TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان - مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان - اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 3 · 14 Hadith
۔ (۸۹۴۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لا اَسْأَلُکُمْ عَلٰی مَا اَتَیْتُکُمْ بِہٖمِنَالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی اَجْرًا، اِلَّا اَنْ تَوَدُّوْا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ وَاَنْ تَقَرَّبُوْا اِلَیْہِ بِالطَّاعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں واضح دلائل اور ہدایت کی روشنی میں سے جو چیزیں تمہارے پاس لایا ہوں، ان پر تم سے کسی قسم کے اجر کا سوال نہیں کرتا، مگر اتنا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا حق ادا کرو اور اطاعت کے ذریعے اس کا قرب حاصل کرو۔
Takhreej
(۸۹۴۵) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف قزعۃ بن سوید الباھلی، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۴۴۳(انظر: ۲۴۱۵)
8945
Zaeef
۔ (۸۹۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :(( قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یَاابْنَ آدَمَ! تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِیْ اَمْلَاُ صَدْرَکَ غِنًی، وَاَسُدَّ فَقْرَکَ، وَاِلاَّ تَفْعَلْ مَلَاْتُ صَدَرْکَ شُغْلاً وَلَمْ اَسُدَّ فَقْرَکَ۔)) (مسند احمد: ۸۶۸۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کہا: اے آدم کے بیٹے! تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرے سینے کو غِنٰی سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ختم کر دوں گا، اور اگر تو نے ایسے نہ کیا تو تیرے سینے کو مصروفیت سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو پورا نہیں کروں گا۔
Takhreej
(۸۹۴۶) تخریج:اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۰۷، والترمذی: ۲۴۶۶(انظر: ۸۶۹۶)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کی عبادت میں منہمک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عبادات اور دنیوی معاملات کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کرتے ہوئے اس پر مکمل بھروسہ کیا جائے۔ مثلا معاملات کے سلسلے میں صرف ان چیزوں کا کاروبار کیا جائے، جن کی تجارت کرنے کی شریعت نے اجازت دی ہے اور ان اشیا کی خرید و فروخت سے مکمل اجتناب کیا جائے، جو شریعت کی روشنی میں حرام ہیں۔ مثلا سگریٹ، نسوار، ہیروئن، چرس، شیو کرنا، بالوں کو کالا رنگ کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اگر کسی کا کوئی سرکارییا پرائیویٹ کام ہو تو امانت و دیانت سے متصف ہو کر اور نگران کی موجودگی و عدم موجودگی کی پرواہ کئے بغیر اس کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے اور نماز فجر، نماز عشاء کے وقت یا تعطیل کی صورت میں کچھ وقت کے لیے اللہ تعالیٰ کے گھروں میںیا اپنے گھروں میں بیٹھ کر ذکر اذکار اور تلاوت ِ قرآن کے ذریعے روح میں پیدا ہونے والی آلودگی کو صیقل و زائل کیا جائے۔ اس سلسلے میں دوسرا پہلو یہ ہے کاروبار، کھیتی باڑی اور دفتری کام کے دوران اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مطالبہ کیا جاتا ہے تو اسے فوراً پورا کیا جائے۔ مثلا نماز کا وقت، کسی تنگدست کی معاونت، کسی بیمار کی تیماری داری، کسی مہمان کی میزبانی، زکوۃ کی ادائیگی،حج کی ادائیگی وغیرہ وغیرہ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ کسی دنیوی پہلو کو اللہ تعالیٰ کے کسی حکم پر ترجیح نہ دی جائے اور حسب استطاعت نفلی عبادات کا بھی اہتمام کیا جائے، اسے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں منہمک ہونے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کا جذبہ موجود رہے۔
8946
Sahih
۔ (۸۹۴۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ: لَوْ اَنَّ عِبَادِیْ اَطَاعُوْنِیْ لَاَسْقَیْتُھُمْ الْمَطْرَ بِاللَّیْلِ، وَاَطْلَعْتُ عَلَیْھِمُ الشَّمْسَ بِالنَّہَارِ، وَلَمَا اَسْمَعْتُھُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۹۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ربّ نے کہا: اگر میرے بندے میری اطاعت کریں گے تو میں ان پر رات کو بارش نازل کروں گا اور دن کو سورج کو نکال دوں گا اور انہیں گرج کی آواز تک نہیں سناؤں گا۔
Takhreej
(۸۹۴۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، صدقۃ بن موسی ضعفوہ، أخرجہ الطیالسی فی مسندہ : ۲۵۸۶، والبزار: ۶۶۴ (انظر: ۸۷۰۸)
8947
Zaeef
