TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مسح کی مدت مقرر کرنے کا بیان - مسح کی مدت مقرر کرنے کا بیان - موزوں پر مسح کرنے کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of موزوں پر مسح کرنے کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 7 · 5 Hadith
۔ (۷۴۱)۔عَنْ شُرَیْحٍ بْنِ ہَانِیئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَؓعَنِ الْمَسْحِ عَلٰی الْخُفَّیْنِ فَقَالَتْ: سَلْ عَلِیًّا فَاِنَّہُ أَعْلَمُ بِھٰذَا مِنِّیْ، کَانَ یُسَافِرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ: فَسَأَلْتُ عَلِیًّا فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لِلْمُسَافِرِ ثَـلَاثَۃُ أَ یَّامٍ وَلَیَالِیْہِنَّ وَلِلْمُقِیْمِ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۷۴۸)
شریح بن ہانی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے موزوں پر مسح کی مدت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سیدنا علیؓ سے اس بارے میں سوال کرو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ پس میں نے سیدنا علی ؓ سے سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور رات۔
Takhreej
(۷۴۱) تخریج: أخرجہ بنحوہ مسلم: ۲۷۶ (انظر: ۷۴۸)
741
Sahih
۔ (۷۴۲)۔عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِیِّؓ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَرِیَّۃٍ فَقَالَ: ((سِیْرُوْا بِاسْمِ اللّٰہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تُقَاتِلُوْنَ أَعْدَائَ اللّٰہِ وَلَا تَغْلُوْا وَلَا تَقْتُلُوْا وَلِیْدًا، وَلِلمُسافِرِ ثَـلَاثَۃُ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہِنَّ یَمْسَحُ عَلٰی خُفَّیْہِ اِذَا أَدْخَلَ رِجْلَیْہِ عَلٰی طُہُوْرٍ وَلِلْمُقِیْمِ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۶۷)
سیدنا صفوان بن عسال مرادی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں ایک سریّہ میں بھیجا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اس کے راستے میں چلو، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے جہاد کرو، غلُوّ سے بچو، بچوں کو قتل نہ کرو، مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کرسکتا ہے، بشرطیکہ اس نے موزے وضو کی حالت میں پہنے ہوں۔
Takhreej
(۷۴۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۵۷(انظر: ۱۸۰۹۴)
742
Sahih
۔ (۷۴۳)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ یَأْمُرُنَا (یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اِذَا کُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِیْنَ أَنْ لَّانَنْزِ عَ خِفَافَنَا ثَـلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ اِلَّا مِن جَنَابَۃٍ وَلَکِنْ مِن غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ۔ (مسند أحمد: ۱۸۲۶۰)
سیدنا صفوان ؓ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر کر رہے ہوں تو تین دنوں اور راتوں تک پائخانے، پیشاب اور نیند کی وجہ سے موزے نہ اتارا کریں، البتہ جنابت کی وجہ سے اتارنے ہوں گے۔
Takhreej
(۷۴۳) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الترمذی: ۳۵۳۵، والنسائی: ۱/ ۹۸، وابن ماجہ: ۴۷۸(انظر: ۱۸۰۹۱)
743
Sahih
۔ (۷۴۴)۔ عَنْ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((یَمْسَحُ الْمُسَافِرُ ثَـلَاثَ لَیَالٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ثَـلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ) وَالْمُقِیْمُ یَوْمًا وَلَیْلَۃً۔)) (مسند أحمد: ۲۲۱۹۵)
سیدنا خزیمہ بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک مسح کر سکتا ہے۔
Takhreej
(۷۴۴) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۵۷، وابن ماجہ: ۵۵۳ (انظر: ۲۱۸۵۱)
744
Sahih
۔ (۷۴۵)۔عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِالْمَسْحِ عَلٰی الْخُفَّیْنِ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ لِلْمُسَافِرِ وَلَیَالِیَہُنَّ وَلِلْمُقِیْمِ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ۔ (مسند أحمد:۲۴۴۹۵)
سیدناعوف بن مالک اشجعی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غزوۂ تبوک کے موَقَعَ پر حکم دیا کہ مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے۔
Takhreej
(۷۴۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۷۵، والبزار: ۲۷۵۷، والطبرانی فی الکبیر : ۱۸/۶۹، والدارقطنی: ۱/۱۹۷، والبیھقی: ۱/ ۱۷۵ (انظر: ۲۳۹۹۵)
Explanation
فوائد:… ان روایات سے معلوم ہوا کہ مقیم ایک دن یعنی چوبیس گھنٹوں تک اور مسافر تین دنوں تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے، مزید وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ ذہن نشین کر لیں کہ مسح کی مدت موزے پہننے سے نہیں، بلکہ اس وقت سے شروع ہو گی، جب سے وضو ٹوٹے گا، اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی نے ظہر کے وقت وضو کر کے موزے لیے، لیکن عصر کے وقت وضو ٹوٹتا ہے تو مسح کی مدت کا آغاز عصر سے ہو گا۔
745
Sahih