TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 9415 - بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان - مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 24 of 26 in this chapter
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
۔ (۹۴۱۵)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّ رجلًا کَانَ یَاْتِیْ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ومَعَہُ اِبْنٌ لَہُ فَقَالَ لَہُ: النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتُحِبُّہُ؟)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَحَبَّکَ اللّٰہُ کَمَا اُحِبُّہُ، فَفَقَدَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مافَعَلَ ابْنُ فَـلَانٍ؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاتَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاَبِیْہِ: ((اَمَا تُحِبُّ اَنْ لَّا تَاْتِیَ بَابًا مِنْ اَبْوَابِ الْجَنِّۃِ اِلَّا وَجَدْتَہُ یَنْتَظِرُکَ؟)) فَقَالَ الرَّجُل: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلَہُ خَاصَّۃًاَوْ لِکُلِّنَا؟ قَالَ: ((بَلْ لِکُلِّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۳۶)
۔ سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتا تھا، جبکہ اس کا بچہ اس کے ساتھ ہوتا تھا، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو اس سے محبت کرتا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ سے اس طرح محبت کرے، جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو گم پایا اور پوچھا: فلاں کے بیٹے کا کیا بنا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو فوت ہو گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے باپ سے کہا: کیا تو یہ بات پسند نہیں کرتا کہ تو جنت کے جس دروازے پر آئے، اسی پر اپنے بچے کو انتظار کرتے ہوئے پائے؟ ایکآدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس شخص کے لیے خاص ہے، یا ہم سب کے لیے ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں،یہ تو تم سب کے لیے ہے۔
9415
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۴۱۵) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی: ۴/ ۲۲، ۲۳(انظر: ۲۰۳۶۵)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلے سوال کے جواب میں اس آدمی نے جو کچھ کہا، اس سے اس کا مقصود محبت کی شدت کو بیان کرنا تھا۔

Related Chapters

351
1
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب کرنے اور اس کے ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
2
آنکھوں سے محروم ہو جانے پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
3
Chapter: The Virtue In The Calamity When One Patiently Seeks A Reward For It
باب: مصیبت پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About What Is Sufficient And Being Patient With It
باب: بقدر کفاف (روزمرہ کے خرچ) پر صبر کی ترغیب
Jam e Tirmazi
5
مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
6
طاعون سے بھاگ جانے والے کے گناہ اور اس میں صبر کرنے والے کے ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
7
اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
8
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
9
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
10
بخار اور درد سر پر صبر کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
11
مطلق طور پر مریض کی عیادت کرنے کی ترغیب اور اس عمل کے ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
12
اس چیز کی ترغیب دینے اور اس کی فضیلت اور ایسا کرنے والے کے ثواب کابیان
Musnad Ahmad
13
(20) CHAPTER. Refraining from doing things Allah has made illegal.
اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ان سے صبر کئے رہنا بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا ثواب بے حساب دیا جائے گا
Sahih Bukhari
14
Chapter: Encouragement to live in Al-Madinah and to be patient on bearing its distress and hardships
مدینہ میں رہنے کی ترغیب اور اس کی تنگ دستی اور سختیوں پر صبر کرنا
Sahih Muslim
15
Chapter: What Reward Reaches A Man After His Death
انسان کو اس کی وفات کے بعد جو ثواب بہنچتا ہے
Sahih Muslim
16
مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب
Sunnan Ibn e Maja
17
کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا ثواب میں صبر کرنے والے روزہ دار کے ہم رتبہ ہے
Sunnan Ibn e Maja
18
باب: مصیبت آنے پر صبر کرنے اور اللہ سے ثواب چاہنے کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