۔ (۸۹۴۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃً ثُمَّ قَالَ: ((عَلٰی مَکَانِکُمْ اثُبُتُوْا۔)) ثُمَّ اَتَی الرِّجَالَ فَقَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَاْمُرُنِیْ اَنْ آمُرَکُمْ اَنْ تَتَّقُوْا اللّٰہَ، وَاَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیٍْدا۔)) ثُمَّ تَخَلَّلَ اِلٰی النِّسَائِ فَقَالَ لَھُنَّ: (( اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَاْمُرُنِیْ اَنْ آمُرَکُنَّ اَنْ تَتَّقُوْا اللّٰہَ وَاَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلٍا سَدِیْدًا۔)) قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ حَتّٰی اَتَی الرِّجَالَ فَقَالَ: ((اِذَا دَخَلْتُمْ مَسَاجِدَ الْمُسْلِمِیْنَ وَاَسْوَاقَھُمْ، وَمَعَکُمْ النَّبْلُ، فَخُذُوْا بِنُصُولِھَا،لاَ تُصِیْبُوْا بِھَا اَحَدًا فَتُؤْذُوْہُ اَوْ تَجْرَحُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی اور پھر فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مردوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیںیہ حکم دوں کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور درست بات کہا کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیچوں بیچ سے عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیںیہ حکم دوں کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور درست بات کہا کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مردوں کے پاس واپس تشریف لے آئے اور فرمایا: جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں داخل ہو اور تمہارے پاس نیزہ ہو تو اس کے پھلکے کو پکڑ کر رکھو تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو مار دو اور اس طرح اس کو تکلیف پہنچاؤ یا زخمی کر دو۔
Takhreej
(۸۹۴۸) تخریج:قولہ منہ: اذا دخلتم مساجد … الی آخر الحدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف لیث بن ابی سلیم (انظر: ۱۹۴۸۸)
8948
Sahih
۔ (۸۹۴۹)۔ عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنِ اتَّبَعَ نَفْسَہُ ھَوَاھَا وَتَمَنّٰی عَلٰی اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۵۳)
۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس میں عاجزی پیدا کر لے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے اور عاجز اور بے بس وہ ہے جو اپنے نفس کو اپنے خواہشات کے پیچھے لگا دے اور اللہ تعالیٰ پر تمنا کر نے لگے۔
Takhreej
(۸۹۴۹) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف ابی بکر بن ابی مریم أخرجہ الترمذی: ۲۴۵۹، وابن ماجہ: ۴۲۶۰(انظر: ۱۷۱۲۳)
Explanation
فوائد:… بہرحال عقل مندییہی کہ آخرت کو ترجیح دی،
8949
Zaeef
۔ (۸۹۵۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَثَلَ الَّذِیْیَعْمَلُ السَّیِّئَاتِ ثُمَّ یَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ کَمَثَلِ رَجُلٍ کَانَتْ عَلَیْہِ دِرْعٌ ضَیِّقَۃٌ قَدْ خَنَقَتْہُ، ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَۃً فَانْفَکَّتْ حَلْقَۃٌ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَۃً اُخْرٰی، فَانْفَکَّتْ حَلْقَۃٌ اُخْرٰی حَتّٰی تَخْرُجَ اِلٰی الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۴۰)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی برائیاں کرنے کے بعد نیکیاں کرتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جس نے گلے کو دبا دینے والی تنگ زرہ پہن رکھی ہو، پھر جب وہ نیکی کرتا ہے تو اس کا ایک کڑا کھل جاتا ہے، پھر جب وہ کوئی اور نیکی کرتا ہے تو دوسرا کڑا کھل جاتا ہے، یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ زرہ زمین پر گر جاتی ہے۔
Takhreej
(۸۹۵۰) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۷۸۳ (انظر: ۱۷۳۰۷)
Explanation
فوائد:… برائیاں آدمی کے سینے کو تنگ کر دیتی ہیں، لیکن برا آدمی نیکیوں والی راحت سے اس قدر محروم ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس تنگی کو محسوس تک نہیں کر سکتا، اس کے برعکس نیکیوں سے انشراحِ صدر ہوتا ہے اور دل و دماغ کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔
8950
Sahih
۔ (۸۹۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ: ((یَقُوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ : مَنْ عَمِلَ حَسَنَۃً فَلَہُ عَشْرُاَمْثَالِھَا اَوْ اَزِیْدُ، وَمَنْ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَجَزَاؤُہُ مِثْلُھَا اَوْ اَغْفِرُ، وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْاَرْضِ خَطِیْئَۃً ثُمَّ لَقِیَنِیْ لَا یُشْرِکُ بِیْ شَیْئًا جَعَلَتُ لَہُ مِثْلَھَا مَغْفِرَۃً، مَنِ اقْتَرَبَ اِلَیَّ شِبْرًا اِقْتَرَبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَمَنِ اقْتَرَبَ اِلَیَّ ذِرَاعًا اِقْتَرَبْتُ اِلَیْہِ بَاعًا، وَمَنْ اَتَانِیْیَمْشِیْ اَتَیْتُہُ ھَرْوَلَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۸۷)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کہتا ہے: جس نے نیکی کی، میں اس کو دس گنا یا اس سے بھی زیادہ عطا کروں گا اور جس نے برائی کی، تو اس کا بدلہ اسی کی مثل ہو گا یا میں اس کو بھی معاف کر دوں گا، جس نے زمین بھرنے کے بقدر گناہ کیے اور پھر مجھے اس حال میں ملا کہ اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو اس کو اس کے گناہوں کے بقدر بخشش عطا کر دوں گا، جو ایک بالشت میرے قریب ہوا، میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوں گا، جو ایک ہاتھ میرے قریب ہوا، میں دو بازوؤں کے پھیلاؤ کے بقدر اس کے قریب ہو جاؤں گا اور جو میری طرف چل کر آئے گا، میں اس کی طرف دوڑ کر آؤں گا۔
