TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مذی، ودی اور استحاضہ کے خون سے وضو کرنا - مذی، ودی اور استحاضہ کے خون سے وضو کرنا - نواقض الوضو کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of نواقض الوضو کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 4 · 2 Hadith
۔ (۷۶۳)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: کُنْتُ رَجُلًا مَذَّائً فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَمَّا الْمَنِیُّ فَفِیْہِ الْغُسْلُ وَأَمَّا الْمَذِیُّ فَفِیْہِ الْوُضُوئُ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۲)
سیدنا علیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے بہت زیادہ مذی آتی تھی، اس کے بارے میں میرے سوال پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مَنِی میں غسل ہوتا ہے اور مذی میں وضوہوتا ہے۔
Takhreej
(۷۶۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۳۲، ۱۷۸، ومسلم: ۳۰۳ بلفظ قریب منہ (انظر: ۶۶۲)
Explanation
فوائد:… مذی سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، مذی کے باقی احکام حدیث نمبر (۴۶۵)کے فوائد میں گزر چکے ہیں۔
763
Sahih
۔ (۷۶۴)۔عَنْ عَائِشَۃَؓقَالَتْ: أَتَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ أَبِیْ حُبَیْشٍ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: اِنِّیْ اُسْتُحِضْتُ، فَقَالَ: ((دَعِی الصَّلٰوۃَ أَیَّامَ حَیْضَتِکِ ثُمَّ اغْتَسِلِیْ وَتَوَضَّئِیْ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَاِنْ قَطَرَ عَلٰی الْحَصِیرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۶۴۶)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیشؓ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئیں اور کہا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دیا کر، پھر غسل کر کے نماز پڑھا کر اور ہر نماز کے لیے وضو کیا کر، اگرچہ اس خون کے قطرے چٹائی پرگرتے رہیں۔
Takhreej
(۷۶۴) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۹، ۳۰۰، وابن ماجہ: ۶۲۴، وأخرجہ البخاری: ۳۲۷، و مسلم: ۳۳۴ من حدیث فاطمۃ بنت ابی حبیش (انظر: ۲۴۱۴۵)
Explanation
فوائد:… جس مرد اور عورت کو مستقل طور پر کوئی ایسی بیماری ہوجس سے وضو ٹوٹ جاتا ہو، مثلا پیشاب کے قطروں کا مسلسل آتے رہنا، گیس کا مسلسل خارج ہوتے رہنا، پیشاب اور پائخانے کے راستہ سے خون کا بہتے رہنا، بعض مریضوں کے پائخانے کا مسلسل خارج ہوتے رہنا، ان تمام لوگوں کا استحاضہ والی خاتون کا حکم ہے۔ ان افراد کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہر مستقل نماز کے لیے علیحدہ وضو کیا جائے گا، مثلا ایک آدمی زوال سے پہلے دو رکعت صلاۃ الاوابین پڑھتا ہے، پھر زوال کے بعد نماز ظہر ادا کرتا ہے اور اس کے متصل بعد نماز جنازہ پڑتا ہے، چونکہ یہ تین مستقل نمازیں ہیں، اس لیے تینوں کے لیے علیحدہ علیحدہ وضو کیا جائے گا، اسی طرح قرآن مجید کی تلاوت کے لیے بھی ایک دفعہ وضو کر لیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔ فرض نمازوں کے پہلے یا بعد والی سنتیں اُن ہی کے تابع ہوتی ہیں، اس لیے ان کے لیے علیحدہ وضو کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا نظریہ یہ ہے کہ قرآن مجیدکو چھونے کے لیے وضو کرنا چاہیے، اگر زبانی یا چھوئے بغیر دیکھ کر تلاوت کرنی ہو تو اس کے لیے وضو ضروری نہیں، مستحبّ ہے۔
764
Sahih