باب: صبر کرنے اور اجر و ثواب چاہنے والے کے ثواب کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
Chapter: What Has Been Related About The Salat While Sitting Is Half Of The Salat While Standing
باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About One Who Prays Twelve Rak'ah Of Sunnah In A and Night, And What Virtues He Will Have For That
باب: دن و رات میں بارہ رکعتیں سنت پڑھنے کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Fast The Day Of Ashura
باب: عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Deeds During The Ten Days (Of Dhul-Hijjah)
باب: ذی الحجہ کے پہلے عشرے (ابتدائی دس دن) کے عمل کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Rewards For Hajj And Umrah
باب: حج و عمرہ کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Weak Departing Early From Jam During The Night
باب: مزدلفہ سے کمزوروں (عورتوں اور بچوں) کو رات ہی میں بھیج دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: The Talbiyah On Behalf Of Women And Stoning On Behalf Of Boys
باب: بچوں کے حج سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Reward For The Sick
باب: بیمار کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Salat For (The Funerals Of) Children
باب: بچوں کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Rewards For One Whose Child Died Before Him
باب: اس شخص کے ثواب کا بیان جس نے کوئی لڑکا ذخیرہ آخرت کے طور پر پہلے بھیج دیا ہو
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Marriage And Encouraging It
باب: شادی کرنے کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What has been related about the pregnant woman who gives birth after her husband dies
باب: شوہر کی وفات کے بعد بچہ جننے والی عورت کی عدت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What is reported on where the widow observes her 'Iddah
باب: شوہر کی وفات کے بعد عورت عدت کہاں گزارے؟
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About How Much Is Deducted From The Reward Of One Who Keeps A Dog
باب: کتا پالنے سے ثواب میں کمی کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The Reward For Freeing A Slave
باب: غلام آزاد کرنے کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Killing Women And Children
باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Martyr's Reward
باب: شہداء کے اجر و ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: Regarding The Rewards For The Martyr
باب: شہید کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Eating With Slaves (And Dependants)
باب: بال بچوں، خادم اور غلام کے ساتھ کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Being Merciful With The Children
باب: بچوں سے پیار محبت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Being Merciful With Boys
باب: بچوں پر مہربانی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Spending On The Family
باب: بال بچوں پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
باب: علاج کرنے کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What has been Related About Encouraging (To Make) The Will
باب: وصیت کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: Regarding The Prophet (s.a.w) Encouraging Gifts
باب: ہدیہ دینے پر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam To The Young
باب: بچوں کو سلام کرنا
Jam e Tirmazi
47
باب: جس نے قرآن کا ایک حرف پڑھا اس کے ثواب کا بیان
Jam e Tirmazi
48
باب: وفات کے وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟
Jam e Tirmazi
49
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَثَوَابِ الْمَرَضِ
مریض کی عیادت اور مرض کے ثواب کا بیان
Mishkat
50
بَاب ثَوَابُ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ
تسبیح ، تحمید ، تہلیل اور تکبیر کے ثواب کا بیان
Mishkat
No related chapter matched that.

Related Hadith

170
Musnad Ahmad
63
