۔ (۸۸۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ رضی اللہ عنہ ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((قَدْ اَفْلَحَ مَنْ اَخْلَصَ قَلْبَہُ لِلْاِیْمَانِ، وَجَعَلَ قَلْبَہُ سَلِیْمًا، وَلِسَانَہُ صَادِقًا، وَنَفْسَہُ مُطْمَئِنَّۃً، وَخَلِیْفَتَہُ مُسْتَقِیْمَۃً، وَجَعَلَ اُذُنَہُ مُسْتَمِعَۃً، وَعَیْنَہُ نَاظِرَۃً، فَاَمَّا الْاُذُنُ فَقِمْعٌ، وَالْعَیْنُ مُقِرَّۃٌ لِمَا یُوْعِی الْقَلْبُ، وَقَدْ اَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَہُ وَاعِیًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۳۵)
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی کامیاب ہو گیا، جس نے ایمان کے لیے دل میں اخلاص پیدا کر لیا اور اپنے دل کو صحیح و سالم ، زبان کو سچا، نفس کو (اعمال صالحہ پر) ثابت قدم رہنے والا، اپنے طریقے کو راہِ راست والا، اپنے کان کو سننے والا اور اپنی آنکھ کو دیکھنے والا بنا لیا۔ صورتحال یہ ہے کہ کان (دل کی معلومات کا) ذریعہ ہے اور آنکھ دل کے یاد کیے ہوئے امور کو برقرار رکھنے والی ہے، اور تحقیق وہ آدمی کامیاب ہو گیا، جو اپنے دل کو یاد کرنے والا بنا لیتا ہے۔
Takhreej
(۸۸۹۳) تخریج:اسنادہ ضعیف، بقیۃ بن الولیدیدلس تدلیس التسویۃ، وخالد بن معدان کان یرسل، ولم یذکروا فی الرواۃ عن ابی ذر، ولم یصرح بسماعہ من ابی ذر، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۱۰۸، والطبرانی فی مسند الشامیین : ۱۱۴۱ (انظر: ۲۱۳۱۰)
8893
Zaeef