TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عمل میں اخلاص اور اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے کا بیان - عمل میں اخلاص اور اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے کا بیان - نیت اور عمل میں اخلاص - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of نیت اور عمل میں اخلاص in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 5 · 4 Hadith
۔ (۸۸۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ اَفْلَحَ مَنْ اَخْلَصَ قَلْبَہُ لِلْاِیْمَانِ، وَجَعَلَ قَلْبَہُ سَلِیْمًا، وَلِسَانَہُ صَادِقًا، وَنَفْسَہُ مُطْمَئِنَّۃً، وَخَلِیْفَتَہُ مُسْتَقِیْمَۃً، وَجَعَلَ اُذُنَہُ مُسْتَمِعَۃً، وَعَیْنَہُ نَاظِرَۃً، فَاَمَّا الْاُذُنُ فَقِمْعٌ، وَالْعَیْنُ مُقِرَّۃٌ لِمَا یُوْعِی الْقَلْبُ، وَقَدْ اَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَہُ وَاعِیًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۳۵)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی کامیاب ہو گیا، جس نے ایمان کے لیے دل میں اخلاص پیدا کر لیا اور اپنے دل کو صحیح و سالم ، زبان کو سچا، نفس کو (اعمال صالحہ پر) ثابت قدم رہنے والا، اپنے طریقے کو راہِ راست والا، اپنے کان کو سننے والا اور اپنی آنکھ کو دیکھنے والا بنا لیا۔ صورتحال یہ ہے کہ کان (دل کی معلومات کا) ذریعہ ہے اور آنکھ دل کے یاد کیے ہوئے امور کو برقرار رکھنے والی ہے، اور تحقیق وہ آدمی کامیاب ہو گیا، جو اپنے دل کو یاد کرنے والا بنا لیتا ہے۔
Takhreej
(۸۸۹۳) تخریج:اسنادہ ضعیف، بقیۃ بن الولیدیدلس تدلیس التسویۃ، وخالد بن معدان کان یرسل، ولم یذکروا فی الرواۃ عن ابی ذر، ولم یصرح بسماعہ من ابی ذر، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۱۰۸، والطبرانی فی مسند الشامیین : ۱۱۴۱ (انظر: ۲۱۳۱۰)
8893
Zaeef
۔ (۸۸۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُالِٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ، وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۷۸۱۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔
Takhreej
(۸۸۹۳) تخریج:اسنادہ ضعیف، بقیۃ بن الولیدیدلس تدلیس التسویۃ، وخالد بن معدان کان یرسل، ولم یذکروا فی الرواۃ عن ابی ذر، ولم یصرح بسماعہ من ابی ذر، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۱۰۸، والطبرانی فی مسند الشامیین : ۱۱۴۱ (انظر: ۲۱۳۱۰)
Explanation
فوائد:… تقوی، خلوص، مختلف جواہر اور معرفت کے خزانوں کا مرکز دل ہے، اسی طرح بندے کا کمال عمل صالح میں ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں صورت اور مال کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
8894
Sahih
۔ (۸۸۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ، قَالَ: بَلَغَنِیْ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعْطِیْ عَبْدَہُ الْمُؤُمِنَ بِالْحَسَنَۃِ الْوَاحِدَۃِ اَلْفَ اَلْفِ حَسَنَۃٍ، قَالَ: فَقُضِیَ اَنِّی اِنْطَلَقْتُ حَاجًّا اَوْ مُعْتَمِرًا فَلَقِیْتُہُ فَقُلْتُ:بَلَغَنِیْ عَنْکَ حَدِیْثٌ اَنَّکَ تَقُوْلُ: سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعْطِیْ عَبْدَہُ الْمُؤْمِنَ بِالْحَسَنَۃِ اَلْفَ اَلْفٍ حَسَنَۃٍ۔))؟ قَالَ: اَبُوْھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لَا بَلْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعِطِیْہِ اَلْفَيْ اَلْفِ حَسَنَۃٍ۔)) ثُمَّ تَلَا {یُضَاعِفْھَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا} فَقَالَ: اِذَا قَالَ {اَجْرًا عَظِیْمًا} فَمَنْ یَّقْدِرُ قَدْرَہُ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۷۰)
۔ ابو عثمان کہتے ہیں: مجھے یہ بات موصول ہوئی سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یوں کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کو ایک نیکی کے عوض دس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔ پھر ہوا یوں کہ مجھے حج یا عمرہ کرنے کا موقع مل گیا، پس میں گیا اور سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان سے کہا: مجھے تمہارے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی کہ تم کہتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کو ایک نیکی کی وجہ سے دس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔ ؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، (یہ حدیث تو میں نے بیان نہیں کی)، البتہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو بیس لاکھ نیکیاں عطا کرتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: اللہ تعالیٰ اس نیکی کو بڑھا دیتا ہے اور اپنی طرف سے اجر ِ عظیم عطا کرتا ہے۔ اب کون ہے جو اجر ِ عظیم کا اندازہ کر سکے۔
Takhreej
(۸۸۹۵) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان (انظر: ۱۰۷۶۰)
Explanation
فوائد:… بہرحال اللہ تعالیٰ اخلاص کو دیکھ کر اجر میں کئی گنا اضافہ کرتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَاِنْ تَکُ حَسَنَۃًیُّضٰعِفْھَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا۔}… اللہ تعالیٰ ذرا برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو گی تو وہ اس کو بڑھا دے گا اور اپنی طرف سے اجرِ عظیم بھی عطا کرے گا۔ (سورۂ نسائ: ۴۰)
8895
Zaeef
۔ (۸۸۹۶)۔ (وَعَنْہُ فِیْ رِوَایِۃٍ اُخْرٰی بِنَحْوِہِ وَفِیْھَا) فَقَالَ (یَعْنِیْ اَبَا ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌): وَمَا اَعْجَبَکَ؟ فَوَاللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ لَیُضَاعِفُ الْحَسَنَۃَ اَلْفَيْ اَلْفِ حَسَنَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۷۹۳۲)
۔ (دوسری سند) اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کس چیز نے تجھے تعجب میں ڈال دیا ہے؟ پس اللہ کی قسم ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو بیس لاکھ گنا تک بڑھا دیتا ہے۔
Takhreej
(۸۸۹۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
8896
Zaeef