TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان - ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان - قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 11 of قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 23 · 11 Hadith
۔ (۹۷۶۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِیَّاکُمْ وَالظُّلْمَ، فَاِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَاِیَّاکُمْ وَالْفُحْشَ، فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ، وَاِیَّاکُمْ وَالشُّحَّ، فَاِنَّہُ دَعَا مَنْ قَبْلَکُمْ فَاسْتَحَلُّوْا مَحَارِمَھُمْ، وَسَفَکُوْا دِمَائَھُمْ، وَقَطَعُوْا اَرْحَامَھُمْ)) (مسند احمد: ۹۵۶۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:ظلم کرنے سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن (کئی) ظلمتوں کا باعث بنے گا، بدگوئی سے بچو، بیشک اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا اور مال کی شدید محبت سے بچو! اس لیے کہ اس چیز نے تم سے پہلے والے لوگوں اس طرح برانگیختہ کیا کہ انھوں محرمات کو حلال سمجھ لیا، خون بہائے اور قطع رحمی کی۔
Takhreej
(۹۷۶۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن حبان: ۵۱۷۷، والحاکم: ۱/ ۱۲ (انظر: ۹۵۶۹)
Explanation
فوائد:… دنیا میں کیا گیا ایک ظلم، روزِ قیامت کئی ظلمتوں کا سبب بنے گا، جیسے اگر کوئی آدمی گائے کی خیانت کرتا ہے تو وہ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کر میدانِ حشر میں آئے گا، جبکہ وہ گائے بلبلا رہی ہو گی،یہی معاملہ ہر جانور اور دوسری خیانتوں کا ہے۔ کسی چیز کو بے موقع یا بے محل رکھنا ظلم کہلاتا ہے، اس اعتبار سے برائیوں کا ارتکاب کرنا اور فرائض و واجبات کی ادائیگی میں غفلت برتنا ظلم ہے۔ کنجوسی، بخل اور حرص جیسے اوصاف انسان کے کمینہ ہونے کے لیے کافی ہیں، بخیل آدمی سنگ دل بن جاتا ہے، دوسروں کی خوشی و غمی سے مستغنی ہو جاتا ہے، اپنے روپے پیسے کو بچانے یا اس کو بڑھانے کے لیے وہ قتل و غارت گری جیسے اقدامات کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور شریعت میں گنجائشیں تلاش کر تے کرتے اللہ تعالیٰ کی حدود کو پھلانگنا شروع کر دیتا ہے۔ مال کی شدید محبت کو شُحّ کہتے ہیں۔ جب انسان کے دل میں دنیا اور دنیا کے مال و اسباب کی محبت حد سے تجاوز کر کے شدید ہو جائے تو ہر انسان حرام اور حلال کے درمیان تمیز بھی نہیں کرتا اور دسرے انسانوں کا خون بہانے سے گریز بھی نہیں کرتا۔ جیسے آج کل ہمارے معاشرے کا حال ہے اور یہ حالت اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس معاشرے کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں ہے، یہ دیریا سویر ہلاکت سے دو چار ہو کر ہی رہے گا۔
9766
Sahih
۔ (۹۷۶۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ اِلَّا اَنَّہُ لَمْ یَذْکُرِ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۱۵)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: …پھر اسی طرح کی حدیث بیان کی، البتہ اَلْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ کے الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔
Takhreej
(۹۷۶۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۷۸ (انظر: ۱۴۴۶۱)
9767
Sahih
۔ (۹۷۶۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا الظُّلْمَ، فَاِنَّہُ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ )) (مسند احمد: ۵۶۶۲)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ظلم کرنے سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن (کئی) ظلمتوں کا باعث بنے گا۔
Takhreej
(۹۷۶۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۴۷، ومسلم: ۲۵۷۹ (انظر: ۵۶۶۲)
9768
Sahih
۔ (۹۷۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَنَاجَشُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَلَا یَبِعْ اَحَدُکُمْ عَلٰی بَیْعِ اَخِیْہِ، وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ اِخْوَانًا، الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ، لَایَظْلِمُہُ ، وَلَا یََخْذُلُہُ، وَلَا یَحْقِرُہُ، اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا، وَاَشَارَ بِیَدِہِ اِلٰی صَدْرِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، حَسْبُ امْرِیئٍ مِنَ الشَّرِّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مِنَ الشِّرْکِ) اَنْ یَحْقِرَ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ، کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہُ، وَمَالُہُ، وَعِرْضُہُ۔)) (مسند احمد: ۷۷۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بیع نجش نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، کوئی آدمی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اس کو رسوا کرتا ہے اور نہ اس کو حقیر سمجھتا ہے، تقوییہاں ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے سینۂ مبارک کی طرف اشارہ کیا اور تین دفعہ یہ عمل دوہرایا، آدمی کو یہی شرّ (یا شرک) کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے ہر مسلمان پر حرام ہے ۔
