہیں، مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے، یعنی جن صحابہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہندی وغیرہ نہیں لگاتے تھے، ان کی بات کو ان کے علم پر ہی محمول کریں گے،یعنی ان کو رنگنے کا علم نہ ہو سکا، بہرحال ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رنگنے اور نہ رنگنے، دونوں کا ثبوت ملتا ہے۔