۔ (۶۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ أَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ؓ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ مَا أَتَیْتُکَ حَتَّی حَلَفْتُ أَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ أُوْلَائِ أَنْ لَا آتِیَکَ وَلَا آتِیَ دِیْنَکَ ،وَجَمَعَ بَہْزٌ بَیْنَ کَفَّیْہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: حَتَّی حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِیْ ہَذِہِ أَنْ لَاآتِیَکَ وَلَا آتِیَ دِیْنَکَ) وَإِنِّی قَدْ جِئْتُ امْرَئً ا لَا أَعْقِلُ شَیْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہُ، وَإِنِّی أَسْئَلُکَ بِوَجْہِ اللّٰہِ بِمَ بَعَثَکَ رَبُّنَا إِلَیْنَا؟ قَالَ: ((بِالْاِسْلَامِ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا آیَۃُ الْاِسْلَامِ؟ (وَفِی رِوَایَۃٍ: وَمَا الْاِسْلَامُ؟) قَالَ: ((أَنْ تَقُوْلَ أَسْلَمْتُ وَجْہِیَ وَتَخَلَّیْتُ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَ تُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ وَکُلُّ مُسْلِمٍ عَلٰی مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۲۹۹)
سیدنا معاویہ بن حیدہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ کے پاس آنے سے پہلے اِن سے زیادہ قسمیں اٹھائیں تھیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے۔ بہز راوی نے دونوں ہتھیلیوں کو جمع کر کے اشارہ کیا۔ ایک روایت میں ہے: یہاں تک کہ میں نے ان اپنی انگلیوں کی تعداد جتنی قسمیں اٹھائیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے، بہرحال اب میں آپ کے پاس آ گیا ہوں، جبکہ میں ایسا شخص ہوں کہ جسے کسی چیز کوئی سمجھ نہیں ہے، الا یہ کہ وہ امور جو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مجھے سمجھا دیں گے، اب میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ ہمارے ربّ نے آپ کو ہماری طرف کس چیز کے ساتھ مبعوث کیاہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کے ساتھ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کی نشانی کیا ہے، اسلام کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا یہ کہنا کہ میں نے اپنا چہرہ (اللہ کے لیے) مطیع کر دیا ہے اور میں (شرکیہ دین سے) باز آ گیا ہوں، پھر تو نماز قائم کرے، زکاۃ ادا کرے اور ہر مسلمان، دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
Musnad Ahmad
89
۔ (۸۹)۔عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْ لِیْ فِیْ الْاِسُلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْہُ أَحَدًا غَیْرَکَ، قَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ: بَعْدَکَ، قَالَ: ((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۹۴)
سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ آپ کے علاوہ (ابو معاویہ نے آپ کے بعد کے لفظ بولے ہیں) کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوں اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔
Musnad Ahmad
241
۔ (۲۴۱)۔عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ(ؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۷۰۵۵)
سیدنا معاویہ بن ابو سفیان ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Musnad Ahmad
243
۔ (۲۴۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا رَوْحٌ قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ جَبْلَۃَ بْنِ عَطِیَّۃَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیْزٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بْنِ أَبِیْ سُفْیَانؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۵۹)
سیدنا معاویہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو دین میں سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔
Musnad Ahmad
244
۔ (۲۴۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا رَوْحٌ قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ جَبْلَۃَ بْنِ عَطِیَّۃَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیْزٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بْنِ أَبِیْ سُفْیَانؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا یُفَقِّہْہُ فِی الدِّیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۹۵۹)
عبد اللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کے ساتھ متصل یہ کلام بھی اپنے باپ کی کتاب میں ان کے ہاتھ کے ساتھ لکھا ہوا پایا اور انھوں نے اس پر لکیر بھی لگائی ہے، لیکن اب میں یہ نہیں جانتا کہ کیا انھوں نے مجھ پر یہ پڑھا تھا یا نہیں، وہ کلام یہ ہے: اور بیشک سننے والے اور اطاعت کرنے والے کے خلاف کوئی حجت نہیں ہے اور سننے والے اور نافرمانی کرنے والے کے حق میں کوئی حجت نہیں ہے۔
Musnad Ahmad
271