Takhreej
(۸۹۵۱) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۶۸۷(انظر: ۲۱۳۶۰)
Explanation
فوائد:… توبہ سے ہر قسم کا گناہ معاف ہو جاتا ہے، بشرطیکہ وہ خالص ہو۔
8951
Sahih
۔ (۸۹۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ: ((یَقُوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ : مَنْ عَمِلَ حَسَنَۃً فَلَہُ عَشْرُاَمْثَالِھَا اَوْ اَزِیْدُ، وَمَنْ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَجَزَاؤُہُ مِثْلُھَا اَوْ اَغْفِرُ، وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْاَرْضِ خَطِیْئَۃً ثُمَّ لَقِیَنِیْ لَا یُشْرِکُ بِیْ شَیْئًا جَعَلَتُ لَہُ مِثْلَھَا مَغْفِرَۃً، مَنِ اقْتَرَبَ اِلَیَّ شِبْرًا اِقْتَرَبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَمَنِ اقْتَرَبَ اِلَیَّ ذِرَاعًا اِقْتَرَبْتُ اِلَیْہِ بَاعًا، وَمَنْ اَتَانِیْیَمْشِیْ اَتَیْتُہُ ھَرْوَلَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۸۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے کہا: جب میرا بندہ ایک بالشت میرے قریب ہو کر مجھے ملتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو کر اسے ملتا ہوں، اسی طرح اگر وہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھوں کے پھیلاؤ کے بقدر اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ دو ہاتھ کے پھیلاؤ کے بقدر میرے قریب ہوتا ہے تو میں اس سے جلدی اس کے قریب ہوتا ہوں۔
Takhreej
(۸۹۵۲) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۶۷۵ (انظر: ۸۱۹۳)
8952
Sahih
۔ (۸۹۵۳)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ نُعَیْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ بِالْفُسْطَاطِ، یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَقَّرَبَ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ شِبْرًا تَقَرَّبَ اِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ اِِلَی اللّٰہِ ذِرَاعًا تَقَرَّبَ اِلَیْہِ بَاعًا، وَمَنْ اَقْبَلَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَاشِیًا اَقْبَلَ اللّٰہُ اِلَیْہِ مُہَرْوِلًا، وَاللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ، وَاللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ، وَاللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۰۲)
۔ سیدنا ابو ذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جبکہ وہ فسطاط میں منبر پر بیان کررہے تھے، سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایک بالشت اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہے، اور جب بندہ ایک ہاتھ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ دو بازوؤں کے پھیلاؤ کے بقدر اس کے قریب ہوتا ہے، جو چل کر اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے، اللہ تعالیٰ دوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ بہت بلند و بالا اور بہت بڑے جلال والا ہے، اللہ تعالیٰ بہت بلند و بالا اور بہت بڑے جلال والا ہے، اللہ تعالیٰ بہت بلند و بالا اور بہت بڑے جلال والا ہے۔
Takhreej
(۸۹۵۳) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۶۴۶(انظر: ۲۱۳۷۴)
8953
Sahih
۔ (۸۹۵۴)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ رَدِیْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَامُعَاذُ ! اَتَدْرِیْ مَاحَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((اَنْ یَّعْبُدُوْہُ وَلا یُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا۔)) قَالَ: ((فَہَلْ تَدْرِیْ مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ اِذَا ھُمْ فَعَلُوْا ذٰلِکَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((اَنْ لَّایُعَذِّبَھُمْ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلاَ اُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ((دَعْھُمْ یَعْمَلُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۵۶)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ردیف تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حق یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ جانتے ہو کہ جب بندے یہ حق ادا کر دیں تو ان کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حق یہ ہے کہ وہ ان کو عذاب نہ دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس چیز کی لوگوں کو خوشخبری نہ دے دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رہنے دو، تاکہ وہ عمل کرتے رہیں۔