Takhreej
(۹۷۶۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۶۴ (انظر: ۷۷۲۷)
Explanation
فوائد:… بیع نجش: وہ بیع ہوتی ہے، جس میں لوگ بڑھ چڑھ کر بولی لگاتے ہیں اور اشیاء کی قدرو قیمت بتانے میں مبالغہ اور فریب سے کام لیتے ہیں۔
9769
Sahih
۔ (۹۷۷۰)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْاَسْقَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ مِنْ قَوْلِہِ: ((الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ…الخ الحدیث)) (مسند احمد: ۱۶۱۱۵)
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: … پھر مذکورہ حدیث کے الفاظ اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ سے لے کر آخر تک بیان کیے۔
Takhreej
(۹۷۷۰) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/۱۸۳ (انظر: ۱۶۰۱۹)
9770
Sahih
۔ (۹۷۷۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَتْ یَعْنِیْ عِنْدَہُ مَظْلِمَۃٌ لِاَخِیْہِ فِیْ مَالِہِ، اَوْ عِرْضِہِ، فَلْیَاْتِہِ فَلْیَسْتَحِلَّھَا مِنْہُ، قَبْلَ اَنْ یُؤْخَذَ اَوْ تُؤْخَذَ، لَیْسَ عِنْدَہُ دِیْنَارٌ، وَلَا دِرْھَمٌ، فَاِنْ کَانَتْ لَہُ حَسَنَاتٌ اُخِذَ مِنْ حَسَنَاتِہِ فَاُعْطِیَھَا ھٰذَا، وَاِلَّا اُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ ھٰذَا فَاُلْقِیَ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۱۳)
۔ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کے مال یا عزت پر ظلم کر رکھا ہو تو وہ اس کے پاس جا کر تصفیہ کر لے، قبل اس کے کہ (وہ دن آجائے جس میں) اس کا مؤاخذہ کیا جائے اور جہاں دینار ہو گا نہ درہم۔ (وہاں تو معاملہ یوں حل کیا جائے گا کہ) اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوئیں تو اُس سے نیکیاں لے لی جائیں گی اور اگر اُس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں، تو (مظلوم) لوگوں کی برائیاں اُس پر ڈال دی جائیں گی۔
Takhreej
(۹۷۷۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۳۴(انظر: ۹۶۱۵)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ اگر دنیا میں کی گئیں دست درازیاں دنیا میں ہی معاف نہ کروا لی گئیںیا ان کی تلافی نہ کر دی گئی تو آخرت میں ان کا معاملہ نہایت خطرناک ہو گا، لیکن ہمارے ماحول میں حقوق العباد کی کوئی پروا نہیں کی جاتی، جو کہ باعث ِ ہلاکت امر ہے۔ ہمارے ہاں انسان کو بحیثیت انسان نہیں دیکھا جاتا، بلکہ کسی سے حسنِ سلوک یا بد سلوکی کرنے کے لیےرشتوں اور دوستیوں کا تعین کیا جاتا ہے اور مسکراہٹوں کے تبادلے ہوتے ہیں، حالانکہ ایسا کرنا سرے سے انسان کا امتیاز ہی نہیں ہے۔ یہ اسلام ہی ہے، جس نے دوسرے مذاہب کی بہ نسبت احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ در س دیا ہے، یہ حدیث اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ غریب و نادار عوام کو ظلم و ستم اور قہر و جبر کی چکی میں پیسنے والے وڈیروں کو متنبہ رہنا چاہئے کہ عنقریب ان کی گرفت کا وقت بھیآنے والا ہے، بس اِن ظالموں کو دی گئی مہلت کے اختتام کا انتظار ہے۔
9771
Sahih
۔ (۹۷۷۲)۔ عَنْ عَبَّادِ بْنِ کَثِیْرٍ الشَّامِیِّ، مِنْ اَھْلِ فِلَسْطِیْنَ عَنِ امْرَاَۃٍ مِنْھُمْ یُقَالُ لَھَا: فَسِیْلَۃُ، اَنَّھَا قَالَتْ: سَمِعْتُ اَبِی (وَاثِلَۃَ بْنَ الْاَسْقَعِِ) یَقُوْلُ : سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَمِنَ الْعَصَبِیَّۃِ اَنْ یُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَہُ؟ قَالَ: ((لَا، وَلٰکِنْ مِنَ الْعَصَبِیَّۃِ اَنْ یَنْصُرَ الرَّجُلُ قَوْمَہُ عَلَی الظُّلْمِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۱۴)
۔ عباد بن کثیر شامی، جو کہ فلسطین کا ایک باشندہ تھا، اپنے خاندان کی فسیلہ نامی ایک خاتون سے روایت کرتا ہے، اس نے اپنے باپ سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدمی کا اپنی قوم سے محبت کرنا عصبیت میں سے ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، عصبیت تو یہ ہے کہ بندہ ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرے۔
Takhreej
(۹۷۷۲) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۵۱۱۹، وابن ماجہ: ۳۹۴۹(انظر: ۱۶۹۸۹)
Explanation
فوائد:… اسلام نے حکم دیا ہے کہ رشتہ داروں سے محبت کی جائے اور ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے اور عصبیت سے بچے۔
9772
Sahih
۔ (۹۷۷۳)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، رَفَعَہُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلُ الَّذِیْیُعِیْنُ عَشِیْرَتَہُ عَلٰی غَیْرِ الْحَقِّ، مَثَلُ الْبَعِیْرِ رُدِّیَ فِیْ بِئْرٍ فَھُوَ یُمَدُّ بِذَنَبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۳۷۲۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے رشتہ داروں کا ناحق چیز پر تعاون کرتا ہے، اس کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے، جس کو کنویں میں گرا دیا جائے اور پھر اس کو اس کی دم سے کھینچا جائے۔