۔ (۲۷۱)۔عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الصُّنَابِحِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِن أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: عَنِ الصُّنَابِحِیِّ عَنْ مُعَاوِیَۃَؓ) قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْغُلُوْطَاتِ، قَالَ الْأُوْزَاعِیُّ: اَلْغُلُوْطَاتُ شِدَادُ الْمَسَائِلِ وَصِعَابُہَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۰۸۷)
ایک صحابی (اور ایک روایت کے مطابق سیدنا معاویہ ؓ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مغالطہ آمیز باتوں سے منع کیا ہے۔ امام اوزاعی نے کہا: غُلُوْطَات سے مراد مشکل اور پیچیدہ مسائل ہیں۔
Musnad Ahmad
295
۔ (۲۹۵)۔عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: دَخَلَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍؓ عَلَی مُعَاوِیَۃَؓ فَحَدَّثَہُ حَدِیْثًا فَأَمَرَ اِنْسَانًا أَنْ یَکْتُبَ فَقَالَ زَیْدٌ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی أَنْ نَکْتُبَ شَیْئًا مِنْ حَدِیْثِہِ فَمَحَاہُ۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۱۲)
عبد المطلب بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت ؓ، سیدنا معاویہ ؓ کے پاس گئے اور ان کو ایک حدیث بیان کی، انھوں نے ایک انسان کو حکم دیا کہ وہ یہ حدیث لکھ لیں، لیکن سیدنا زید ؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی حدیث لکھنے سے منع فرمایا ہے، پس انھوں نے اس کو مٹا دیا۔
Musnad Ahmad
605
۔ (۶۰۵)۔ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَانِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْیَانَ الثَّقَفِیِّ أَنَّہُمْ غَزَوْا غَزْوَۃَ السَّـلَاسِلِ فَفَاتَہُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوْا ثُمَّ رَجَعُوْا اِلَی مُعَاوِیَۃَ وَعِنْدَہُ أَبُوْ أَیُوْبَ وَعُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍؓ فَقَالَ عَاصِمٌ: یَا أَبَا أَیُوْبَ! فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّ مَنْ صَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فِی الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَۃِ) غُفِرَ لَہُ ذَنْبُہُ، فَقَالَ: ابْنَ أَخِیْ! أَدُلُّکَ عَلَی أَیْسَرَ مِن ذٰلِکَ؟ اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ کَمَا أُمِرَ وَصَلّٰی کَمَا أُمِرَ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ)) أَ کَذَاکَ یَا عُقْبَۃُ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۹۳)
عاصم بن سفیان ثقفی کہتے ہیں: ہم لوگ غزوۂ سلاسل کیلئے گئے، لیکن یہ غزوہ رہ گیا، پس انھوںنے سرحد پر پہرہ دیا اور پھر سیدنا معاویہؓ کی طرف لوٹ آئے جبکہ ان کے پاس سیدناابوایوب اور سیدنا عقبہ بن عامر ؓبھی بیٹھے تھے، عاصم نے کہا: اے ابوایوب! اس سال ہم سے جہاد فوت ہو گیا ہے، جبکہ ہمیں بتلایا گیا ہے کہ جو آدمی چار مسجدوںمیں نماز پڑھے گا، اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا: بھتیجے! کیا میں تجھے اس سے آسان عمل نہ بتا دوں؟ بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سناہے: جس نے اس طرح وضو کیا، جس طرح اس کو حکم دیا گیا اور اس طرح نماز پڑھی، جیسے اس کو پڑھنے کا حکم دیا گیا، تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ عقبہ! اسی طرح حدیث ہے نا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Musnad Ahmad
668
۔ (۶۶۸)۔عَنْ أَبِی الْأَزْہَرِ عَنْ مُعَاوِیَۃَ (بْنِ سُفْیَانَ) ؓ أَنَّہُ ذَکَرَ لَہُمْ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَّہُ مَسَحَ رَأسَہُ بِغُرْفَۃٍ مِن مَائٍ حَتّٰی یَقْطُرَ الْمَائُ مِن رَأسِہِ أَوْ کَادَ یَقْطُرُ وَأَنَّہُ أَرَاہُمْ وُضُوئَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَلَمَّا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِہٖ وَضَعَ کَفَّیْہِ عَلٰی مُقَدَّمِ رَأْسِہِ ثُمَّ مَرَّ بِہِمَا حَتّٰی بَلَغَ الْقَفَا ثُمَّ رَدَّہُمَا حَتّٰی بَلَغَ الْمَکَانَ الَّذِی بَدَأَ مِنْہُ۔ (مسند أحمد: ۱۶۹۷۹)
ابو ازہر کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن سفیانؓ نے ان کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے وضو کا ذکر کیا، انھوں نے پانی کے ایک چلّو سے سر کا مسح کیا، یہاں تک سر سے پانی کے قطرے گرنے لگے یا قریب تھا کہ گرنے لگیں، بہرحال انھوںنے ان کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو کر کے دکھایا، جب وہ سر کے مسح تک پہنچے تو انھوں نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو سر کے اگلے حصے پر رکھا، پھر ان کو سر پر پھیرتے گئے، یہاں تک کہ گدی تک پہنچ گئے، پھر اسی جگہ پر لوٹا کر لے آئے، جہاں سے شروع کیا تھا۔