Takhreej
(۸۹۵۴) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۹۶ (انظر: ۲۲۰۰۶)
Explanation
فوائد:… اس میں امت ِ مسلمہ کے شرف کا بیان بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان کو اپنی رحمت کا مستحق قرار دیا ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ انتہائی قابل غور ہے، یعنی زیادہ اجرو ثواب والے اعمال کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بندہ مزید عمل کرنا ترک کر دے، دیکھیں اس قسم کی احادیث کے اولین مخاطَب صحابۂ کرام تھے، لیکن انھوں نے ان کی وجہ سے کسی عمل کو ترک کرنا گوارا نہ کیا،نیز اگلی حدیث پر غور کریں۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا ہماری عملی زندگی سے تعلق یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
8954
Sahih
۔ (۸۹۵۵)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا فَاِنْ لَّمْ تَجِدْ فَالْقَ اَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۵۲)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی نیکی کو حقیر نہ جان، پس اگر کچھ دینے کے لیے تیرے پاس کچھ نہ ہو تو اپنے بھائی کو ہنس مکھ اور کھلے ہوئے چہرے کے ساتھ مل لیا کر۔
Takhreej
(۸۹۵۵) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۶۲۶ (انظر: ۲۱۵۱۹)
Explanation
فوائد:… کسی کو مسکراتے چہرے کے ساتھ ملنا، ہر معاشرے میں اس کو معمولی نیکی سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے اس معاملے میں غفلت کرنے والے زیادہ افراد نظر آتے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر ترک نہ کیا جائے، بلکہ جہاں تک ممکن ہو توشۂ آخرت تیار کیا جائے۔ سابق حدیث کا لب لباب یہ تھا کہ بڑے عمل کی وجہ سے دوسرے اعمالِ صالحہ سے غفلت نہ برتی جائے اور اس حدیث میں یہ ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی ترک نہ کیا جائے۔
8955
Sahih
۔ (۸۹۵۶)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ اِنْ حَلَّلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَصَلَّیْتُ الْمَکْتُوْبَاتِ وَلَمْ اَزِدْ عَلٰی ذٰلِکَ، اَاَدْخُلُ الْجَنَّۃَ ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۴۷)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا نعمان بن قوقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں حلال کو حلال سمجھوں، حرام کو حرام سمجھوں اور فرضی نمازیں ادا کروں اور اس کے علاوہ کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۸۹۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵ (انظر: ۱۴۳۹۴)
8956
Sahih
۔ (۸۹۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، قَالَتْ: مَا اَعَجَبَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئٌ مِنَ الدُّنْیَا وَلا اَعَجَبَہُ اَحَدٌ قَطُّ اِلَّا ذُوْ تُقًی۔ (مسند احمد: ۲۴۹۰۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دنیا کی کوئی چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو زیادہ خوش نہیں کرتی تھی اور کوئی شخص بھی پسند نہیں تھا، ما سوائے پرہیزگار کے۔
Takhreej
(۸۹۵۷) تخریج:حدیث ضعیف، ابن لھیعۃ تفرد بہ، ثم ان فی متنہ نکارۃ، وان رواہ عنہ یحییٰ بن اسحاق وھو من قدماء اصحابہ، أخرجہ ابویعلی: ۴۵۵۲، والطبرانی فی الاوسط : ۵۳۹ (انظر: ۲۴۴۰۰)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے معزز اور پسندیدہ شخص وہی ہے جو پرہیز گار ہو اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پسند بھی وہی ہوتی ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے۔
8957
Zaeef
۔ (۸۹۵۸)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَعْجَبُ مِنَ الشَّابِّ لَیْسَتْ لَہُ صَبْوَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۰۶)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اس نوجوان پر تعجب کرتے ہیں، جس میں شہوات کی طرف کوئی میلان نہ ہو۔
Takhreej
(۸۹۵۸) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۸۵۳، وابویعلی: ۱۷۴۹ (انظر: ۱۷۳۷۱)
Explanation
فوائد:… جو نوجوان امورِ خیر کا عادی ہو اور شرّ سے دور رہنے کا قوی عزم رکھتا ہو،ا س پر اللہ تعالیٰ کو تعجب ہوتاہے، حالانکہ نوجوانی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ شہوات کی طرف میلان رکھا جائے۔
8958
Sahih