Takhreej
(۹۷۷۳) تخریج: اسنادہ حسن عند من یصحح سماع عبد الرحمن من ابیہ، وضعیف عند من یقول: انہ لم یسمع منہ الاالیسیر، فقد مات ابوہ وعمرہ ست سنوات (انظر: ۳۷۲۶)
Explanation
فوائد:… مراد یہ ہے کہ وہ آدمی ایسے اونٹ کی طرح ہلاک ہو جائے گا۔
9773
Sahih
۔ (۹۷۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ابْنَ آدَمَ! اعْمَلْ کَاَنَّکَ تَرٰی، وَعُدَّ نَفْسَکَ مَعَ الْمَوْتٰی، وَاِیَّاکَ وَدَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ۔)) (مسند احمد: ۸۵۰۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن آدم! تو عمل کر، گویا کہ تو دیکھ رہا ہے اور اپنے آپ کو مردوں کے ساتھ شمار کر اور مظلوم کی بد دعا سے بچ۔
Takhreej
(۹۷۷۴) تخریج: حدیث قابل للتحسین (انظر: ۸۵۲۲)
Explanation
فوائد:… اگر اس حدیث پر عمل کیا جائے تو آخرت کی تیاری فکر مندی سے ہو سکتی ہے۔
9774
Sahih
۔ (۹۷۷۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعْوَۃُ الْمَظْلُوْمِ مُسْتَجَابَۃٌ، وَاِنْ کَانَ فَاجِرًا، فَفُجُوْرُہُ عَلٰی نَفْسِہِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۸۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مظلوم کی دعا قبول کی جاتی ہے، اگرچہ وہ برا ہی کیوں نہ ہو، اس کی برائی اس کے نفس پر ہے۔
Takhreej
(۹۷۷۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی معشر، أخرجہ الطیالسی: ۲۳۳۰، وابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۲۷۵ (انظر: ۸۷۹۵)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مظلوم کی بد دعا سے بچنے کے لیے عام اور مطلق حکم دیئے ہیں۔
9775
Zaeef
۔ (۹۷۷۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلَاثَۃٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُھُمْ، اَلْاِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حَتّٰییُفْطِرَ، وَدَعْوَۃُ الْمَظْلُوْمِ تُحْمَلُ عَلَی الْغَمَامِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ، وَتُفْتَحُ لَہُ اَبْوَابُ الْسَمَائِ، وَیَقُوْلُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ: وَعِزَّتِیْ، لَاَنْصُرَنَّکَ وَلَوْ بَعْدَ حِیْنٍ۔)) (مسند احمد: ۹۷۴۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان تین افراد کی دعا ردّ نہیں جاتی: عادل حکمران، روزے دار جب افطاری کرے اور مظلوم کی دعا تو بادلوں پر اٹھا لی جاتی ہے اور اس کے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے: مجھے میری عزت کی قسم! میں ضرور ضرور تیری مدد کروں گا، اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہی ہو۔
Takhreej
(۹۷۷۶) تخریج: حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ دون قولہ: یوم القیمۃ ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ ابی مدلۃ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۵۲، والترمذی: ۳۵۹۸ (انظر: ۹۷۴۳)
9776
Sahih

Chapters

23
01
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
14 Hadith
02
ایسے امور کی ترہیب کا بیان جن کا تعلق بڑی نافرمانیوں سے ہے اور ان کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے،نیز ان کے فاعل کی وعید کا بیان
9 Hadith
03
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
04
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
10 Hadith
05
ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان
7 Hadith
06
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
11 Hadith
07
تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
08
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
09
نفاق سے ترہیب اور منافقوں اور ان کی خصلتوں اور دو رخے آدمی کا بیان
13 Hadith
10
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
12 Hadith
11
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
11 Hadith
12
حسد، بغض اور دھوکے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
13
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
14 Hadith
14
جاسوسی کرنے اور سوئے ظن رکھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
15
اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو
11 Hadith
16
مال کی حرص کرنے سے ڈرانے کا بیان
13 Hadith
17
موت اور امید کا بیان
5 Hadith
18
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
5 Hadith
19
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
7 Hadith
20
صغیرہ گناہوں کو حقیر سمجھنے سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
21
خاوند اور اس کی بیوی اور خادم اور اس کے آقا کے درمیان جدائی ڈالنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
22
شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
23
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.